تحریر ۔ دانیال رضا

موجودہ پاکستان کے  قدامت پرست رجعتی حالات جن میں ایک طرف مالیاتی نظام کے زوال سے معاشی اور رجعتی دہشت گردیاں ہیں تو دوسری طرف اس کے خلاف کوئی بڑی انقلابی عوامی تحریک بھی نہیں ہے ایسی صورتحال میں ایک حقیقی انقلابی پارٹی کی تعمیر و ترقی ایک مشکل ، کٹھن اور نہایت ہی صبر آزما لیکن ضروری کام ہے۔ جب روس اور مشرقی یورپ جو سوشلزم کے نام لیوا تھے ٹوٹ کر بکھر گئے اور آج سرمایہ داری کی راہ پر گامزن ہیں. دیوار برلن بھی گری چکی لینن اور مارکس کے بت بھی گرا دئیے گئے ہیں اور مارکسزم کی ہر نشانی کو مٹا دیا گیا یا مٹیا جا رہا ہے۔ نام نہاد سوشلزم کے پوچاریوں نے بھی اپنے کعبے تبدیل کر لیے ہیں ۔ شرح منافع کے ماہرین اور پروفیسر حضرات نے اپنی ملازمتوں سے مکمل انصاف کرتے ہوئے مارکسزم اور کیمونزم کوناکام اور مردہ قرار دیکر سرمایہ داری کے عارضی جنتی قبرستان میں اپنی قبر کی جگہ بک کر لی ہے۔

لیکن یہ اس سے بڑی حقیقت ہے کہ رات کا آخیر ی پہر ہمیشہ بہت تاریک اور ہولناک ہوتا ہے اور اس کے بعد ہر صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ۔ تاریکی جتنی گہری ہوگئی روشنی اتنی ہی زیادہ ہوگئی اور اندھیروں میں رہنے والے لوگ اجالوں سے ہمیشہ خوف زدہ اور مایوس ہوتے ہیں ۔ روس کی ٹوٹ کے چھالیس سال بعد عالمی سطح پر عوامی سماجی اور معاشی حالات کی مسلسل ا بتری، دہشت گردیوں اور جنگوں میں بڑھوتریوں سے بے شمار عوامی تحریکوں کے باوجود کسی ایک ملک میں اشتراکی انقلاب کے نہ آنے نے نام نہاد بائیں بازو کی مڈل کلاس بے صبر قیادتوں کے صبر کے تمام پیمانے لبریز کردیئے کیونکہ انہوں نے اپنے معیار زندگی کو کھبی عام محنت کش کے برابر نیچے کیا ہی نہیں اور انقلاب کو اپنی ضرورت بنایا ہی نہیں بلکہ اسے ہمیشہ شعوری یا لا شعوری طور پر عوام کا ہی مسئلہ قرار دیا اس لیے وہ اپنی زندگی انقلابی جدوجہد سے انجوائے کر رہے تھے یا آج بھی کر رہے ہیں اور انقلاب کے بعد لینن بننے کے خواہش مند ہیں لیکن انقلاب میں دیری نے انکے کردار اور اعمال کو بے نقاب کر دیا اور آج وہ کسی نہ کسی مفادپرستی یا انتہا پسند ی کی کھائی میں جا گرئے جو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اس زمین پر آج سے پہلے انسانیت کے مسائل کھبی اتنے تکلیف دہ اور انسانی بحران اتنے سنگین نہیں تھے جتنے آج ہیں ۔ بھوک ، ننگ افلاس، پیاس ، جرائم ، قتل گری ، کرپشن ، جنگیں، دہشت گردیاں،عدم استحکام،سرمایے اور دولت کی اندھی ہوس اور لوٹ جو اس انسانی کرہ ارض کو روند رہی ہے موجودہ مسائل نے انسانوں کا جینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا ہے جس سے خودکشیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے خود کش بمبار بھی خود کشیوں اور موجودہ اذیت ناک زندگی سے نفرت کا ایک اظہار ہیں کیونکہ موجودہ نظام نے انسانی زندگی کو اتنا بھیاک اور خوف ناک بنا دیا ہے کہ زندگی سے موت بہتر لگتی ہے اور یہ رد انقلابی حالات بنیاد پرستی کے دھندے لیے بہت سازگار ہیں ۔

سماجی تبدیلی جو ایک سوشلسٹ انقلاب کے علاوہ کچھ نہیں ہے کی مانگ اور پکار ہر طرف پھیل چکی ہے اور ایک سماجی تبدیلی کے لیے حالات تیار ہیں ۔ ترقی پذیر ممالک کے علاوہ سامراج کی کوکھ میں بھی اس کا واضح اظہار برطانیہ میں لیبر پارٹی کے جیرمی کاربن اور امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے برنی سینڈر کی آواز میں عوامی دباؤ کے تحت ہو رہا ہے جن کو بوژوا میڈیا بھی سوشلسٹ امیدوار کہہ رہا ہے۔ یونان انقلابی تحریکوں کاگڑھ بن چکا ہے ۔ سپین ، پرتگال، اٹلی میں بھی عوام سرمایہ داری کے خلاف صف آرا ہیں اور فرانس جس کو انقلابات کی ماں کہا جاتا یہاں بھی ایک نئے انقلاب کی تیاری ہو رہی ہے اور فرانس کا سماج ایک بار پھر  انقلاب سے حاملہ ہو چکا ہے ۔لاطینی امریکہ اور ایشا میں مزدور تحریکیں عرب کے بعد ایک نئے موسم بہار کی غماز ہیں

آ ج تمام دنیا میں انقلابی حالات کے باوجود ایک سوشلسٹ انقلاب کا نہ آنا لینن اور ٹراٹسکی کے سچ کو درست  ثابت کرتا ہے کہ ایک مارکسی پارٹی کے بغیر حقیقی اشتراکی انقلاب ممکن نہیں ہے ۔ معروضی حالات جتنے بھی انقلابی ہوں ہر عوامی  تحریک اور انقلاب  داخلی عنصر ،،مارکسی پارٹی،، کے بغیر ادھورے ہیں  ۔

موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں اقتصادی بحران در بحران اس کا معمول بن چکا ہے اور یہ سماجی ارتقا میں ناکام و نامراد ہے منڈی کو گرم رکھنے کی تمام اصلاحات ہی اس کی سرد بازاری کی حامل ہو چکی ہیں ۔ ہر طرف بے روز گاری اور غربت کا سیلاب بڑھتا ہی جا رہا ہے جس کے خلاف دنیا بھر میں عوام اور محنت کش طبقہ موجودہ  نظام کی تبدیلی کی مانگ اپنی بکھری تحریکوں میں کر رہا ہے لیکن مارکسی قیادت کی عدم موجودگی میں یہ اپنی منزل کے نشان ہر بار کھو دیتے ہیں ۔ آج عوامی  انقلاب کے لیے انسانی تاریخ میں ایک انقلابی پارٹی کی اتنی اشد ضرورت شاید کھبی نہیں تھی جینی آج ہے جو جدید ، ایڈونس ٹھوس نظریات اور اور بہترین لچکدار حکمت علمی پرتعمیر ہو۔

پاکستان میں ایک حقیقی مارکسی پارٹی کے فقدان نے پورے سماج کو مافیا سرمایہ داری ، لمپن جاگیرداری، اور تحائف بنیاد پرستی کی اندھی کھائی میں دھکیل دیا ہے ۔ پسماندگی اور جدت کے امتراج نے ایک بے ہودہ فطور کو جنم دیا ہے ۔ جس کا انت ماسوائے ایک سوشلسٹ انقلاب کے کوئی نہیں کر سکتا۔

دنیا کے مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آج تک ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر وترقی ایک اہم ترین اور ضروری امر رہا ہے لیکن سماجی اور ثقافتی پسماندگی اس کی تعمیر میں ایک بڑی روکاٹ رہی ہے ۔ لینن نے ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کے متعلق کہا تھا کہ مارکسی کیڈرز کو دو محاذوں پر انقلاب کی کامیابی کے لیے بڑی بے رحیمی اور جرات سے لڑنا پڑتا ہے ایک پارٹی سے باہر نظام کے خلاف اور دوسرا پارٹی کے اندر جو پارٹی کی بیرونی سطح کی سماجی اور ثقافتی رجعت پرست قدریں و روایات پارٹی کے اندر بار بار سرائیت کر جاتیں ہیں جس میں منافقت ، دوہرا معیار ، ہیروازم، سیاسی اور نظریاتی کام میں روزمرہ معمولات کا عادی ہو جانا ،شاونزم، اقبراپروری ،خود غرضی،  نظریا تی تعلیم کا غیر اہم ہونا اور دوسری معاشرتی ،ثقافتی غلظتیں جو کسی پارٹی کی موت ہیں کے خلاف ڈٹ کر لڑنا ہے۔ انقلابی پارٹی محنت کشوں کا انقلاب کے لیے ایک جراحی اوزار ہے جس کو ہمیشہ تیز اور جدید ہونا چاہیے نظریات کی روشنی میں حکمت عملی کو نئے سیاسی اور سماجی حالات و واقعات کے مطابق ڈھلتے رہنا چاہیے ۔ پارٹی کا سب سے بڑا دشمن اس کا روٹین ازم ہے جس کی انقلابی پارٹی کھبی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ پارٹی میں قیادت کھبی آخیری اور مقدس نہیں ہوتی اورسماج میں تبدیل ہوتے حالات و واقعات قیادتوں کا نظریاتی امتحان ہو تا ہے جن پر انکوپورا اترنا ہوتا ہے جو انکی مسلسل نظریاتی تعلیم وتربیت کا حصہ ہوتے ہیں اس لیے انقلابی پارٹی میں کوئی استاد نہیں ہوتا بلکہ سب طالب علم ہوتے ہیں جو ہر لمہہ سیکھتے ہیں اور اس کا عملی اظہار کرتے ہیں۔ اور جب بھی پارٹی میں نظریاتی تعلیم و تربیت اورکیڈرز کے بننے کا عمل رکتا ہے ،نئے ممبر مضبوط نظریاتی بنیادوں پر تنظیم میں شامل نہیں ہوتے جس سے پارٹی بحران اور جمود کا شکار ہو کر انقلابی جدوجہد کی تباہی کا موجب بنتی ہے اور اس میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہوتا ہے ۔ سب سے زیادہ صف اول کی انقلابی قیادت کو مضبوط نظریاتی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درست لائحہ عمل اور وقت کے مطابق حکمت عملی تیار کی جاسکے تاکہ ہر موڑ پر انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے جس میں تمام ممبران کو مرکزی جمہوریت کے تحت شامل ہو نا چاہیے اور مرکزی جمہوریت کوئی مرکزی آمریت نہیں ہے اور نہ ہی ہونی چاہیے۔ پارٹی اور اسکی قیادت میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شامل کرنا چاہیے کیونکہ انقلاب کا اصل بادود اور ضمانت نوجوان ہی ہیں ۔

پاکستان میں محنت کشوں کی کمزور ترین معاشی حالت کی وجہ سے انکی ٹریڈز یونینوں اور انقلابی پارٹیوں کی قیادت پر اکثر و بیشتر مڈل کلاس ، اپر کلاس یا مال دار افراد براجمان ہو تے ہیں جو نہ اپنی کلاس چھوڑتے ہیں اور نہ ہی اپنی کلاس کی غیر انقلابی حرکتیں جس وجہ سے دیر یا بادیر انقلابی پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے جبکہ لینن نے بڑی سختی سے کہا تھا کہ جب تک مڈل کلاس کے افراد انقلابی پارٹی میں آکر اپنے معیار زندگی کو عام محنت کش کے برابر نہیں لاتے  وہ کھبی بھی قیادت کے اہل نہیں ہوسکتے ۔ مڈل کلاس میں انقلاب کے لیے صبر تحمل نہیں ہوتا ہے جبکہ انقلاب صبر اور مستقل مزاجی سے مارکسزم کی وضاحت ہے اور یہ افراد نہ ہی ایک مزدور انقلابی ڈسپلن کو زیادہ عرصہ برداشت کرسکتے جبکہ آجکا مزدور انقلاب عالمی مزدور انقلاب ہے جس کے لیے ایک عالمی منظم ڈسپلن اور عالمی مزدور تنظیم کی ضرورت ہے جومڈل کلاس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت سے بہت بلند ہے اور خاص کر ایک لمبے عرصے کے لیے ، یہ صرف تبھی ممکن ہے جب مڈل کلاس مزدوروں کے معیار زندگی کو مکمل اپنا لیں اور انقلاب کو عوام کی طرح اپنی ضرورت بنا لیں ناکہ انقلاب صرف عوام کے لیے کریں۔ وگرنہ مڈل کلاس سوچ انقلاب کے نام پر ایک در انقلابی سوچ ہے۔ سرمایہ دار طبقہ ہمارے سامنے کھلا دشمن ہے لیکن پیٹی بوژوازی آستین کا سانپ ہے۔

اکثر انقلابی پارٹیوں کی قیادت اپنی نظریاتی کمزور ی سے روٹین ازم جو قدامت پرستی کی ہی ایک شکل ہے کا شکار ہو کر پارٹی پر ایک بوجھ ایک زندہ  لاش بن جاتی ہیں اس سے پارٹی کا نظریاتی اور جمہوری دم گھٹنے لگتا ہے جس سے ضروری ہو جاتا ہے ان لاشوں کا بوجھ اتار پھنکیں تاکہ انقلابی پارٹی دوبارہ کھلی فضا میں تازہ  جمہوری اور نظریاتی  سانس لے سکے ۔ ہمارے مارکسی استاد محترم کہتے ہیں جب جسم کے کسی حصہ میں کینسر ہوجائے تو پھرزندگی بچانے کے لیے اس حصے کو کاٹ دینا چاہیے وگرنہ یہ زہر تمام جسم میں پھیل کر اس کی موت بن جاتا ہے  ۔ انقلابی پارٹی کی تعمیر میں تطہیر کوئی نیا اورمایوس کن عمل نہیں ہے بلکہ یہ بعض اوقات پارٹی کی زندگی اور تعمیر و ترقی کے لیے لازمی بن جاتا ہے جس کی بنیاد ٹھوس نظریات پر ہونا چاہیے ۔ ناکہ ذاتی تسلط کا تسلسل اور انا پرستی جو انقلابی پارٹی کے لیے زہر قاتل ہیں کے جسکی جراحی کی جاسکے ۔ تمام انقلابی تاریخ پارٹیوں کی تعمیر و تطہیر پر مبنی ہے لیکن صرف وہی پارٹی تاریخ میں سرخرو ہوئی اور ہوگئی جنکے نظریات کی سچائی وقت کی کسوٹی پر پورے اترے یا اتریں گئے۔

آخیری جیت ہمیشہ سچے جذبات کی نہیں بلکہ ٹھوس نظریات کی ہوتی ہے۔ 

 ۔ کلک کریں کتابوں کے لیے لنکس 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh