سچ ہمیشہ ٹھوس ہوتا ہے   لیکن  مستقل نہیں  ہوتا  اسی لیے  ہر زمانے کا اپنا سچ ہو تا ہے  جو  بے رحیم سماجیارتقاکے ہاتھوں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ انسانی تاریخ میں غلام داری کے خلاف فاتح بغاوتوں کے سیاسی اور اقتصادی  نظریات  کی سچائی جاگیرداری  نے  ٹوڑ  دی اور   انقلاب فرانس  کی فتح  نے  جاگیردارانہ نظام  کی سوچوں اور نظریات کو پاش پاش کر دیا ۔ قومی سرمایہ داری  سے  عالمی مالیاتی نظام میں قوم پرستی ، محب الوطنی  اور  سرحدی تقدس    ٹوٹ کے بکھر  ے ۔ ان تبدیل ہوتے  معاشی اور سماجی  نظاموں نے نہ صرف انسانیت کو  حیران کن معجزاتی ترقی بخشی بلکہ ان پر  قائم   نظریات ، سوچوں ، فلسفوں ، مذاہب اور عقائد کو  مکمل بدل کر رہ دیا ۔

سیکولرازم  بھی جاگیرداری  اور اس  سے جونک کی طرح  پیوست  بنیاد پرستی کے خلاف سرمایہ داری  کے لیے  ایک کامیاب  سیاسی نعرہ یا نظریہ تھا  جس نے  زمین سے منسلک پیداواری   رشتوں کو صنعتی انقلاب  سے جوڑ نے  میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ قومی سرمایہ داری سے عالمی سرمایہ داری تک  کی تیز ترین انسانی ترقی میں  سیکولرازم  کے سیاسی نظریے نے  معاشی  نظام کا بہترین دفاع کیا  اور اسے آگے بڑھایا ۔ لیکن 1929 کے  پہلے عالمی مالیاتی نظام  کے بحران نے    ایک بار  پھر ہر سچ کو سر کے بل  الٹا کھڑا کر دیا ۔  موجودہ  سماجی نظام میں مسلسل  بڑھتے اور شدید ہوتے بحرانوں نے اور خاص طور پر 2008 کے مالیاتی طویل ترین بحران نے موجودہ   عالمی  سرمایہ دارانہ  نظام کو  استحکام اور اس کا تحفظ کرنے والے ہر نظریہ اور اصلاح کو ناکام اور نامراد بنا دیا اور اسکی کوکھ سے جنم لینے والے  اشتراکی   اور اشتمالی نظریات  کی  سچائی پر مہر ثبت کر دی ۔ مالیاتی نظام آج ماضی بن چکا ہے ۔ اور ہم  سماج  کی تبدیلی کے عبوری حال میں  زندہ ہیں اور  اشتراکی مستقبل سر پر کھڑا ہے  جس کے لیے ہم    آج اپنے معاشرتی کردار سے اپنا  سماجی  رتبہ تعین کر رہے ہیں۔

برصغیر کے خونی  بٹوارے  سے پہلے  کا  ایک سچ تھا جس میں کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا  بر صغیر  میں برطانوی سامراج کے ظلم وبربریت کے خلاف ایک بڑی   عوامی تحریک  کی قیادت کر رہی جو  علیحدگی کی نہیں بلکہ  جنوبی ایشا کی  اشتراکی جڑت  اورطبقاتی استحصال کے خلاف ایک ناقابل تسخیر بغاوت تھی۔ سی پی اے کی لیڈر شپ   جو روسی افسر شاہی   کے زیر عتاب تھی  جس کے لیڈر جوزف سٹالن نے   اپنے  نظریے ،  بالشویک پارٹی  اور عوام سے غداری کرتے ہوئے  دوسری عالمی جنگ کے بعد  برطانوی  اور امریکی  سامراج سے مصلحت کر کے امن بقائے باہمی کا نام نہاد معاہدہ کر لیا تھا  اورتما م دنیا میں  کمیونسٹ پارٹیوں کو  سرمایہ داری  اور سامراج کے خلاف  جدوجہد کو روکنے کا     حکم صادر کر دیا گیا   اسی زمن میں ہندوستان میں  کمیونسٹ پارٹی ( سی پی اے)کو برطانیہ کے خلاف بغاوت سے روک دیا گیا ۔  سی پی اے  کی قیادت نے   جب بھپرے انقلاب کو بیچ راستے چھوڑ دیا  تو وہ جناح اور گاندھی کے رد انقلاب کی جھولی میں جا گرا اور برصغیر  کو بر طانیہ کی کند چھری سے کاٹ کر خون میں ڈبو دیا گیا ۔ وقت بہت ظالم اور بے رحم ہے  وہ کسی کو نہیں بخشتا  اور اس کے ہاں معافی نام کا کوئی لفظ نہیں ہے اس لیے  آج بھی   پاک وہند میں کسی بھی نام پر بہنے والا خون   اور پلنے والی غربت اسی  جرم کی سزا ہے ۔

 پاکستان ایک جعلی تھیوکریٹک ریاست ہے جس میں مذہبی منافرت پر  قتل گری اور انسانوں  کی گردنوں میں مذہبی  بنیادوں پر   موت کےآئینی اور قانونی  پھندے انسانیت کی تذلیل ہیں۔ جبکہ  دوسری طرف ہندوستان آئینی طور پر  ایک سیکولر (نام نہاد)ریاست ہے لیکن وہاں بھی مذہبی بنیادو ں پر قتل وغارت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے کسی قدر کم نہیں بلکہ زیادہ ہی ہے ۔ مسئلہ آج آئین  وقانون  سے بہت آگے نکل کر نظام کی متروکیت  کا بن چکا ہے ۔  جس سماج میں و سیع طبقاتی تفریق اور  امارت وغربت کے  غلیظ ڈھیر ہوں گئے وہاں  امن و شانتی  اور عدل وانصاف کی خوش بو ممکن نہیں ہے ۔ آج وقت حکمرانوں کو  پڑھانے  کا نہیں بلکہ عوام کو سیکھانے کا ہے کہ وہ اپنے طبقاتی کردار سے اپنے   آج  اورمستقبل کا فیصلہ خود کریں ۔

میرے  پیارے دوست ابن عارف  جو مخلص عوام دوست دل رکھتے ہیں نے بھی اپنی کتاب برصغیر کے72سال میں  یہی ایک کوشیش کی ہے کہ ہم مذہبی  تضادات سے بالا  امن و  انصاف کی طرف آئیں اور ہمارا عوامی اتحاد ہی ہماری جیت کی واحد ضمانت ہے  ۔  

پاکستان کو ایک قومی ریاست بنانے کے لیے ابتدا میں  جو سیاسی نظریات اور  پروگرام دیئے گئے تھے آج اس سے بانگ دہل انحراف کیا جا رہا ہے ۔ شاید اسی لیے عالمی لکھاری یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ ،، اگر آج  محمد علی جناح زندہ ہوتا تو اس  کو  اس کے اپنے ملک میں ہی پھانسی دی جا چکی ہوتی ،،

ہمیں یہ کتاب  ذہین میں یہ رکھ  کر پڑھنی ہے  کہ اس میں کیا لکھا ہے یہ نہیں کس نے لکھا ہے ۔

                                          

  

                                                               دانیال رضا

ایڈئٹر   

Chingaree.com

  

0
0
0
s2smodern