پریس نیوز ۔ آئی ایم ٹی جرمنی

 پچیس اپریل دو ہزار آٹھارہ بروز بدھ بعد دوپہر 3 بجے فرینکفرٹ میں پاکستانی قونسلیٹ کے باہر پاکستان میں آئی ایم ٹی اور اور پی ٹی ایم کے گرفتار سیاسی رہمناوں کی رہائی اور مطالبات کی منظور ی کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ جس کے بعد ایک قرار داد قونسلر جنرل کو پیش کی جائے گئی ۔ 

اس مظاہرہ میں جرمنی میں رہنے والے تمام پاکستانیوں اور انکے ہمدرد جرمن شہریوں کا ملکی ،سماجی  انقلابی اور سیاسی فریضیہ ہے کہ پاکستان میں ایک لمبے عرصے کے بعد غریب عوام اپنی  زندگی کے حق کے لیے صف احتجاج ہیں اور حکمران ان ہر ریاست گردی سے ہر ظلم روا رکھ رہے ہیں تمام نام نہاد آزاد اور غیر جانبدار میڈہے آج ان عوامی احتجاجوں پر خاموش تماشائی ہے اور ریاست کے پاوں چاٹ رہا ہے ۔ اس  نے پی ٹی ایم تحریک کا مکمل بائکاٹ کر رکھا ہے ۔

حکمرانوں کی گھبراہٹ اور خوف اس سے واضح ہو چکا ہے کہ وہ اب پی ٹی ایم اور انکو سپورٹ کرنے والوں کو گرفتار کر رہے ہیں لیکن یہ تحریک جاری ہے اور جاری رہے گئی ۔ بیرون ملک پاکستانی عوام جس ملک اور براعظم میں بھی ہوں وہ اپنے ملک کی محنت کشوں اور عوام سے کھبی غافل نہیں ہو سکتے وہ ہر جگہ اپنے عوام کے حقوق کی جنگ میں برابر کے شریک ہیں اور25 اپریل 2018 کو بعد دوپہر 3 بجے فرینکفرٹ پاکستانی قونسلیٹ کے سامنے احتجاج سے ہم یہ ثابت کریں گئے ۔

22اپریل 2018کو پاکستان میں پولیس نے ایک آپریشن کے تحت آئی ایم ٹی ( لال سلام )پاکستان کے دس کامریڈز کو گرفتار کر لیا جو پشتون تحفظ تحریک کی حمائت میں کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرے کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے ۔ چنگاری ڈاٹ کام کے ایڈیٹر دانیال رضا ،چنگاری فورم جرمنی کے صدر احمد سعید ضیا ۔ ڈیر فونکے جرمنی کے جنرل سیکرٹری  کرسٹوف، اور ڈی لنکے پارٹی جرمنی کے رہنما ہنس گیہرٹ اوفنگر  سات پاکستانی کامریڈز کی  فورا رہائی اور پی ٹی ایم کے تمام مطالبات کی مکمل منظوری کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh