1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا اور اجتماعی ملکیت کی بنیادوں پر ایک غیر طبقاتی سماج تعمیر کرنے کی شعوری کوشش کی

0
0
0
s2smodern

گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، پروفیسر اور تاریخ دان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مارکسزم پر حملہ کر کے اس کو بدنام کیا جا سکے

0
0
0
s2smodern

سال 2017ء کا آغاز یورپ کی تاریخ کے سب سے سرد موسم سرما سے ہوا جس کے نتیجے میں 61 اموات واقع ہوئیں۔ ابھی سردی کی اس لہر کی وجوہات کو جاننے کی کوششیں ہی کی جا رہی تھیں کہ فروری میں افغانستان، پاکستان سرحد پر برفانی تودوں کے گرنے سے 100 سے زیادہ اموات ہو گئیں۔ اٹلی کی تاریخ کے سب سے بڑے تودے کے گرنے کی وجہ سے بے شمار لوگ ہلاک ہو گئے

0
0
0
s2smodern

آج کے دور میں فلسفۂ موضوعی عینیت کی جو شکل ہمیں نظر آتی ہے اس کا اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ ظہور پذیر ہونا لازمی تھا۔ یہ فلسفہ آج کے دور کے مسئلے کو تجریدی زبان میں بیان کرتا ہے لیکن اس کے پاس اس کا کوئی حل نہیں اور یہی اس کی ناکامی ہے

0
0
0
s2smodern

اوزار میں بہتری کیساتھ اور معروضی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کو ظالم فطرت سے بچائے رکھنے کیلئے انسان نے ارتقا کے مراحل سے گزرتے ہوئے جب شکار کی طرف دھیان موڑا تو اس کے ساتھ ساتھ ہی سماج کی بناوٹ میں اور اس کے توازن میں بھی مرحلہ وار تبدیلیاں واقع ہوئیں

0
0
0
s2smodern

ہندوستان پر بھی اس انقلاب کے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور اس خطے کے انقلابی نوجوانوں، محنت کشوں اور آزادی پسندوں کو اس انقلاب نے شدید متاثر کیا۔ اس وقت کے روس اور ہندوستان میں بہت سے مماثلتیں پائی جاتی تھیں

0
0
0
s2smodern

25 جون 2017ء کو پاکستان کے سب سے بڑے اور بااثر انگریزی اخبار نے ’’ نئے روس کے پرانے بالشویک‘‘ کے عنوان سے کسی بورس سٹریملن کا ایک لمبا چوڑا مضمون شائع کیا

0
0
0
s2smodern

1917ء میں روس میں برپا ہونے والے عظیم بالشویک انقلاب کو اس سال ایک صدی مکمل ہو گئی ہے۔ ایک سوسال قبل ہونے والے انسانی تاریخ کے ان اہم ترین واقعات میں محنت کش طبقے نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور کئی صدیوں سے جاری امیر اور غریب پر مبنی طبقاتی نظام کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا

0
0
0
s2smodern

آج جب میں یہ تحریرلکھنے بیٹھا ہوں تو مارکس کی اس کتاب کو چھپے ٹھیک ڈیڑھ سو سال ہو چکے ہیں جس کے بارے میں اقبال کا کہنا ہے گو مارکس پیغمبر نہیں تھا لیکن اس کے بغل میں کتاب ضرور تھی1؂۔ یہ کتاب جو کہ سب سے زیادہ اپنے جرمن نام یعنی ’’داس کیپیٹل‘‘ ہی سے جانی جاتی ہے

0
0
0
s2smodern

1917ء کے پہلے دوماہ میں روس پر ابھی رومانوف خاندان کی ہی بادشاہت تھی۔ صرف آٹھ ماہ بعد بالشویک اقتدار میں آ چکے تھے۔ سال کے آغاز پر بہت ہی کم لوگ ان کو جانتے تھے، اور جب وہ برسرِ اقتدار آئے تو ان کی قیادت پر ابھی بھی ریاست سے غداری کی فردِ جرم عائد تھی

0
0
0
s2smodern

داس کیپیٹل کی پہلی اشاعت کے ڈیڑھ سو سال بعد آج پوری دنیا میں اس تصنیف کو سمجھے جانے کی جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی بھی نہ تھی

0
0
0
s2smodern