1917ء کے پہلے دوماہ میں روس پر ابھی رومانوف خاندان کی ہی بادشاہت تھی۔ صرف آٹھ ماہ بعد بالشویک اقتدار میں آ چکے تھے۔ سال کے آغاز پر بہت ہی کم لوگ ان کو جانتے تھے، اور جب وہ برسرِ اقتدار آئے تو ان کی قیادت پر ابھی بھی ریاست سے غداری کی فردِ جرم عائد تھی

0
0
0
s2smodern

سال 2017ء کا آغاز یورپ کی تاریخ کے سب سے سرد موسم سرما سے ہوا جس کے نتیجے میں 61 اموات واقع ہوئیں۔ ابھی سردی کی اس لہر کی وجوہات کو جاننے کی کوششیں ہی کی جا رہی تھیں کہ فروری میں افغانستان، پاکستان سرحد پر برفانی تودوں کے گرنے سے 100 سے زیادہ اموات ہو گئیں۔ اٹلی کی تاریخ کے سب سے بڑے تودے کے گرنے کی وجہ سے بے شمار لوگ ہلاک ہو گئے

0
0
0
s2smodern

انقلابات تاریخ کا انجن ہوتے ہیں۔ انسانی سماج کی تاریخ انقلابا ت کے بغیر نا مکمل ہے۔ ایک لمبے عرصے تک مخصوص ڈگر پر چلنے کے بعد سماج ایک ایسے نکتے پر پہنچ جاتا ہے جہاں موجود سماجی رشتے اور نظریات ذرائع پیداوار اور سماج کو آگے لے جانے کے بجائے اسے پیچھے کی جانب دھکیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے میں سماج کی ایک مکمل تبدیلی کی ضرورت پیدا ہوتی ہے جس کے لیے نئے نظریات جنم لینا شروع کرتے ہیں

اوزار میں بہتری کیساتھ اور معروضی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کو ظالم فطرت سے بچائے رکھنے کیلئے انسان نے ارتقا کے مراحل سے گزرتے ہوئے جب شکار کی طرف دھیان موڑا تو اس کے ساتھ ساتھ ہی سماج کی بناوٹ میں اور اس کے توازن میں بھی مرحلہ وار تبدیلیاں واقع ہوئیں

0
0
0
s2smodern

انسان دنیا کا وہ واحد جاندار ہے جو اپنے وجود کا باقی دنیا سے الگ ایک شعور رکھتا ہے اور اسی وجہ سے اپنے وجود کی بنیاد کو جاننے کی جستجو نے انسان کو صدیوں سے لاتعداد توجیہات پیش کرنے پر مجبورکیا ہے۔ انسان نے مختلف علاقوں میں مختلف وقتوں میں اپنے وجود میں آنے پر کافی مختلف وجوہات پیش کیں اور صرف انسان کے وجود پر ہی نہیں بلکہ دنیا کے وجود میں آنے پر بھی مختلف توجیہات پیش کی گئیں۔

0
0
0
s2smodern

25 جون 2017ء کو پاکستان کے سب سے بڑے اور بااثر انگریزی اخبار نے ’’ نئے روس کے پرانے بالشویک‘‘ کے عنوان سے کسی بورس سٹریملن کا ایک لمبا چوڑا مضمون شائع کیا

0
0
0
s2smodern

11مئی کی صبح تک باغی سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد دہلی کے لال قلعے کے سامنے اکٹھی ہو چکی تھی اور مغل بادشاہ سے ملاقات کی خواہش مند تھی۔ قلعے میں بیکاری کی زندگی گزارنے والا 82سالہ بہادر شاہ ظفر اس ساری صورتحال کو سمجھنے سے قاصر تھا۔

0
0
0
s2smodern

آج جب میں یہ تحریرلکھنے بیٹھا ہوں تو مارکس کی اس کتاب کو چھپے ٹھیک ڈیڑھ سو سال ہو چکے ہیں جس کے بارے میں اقبال کا کہنا ہے گو مارکس پیغمبر نہیں تھا لیکن اس کے بغل میں کتاب ضرور تھی1؂۔ یہ کتاب جو کہ سب سے زیادہ اپنے جرمن نام یعنی ’’داس کیپیٹل‘‘ ہی سے جانی جاتی ہے

0
0
0
s2smodern

عور ت کی سماجی حیثیت ہمیشہ سے مغلوب یا مجہول نہیں رہی بلکہ انسانی ارتقا کے ابتدائی سالوں میں مرد اور عورت میں کسی قسم کی سماجی تفریق موجود نہیں تھی

0
0
0
s2smodern

داس کیپیٹل کی پہلی اشاعت کے ڈیڑھ سو سال بعد آج پوری دنیا میں اس تصنیف کو سمجھے جانے کی جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی بھی نہ تھی

0
0
0
s2smodern

بورژوا معاشرے میں ریاست کا سوال مارکسٹوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اسے سماج سے بالا کھڑے ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر نہیں دیکھتے۔

0
0
0
s2smodern