|تحریر: راب سیول؛ ترجمہ: ولید خان|

’’ شدید بحرانات کے عہد میں تنگ نظر اور کمزور دل مایوسی میں ڈوبے جا رہے ہیں لیکن عالمی بائیں حزب اختلاف کی تعمیر و ترویج ہو رہی ہے ۔ در حقیقت یہ بحرانات ناگزیر ہیں۔ مارکس اور اینگلز کی آپسی خط و کتابت یا بالشویک پارٹی کی تعمیر کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرنا ہی اس جانکاری کے لئے کافی ہے کہ انقلابی کیڈر کی تعمیر و تربیت کتنا مشکل، پیچیدہ اور تضادات سے بھرپور عمل ہے۔‘‘
’’اگر روسی انقلاب کے پہلے باب (23-1917ء) نے عالمی محنت کش طبقے کے انقلابی رجحانات کو دیو ہیکل مہمیز فراہم کی تو 1923ء کے بعد اس کے دوسرے باب نے انقلابی کارکنوں کی صفوں میں خوفناک افراتفری پھیلائی۔ اس عہد کا مکمل احاطہ کرتے ہوئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ صرف ایک خوفناک زلزلہ ہی مادی ثقافت میں وہ تباہی و بربادی برپا کر سکتا ہے جو طفیلیوں کے انتظامی طرز عمل نے مارکسزم کے اصولوں، نظریات اور طریقہ کار میں برپا کی ہے۔‘‘ 
’’ مارکسی تھیوری اور حکمت عملی کے تاریخی دھارے کو دوبارہ جوڑنا حزب اختلاف کا اولین فریضہ ہے۔‘‘
لیون ٹراٹسکی، 17 فروری 1931ء

بالشویک قیادت میں برپا ہونے والا اکتوبر 1917ء کا روسی انقلاب تاریخ کا عظیم تر واقعہ تھا۔ پیرس کمیون کے قلیل مدت واقعہ کے علاوہ تاریخ میں پہلی مرتبہ محنت کش طبقے نے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو بے دخل کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا۔ پوری دنیا میں اکتوبر کے واقعات سے متاثر ہوکر کروڑوں لوگوں کی امیدیں انقلاب سے وابستہ ہو گئیں جس کے بعد 21-1917ء کے عرصے میں کئی انقلابی واقعات برپا ہوئے۔ 1918ء میں انقلاب نے طاقت جرمن محنت کشوں کے ہاتھوں میں مرتکز کر دی لیکن سوشل ڈیموکریٹ قیادت نے وہ طاقت دوبارہ سرمایہ داروں کو تھما دی۔ بوویریا اور ہنگری میں سوویت جمہوریاؤں کا قیام ہوا لیکن جلد ہی رد انقلاب نے ان کا تختہ الٹ دیا۔ یورپ انقلاب کے شعلوں میں جل رہا تھا لیکن غداریوں اور ناقص قیادت نے ان شعلوں کو بجھاتے ہوئے پورے عالم میں روسی انقلاب کو تنہا کر کے رکھ دیا ۔

بالشویک پارٹی کا پروگرام عالمی سوشلسٹ انقلاب کا پروگرام تھا ۔روسی انقلاب اس عالمی انقلاب کا محض پہلا واشگاف اعلان تھا۔ لینن نے وضاحت کی تھی کہ جنگوں اور انقلابات کا ایک نیا عہد شروع ہو گیا ہے جس کے لئے انقلابیوں کو تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے لینن اور ٹراٹسکی نے مارچ 1919ء میں ایک نئی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی۔ یہ اقدام سوشلسٹ انٹرنیشنل کے قائدین کی غداری کا منہ توڑ جواب تھا جنہوں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران اپنے حکمران طبقات کی حمایت کرتے ہوئے، روزا لکسمبر گ کے الفاظ میں انٹرنیشنل کو ایک ’’بدبودار لاش‘‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔ 

کمیونسٹ انٹرنیشنل کے ابتدائی چند سال حقیقی انقلابی تحرک کے سال تھے جن کی عمل داری کی بنیاد روسی انقلاب اور لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت تھی۔ لیکن انٹرنیشنل کی طرف راغب ہونے والی نوجوان قوتیں سیاسی طور پر نابالغ تھیں۔ جرمنی، فرانس، اٹلی اور دیگر ممالک میں بڑے حجم کی نئی کمیونسٹ پارٹیوں کا جنم تو ہوا لیکن یہ عالمی جنگ کے بعد اٹھنے والی دیو ہیکل انقلابی لہر کا فائدہ اٹھانے میں انتہائی کمزور ثابت ہوئیں۔ ان کی ناتجربہ کاری ایک ایسی رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے فاش غلطیاں سرزد ہوئیں۔ مثلاً، جرمنی میں پارٹی نے 1921ء میں ایک الٹرا لیفٹ اور قبل از وقت ’مارچ ایکشن‘ کیا جس کا نتیجہ خونی شکست اور پارٹی کے تنہا رہ جانے کی صورت میں نکلا۔ اس پہلے ریلے کے بعد سرمایہ داری کو کم از کم عارضی طور پر سنبھلنے کا موقع مل گیا۔

سٹالن، رائیکوف، کامینیف اور زینوویف

دو سال بعد 1923ء میں انقلابی صورتحال نے ایک بار پھر جرمنی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور عوام اپنی پرانی تنظیموں کو چھوڑ کر کمیونسٹوں کو بطور قائدین دیکھنے لگے۔ بدقسمتی سے جرمن کمیونسٹوں کو سٹالن اور زینوویف کی طرف سے ’آہستہ آگے بڑھو‘ کی ہدایات تھیں جس کا المناک نتیجہ اقتدار پر قبضے کا موقع گنوانا تھا۔ سٹالن نے لکھاکہ ’’میری رائے میں جرمنوں کو شہ دینے کی بجائے ہر صورت روکنا چاہیے۔‘‘ ٹراٹسکی نے اس سستی پر خبردار کرتے ہوئے سرکشی کے منصوبے پر فوراً عمل کرنے کا مشورہ دیا لیکن اس کی تجویز کو انقلابی رومانویت کہہ کر رد کر دیا گیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک لینن پے در پے فالج کے حملوں سے شدید مفلوج ہو چکا تھا۔ 

جرمن شکست سے چند ہفتے پہلے ستمبر 1923ء میں روسی مرکزی کمیٹی کے پلینم پرٹراٹسکی نے پارٹی کو جارحانہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا تھا ۔ میٹنگ کی یادداشتوں کے مطابق، 

’’مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے رخصت ہونے سے پہلے کامریڈ ٹراٹسکی نے ایک تقریر کی جس پر تمام مرکزی کمیٹی ممبران ہل کر رہ گئے۔ اس نے اپنی تقریر میں واشگاف اعلان کیا کہ جرمن کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں مقدر پرستی اور سستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، وغیرہ۔ کامریڈ ٹراٹسکی نے مزید کہا کہ ان حالات میں ناکامی جرمن انقلاب کا مقدر بن چکی ہے۔ اس تقریر پر تمام شرکا ششدر رہ گئے۔ پھر بھی زیادہ تر کامریڈوں کی رائے تھی کہ اس لعن طعن کی وجہ جرمن انقلاب میں نہیں بلکہ مرکزی کمیٹی پلینم میں رونما ہونے والے ایک واقعہ میں تھی اور یہ تقریر معروضی حالات سے متضاد تھی۔‘‘ 

زینوویف، کامینیف اور سٹالن کے اتحاد ثلاثہ کے گرد اکٹھی اکثریت نے ٹراٹسکی کی تنبیہ کو نظر انداز کر دیا۔ لیکن جب شکست سب پر واضح ہو گئی تو پلٹا کھا کر سب نے جرمن پارٹی کی قیادت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدوں سے سبکدوش کر دیا۔ اس فیصلے کی ٹراٹسکی نے بھرپور مذمت کی۔ شکست کی اصل وجوہات زینوویف اور سٹالن کے غلط مشورے اور پالیسیاں تھیں۔ 

مغرب میں ’بالشویزم‘ کے ممکنہ پھیلاؤ کے خوف سے امریکی سامراج نے انتہائی عجلت میں مالیاتی قرضوں کے ذریعے جرمن سرمایہ داری کی مدد کی۔ انہوں نے 1919ء میں ورسائی میں شکست خوردہ جرمنی کو نچوڑنے کی غلطی سے سبق سیکھ لیا تھااور اب دوبارہ اسے دہرانے کو تیار نہیں تھے۔ 

جرمن انقلاب کی شکست اور روسی انقلاب کی مزید تنہائی کے ڈرامائی نتائج مرتب ہوئے۔ روس کی پسماندگی، پہلی عالمی جنگ کی ہولناکی، خانہ جنگی کی تباہ کاری اور سامراجی مداخلت اور ناکہ بندی کے تباہ کن اثرات پڑے۔ لینن کے الفاظ میں انقلاب ایک ’محصور قلعے‘ میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ صرف مغرب میں سوشلسٹ انقلاب کا پھیلاؤ ہی اس تنہائی کو توڑ کر شکست کو فتح میں تبدیل کر سکتا تھا۔ خانہ جنگی کے دوران سامراجی مداخلت اور سفید فوج کے خلاف دفاعی کوششوں کو کامیاب کرنے کی خاطر محدود وقت کے لئے ’جنگی کمیونزم‘ نافذ کرنا پڑا۔ لیکن خانہ جنگی کے اختتا م پر اس پالیسی کو تبدیل کر کے’ نئی معاشی پالیسی‘ (NEP) لاگو کی گئی تاکہ منڈی کو بحال کر کے دیہی اور شہری علاقوں میں ابھرنے والے شدید تضادات پر قابو پایا جا سکے۔ لیکن سرمایہ داری کو دی جانے والی یہ مراعات، جنہیں ’پسپائی‘ کہا گیا، طبقاتی تفاوت کو شدید کرنے اور امیر سٹہ بازوں، نیپ مین اور کولاکوں کے ابھرنے کا باعث بنیں۔

خوفناک پسماندگی اور انقلاب کی تنہائی کی وجہ سے پرانی افسر شاہی کی طاقت دوبارہ بڑھنے لگی اور وہ واپس ریاست، یہاں تک کہ پارٹی میں بھی سرایت کرنے لگی۔لینن کے مطابق، ’’مزدور ریاست کی سطح کو کہیں سے بھی کھرچیں تو سوشلزم کی باریک سی ملمع کاری کے نیچے وہی پرانی زار شاہی ریاستی مشینری ہے۔‘‘ قحط کی خوفناکی اور قلت کے مسائل نے قلیل محنت کش طبقے کو کمزور کر دیا اور مزدور جمہوریت کی اوزار ’سوویتیں‘ بیکار ہو گئیں۔ نامزد افسران اور بیوروکریٹوں کی بڑھتی تعداد نے محنت کش طبقے کو پیچھے دھکیلتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ اور کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا۔ تنہائی کا شکار اور تھکن سے چو ر سوویت حکومت ایک کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی۔ مغرب سے انقلابی امداد کے سوا بالشویکوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ لیکن اس دوران افسر شاہی کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔

نئے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے نئے طریقے متعارف کرائے جا رہے تھے۔ پرانے انقلابی ریاستی مشینری میں ضم ہو رہے تھے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام سے ان کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ سابق زار شاہی بیوروکریٹوں کے بڑھتے کنٹرول کے ساتھ عوام میں بھی تبدیلی آ رہی تھی اور ریاست اور پارٹی میں ’پھر سے صف بندی‘ ہو رہی تھی۔ یہ سٹالن ازم کے ابھار کی حقیقی مادی وجوہات تھیں۔ 

1924ء میں لینن کی وفات اور جرمن انقلاب کی شکست کے بعد افسر شاہی اور بھی زیادہ پنجے گاڑ چکی تھی۔ سٹالن عوام سے بالا تر اس مراعات یافتہ پرت کے نمائندے اور چہرے کے طور پر سامنے آیا۔ جیسا کہ مارکس نے بیان کیا تھاکہ ’’فن، سائنس اور حکومت‘‘ ایک مٹھی بھر اقلیت کی داشتہ بن کر رہ جاتے ہیں اور یہ اقلیت اپنی سماجی حیثیت کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرتی ہے۔ مارکس اور لینن سمجھتے تھے کہ افسر شاہی کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عوام حکومت، صنعت اور سماج کو چلانے میں عملاً حصہ لیں۔ لیکن دس، بارہ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ اوقات کار رکھنے والے محنت کش طبقے کی پسماندگی اور معروضی مشکلات کی وجہ سے یہ نا ممکن تھا۔ 

سٹالن کے گرد ابھرنے والی افسر شاہی کے خطرے کو بھانپتے ہوئے لینن نے اس کے خلاف کوشش کی مگر زندگی نے زیادہ موقع نہ دیا

افسر شاہی کے اس ابھار کو بھانپتے ہوئے لینن نے ٹراٹسکی کے ساتھ مل کر اس خطرے کے خلاف اپنی زندگی کی آخری جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس جدوجہد کا آغاز 1922ء کے اختتام اور 1923ء کے پہلے دو مہینوں میں ہوا اور اس کا ایک اہم پہلو لینن کا سٹالن سے قطع تعلق کرنا تھا۔ لینن پر 14 دسمبر 1922ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد وہ جزوی طور پر مفلوج ہو گیا۔ اگلے دن اس نے اپنی وصیت لکھوانی شروع کی۔ بیوروکریٹ سٹالن اور اس کے ساتھی اورجونیکیدزا کی جارجین بالشویکوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاع پر لینن کو شدید صدمہ پہنچا۔ یہی وجہ تھی کہ لینن نے ایک’ توپ کا گولہ‘ تیار کیا۔۔ یہ اعلان کہ سٹالن کو ہر صورت پارٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ قدم اٹھایا جاتا، لینن پر ایک بار پھر فالج کا حملہ ہوا۔ قوتِ گویائی کھونے کے بعد لینن بستر مرگ پر کسی قسم کی مداخلت سے قاصر مفلوج پڑا رہا۔ 

لینن نے اپنی وصیت میں لکھا کہ ٹراٹسکی ’’سنٹرل کمیٹی میں سب سے زیادہ قابل آدمی‘‘ ہے۔ ٹراٹسکی کو پارٹی قیادت سے محروم کرنے کے لئے سٹالن، زینوویف اور کامینیف، یعنی ان ’’پرانے بالشویکوں‘‘ نے ایک اتحاد ثلاثہ بنا لیا۔ ٹراٹسکی کو بدنام کرنے کے لئے انہوں نے خاص طور پر لینن اور ٹراٹسکی کے درمیان تمام پرانے اختلافات، جنہیں تاریخ بہت عرصہ پہلے حل کر چکی تھی، باہر نکالے اور ممبران پر ان کی بوچھاڑ کر دی۔ یہ کام پہلے پہل بند دروازوں کے پیچھے کیا گیا کیونکہ لینن کے ہمراہ بطور قائد انقلاب ٹراٹسکی کی ابھی تک بے پناہ سیاسی اور اخلاقی اتھارٹی تھی۔ اس کے سامنے سٹالن کچھ بھی نہیں تھا جبکہ 1917ء میں زینوویف اور کامینیف کا ’ہڑتال توڑ‘ کردار، جب دونوں نے مسلح سرکشی کی مخالفت کی تھی، ابھی بھی عوامی شعور میں تازہ تھا۔ 

ٹراٹسکی کو نکال کر پولٹ بیورو کے بقیہ تمام ممبران پر مشتمل ایک ڈھکا چھپا گٹھ جوڑ خفیہ طور ٹراٹسکی کے خلاف لڑائی کو منظم کرتا رہا۔ اس لڑائی کا تعلق اصولوں سے نہیں بلکہ بد اصولی اور بدگمانی سے تھا۔ غیر منتخب تقرریوں کے وسیع تر طریقہ کار کے ذریعے(جس پر سٹالن کامکمل کنٹرول تھا)اس خفیہ دھڑے نے قومی اور مقامی سطح پر ریاستی مشینری کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ 

انقلاب کی اس پسپائی کے ملک پر خاطر خواہ اثرات پڑ رہے تھے۔ عوام تھک چکی تھی۔ افسر شاہی زور پکڑ رہی تھی۔ پارٹی قیادت سازشوں کی آماجگاہ بن چکی تھی۔ ٹراٹسکی کے مطابق، ’’طفیلیے اپنا سازشی دائرہ پھیلاتے جا رہے تھے۔ پہلے پہل انہوں نے محتاط انداز میں اشارے کنایوں میں پیش قدمی کی جس میں وہ ہر لمحہ زہر کی مقدار بڑھاتے گئے۔ یہاں تک کہ سب سے زیادہ بے صبر ے زینوویف نے بھی اپنی تہمتوں کو تحفظات کے لبادے میں لپیٹے رکھا۔‘‘ بہرحال ’ٹراٹسکی ازم‘ کے خلاف جدوجہد زور پکڑتی گئی۔

ٹراٹسکی کے مطابق، 

’’اس سازش کے خلاف جس پارٹی ممبر نے بھی آواز بلند کی اسے خوفناک حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن کا جواز انتہائی مبہم اور اکثر اوقات من گھڑت ہوتا تھا۔ دوسری طرف، پہلے پانچ سالوں میں بے رحمی سے بے دخل کئے گئے اخلاقیات سے عاری عناصر ٹراٹسکی کے خلاف صرف ایک جارحانہ جملہ بول کر واپس بحال ہو رہے تھے۔‘‘ 

لینن کی وفات کے بعد اس طرح کے ہزاروں لاکھوں کیریئراسٹوں کو نام نہاد لینن لیوی کے نام پر پارٹی میں گھسایا گیا جس کی وجہ سے ممبرشپ کمزور ہوتی چلی گئی اور سٹالن اور افسر شاہی کی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا۔ 

بائیں بازو کی حزب اختلاف کی تخلیق

ٹراٹسکی کی بائیں بازو کی حزب اختلاف کی بنیاد 1923ء میں رکھی گئی۔ یہ یکدم ہی تعمیر نہیں ہو گئی بلکہ یہ سفر حکمران دھڑے کی پالیسیوں کے خلاف مرحلہ وار تھا۔ اس سال اکتوبر میں پہلا سنجیدہ اختلاف سامنے آیا۔ معاشی صورتحال ابتر ہو رہی تھی اور کئی علاقے ہڑتالوں کی لپیٹ میں تھے۔ سورمورو، خارکوف، دونیتس بیسن اور دیگر علاقوں کے انجینئرنگ پلانٹس میں مزدوروں نے اجرتوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتالیں کر دیں۔ ملک میں پھیلی بے چینی کا اظہار بالشویک پارٹی میں بھی ہونا شروع ہو گیا۔ لیکن اتحاد ثلاثہ کے کنٹرول میں مرکزی کمیٹی نے پارٹی کے اندر اور باہر مخالف رجحانات کو سختی سے کچلنا شروع کر دیا۔ 

اس سنجیدہ صورتحال میں ٹراٹسکی نے 8 اکتوبر کو سنٹرل کمیٹی کو ایک خط لکھا جس میں اس نے صورتحال کی سنجیدگی اور ’’پارٹی میں بیمارطرز حکمرانی‘‘ کے ابھار پر احتجاج کیا۔ اس نے وسیع پیمانے پر غیر منتخب تقرریوں اور ہر سطح پر پارٹی جمہوریت کو کچلنے پر شدید تنقید کی۔ ’’پارٹی کی افسر شاہانہ تبدیلی بے قابو ہو چکی ہے‘‘۔ 

ٹراٹسکی نے خط کا اختتام ان الفاظ میں کیا کہ

’’مرکزی کمیٹی اور مرکزی کنٹرول کمیشن کے ممبران کے علم میں ہے کہ مرکزی کمیٹی میں کسی غلط پالیسی کے خلاف انتہائی مستعد اور فیصلہ کن مخالفت کرنے کے باوجود میں مرکزی کمیٹی میں جاری کسی بھی جدوجہد کو مٹھی بھر کامریڈوں کے سامنے بھی کبھی لے کر نہیں آیا، خاص طور پر ان کے سامنے جو پارٹی کے درست لائحہ عمل اختیار کرنے کی صورت میں مرکزی کمیٹی میں نمایاں ذمہ داریوں پر فائز ہونے کے اہل ہیں۔ مجھے یہاں کہنا ہے کہ میری ڈیڑھ سال کی کوششوں کے باوجود کوئی نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اس وجہ سے ہمیں یہ خطرہ لاحق ہے کہ کوئی بھی خوفناک بحران پارٹی کو بے خبری میں دبوچ سکتا ہے۔۔۔ اس پیدا کردہ صورتحال میں، میں اپنا حق ہی نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ پارٹی کے ہر اس ممبر کوجسے میں معقول طور پر تیار، بالغ اور پختہ سمجھتا ہوں، حقیقی صورتحال کا ادراک ہو تاکہ پارٹی کو دھڑوں کی لڑائی کے بغیر اس بند گلی سے نکالا جا سکے۔‘‘ 

اس سخت تحریر نے پنپتے ہوئے حزب اختلاف کی قیادت ٹراٹسکی کو سونپ دی۔

15 اکتوبر 1923ء کو چھیالیس پارٹی ممبران نے، جن میں سے کئی خانہ جنگی کے دنوں میں ممتاز ذمہ داریوں پر فائز رہ چکے تھے،پولٹ بیورو کو ’46 کا پلیٹ فارم‘ کے نام سے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے ٹراٹسکی کی تنقید کی مکمل حمایت کی۔ ’’ہم اس (بحران) کی وضاحت اس حقیقت سے کر رہے ہیں کہ بظاہر سرکاری اتحاد کی موجودگی میں افراد کی تقرری ایک یکطرفہ عمل بن چکی ہے اور معاملات چلانے کی سمت یکطرفہ ہے اور طریقہ کار ایک محدود حلقے کے خیالات اور ہمدردیوں کے مطابق ہے۔ پارٹی قیادت کے انتہائی تنگ اور محدود نکتہ نظر کی وجہ سے پارٹی اب وہ فعال اور جاندار آزاد اکٹھ نہیں ہے جو زندہ حقیقت کو حساس باریکی سے پرکھ سکے کیونکہ وہ اس حقیقت کے ساتھ ہزاروں تانوں بانوں سے جڑی ہوتی ہے۔‘‘ 

حزب اختلاف نے مطالبہ رکھا کہ مزدور جمہوریت کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ پارٹی اور ریاستی مشینری کی افسر شاہانہ زوال پذیری کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ’پلیٹ فارم‘ کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ دسویں کانگریس میں پارٹی میں موجود معطل دھڑوں کی قانونی حیثیت بحال کی جائے۔

’’ہم میں سے بہت ساروں نے شعوری طور پر اس طرز حکمرانی(دھڑے بندی پر پابندی) کو قبول کیا تھا ۔ 1921ء میں پالیسی کی تبدیلی اور بعد ازاں کامریڈ لینن کی بیماری کی وجہ سے ہم میں سے کچھ کا مطالبہ تھا کہ پارٹی میں عارضی طور پر ایک آمریت نافذ کر دی جائے۔ کچھ کامریڈوں کا شروع سے ہی اس تجویز پر تشکیک پسند یا منفی رویہ تھا۔ بہرحال کچھ بھی ہو، پارٹی کی بارہویں کانگریس تک اس طرز حکمرانی کی عمر پوری ہو چکی تھی۔ اب اس کا منفی پہلو ابھر کر سامنے آنا شروع ہو گیا تھا۔ پارٹی میں رابطے کمزور ہونا شروع ہو گئے ۔ پارٹی مرنا شروع ہو گئی۔‘‘ 

دھڑے بندی پر عارضی پابندی پیٹی بورژوا دباؤ کے خلاف جدوجہد میں ایک ہتھیار ثابت ہونے کے بجائے پارٹی افسر شاہی کے ہاتھوں میں حقیقی تنقید کے خلاف ہتھیار بن چکی تھی۔ پابندی کا مقصد کبھی بھی اس کا ایسا مجرمانہ استعمال نہیں تھا۔ جب تک لینن زندہ رہا وہ طاقت کے غلط استعمال پر ایک رکاوٹ بنا رہا۔ درحقیقت، لینن نے ٹراٹسکی کے ساتھ مل کر ’جارجین مسئلے‘اور بیرونی تجارت پر ریاستی اجارہ داری کے دفاع میں اپنا بلاک بنا کر خود اس پابندی کو توڑ دیا تھا۔ اگر لینن کچھ عرصہ اور زندہ رہتا تو یقیناًیہ عارضی پابندی ختم کر دی جاتی۔ 

پلیٹ فارم کا فوری مطالبہ تھا کہ مرکزی کمیٹی اور حزب اختلاف کے قائدین کی ایک خصوصی کانفرنس منعقد کی جائے جس میں اختلافات کو حل کیا جائے۔ اس اعلامیے پر دیگر کے علاوہ پریوبرازینسکی، سیریبریاکوف، انتونوف اوفسینکو، آئی این سمیرنوف، پیاتاکوف، اسینسکی، مورالوف اور ساپرونوف نے بھی دستخط کئے۔ سفارتی امور پر بیرون ملک معمور راکوفسکی اور کریس تنسکی بھی ٹراٹسکی کے موقف سے متفق تھے۔ 

1923ء میں لیفٹ اپوزیشن کی بنیاد رکھی گئی

لیکن پولٹ بیورو نے اپنے جواب میں ٹراٹسکی پر ’’مرکزی کمیٹی کے خلاف ایک جدوجہد شروع کرنے کی کوشش‘‘ اور کئی غلطیاں سرزدکرنے کا الزام لگایا جن کی وجہ سے ’’پارٹی میں حقیقی بحران جنم لے سکتا ہے اور پارٹی اور محنت کش طبقے کے درمیان ایک دراڑ پڑ سکتی ہے‘‘۔ اگرچہ ٹراٹسکی کی کسی بھی بحث کا جواب نہیں دیا گیا لیکن اس پر ’’معاشی اور عسکری امور کا آمر‘‘ بننے کی خواہش رکھنے کا الزام لگادیا گیا۔ پولٹ بیورو نے ٹراٹسکی اور لینن کے سابقہ اختلاف رائے کو غلط پیرائے میں پیش کرتے ہوئے اس کی کردار کشی کرنے کی بھی کوشش کی۔ 

ٹراٹسکی کو مجبوراً 24 اکتوبر کو ایک دوسرے خط کے ذریعے پولٹ بیورو کو جواب دینا پڑا جس میں اس نے خاص طور پر لینن اور اس کے خیالات کو مسخ کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کیا۔ ٹراٹسکی نے لینن کے اقوال نقل کئے تاکہ ثابت ہو سکے کہ معاشی سوالات پر اس کے اور لینن کے خیالات مشترک تھے۔ اسی حوالے سے بیرونی تجارت پر ریاستی اجارہ داری کے مشترکہ دفاع کا ذکر بھی کیا جس کے حوالے سے لینن نے اسے ایک مشترکہ بلاک بنانے کا کہا تھا۔ ٹراٹسکی نے خاص طور پر ’تھوڑے ہی صحیح، لیکن صحیح‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لینن کے افسر شاہی پر حملے کا ذکر کیا جس میں اس نے سٹالن کی قیادت میں مزدوروں اور کسانوں کی معائنہ کار عوامی کمیساریت پر تباہ کن تنقید کی۔ لینن کا مطالبہ تھا کہ اس کمیساریت کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ 

’’مزدوروں اور کسانوں کی معائنہ کار کو از سر نو تشکیل دینے کی تجویز پر پولٹ بیورو کا رد عمل کیا تھا؟ ‘‘ٹراٹسکی نے پوچھا۔ ’ ’میری درخواست پر جب پولٹ بیورو کا اجلاس فوراً بلایا گیا تواس میں موجود تمام لوگ؛ سٹالن، مولوٹوف، کوبی شیف، رائکوف، کالینن اور بخارن، نہ صرف لینن کے منصوبے کے خلاف تھے بلکہ اس مضمون کو چھپوانے کے بھی مخالف تھے۔ سیکریٹریٹ کے ممبران کے اعتراضات خاص طور پر تیزوتند اور واضح تھے۔ لینن کے مضمون چھاپنے کے مسلسل اصرار پر کامریڈ کوبی شیف، مستقبل میں رابکن(مزدوروں اور کسانوں کے معائنہ کار) کے عوامی کمیسار ،نے تجویز دی کہ پولٹ بیورو اس مضمون کے ساتھ پراودا کے ایک خصوصی شمارے کی ایک کاپی چھاپ کر لینن کو مطمئن کر دے لیکن اس مضمون کو پوری پارٹی سے چھپا کر رکھا جائے۔‘‘ (ٹراٹسکی، بائیں بازو حزب اختلاف کا چیلنج 1923-25ء، صفحہ نمبر 62)

لینن کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے اسے شعوری دھوکے بازی سے ’بے ضرر‘ بنا دیا گیا۔

نہ تو ٹراٹسکی اور ’46 کا پلیٹ فارم‘ کے خطوط چھاپے گئے اور نہ ہی پارٹی ممبران کو ان سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے برعکس پولٹ بیورو نے بائیں بازو کے حزب اختلاف کے خلاف یکطرفہ مہم شروع کر دی۔ٹراٹسکی نے جواب میں دسمبر 1923ء میں پراودا کے لئے مضامین لکھے جنہیں ایک پمفلٹ ’نیا راستہ‘کے نام سے شائع کیا گیا۔ یہ پمفلٹ حزب اختلاف کی تعمیر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

’نیا راستہ‘ میں ٹراٹسکی ’پرانے اکابرین‘ کی زوال پذیری کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’کیا افسر شاہانہ زوال پذیری کا خطرہ موجود ہے کہ نہیں؟ جو شخص اس کا انکار کرے گا وہ اندھا ہی ہو گا۔ اپنے طویل ارتقاء میں افسر شاہی کے پنپنے کا عمل قائدین کو عوام سے کاٹ دیتی ہے، ان کی توجہ صرف انتظامی امور پر مرکوز ہو کر رہ جاتی ہے، صرف تقرریوں اور تبادلوں پر، ان کی سوچ تنگ ہو جاتی ہے، ان کے انقلابی جذبات ماند پڑ جاتے ہیں، یعنی کم و بیش پرانے اکابرین یا پھر کم از کم ان کے ایک قابل ذکر حصے کی موقع پرستانہ زوال پذیری شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے عوامل آہستہ اور غیر محسوس انداز میں نشوونما پاتے ہیں، لیکن پھر اچانک ہی اپنا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اگر پرانا طریقہ کار ہر قیمت پر اپنے آپ کو قائم و دائم رکھنے کے لئے اپنی گرفت مضبوط کرے ، مصنوعی انتخاب کے ذریعے، ڈرا دھمکا کر، اگر ایک لفظ میں کہا جائے، ایک ایسے طریقہ کار سے جس سے پارٹی پر عدم اعتماد جھلکتا ہو، تو پھر کیڈرز کے ایک قابل ذکر حصے کی زوال پذیری کا خطرہ ناگزیر طور پر بڑھ جائے گا۔‘‘ 

’’کسانوں کو کم تر سمجھنے‘‘ کے الزام کا جواب دیتے ہوئے ٹراٹسکی نے وضاحت کی کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے’ نئی معاشی پالیسی‘(نیپ) کی سفارش کی تھی جس میں کسانوں کو مراعات دی گئیں تھیں لیکن اسے مرکزی کمیٹی نے مسترد کر دیا تھا۔ کسانوں کی سستی اشیاء کی ضرورت کومحنت کش طبقہ صرف دیو ہیکل صنعت کاری کے ذریعے ہی پورا کر سکتا تھا۔ یہ پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل داری کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ ایک بار پھر اس منصوبے کی سٹالن اور اتحاد ثلاثہ نے تمسخر، بدسلوکی اورغلط بیانی کے ذریعے شدید مخالفت کی۔ بعد ازاں پہلا پانچ سالہ منصوبہ نافذ کرتے ہوئے سٹالن نے یہ پورے کا پورا ’’خیالی‘‘ منصوبہ ہی چرا لیا۔

اتحاد ثلاثہ کے تمام تر حملوں اور تہمتوں کے باوجود حزب اختلاف کے خیالات کو پذیرائی ملنی شروع ہو گئی۔ سرخ فوج کے یونٹوں اور ینگ کمیونسٹ لیگ کی اکثریت نے خاص طور پر حزب اختلاف کی حمایت میں ووٹ ڈالے۔ ماسکو میں بھی اکثریت نے حزب اختلاف کی حمایت کی۔ لیکن سٹالن کے کنٹرول میں ریاستی مشینری نے یقینی بنایا کہ تیرہویں کانفرنس میں دھاندلی اور سازشوں کے ذریعے اتحاد ثلاثہ کو مکمل فتح حاصل ہو۔

حزب اختلاف کے قائدین لینن کی صحت یابی کے حوالے سے پر امید تھے، جس کے نتیجے میں جدوجہد تبدیل ہو جانی تھی۔ لیکن 21 جنوری 1924ء کو لینن کی وفات نے اتحاد ثلاثہ کو ہر قسم کی رکاوٹ سے آزاد کر دیا۔ ’ٹراٹسکی ازم‘ کے خلاف مہم تیز تر ہو گئی۔ مئی میں منعقد ہونے والی تیرہویں کانفرنس میں سٹالن نے ٹراٹسکی پر خود حملے کئے۔ پولٹ بیورو کی نظر میں لینن کی وصیت تخریبی تھی اور اسے دبا دیا گیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سٹالن اکتوبر انقلاب کے خلاف مستحکم اور مضبوط ہوتی افسر شاہانہ رجعت کانمائندہ بنتا جا رہا تھا۔ افسر شاہی کو امن اور سکون چاہیے تھا تاکہ وہ عالمی انقلاب کی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔ لینن کی وفات ان کے لئے سنہری موقع ثابت ہوئی۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ عین اسی وقت سٹالن نے ’ایک ملک میں سوشلزم‘کے نام نہاد نظریے کو پیش کیا جو افسر شاہی کے مفادات کی بھر پور ترجمانی کرتا تھا۔

ٹراٹسکی کی قیادت میں بین الاقوامیت پسندوں نے اس غیر مارکسی نظریے کی شدید مخالفت کی۔ بالشویزم نے اپنی ساری تاریخ میں، ’قومی سوشلزم‘ کے مکروہ نظریے کی مخالفت کی تھی،خاص کر پسماندہ روس کے تناظر میں۔ مارکس اور اینگلز نے عرصہ دراز پہلے اس نظر یے کی شدید مخالفت کی تھی۔ مارکسزم کی بنیاد پرولتاری بین الاقوامیت ہے جو خود عالمی سرمایہ داری کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہے۔ لینن نے کئی مرتبہ وضاحت کی کہ عالمی انقلاب کے بغیر ایک تنہا انقلاب ناگزیر طور پر ناکام ہو جائے گا۔ 1924ء کی بہار تک سٹالن بھی اس نظریے کے خلاف تھا۔ لیکن 1924ء کے آخر میں چھپنے والے اپنی تصنیف کردہ کتاب ’لینن ازم کے مسائل‘ کے دوسرے ایڈیشن میں اس نے لکھاکہ ’’اقتدار پر اپنا قبضہ مستحکم کرکے اور کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے ایک ملک کا فاتح پرولتاریہ ایک سوشلسٹ سماج تعمیر کر سکتا ہے اور اسے ایسا کرنا چاہیے۔‘‘ (سٹالن، مجموعہ تصانیف، جلد 6، صفحہ110 )

مارکسزم وضاحت کرتا ہے کہ جب نظریات کو عوامی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو پھر وہ سماج میں موجود ٹھوس مادی مفادات، گروہوں، برادریوں یا طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کا نظریہ افسر شاہی اور کیریئراسٹوں کی ذہنی کیفیت کا عکاس تھا جو انقلاب پر روک لگانا چاہتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ایک حاکم پرت میں تبدیل کر رہے تھے۔ ’ایک ملک میں سوشلزم‘کو اپنانے کے بعد کمیونسٹ انٹرنیشنل عالمی انقلاب کے اوزار سے محض سوویت یونین کی سرحدوں اور ماسکو افسر شاہی کی محافظ بن کر رہ گئی۔ 

ٹراٹسکی نے پیش گوئی کی تھی کہ 1928ء میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کے مرکزی پروگرام میں شامل کیا گیا یہ زہریلا نظریہ انٹرنیشنل کی قومی اور اصلاح پسندانہ بنیادوں پر زوال پذیری کا موجب بنے گا۔ یہ پیش گوئی 1943ء میں حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوئی جب سٹالن نے اسے باقاعدہ تحلیل کر کے اتحادیوں کو اپنی نیک نیتی کا ثبوت دیا۔

’ایک ملک میں سوشلزم‘ کے گھٹیا اور رد انقلابی نظریے کے خلاف ٹراٹسکی نے اپنے شاہکار نظریہ انقلاب مسلسل کا شاندار دفاع کیا۔ 
ٹراٹسکی نے لکھا کہ ’’’انقلاب مسلسل‘ کی اصطلاح مارکس کی اصطلاح ہے جو اس نے 1848ء کے انقلاب کے لئے استعمال کی۔ 

’’مارکسی تحریروں میں، ظاہر ہے تحریف پسندی کے برعکس انقلابی مارکسی تحریروں میں، یہ اصطلاح ہمیشہ استعمال ہوتی رہی ہے۔ اسے فرانز مہرنگ نے 1905-07ء کے انقلاب کے لئے استعمال کیا۔ انقلاب مسلسل کا اگر لفظی ترجمہ کیا جائے تو یہ مستقل انقلاب، غیر منقطع انقلاب ہے۔ چنانچہ بالشویزم کا بنیادی لائحہ عمل انقلاب مسلسل کے نظریے سے مکمل طور پر متفق ہے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ اٹھارہ سال یا پندرہ سال پہلے اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا۔ لیکن اب یہ ممکن ہی نہیں کہ تاریخی پس منظر میں عمومی فارمولے کو اب سمجھا یا پہچانا نہ جا سکے۔۔۔ میری اس وقت کی کسی تحریر میں کسانوں کو نظر انداز کرنے کی معمولی سی کوشش کی بھی شناخت نہیں کی جا سکتی۔ نظریہ انقلاب مسلسل کا تعلق براہ راست لینن ازم اور خاص طور پر 1917ء کے اپریل تھیسس کے ساتھ بنتا ہے۔۔۔ لیکن جیسا کہ اب سب جانتے ہیں، اکتوبر کے مہینے میں اس تھیسس کی روشنی میں وضع ہوئی ہماری پارٹی پالیسی نے آج ’انقلاب مسلسل‘ کے خلاف بولنے والوں کی اکثریت میں اضطراب برپا کر دیا تھا۔‘‘

1924ء کئی حوالوں سے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب زینوویف کومنٹرن کو’بالشویزم‘ میں ڈھال رہا تھا۔ یعنی ماسکو براہ راست مداخلت کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹیوں کی معاونت نہیں بلکہ اطاعت کو یقینی بنا رہا تھا۔ مخالفین کو تمام پارٹی عہدوں، بشمول قیادت سے ہٹا کر ان کی جگہ جی حضوریوں کی فوج ظفر موج بھرتی کی جا رہی تھی۔ ان اقدامات کی وجہ سے یہ پارٹیاں ماسکو کے احکامات کی پابند غلام تنظیمیں بن کر رہ گئی تھیں۔ اس گلے سڑے طریقہ کار کا آغاز زینوویف نے کیا اور اسے پایۂ تکمیل تک سٹالن نے پہنچایا۔ نتیجتاً کمیونسٹ انٹرنیشنل تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔

1924ء حزب اختلاف کے لئے بھی اہم ثابت ہوا۔ اس وقت ٹراٹسکی نے اپنی 1917ء کی تقریروں اور تحریروں کی تیسری جلد کا دیباچہ لکھا جس کا نام ’اکتوبر کے اسباق‘ تھا۔ یہ دیباچہ مختصر لیکن روسی انقلاب اور اس کے اسباق کا بہترین تجزیہ تھا۔ ٹراٹسکی نے 1917ء میں پارٹی کے دو اندرونی بحرانات کی نشاندہی کی، یعنی ایک اپریل میں جب لینن کو پارٹی کے پرانے بالشویکوں کے خلاف جدوجہد کر کے پارٹی کو دوبارہ آنے والے انقلاب کے لئے نظریاتی طور پر مسلح کرنا پڑا اور دوسرا اکتوبر میں جب زینوویف اور کامینیف تذبذب کا شکار ہوتے ہوئے سرکشی کے مخالف ہو گئے۔ ہر اہم مرحلے پر لینن کو ’پرانے بالشویکوں‘کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹراٹسکی نے مزید جرمن انقلاب کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے پارٹی میں موجود دائیں بازو کے رجحان سمیت دیگر مماثلتوں کی نشاندہی کی۔ روس میں لینن اور ٹراٹسکی، زینوویف اور کامینیف کے دائیں بازو کے رجحان پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن جرمنی میں صورتحال مختلف تھی۔ جرمن انقلاب میں کوئی لینن یا ٹراٹسکی موجود نہیں تھااور دائیں بازو کا رجحان قیادت میں حاوی تھا جس نے کامیابی کے ساتھ پورا انقلاب نیست و نابود کر دیا۔ جرمن اکتوبر نے منفی انداز میں اس امر کی تصدیق کر دی جس کی روسی انقلاب نے مثبت طور پر تصدیق کی تھی۔۔ ایک دور اندیش قیادت کی اہمیت ۔

’اکتوبر کے اسباق‘ کی اشاعت ایک بم دھماکہ ثابت ہوا۔ اتحاد ثلاثہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ انہوں نے فوراً مضامین لکھتے ہوئے ٹراٹسکی پر شدید حملے شروع کر دیئے۔ٹراٹسکی کے مختلف اقوال کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اخباروں میں نقل کرتے ہوئے اس کے ماضی اور حال کو مسخ کیا گیا۔ اس کے خلاف حملوں کی شدت بے نظیر تھی۔ 1925ء میں برطانوی کمیونسٹ پارٹی نے ایک کتاب شائع کی جس میں ٹراٹسکی کے ’اکتوبر کے اسباق‘ کے ساتھ زینوویف، کامینیف، سٹالن اور کروپسکایا کے شدید مخالفانہ مضامین کا ایک مجموعہ شائع کیا گیا۔ کتاب کا نام’ ٹراٹسکی ازم کی غلطیاں‘ تھا۔ تعارف میں جے ٹی مرفی کو(ممبر برطانوی کمیونسٹ پارٹی مرکزی کمیٹی جس نے پہلی مرتبہ ٹراٹسکی کی بے دخلی کا مشورہ دیا اور پھر 1932ء میں اس وقت تاریخی ستم ظریفی کا شکار ہوا جب کچھ اختلافات کی وجہ سے اس پر ’ٹراٹسکی ازم‘ کا غلط الزام لگا کرپارٹی سے سٹالن کی تطہیری مہم کے دوران نکال دیا گیا) ٹراٹسکی کی مجبوراً تعریف کرنی پڑی جس کے بعد اس نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی محنت کش طبقے کے لئے کامریڈ ٹراٹسکی اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کے درمیان شدید تنازعہ ایک حیران کن صورتحال تھی۔ ہمارے ذہنوں میں کامریڈ ٹراٹسکی کا نام ہمیشہ کامریڈ لینن کے ساتھ منسوب رہا ہے۔ ’لینن اور ٹراٹسکی!‘ روسی انقلاب اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کے حوالے سے ہماری سوچ اور جذبات میں ہمیشہ یہی دو نام ابھرتے تھے۔‘‘ یہاں تک کہ ٹراٹسکی پر تنقید کرنے کی کروپسکایا کی کوششوں میں بھی طنز کا ایک عنصر موجود ہے۔ مثلاً ’’مجھے نہیں معلوم کہ کیا واقعی کامریڈ ٹراٹسکی اپنے اوپر لگے الزامات کا مرتکب ہوا ہے۔۔ تنازعہ میں مبالغہ آرائی ہونا ناگزیر ہوتی ہے۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب میں 15جنوری 1925ء کو روسی پارٹی کی مرکزی کمیٹی کو لکھے گئے ٹراٹسکی کے خط کو بھی شائع کیا گیا جسے ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔

روسی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پلینم کو ٹراٹسکی کا خط

عزیز کامریڈز،
منعقد ہونے والے مرکزی کمیٹی پلینم کے ایجنڈے پر پہلا مسئلہ ٹراٹسکی کے ’طرز عمل‘ پر مقامی تنظیموں کی طرف سے بھیجی گئی قراردادیں ہیں۔ میری صحت مجھے اجازت نہیں دیتی کہ میں اجلاس میں شرکت کر سکوں لیکن میرا خیال ہے کہ میں اس سوال کے بارے میں مندرجہ ذیل گزارشات کے ساتھ کچھ وضاحت ضرور کر سکتا ہوں:

1۔ گہری سوچ بچار کے بعد میں اب سمجھتا ہوں کہ اگر میں چاہوں تو اپنے اوپر لگائے گئے الزام، کہ میں ’لینن ازم میں تحریف‘ کرنا چاہتا ہوں یا لینن کے کردار کو ’محدود‘ کرنا چاہتا ہوں ،کی ٹھوس دلائل کے ساتھ بھرپور نفی کرسکتا ہوں۔ لیکن میں نے ایسا کرنے سے اس لئے گریز کیا کیونکہ ایک طرف تو میری صحت اجازت نہیں دیتی جبکہ دوسری طرف موجودہ بحث مباحثے کا جو ماحول بن چکا ہے، اس میں میری طرف سے کی گئی ہر بات، چاہے اس کا مواد ، خاصہ یا لب و لہجہ کچھ بھی ہو، تنازعے کو یکطرفہ سے دو طرفہ بناتے ہوئے زیادہ شدید کرنے کا باعث بنے گی۔
اس کے باوجود کہ دورانِ بحث مجھ پر جھوٹے اور انتہائی سنگین الزامات لگائے گئے،اس وقت بھی تمام بحث کے ارتقا ء اور مختلف پہلوؤں پر نظر ثانی کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی کے عمومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا خاموش رہنے کا فیصلہ درست تھا۔ 

2۔ لیکن میں کسی بھی صورت اس الزام کااقرار نہیں کر سکتا کہ میں کسی خاص پالیسی (ٹراٹسکی ازم) کی ترویج کر رہا ہوں اور لینن ازم میں تحریف کی کوشش کر رہا ہوں۔ ایک الزام مجھ پر لگایا جاتا ہے کہ میں بالشویزم کی طرف مائل نہیں ہوا بلکہ بالشویزم میری طرف مائل ہوا، گھٹیا اور بے بنیاد ہے۔ ’اکتوبر کے اسباق‘ کے تعارف میں، میں نے کھل کر اعتراف کیا ہے(صفحہ نمبر 62) کہ بالشویزم نے انقلاب میں اپنے کردار کی تیاری نہ صرف نرودنک اور منشویک بلکہ ’تصفیہ پسندوں‘یعنی وہ رجحان جس میں بھی شامل تھا، کے خلاف نا مصالحت جدوجہد کے ذریعے کی۔ پچھلے آٹھ سالوں میں میرے گمان میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ کسی بھی سوال کو ’ٹراٹسکی ازم‘ کے نکتہ نظر سے پرکھا جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ سیاسی حوالے سے عرصہ دراز پہلے اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ میں درست تھا یا غلط، میں نے درپیش تمام مسائل کو ہماری پارٹی کے عمومی نظریاتی اور عملی تجربے کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سارے عرصے میں مجھے کسی نے یہ اطلاع نہیں دی کہ میری سمجھ بوجھ یا سفارشات کا مطلب کوئی مخصوص رجحان یعنی ’ٹراٹسکی ازم ہے‘۔ مجھے حیران کن طور پراس اصطلاح کا 1917ء پر لکھی گئی اپنی کتاب پر ہونے والی بحث کے دوران پتہ چلا۔ 

3۔ اس حوالے سے کسانوں کے کردار کی بحث انتہائی سیاسی اہمیت کی حامل ہے۔ میں واشگاف الفاظ میں انکار کرتا ہوں کہ ’انقلاب مسلسل‘ کے فارمولے، جس کا اطلاق ماضی پر ہوتا ہے، کے تحت سوویت انقلاب کے دوران میرا کسانوں کی طرف رویہ لاپرواہی پر مبنی تھا۔ اگر اکتوبر کے بعد کسی بھی وقت مجھے ذاتی وجوہات کی بنا پر ’انقلاب مسلسل‘ کے فارمولے کی طرف رجوع کرنا پڑاتو وہ صرف پارٹی تاریخ کے حوالے سے ہی تھا۔ یعنی، ماضی کے حوالے سے اور اس کا موجودہ سیاسی ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں۔ میرے خیال میں انقلاب کے آٹھ سالوں کا تجربہ جس سے ہم سب گزرے ہیں یا مستقبل کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اس معاملے میں ایک ناقابل مصالحت تضاد بنانے کی کوشش کا کوئی جواز نہیں بنتا۔اس کے ساتھ ہی میں مغرب میں انقلاب کی سست روی کے پس منظر میں سوشلسٹ تعمیر کے حوالے سے ہمارے کام کی طرف اپنے مبینہ ’مایوس کن‘ رویے سے منسوب تمام اقوال اور اشاروں کی تردید کرتا ہوں۔ عالمی سرمایہ دارانہ ماحول کی وجہ سے درپیش مسائل کے باوجود سوویت آمریت کے سیاسی اور معاشی وسائل دیوہیکل ہیں۔ پارٹی کی ہدایات پر میں نے بارہا اس خیال میں مزید نکھار لاتے ہوئے اس کے حق میں دلائل دیئے ہیں، خاص طور پر عالمی کانگریسوں میں، اور میرا خیال ہے کہ موجودہ عہد کے تاریخی ارتقاء میں اس خیال کی تمام تر توانائی قائم و دائم ہے۔ 

4۔ میں نے ایک مرتبہ بھی پارٹی کی تیرہویں کانگریس میں طے شدہ متنازعہ مسائل، جن میں مرکزی کمیٹی اور لیبر اور دفاعی کونسل کے مسائل شامل ہیں، پر کوئی آواز نہیں اٹھائی اور خاص طور پر پارٹی اور سوویت کے بالائی اداروں کے باہر کبھی کوئی ایسی تجویز نہیں دی جو با لواسطہ یا بلاواسطہ پہلے سے طے شدہ مسائل پر کوئی سوال اٹھائے۔ تیرہویں کانگریس کے بعد نئے مسائل ابھرے یا اگر واضح بات کی جائے تو وہ مسائل معاشی، سوویت اور عالمی حوالے سے تھے۔ ان مسائل کا حل تلاش کرنا خاص طور پر انتہائی کٹھن کام تھا۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مرکزی کمیٹی کے کام کی مخالفت میں کسی قسم کے ’پلیٹ فارم‘ کو تعمیر کرنا میری سوچ سے قطعاً منافی تھا جیسا کہ پولٹ بیورو، مرکزی کمیٹی پلینم کے اجلاسوں، لیبر اور دفاعی کونسل یا سوویت یونین کی انقلابی کونسل کی میٹنگوں میں موجود کامریڈزجانتے ہیں کہ میرے اس دعوے کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ میں جتنا موجودہ صورتحال میں سمجھ سکا ہوں، پچھلی بحث کے دوران تیرہویں کانگریس میں طے شدہ مسائل کو ایک بار پھراٹھایا گیا جن کا نہ تو میرے کسی کام سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی پارٹی پالیسی کے عملی مسائل سے ان کا کوئی تعلق ہے۔

5۔ جہاں تک میری کتاب کی اشاعت کا تعلق ہے جس کے تعارف کی وجہ سے حالیہ بحث چھڑی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے اس الزام کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میں نے اپنی کتاب مرکزی کمیٹی کی پیٹھ پیچھے شائع کی۔ حقیقت یہ ہے کہ میری کتاب بالکل انہی شرائط اور قواعد و ضوابط پر شائع ہوئی(ان دنوں میں کوہ قاف میں علاج کروا رہا تھا) جن پر میری یا مرکزی کمیٹی کے دیگر ممبران، یا عمومی طور پر پارٹی کے ممبران کی کتابیں چھپتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام مرکزی کمیٹی کا ہے کہ پارٹی کی اشاعت پر کسی قسم کا کنٹرول موجود ہو لیکن میں نے کسی بھی طریقے سے اس وقت تک وضع کردہ کنٹرول کی کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ 

6۔ ’اکتوبر کے اسباق‘ کا تعارف ان خیالات کی مزید بڑھوتری ہے جن کا اظہار میں ماضی میں اور خاص طور پر پچھلا سارا سال کرتا رہا ہوں۔ یہاں میں صرف ان لیکچروں اور مضامین کا حوالہ دوں گا، ’یورپی انقلاب کی راہ‘ (تفلس، 11 اپریل 1924ء)، ’مشرق کے امکانات اور مسائل‘ (21 اپریل)، ’مشرق اور مغرب میں یوم مئی‘ (29 اپریل)، ’ایک نیا موڑ‘ (’کومنٹرن کے پانچ سال‘ کا دیباچہ)، ’ہم کس مرحلے سے گزر رہے ہیں؟‘ (21 جون)، ’خانہ جنگی کے بنیادی سوالات‘۔ 

حوالے میں دیئے گئے تمام مندرجہ بالا لیکچرز1923ء کی خزاں میں جرمن انقلاب کی شکست کا نتیجہ تھے اور ان کی اشاعت پراودا، ازویسٹیا اور دیگر مطبوعات میں ہوئی۔ مرکزی کمیٹی یا پولٹ بیورو کے کسی ایک ممبر نے بھی آج تک ان لیکچروں کے حوالے سے مجھ سے کوئی اعتراض نہیں کیا، نہ ہی پراودا کے ایڈیٹر نے ان لیکچروں پر کوئی رائے دی اور نہ ہی مجھے کسی ایسے نکتے کی نشاندہی کی جس سے وہ متفق نہ ہو۔ 
ظاہر ہے کہ میں نے کبھی بھی جرمن واقعات کے حوالے سے اکتوبر کے اپنے تجزیے کو ایک ’پلیٹ فارم‘ نہیں سمجھا اور نہ ہی کبھی یہ سمجھا ہے کہ کوئی بھی اسے ایک ’پلیٹ فارم‘ سمجھ سکتا ہے، جو نہ یہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے۔ 

7۔ مجھ پر لگائے گئے الزامات میں میری کئی کتابیں بھی شامل ہیں جن کے اب تک کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نہ صرف پوری پولٹ بیورو بلکہ مرکزی کمیٹی کے کسی ایک ممبر نے کبھی بھی میرے مضامین یا کتابوں کے حوالے سے یہ نہیں کہا کہ انہیں لینن ازم میں ’تحریف‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔اس حقیقت کا اطلاق خاص طور پر میری کتاب ’1905ء‘ پر ہوتا ہے جو کامریڈ لینن کی زندگی میں شائع ہوئی، اس کے کئی ایڈیشن آئے، پارٹی پریس نے اس کا گرم جوش استقبال کیا، کئی غیر ملکی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا اور اب اسے لینن ازم میں تحریف کے الزام میں مرکزی ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ 

8۔ ان خیالات کا اظہار کرنے کا مقصد میں خط کے شروع میں بیان کر چکا ہوں، یعنی پلینم اجلاس کے ایجنڈے پر موجود نکتہ اول بحث میں بھرپور معاونت۔
مختلف مباحثوں میں کئی بار یہ بات زیرِ بحث آ چکی ہے کہ میں پارٹی میں کسی ’عوامی پوزیشن‘ کا خواہش مند ہوں، کہ میں کسی بھی نظم و ضبط کو نہیں مانتا، کہ میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے لگائی گئی ذمہ داریوں کو انجام دینے سے انکار کر دیتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ میں ان الزامات کی حقیقت کی تفتیش کئے بغیر واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مرکزی کمیٹی کے احکامات کے تحت کسی بھی پوسٹ پر، بغیر کسی پوسٹ کے کام کرنے یا پارٹی کے زیر نظم کسی بھی ذمہ داری کو سرانجام دینے کے لئے تیار ہوں۔ 

یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان حالیہ مباحثوں کے نتیجے میں، ہمارے مقصد کے لئے لازم ہے کہ مجھے انقلابی عسکری کونسل کی چیئرمین شپ کی ذمہ داری سے جلد سبکدوش کر دیا جائے۔ 
میرا خیال ہے کہ آخر میںیہ کہنا ضروری ہے کہ پلینم اجلاس سے پہلے میں ماسکو سے باہر نہیں جاؤں گا تاکہ کسی بھی ممکنہ ضروری سوال کا فوری جواب دیا جا سکے۔ 

دستخط :لیون ٹراٹسکی
15 جنوری 1925ء


کتاب میں روسی مرکزی کمیٹی کی قراردار بھی موجود ہے جو مخالفت میں دو ووٹ پڑنے کے باوجود ٹراٹسکی کی لینن ازم میں تحریف کر کے ٹراٹسکی ازم کو ابھارنے کی کاوش کی شدید مذمت کرتی ہے۔

’’کامریڈ ٹراٹسکی کو واضح طور پر خبردارکیا جاتا ہے کہ ایک بالشویک پارٹی کی ممبرشپ کا مطلب صرف الفاظ میں نہیں بلکہ حقیقی طور پر پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کرنا ہے اور مکمل طور پر لینن ازم کی کسی بھی شکل میں مخالفت کو رد کرنا ہے۔‘‘

انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ ٹراٹسکی کو انقلابی عسکری کونسل کی چیئرمین شپ سے ہٹائیں گے اور ’’پارٹی کی ہر سطح پر موجود تمام ممبران کو ٹراٹسکی ازم کے بالشویک مخالف کردار سے آگاہ کریں گے۔۔1903ء سے لے کر ’اکتوبر کے اسباق‘ تک‘‘۔ اس کے علاوہ عوام الناس کو بھی ’’ٹراٹسکی ازم کے انحرافات سے آگاہ کیا جائے گا۔‘‘ 

ٹراٹسکی کی بطور جنگی کمیسار برخاستگی کا مطلب یہ تھا کہ وہ حکومت سے بھی باہر کر دیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زینوویف اور کامینیف اس سے بھی آگے بڑھ کر اسے پارٹی سے ہی نکال دینا چاہتے تھے لیکن سٹالن نے کسی بھی رد عمل کے خوف سے فی الحال صبر وتحمل کی تلقین کی۔ 

’’اپنی تجوریاں بھر لو!‘‘

1925ء تک نئی معاشی پالیسی کے تباہ کن اثرات واضح ہو رہے تھے۔ معیشت پر کولاکوں اور نیپ مین سٹہ بازو ں کی گرفت خوفناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ ان بیگانہ طبقاتی قوتوں کے دباؤ کی پارٹی قیادت میں بھی عکاسی ہو رہی تھی جہاں بخارن اور سٹالن منڈی کو مزید مراعات دینے کی پالیسی کو طول دینا چاہتے تھے۔ بخارن نے ان الفاظ میں واضح طور پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ کولاکوں کے زیر اثر معاشی نمو کو مزید ترقی دی جائے ، یعنی ’’ہمیں انتہائی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اپنے عظیم کسان کو اپنے پیچھے گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔۔کسانوں کو ہم کہتے ہیں، اپنی تجوریاں بھر لو!‘‘

سٹالن اور بخارن نے نیو اکنامک پالیسی کو جاری رکھنے کی حمایت کی جس کے نتیجے میں نیپ مین جیسی طفیلیہ پرتوں کا ابھار ہوا

پارٹی قیادت میں دائیں جانب تیز تر جھکاؤ سے لینن گراڈ کے محنت کشوں کی طرف سے بخارن کی پالیسی پر سب سے پہلے تیز وتند تنقید کی شکل میں شدید اور فوری رد عمل سامنے آیا۔ اس کی وجہ سے قیادت میں دراڑیں پڑنی شروع ہو گئیں۔ زینوویف کی ساری حمایت لینن گراڈ میں موجود تھی جس کی وجہ سے وہ اس پالیسی کا مخالف ہو گیا۔ زینوویف کا اتحادی کامینیف بھی سٹالن اور بخارن کے خلاف ہو گیا۔ ستمبر میں زینوویف نے مضامین کا ایک بہت بڑا مجموعہ شائع کیا جس کا نام ’لینن ازم‘ تھا۔ ہمیشہ کی طرح کئی سو صفحات پر ’ٹراٹسکی ازم‘ کے جرائم کو عیاں کرنے کے علاوہ ایسے مضامین بھی موجود تھے جو کولاکوں اور ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کی مخالفت میں تھے۔ 

اتحاد ثلاثہ کا شیرازہ بکھرنے کے بعد سٹالن نے بخارن اور رائکوف کے ساتھ مل کر فوری طور پر اپنی حمایت میں نئی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے اس نے ماسکو سے کامینیف کی روایتی حمایت کو ختم کیا۔ سٹالن نے بطور پارٹی جنرل سیکرٹری اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے افسران کے ان کی وفاداریوں کی بنیاد پر تبادلے کیے۔ ان ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے سٹالن نے لینن گراڈ ڈسٹرکٹ سے مخالفین کا صفایاکر دیا اور زینوویف اور کامینیف کے خلاف کانگریس کو استعمال کیا۔ کروپسکایا نے مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ لینن کو ایک بے ضرر بت بنا دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پوری کانگریس نے 559 ووٹ حمایت اور 65 ووٹ مخالفت میں ڈال کر سٹالن کی نئی پالیسی کی حمایت کر دی۔ لینن گراڈ سوویت کے صدر زینوویف کو ہٹا کر سٹالن کے وفادار کائیروف کو صدر بنا دیا گیا۔ 

برطانیہ اور چین

بلغاریہ اور جرمنی میں شکستوں کے بعد زینوویف، بخارن اور سٹالن کے اتحاد ثلاثہ نے تحریک کی پسپائی کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس ان کا دعوی تھا کہ طبقاتی جدوجہد خانہ جنگی اور ’فوری انقلابی نتائج‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن جب یہ تناظر غلط ثابت ہوا تو وہ فوری طور پر انتہائی بائیں بازو کی پوزیشن سے چھلانگ مار کر موقع پرستی کی گہرائیوں میں جا گرے۔ برطانیہ میں اس کا نتیجہ کمیونسٹوں سے منہ موڑ کر ٹریڈ یونین ’بائیں بازو‘ کی جانب رجوع کرنے میں نکلا۔ پہلے ہی کمنٹرن کی پانچویں کانگریس میں زینوویف اشارہ دے چکا تھا کہ برطانوی کمیونسٹ پارٹی مستقبل قریب میں کوئی خاطر خواہ قوت نہیں بن پائے گی۔ اس تناظر کا نتیجہ 1925ء میں اینگلو روسی کمیٹی کی تشکیل میں نکلا جس میں روسی اور برطانوی ٹریڈ یونین قائدین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کا مقصد جنگ اور سامراجی مداخلت کی روک تھام تھا۔ یہ خیال براہ راست ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کا نتیجہ ہے۔ برطانیہ میں ’بائیں بازو ‘کے ٹریڈ یونین قائدین کے ساتھ مراسم بڑھانے سے اس ’بائیں بازو‘ کو اپنے آپ کو بطور ’سوویت یونین کے دوست‘ پیش کرنے کا موقع مل گیا جس کی وجہ سے ان پر ایک مخصوص ’انقلابی‘ چھاپ لگ گئی۔ پرسل، ہکس اور سوالیس کو حقیقی دوست اور اتحادیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ نوخیز برطانوی کمیونسٹ پارٹی نے اس سلسلے میں اپنے اخبار میں ان کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں بھرپور معاونت کی۔ اس وجہ سے اس ’بائیں بازو‘ کے متعلق خوش فہمیاں پیدا ہو گئیں جن کے بعد میں برطانوی کمیونسٹوں کے لئے خوفناک نتائج برآمد ہوئے۔ حزب اختلاف نے ان خوش فہمیوں کی درست طور پر نشاندہی کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا کہ ’’عالمی صورتحال میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ اینگلو روسی کمیٹی برطانوی اور عالمی سامراج کا آلہ کار بنتی جائے گی۔‘‘ 

سٹالن کی موقع پرستانہ پالیسی کا پہلا امتحان مئی 1926ء میں ہونے والی برطانوی عام ہڑتال میں ہوا۔ اس جرات مندانہ ہڑتال میں TUC جنرل کونسل کا ’بایاں بازو‘ دائیں جانب جھک گیا جو پھر ٹوری حکومت کے آگے سرنگوں ہو گیا جس کے بعد کان کن نہ صرف تنہا رہ گئے بلکہ بھوک و افلاس کے مارے دوبارہ کام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس ننگی دھوکہ بازی پر حزب اختلاف نے پرزور مطالبہ کیا کہ روسیوں کو برطانوی عام ہڑتال کو برباد کرنے والوں سے فوری ناطہ توڑ دینا چاہئے لیکن سٹالن نے اپنے نئے ’دوستوں‘ سے علیحدگی سے انکار کر دیا۔ ’بائیں بازو‘ کے پیچھے چلنے کی اس بھونڈی پالیسی نے برطانوی کمیونسٹ پارٹی کو مکمل طور پر چکرا کر رکھ دیاجس کا نعرہ ’تمام اختیارات جنرل کونسل کو دیئے جائیں‘ ایک ایسے وقت میں لگایا گیا جب جنرل کونسل خود تحریک کو دھوکہ دے رہی تھی۔ دھوکے کے بعد ایک کلیدی کمیونسٹ جارج ہارڈی نے پارٹی میں موجود شدیدافراتفری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگرچہ ہمیں پتہ تھا کہ دائیں بازو کے قائدین کس قسم کی دھوکہ دہی کے مرتکب ہو سکتے ہیں لیکن ہمیں یونین قیادت میں موجود نام نہاد ’بائیں بازو‘ کے کردار کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بالآخر وہ ایک غبارہ ثابت ہوئے جن کی دائیں بازو کے سامنے ہوا نکل گئی۔‘‘ یہ تھا وہ انتشار جو سٹالن کی موقع پرست پالیسی کا نتیجہ تھا۔ برطانوی TUC نے اصرار کیا تھا کہ اینگلو روسی کمیٹی ایک دوسرے کے کام میں ’عدم مداخلت‘ کا اعلان کرے۔ بالآخر، یہ سوویت ٹریڈ یونینز نہیں تھیں جنہوں نے ہڑتال توڑنے والوں سے ناطہ توڑا بلکہ یہ TUC تھی جس نے سب کے سامنے روسی ٹریڈ یونینز کے ساتھ تعمیر کردہ ’اتحادی فرنٹ‘ توڑ دیا!

مشرق میں بھی چینی انقلاب کے ساتھ ہی جھنجھوڑ دینے والے واقعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 1925ء تک کمیونسٹ پارٹی چینی محنت کشوں کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن چکی تھی اور فتح چینی محنت کشوں اور کسانوں کی مٹھی میں تھی۔ بدقسمتی سے سٹالن کی موقع پرست پالیسی کے زیر اثر طاقت ور کمیونسٹ پارٹی انقلاب کی فتح کی ضامن کے بجائے اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاؤٹ بن گئی۔ اس وقت تک اتحاد ثلاثہ ٹوٹ چکا تھا اور سٹالن نے بخارن کے ساتھ اتحاد بنا لیا تھا۔ ان دونوں کی دلیل یہ تھی کہ چینی انقلاب کا کردار سوشلسٹ نہیں بلکہ سامراج مخالف بورژوا ہے۔ اس لئے کمیونسٹوں کو ’چار طبقات کے بلاک‘ کے ماتحت کام کرنا ہو گا اور ’محنت کشوں اور کسانوں کی جمہوری آمریت‘ کے لئے جدوجہد کرنی ہو گی، بالکل وہی نعرہ جس کو اپریل 1917ء میں لینن نے رد کر دیا تھا۔ چار طبقات کے نام نہاد بلاک میں مزدور، کسان، پیٹی بورژوازی اور بڑی بورژوازی شامل تھے۔ بڑی بورژوازی کی نمائندہ قوم پرست کو منتانگ تھی جس کے قائد چیانگ کائی شیک اور وانگ جنگ وے تھے۔ ماسکو نے کمیونسٹوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو کومنتانگ میں ضم کر لیں۔ 1923ء کے آغاز سے ٹراٹسکی وہ واحد آواز تھا جس نے کمیونسٹ پارٹی اور کومنتانگ کے اس الحاق کی شدید مخالفت کی۔ 

’چار طبقات کے بلاک‘ کو قائم رکھنے کے لئے کمیونسٹ پارٹی کو مزدوروں اور کسانوں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کا کردار ادا کرنا پڑا۔ انہوں نے کسان بغاوت کو روکا، ہڑتالوں کو روکا اور اپنے بورژوا ’اتحادیوں‘ کی ناراضگی کے خوف سے سوویتوں کو منظم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ 

حزب اختلاف نے اس پوزیشن کا موازنہ منشویکوں سے کیا جنہوں نے 1917ء میں ایک ایسے ہی پاپولر فرنٹ کی حمایت کی تھی۔ ٹراٹسکی نے چینی کمیونسٹوں سے سامراج کے خلاف جدوجہد کی اپیل کی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ ایک ایسا انقلاب ہو جس کی قیادت روس کی طرح محنت کش طبقہ کسانوں کی معاونت کے ساتھ کرے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی بورژوازی پر اعتماد کرنا ناممکن ہے کیونکہ وہ تحریک کو دھوکہ دیں گے۔ کمیونسٹوں کو آزاد انہ طور پر اپنے طبقاتی پروگرام پر عمل کرنا ہو گا جس میں سوویتوں کا قیام شامل ہے۔ 

سٹالنسٹوں نے حزب اختلاف کے طبقاتی آزادی کے تناظر پر شدید حملہ کیااور روسی پولٹ بیورو نے ٹراٹسکی کے واحد مخالف ووٹ کے ساتھ فیصلہ کیا کہ کومنتانگ کو بطور ’ہمدرد‘ سیکشن کے کمیونسٹ انٹرنیشنل کا ممبر اور چیانگ کائی شیک کو اعزازی صدر بنایا جائے!یہ وہی چیانگ کائی شیک ہے جس نے بعد میں انقلاب کو خون میں ڈبو دیا۔

سٹالن کی پالیسی نے مکمل تباہی و بربادی پھیلا دی۔ مارچ 1926ء میں قومی بورژوازی کے مرکزی نمائندے چیانگ کائی شیک نے کمیونسٹ انٹرنیشنل سے حاصل شدہ تازہ تازہ عزت و وقار کے ساتھ کینٹون(گوانگ زو) میں ایک رد انقلابی کُو کیا جس کے دوران معروف کمیونسٹوں اور ٹریڈ یونین قائدین کو گرفتار کر لیا گیا۔ دائیں بازو کے اس کُو کی خبر سٹالن نے اس ڈر سے دبا دی کہ حزب اختلاف اس کو استعمال کرے گی۔ بارہ مہینوں کے اندر چیانگ نے ایک نئی خونریز حکمت عملی تیار کر لی۔ لیکن اس نے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کیا کیونکہ اسے فی الحال شمالی جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں کمیونسٹ پارٹی کی مدد درکار تھی۔ ایک دفعہ یہ کام سرانجام پا گیا اور شنگھائی فتح ہو گیا تو پھر اسے ان کی ضرورت نہ رہی۔ اپریل 1927ء میں اس نے انقلاب کو خون میں ڈبوتے ہوئے ہزاروں کمیونسٹوں اور مزدوروں کا قتل عام کیا۔ 
مزدور تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی۔ اپنے ’دوست‘ کی یاری میں کومنٹرن اتنی سرشار تھی کہ فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی نے رد انقلاب کو انقلاب سمجھتے ہوئے چیانگ کو ایک ٹیلی گرام بھیجا جس میں انہوں نے ’شنگھائی کمیون‘ کے قیام پر مبارکباد پیش کی!

اپنی غلطی کی پردہ پوشی کرنے کے لئے سٹالن نے ’دائیں بازو‘ (چیانگ اور بڑی بورژوازی)سے الحاق توڑتے ہوئے کومنتانگ کے ’بائیں بازو ‘کے قائد وانگ جنگ وے پر اعتماد کر لیا جس نے وُہان میں اپنی حکومت بنا لی تھی۔ سٹالن نے اسے ’مزدوروں اور کسانوں کی آمریت‘ گردانا اور دو کمیونسٹوں کو حکم دیا کہ وہ بطور وزیر لیبر اور زراعت حکومت میں شامل ہو جائیں۔ چیانگ کی تقلید کرتے ہوئے وانگ نے بھی تحریک کو پیروں تلے روند ڈالا اور بعد میں وزیر زراعت کو فوج کے ساتھ مضافات میں کسان باغیوں کی سرکوبی کے لئے بھیج دیا۔ اس منشویک پالیسی نے چینی انقلاب کی خونی بربادی پر مہر ثبت کر دی۔ 

ایک طرف حزب اختلاف کے تناظر کو پذیرائی ملی لیکن دوسری طرف سٹالن نے حزب اختلاف کو تباہ و برباد کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ 

متحدہ حزب اختلاف

1924-26ء کے دوران رونما ہونے والے ان واقعات نے نئی سیاسی صف بندیوں کو جنم دیا۔ اتحاد ثلاثہ کا شیرازہ بکھر گیا اور زینوویف اور کامینیف کو مجبوراً ٹراٹسکی کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا جس کے بعد ایک نئی ’متحدہ حزب اختلاف‘ وجود میں آئی۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی اور اس نے حزب اختلاف کی قوتوں کو نئے مواقع فراہم کئے۔ بیتے سالوں کے واقعات سے حزب اختلاف کے قائدین میں عدم اعتماد کی موجودگی فطری تھی۔ آخر کو یہ زینوویف ہی تھا جس نے ’ٹراٹسکی ازم‘ کی اصطلاح ایجاد کی تھی۔ انہوں سٹالن کو پارٹی پر قابض ہونے میں معاونت فراہم کی تھی۔ نئی حزب اختلاف کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لئے زینوویف مرکزی کمیٹی کے ایک سیشن میں اپنی غلطیوں کا کھلم کھلا اعتراف کرنے کے لئے تیار تھا، یعنی ’’میں نے بہت غلطیاں کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے دو سب سے سنگین تھیں۔ میری پہلی غلطی 1917ء میں سرزد ہوئی جس سے آپ سب واقف ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسری غلطی زیادہ سنگین تھی کیونکہ پہلی غلطی لینن کی موجودگی میں سرزد ہوئی جس کا اس نے اور ہم نے چند ہی دنوں میں ازالہ کر لیا تھا۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1923ء میں حزب اختلاف نے درست طور پر ہمیں مزدور مفادات کی پیروی سے انحراف کرنے اور افسر شاہانہ ریاستی ڈھانچے کی تعمیر کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔۔۔ہاں، ریاست کے افسر شاہانہ جبر کے سوال پر ہمارے خلاف ٹراٹسکی کا موقف درست تھا۔‘‘ 

ٹراٹسکی کو بھی مجبوراً متحدہ حزب اختلاف کو کچھ مراعات دینی پڑیں۔ ایک طرف زینوویف اور کامینیف نے اعتراف کیا کہ 1923ء میں ٹراٹسکی درست تھا اور انہوں نے ’ٹراٹسکی ازم‘ کی اصطلاح اپنے سیاسی مقاصدکے لئے گھڑی تھی لیکن دوسری طرف نئی حزب اختلاف نے ٹراٹسکی کی ’انقلابِ مسلسل‘ کی تھیوری کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹراٹسکی نے تردد کے ساتھ اتحاد کی حامی بھر لی کیونکہ تمام تر تحفظات کے باوجود اس کے ذہن میں تھا کہ زینوویف اور کامینیف ’لینن گراڈ کے ہزاروں انقلابیوں‘ کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

بالآخر اپریل 1926ء میں متحدہ حزب اختلاف باقاعدہ طور پر فعال ہوئی اور اس نے اپنے ارد گرد اکٹھے ہونے والوں کی شاندار رہنمائی کی۔ صرف ٹراٹسکی، زینوویف اور کامینیف ہی نہیں، جنہیں بجا طور پر لینن کا ہراول دستہ قرار دیا جا سکتا تھا بلکہ 1919ء کی مرکزی کمیٹی کے ، جو خانہ جنگی کے کٹھن دور میں منتخب ہوئی تھی، زندہ اٹھارہ میں سے دس ممبران بھی حزب اختلاف میں شامل ہوئے جن میں پریوبرازنسکی، سیریبریاکوف اور کریس تنسکی بھی شامل تھے۔ لینن کی بیوہ اور قریبی کامریڈ کروپسکایا اور سابق زار شاہی ڈوما میں بالشویک ممبر بادایف بھی اس کا حصہ تھے۔ حزب اختلاف نے خانہ جنگی کے مشہور زمانہ جنگجو اپنی طرف جیتے جن میں انتونوف اوفسینکو، لاشیووچ، مورالوف اور عظیم کمیسار آئی این سمیرنوف اور سمیلگا بھی شامل تھے۔ رادیک، راکوفسکی اور جوفے بھی حزب اختلاف کے ممبران تھے۔ 

حزب اختلاف میں شامل ہونے والے افراد اتنے شاندار اور متاثر کن تھے کہ کامینیف نے ٹراٹسکی کو بڑھک ماری کہ ’’پارٹی کو اپنی حقیقی مرکزی کمیٹی پہچاننے کے لئے بس اتنا کافی ہو گا کہ تم اور زینوویف ایک پلیٹ فارم پرنمودار ہو جاؤ۔‘‘ لیکن یہ ضرورت سے زیادہ ہی خوش فہمی تھی اور ٹراٹسکی کا ذاتی طور پر خیال تھا کہ جدوجہد طویل اور کٹھن ہو گی۔ یہ کوئی آسان لڑائی نہیں ہو گی۔ حزب اختلاف بہاؤ کے خلاف لڑ رہی تھی کیونکہ حال ہی میں اسے کئی شکستوں اور رکاوٹوں کا سامناکرنا پڑا تھا اور صرف دیو ہیکل واقعات ہی عوام کو دوبارہ جدوجہد پر آمادہ کر سکتے تھے۔ عوام کے اعصاب شل ہو چکے تھے اور یہ وہ وقت نہیں تھا کہ ان سے ’انقلاب مسلسل‘ کے نام پر جدوجہد کی اپیلیں کی جائیں۔ حال ہی میں چینی انقلاب کی المناک شکست ایک بھاری بوجھ بنی ہوئی تھی۔ اس وقت اصل کام مستقبل کی تیاری تھی۔ ٹراٹسکی اور زینوویف کے پیروکاروں کے تناظر میں یہ بنیادی فرق تھا جس نے مستقبل میں اپنا اظہار زینوویف اور اس کے پیروکاروں کے سٹالن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی صورت میں کیا۔ 

حزب اختلاف کو قومی سطح پر تنظیم سازی کے لئے خفیہ طور پر منظم ہونا پڑا۔ ابتدا میں ممبرشپ 4ہزار سے 8 ہزار کے درمیان تھی جن میں پچھلی نسل کے افراد اور نوجوان دونوں شامل تھے۔ ان میں نہ کوئی موقع پرست تھے اور نہ ہی کیریئر اسٹ، بلکہ یہ حقیقی انقلابی تھے۔ 

لیکن حزب اختلاف جلد ہی منظر عام پر آ گئی جب ایک جاسوس نے شہر سے باہر جنگل میں ہونے والی ایک غیر قانونی میٹنگ کی مخبری کر دی جس سے ڈپٹی جنگی کمیسار اور ممبر مرکزی کمیٹی لاشیووچ نے خطاب کیا تھا۔ اس ’دھوکے‘ کے بعد لاشیووچ کو عہدے سے ہٹا کر مرکزی کمیٹی سے نکال دیا گیا جبکہ زینوویف کو پولٹ بیورو سے نکال دیا گیا۔ جولائی میں مرکزی کمیٹی کے اجلاس نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں حزب اختلاف پر الزام لگایا گیا کہ وہ ’’اپنے نکتہ نظر کا قانونی دفاع کرنے کی بجائے پارٹی کے خلاف پورے ملک میں غیر قانونی تنظیم سازی کر رہے ہیں اور پارٹی کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔‘‘ 

جلد ہی واضح ہو گیا کہ مرکزی کمیٹی حزب اختلاف پر پابندی لگاتے ہوئے اس کے عام ممبران سے براہ راست بات کرنے پر پابندی عائد کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کو فوری قدم اٹھانا تھا۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ آنے والی پندرہویں کانگریس میں اپنا پلیٹ فارم منظر عام پر لایا جائے۔ پارٹی میں کچھ پیش رفت کے باوجود افسر شاہی نے منظم طریقے سے حزب اختلاف کے ممبران کو نکالنا شروع کر دیا۔ اپنا موقف رکھنے کی ہر کوشش کو بدمعاش گروہوں کے جبر کے ذریعے سختی سے روکا گیا۔ جیسے ہی حزب اختلاف کی کسی سرگرمی کی اطلاع ملتی تو ساتھ ہی ان گروہوں کو متحرک کر دیا جاتا۔ زینوویف اور کامینیف بڑھتے ہوئے جبر کے دباؤ میں ڈر گئے۔ ٹراٹسکی کو بخوبی اندازہ تھا کہ وہ کس مظہر کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ زینوویف کو خوف تھا کہ ان سب کو پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ دوسری طرف ٹراٹسکی اپنے نظریات اور پارٹی جمہوریت کی بحالی کے لئے آخری حد تک لڑنے کو تیار تھا۔ 

لیکن سٹالن ایک جمہوری بحث کا خطرہ نہیں مول سکتا تھا۔ اس نے 1927ء کے اختتام تک پارٹی کانگریس ملتوی کر دی جس کے بعد اسے حزب اختلاف کو بے رحمی سے کچلنے کا موقع مل گیا۔ 

اکتوبر 1926ء کے پولٹ بیورو اجلاس میں سلگتے جذبات بے قابو ہو گئے اور ٹراٹسکی نے سٹالن کو ’انقلاب کا گورکن‘ کہہ کر شدید سرزنش کی۔ سٹالن نے ٹراٹسکی کو اس بات پر کبھی معاف نہیں کیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد پندرہویں کانفرنس میں حزب اختلاف کو افسر شاہی کی ملی بھگت سے چنے گئے نمائندوں کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ کامینیف نے کانفرنس میں کہا کہ’ ’کامریڈز، اگر آپ کی خواہش ہے تو ہم پر الزامات لگائیں۔ لیکن ہم قرونِ وسطیٰ میں نہیں رہ رہے۔ ہم بے بنیاد الزام تراشی کے دور میں نہیں رہ رہے۔‘‘ لیکن وہ غلط ثابت ہوا۔ مولوٹوف نے اعلان کیا کہ حزب اختلاف نے ’’کرونستاد کی راہ اپنا لی ہے‘‘ یعنی رد انقلاب کی راہ۔ یہ اعلان جنگ تھا۔ مفاہمت کا سوال ختم ہو چکا تھا۔ سٹالن کا مطالبہ تھا مکمل اطاعت۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حزب اختلاف کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا۔ کچھ اپنے ہی خیالات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے منحرف ہونا شروع ہو گئے۔ کروپسکایا نے حزب اختلاف سے علیحدگی اختیار کر لی جو سٹالن کے لئے کلیدی اخلاقی فتح ثابت ہوئی۔ ٹراٹسکی اور کامینیف کو پولٹ بیورو سے فارغ کر دیا گیا اور کانفرنس نے کمنٹرن کی عاملہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ زینوویف کو بطور سربراہ ہٹا دیا جائے۔ 

بڑھتے دباؤ کے نتیجے میں زینوویف نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ کسی طرح بھی پارٹی میں رہنے کی کوشش کریں۔ یہ آخری حربہ تھا۔ لیکن اس غیر مشروط اطاعت کی پالیسی کا نتیجہ مایوسی اور بالآخر جدوجہد ترک کرنے کی صورت میں نکلا۔ ٹراٹسکی اور اس کے حامیوں کو اس حوالے سے کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ 

ٹراٹسکی نے اپنی موت سے پہلے انتہائی سنجیدگی سے اس وقت کے بارے میں لکھا۔ ’’حزب اختلاف اقتدار پر قبضہ نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی ایسی امید تھی۔۔۔ حزب اختلاف کی قیادت میں، ایک انقلابی مارکسی تنظیم کی قیادت میں، اقتدار کے حصول کی جدوجہد صرف ایک انقلابی تحریک کے دوران ہی کی جا سکتی ہے۔۔۔ 1920ء کی دہائی کے اوائل میں روس میں ایسی کوئی انقلابی تحریک موجود نہیں تھی بلکہ صورتحال اس کے برعکس تھی۔ ایسے حالات میں اقتدار کے حصول کی جدوجہد کا آغاز کرنا ناممکن تھا۔۔۔ سوویت رجعت کے حالات بالشویکوں کے لئے زار شاہی کے حالات سے کئی گنا زیادہ کٹھن تھے۔‘‘ 

سب سے اہم کام یہ تھا کہ ثابت قدمی سے کیڈر کو بچایا جائے اور مستقبل کی تیاری کی جائے۔ بقائے دوام کے لئے مارکسی عالمگیریت کے اصولوں کا دفاع لازمی تھا۔ جلد یا بدیر صورتحال میں تبدیلی ناگزیر تھی۔ لیکن یہ راستہ طویل اور کٹھن تھا۔ عالمی صورتحال پر بہت کچھ منحصر تھا۔ 

1935ء میں ٹراٹسکی نے ایک انٹرویو دیا جس میں چینی انقلاب کے تجربات پر بھی بات ہوئی۔

’’مجھے 1927ء میں چینی محنت کشوں کو محدود کرنے کے بعد ماسکو میں ہونے والے کچھ بحث مباحثے یاد ہیں۔ ہم نے دس دن پہلے اس ساری صورتحال کی پیش گوئی کی تھی لیکن سٹالن نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ بورودن چوکس ہے، کہ چیانگ کائی شیک کو ہمیں دھوکہ دینے کا موقع نہیں ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ میرا خیال ہے کہ آٹھ یا دس دن بعد یہ المناک واقعہ رونما ہوا۔ ہمارے کامریڈ پرا مید تھے کہ ہمارا تجزیہ اتنا واضح اور مدلل ہے کہ ہر کوئی اس کی تائید کرے گا اور ہم یقیناًپارٹی کو جیت لیں گے۔ میں نے جواب دیا کہ عوام کے لئے چینی انقلاب کا گلا گھونٹے جانا ہماری پیش گوئیوں سے ہزار گنا زیادہ اہم ہے۔ ہماری پیش گوئیوں سے کچھ دانشور تو متاثر ہو سکتے ہیں جن کی ان میں دلچسپی ہو لیکن عوام نہیں۔ چیانگ کائی شیک کی عسکری فتح کے نتیجے میں مایوسی پھیلے گی اور یہ ایک انقلابی رجحان کے لئے خوش آئند نہیں۔‘‘ 

ستمبر 1927ء میں متحدہ حزب اختلاف نے اس وقت کے تمام اہم سوالات کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اپنے پروگرام پر مبنی ایک دستاویز ’حزب اختلاف کا پلیٹ فارم: پارٹی بحران اور حل‘ کے نام سے شائع کی۔ 

پلیٹ فارم نے قیادت کی موقع پرستی کو ننگا کرتے ہوئے لینن اسٹ پوزیشن کا دفاع کیا۔ کولاکوں کی مراعات پر پابندی اور ملک کی منصوبہ بند صنعت کاری کے مطالبات پیش کئے گئے۔ صرف یہی طریقہ کار تھا جس کے ذریعے اندھی کھائی سے پیچھے ہٹتے ہوئے زرعی اور صنعتی پیداوار ، تھوک اور پرچون، اور آخر میں قومی اور عالمی قیمتوں کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی خلیج پر قابو پایا جا سکتا تھا جو نجی دولت میں بڑھوتری کا باعث بن رہی تھی۔(افسر شاہی کا تجویز کردہ) پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ نہایت کمزور تھا اور اس میں صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح اضافہ نہایت ہی کم تھی۔ دستاویز کے مطابق،’’زمین، ذرائع پیداوار اور بینکاری کو قومیانے اور مرکزی انتظام کی دیوہیکل حاصلات ۔۔ یعنی، سوشلسٹ انقلاب کی حاصلات۔۔ کاپانچ سالہ منصوبے میں نہ ہونے کے برابر اظہار نظر آتا ہے۔‘‘ 

دیگر مطالبات میں بروقت معیار زندگی میں بہتری، مزدور جمہوریت کی بحالی، اختلاف رائے رکھنے والے تمام افراد کی کمنٹرن میں بحالی اور حزب اختلاف کے خلاف جبر کے تمام حربوں کی روک تھام جس میں ایسے ’’گروہوں کی تخلیق جن کا کام شور شرابے، سیٹیوں، بجلی کی بندش وغیرہ کے ذریعے پارٹی مسائل پر بحث میں خلل ڈالناہے‘‘ پر پابندی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔دستاویز کا اختتام ان نعروں پر تھا ’’موقع پرستی کے خلاف! پھوٹ کے خلاف! ایک متحد لینن اسٹ پارٹی کے لئے!‘‘

پندرہویں کانگریس کے لئے مرکزی کمیٹی کے تیرہ اراکین نے پولٹ بیورو کے روبرو پلیٹ فارم کو پیش کیا۔ ٹراٹسکی کے مطابق دو سو پارٹی ممبران اس پلیٹ فارم کا حصہ تھے۔ ٹراٹسکی نے دستاویز میں زینوویف کی طرف سے لکھے گئے انتہائی کمزور حصوں، جن میں خاص طور پر چین پر خیالات کا اظہار تھا، پر نظر ثانی کرنے کا سوچا لیکن پھر اتحاد قائم رکھنے کیلئے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ ٹراٹسکی نے اس وقت موجود گہری سیاسی چپقلش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’1926ء اور 1927ء میں زینوویف کے حامیوں سے اس سوال پر متعدد بار میری بحث ہوئی۔ دو تین مرتبہ تو معاملات ختم ہونے کی نہج تک پہنچ گئے۔‘‘ (دستاویزات 1930-31ء، صفحہ نمبر 87)

حزب اختلاف میں موجود اختلافات کے باوجود، پلیٹ فارم ایک ایسی اہم دستاویز تھی جس کے گرد سٹالنسٹ افسر شاہی کے خلاف جدوجہد کی جا سکتی تھی۔ امید کی جا رہی تھی کہ پلیٹ فارم کو پارٹی ممبران میں کانگریس سے پہلے کے بحث مباحثے کے دوران تقسیم کیا جائے گا۔ لیکن مرکزی کمیٹی نے فوری طور پر اس گزارش کو مستردکرتے ہوئے دستاویز کی تقسیم پر پابندی لگا دی۔ حزب اختلاف کے پاس اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس کی ترویج خفیہ طور پر کی جائے۔ ایک پرانے کمیونسٹ اور ناشرفیشیلیف نے کئی ہزار کاپیاں چھاپ دیں۔ نتیجتاً اسے گرفتار کر کے قطب شمالی کے قریب موجود ایک جبری مشقت کیمپ میں ’کاغذ اور آلات کے بے جا تصرف ‘کے جرم میں بھیج دیا گیا۔ دستاویز کو بانٹنے والے دیگر افراد کو پارٹی سے اخراج اور قید، یہاں تک کہ ملک بدری کی دھمکیاں دی گئیں۔ 

ایک سازش کے تحت GPU(خفیہ پولیس) نے حزب اختلاف کے ایک ناشر کی دکان پر چھاپہ مارا اور بعد میں اعلان کر دیا کہ انہوں نے ایک ’عسکری سازش‘ بے نقاب کی ہے جس میں ایک رد انقلابی رینگل (خانہ جنگی کے دوران سفید فوج کا ایک جرنیل)افسر بھی شامل ہے۔ یہ جھوٹی کہانی دس سال بعد منعقد ہونے والے سفاک اور جھوٹے ماسکو مقدمات کی ایک ابتدائی جھلک تھی۔ 

23 اکتوبر 1927ء کے مرکزی کمیٹی اجلاس میں سٹالن نے ایک بار پھر زینوویف اور ٹراٹسکی کو نکالنے کا مطالبہ کر دیا۔ ٹراٹسکی کو بات کرنے کے دوران مسلسل آوازیں کس کر اور کتابیں اور گلاس پھینک کر ٹوکا گیا۔ ٹراٹسکی نے بے باکی سے کہا کہ ’’یہ دھڑا پارٹی کانگریس سے محض ایک مہینہ پہلے مرکزی کمیٹی میں ہماری موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ ہم بخوبی سمجھتے ہیں۔ سفاکی اور دھوکے بازی کا بزدلی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تم نے ہمارا پلیٹ فارم چھپا دیا ہے۔۔ یا پھر یہ کہنا بہتر ہو گا کہ چھپانے کی کوشش کی ہے۔(شدید ہنگامہ آرائی)۔ لینن نے جس بدتمیزی اور دھوکے بازی کے متعلق لکھاتھا وہ اب محض ذاتی خصوصیات نہیں رہ گئیں۔ یہ اب حاکم دھڑے کی سیاسی پالیسی اور تنظیمی افسر شاہی کا خاصہ بن چکے ہیں۔‘‘ (’’پوڈیم سے نیچے اترو‘‘ کی آوازیں۔ چیئرمین اجلاس ملتوی کرتا ہے لیکن ٹراٹسکی اپنی تقریر جاری رکھتا ہے)۔ رجعتی افسر شاہی کسی صورت حزب اختلاف کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اسی لئے ٹراٹسکی کو پتا تھا کہ خوفناک تطہیر کا عمل جلد ہی شروع ہو جائے گا۔ 

حزب اختلاف کے لئے اپنی آواز ہر جگہ پہنچانے کے لئے اب ضروری ہو چکا تھا کہ وہ عوام میں اتریں۔ انہیں کسی بھی میٹنگ کے لئے اجازت تو نہ ملی لیکن انہوں نے برجستہ میٹنگیں منعقد کر کے حکام کو حیران و پریشان کر دیا۔ ایک میٹنگ میں انتظامیہ نے بجلی بند کر دی جس کی وجہ سے ٹراٹسکی اور کامینیف کو دو گھنٹے موم بتیوں کی روشنی میں 2 ہزار لوگوں سے خطاب کرنا پڑا جبکہ ایک جم غفیر ہال کے باہر کھڑا انہیں سنتا رہا۔ ان کا متعدد فیکٹریوں میں جانا ہوا جہاں ان کے حامیوں نے اکٹھ منظم کئے۔ ان کے خیالات کو ہر جگہ پذیرائی تو ملی لیکن کہیں بھی کوئی لڑنے کو تیار نہیں تھا۔ لیکن سٹالن ان میٹنگوں کی وجہ سے شدید خوفزدہ ہو گیا اور حزب اختلاف کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پہلے سے زیادہ متشدد تگ و دو میں لگ گیا۔ 

حزب اختلاف نے ارادہ کیا کہ وہ اکتوبر انقلاب کے دس سالہ جشن کی ریلیوں میں اپنے نعروں کے ساتھ حصہ لیں گے۔ کامریڈز نے کئی بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’کولاکوں، نیپ مین اور افسر شاہی کے خلاف مزاہمت!‘‘، ’’موقع پرستی کے خلاف، پھوٹ کے خلاف۔۔لینن کی پارٹی کے اتحاد کے لئے!‘‘ کے نعرے درج تھے۔ لیکن سٹالن اور بخارن کے دل میں کوئی رحم نہیں تھا۔ انہوں نے خفیہ پولیس بھجوا کر سفاکی سے احتجاجیوں پر حملہ کرایا اور تاثر یہ دیا کہ یہ ایک رد انقلابی ’سرکشی‘ تھی۔ 

ایک ہفتے کے اندر مرکزی کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا جس میں فوری طور پر ٹراٹسکی اور زینوویف کو رد انقلابی احتجاج منعقد کرنے کی پاداش میں روسی کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا۔ راکوفسکی، کامینیف، اودیف، سمیلگا، یودوکیموف کو بھی نکال دیا گیا جبکہ کنٹرول کمیشن سے چھ افراد کو نکال دیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی سو افراد کو نکالا گیا جس کی وجہ سے حزب اختلاف پندرہویں کانگریس میں اپنا موقف نہ رکھ سکی۔ ٹراٹسکی اور دیگر حزب اختلاف کو منظم طریقے سے کریملن سے خارج کر دیا گیا۔ اس رات اڈولف جوفے (نمایاں سوویت سفارت کار ، حزب اختلاف کا ممبر اور ٹراٹسکی کا قریبی دوست) نے احتجاجاً خودکشی کر لی۔ یہ جنازہ ماسکو میں ٹراٹسکی کی آخری عوامی حاضری تھی۔

دسمبر کے اوائل میں پندرہویں کانگریس کے قریب سٹالن نے مطالبہ کیا کہ حزب اختلاف ’’اپنے بالشویک مخالف نظریات سے دستبردار ہو جائے‘‘ یا پھر پارٹی سے بے دخلی کے لئے تیار ہو جائے۔ کانگریس نے سرکاری طور پر حزب اختلاف کی ممبرشپ کو پارٹی ممبرشپ سے متصادم قرار دے دیا۔ کانگریس کے فوری بعد کئی سو حزب اختلاف ممبران کو پارٹی اور نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا۔ ان اقدامات نے زینوویف کے حامیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور وہ پارٹی ممبرشپ میں دوبارہ داخلے کے لئے منت سماجت پر اتر آئے۔ حزب اختلاف ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ لیکن ٹراٹسکی ڈٹا رہا اور اس نے سٹالن کے سامنے کسی صورت میں بھی گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ 

کم از کم کاغذات کی حد تک ہی سہی، لیکن پندرہویں کانگریس کا آغاز مزید دائیں جانب جھکاؤ کے بجائے بائیں جانب جھکاؤ سے ہوا۔ اس غیر متوقع جھکاؤ کی وجہ شہری آبادی کے لئے اناج کی خوفناک قلت تھی۔ اس بحران کی بنیاد بخارن کی کولاک نواز پالیسی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے قیمتوں میں فوری اور بے پناہ اضافہ کرتے ہوئے ریاست کی تجویز کردہ قیمتوں پر اناج بیچنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولٹ بیورو نے جبری اناج وصولی کو نافذ کر دیا تاکہ شہروں میں بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کو قابو کیا جا سکے۔ قیادت کی پالیسی میں اس اچانک تبدیلی کے، جو کہ حزب اختلاف کی پالیسی کا ایک جزو تھی، بھاری اثرات مرتب ہوئے۔ ایک طرف تو بخارن اور دائیں بازو کی پالیسیوں کی شدید سبکی ہوئی اور دوسری طرف بائیں بازو کے حزب اختلاف کے حامیوں میں کنفیوژن پھیل گئی، جو ابھی تک اخراج اور ملک بدری کے شدید اثرات سے چکرا رہے تھے۔ 

گھٹنے ٹیکنے کے باوجود زینوویف اور کامینیف کو دوبارہ پارٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ پہلے انہیں گڑگڑا کر غیر مشروط معافیاں مانگنی پڑیں جس کے بعد انہیں انتہائی کم تر پارٹی عہدوں پر واپس لیا گیا۔ اس اقدام نے انہیں سیاسی اور اخلاقی طور پر تباہ وبرباد کر دیا۔ 

سٹالن کا خیال تھا کہ جلا وطنی میں ٹراٹسکی ہمت ہار جائے گا مگر اس کا یہ خیال گلط ثابت ہوا

جنوری 1928ء میں ٹراٹسکی پر سوویت آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت رد انقلابی سرگرمیوں کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے سوویت وسطی ایشیا میں واقع آلما آتا (قزاقستان) کو زبردستی ملک بدر کر دیا گیا۔ سٹالن کا خیال تھا ملک بدری کے بعد وہ ٹراٹسکی کو سوویت یونین میں موجود حامیوں سے کاٹنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن سٹالن نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر ڈالی تھی جس کا اسے بعد میں احساس ہوا۔ اسی لمحے سے سٹالن نے ٹراٹسکی کے قتل کی منصوبہ بندی شروع کرد ی۔ 

زینوویف اور کامینیف کی غیر مشروط اطاعت نے ٹراٹسکی کو آزاد کر دیا۔ اب وہ دنیا کے سامنے اپنے آپ میں اور ان میں فرق واضح کر سکتا تھا۔ اب حزب اختلاف کھل کر اتحاد ثلاثہ کی غلطیوں پر تنقید کر سکتی تھی(زینوویف، کامینیف اور سٹالن کا سابقہ اتحاد)۔ لیکن بائیں بازو کی حزب اختلاف کو 1923ء کی پرانی حزب اختلاف کے قائدین(پیاتاکوف، انتونوف اوفسینکو،کریتنسکی) کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے اقدام نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ پریوبازنسکی اور رادیک بھی بعد میں اس فہرست میں شامل ہو گئے۔ جبری اخراج، بے تحاشہ گرفتاریوں اور بالآخر ٹراٹسکی کی ملک بدری نے حزب اختلاف کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ لیکن ان تمام جبری اقدامات کے باوجود، ٹراٹسکی کی بائیں بازو کی حزب اختلاف کا بنیادی کیڈر قائم و دائم رہا۔ بالشویک کیڈر کا بچاؤ ایک دیوہیکل کامیابی تھی۔ 

سوویت یونین میں سٹالن کے نام نہاد ’بائیں جانب جھکاؤ‘ کے باقی دنیا پر خاطر خواہ اثرات پڑے۔ فروری 1928ء میں کمنٹرن کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ سرمایہ دارانہ بحران کا ’تیسرا دور‘ شروع ہو گیا ہے، اصلاح پسندوں کو اب سوشل فاشسٹ گردانا جائے گا جو فاشسٹوں سے بالکل بھی مختلف نہیں ہیں۔ چین میں تمام شکستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام قوت چینی سوویتوں کے قیام کے لئے متحرک کر دی گئی۔ اگرچہ بخارن 1928ء کے موسم گرما میں منعقد ہونے والی چھٹی کانگریس کا سرکاری ترجمان تھا لیکن اس کے دن گنے جا چکے تھے۔ سٹالن اب اس سمیت اس کے حامیوں کے خلاف سازشیں کر رہا تھا جو ایک دائیں بازو کی حزب اختلاف کے نمائندے تھے۔ 1930ء تک دائیں بازو کی حزب اختلاف کو بھی کچلا جا چکا تھا اور سٹالن ایک آمر بن چکا تھا۔ 

جلد ہی ٹراٹسکی کو ترکی ملک بدر کر دیا گیا جہاں اس نے فوری طور پر ایک عالمی حزب اختلاف کو منظم کرنے کا کام شروع کردیاجس کی بنیاد روسی بائیں بازو کی حزب اختلاف کا پروگرام تھا۔ تمام تر مشکلات اور اذیتوں کے باوجود اپنی تاریخی جدوجہد کی وجہ سے اس دیو ہیکل ذمہ داری کے لئے ٹراٹسکی سے زیادہ موزوں شخصیت موجود نہیں تھی۔ چند ہی سالوں بعد 1930ء میں پہلی عالمی بالشویک لینن اسٹ کانفرنس منعقد ہوئی جس نے عالمی مارکسی رجحان کے پیش رو عالمی بائیں بازو کی حزب اختلاف کو جنم دیا۔

0
0
0
s2smodern