دو صدیوں پہلے ایک ایسے بچے کا جنم ہوا جس کے نام اور کمیونسٹ انقلاب کے خیال سے ہی عالمی حکمران طبقات لرز اٹھے تھے۔ لیکن ایک صدی سے زیادہ عرصے کے جھوٹ، بہتان تراشی، کردار کشی اورتمسخر کے باوجود کارل مارکس کا بھوت آج بھی ان کے اعصاب پر سوار ہے

0
0
0
s2smodern

14 مارچ کو دوپہر پونے تین بجے ہمارے عہد کا عظیم ترین مفکر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔ وہ بمشکل دو منٹ کے لئے ہی تنہا رہا اور جب ہم واپس آئے تو وہ اپنی کرسی پر سکون کی نیند سو رہا تھا۔۔ابدی نیند۔

0
0
0
s2smodern

جدید عہد کی شاعری اور ادب میں بھی ہمیں اس بیگانگی کا تذکرہ جا بجا نظر آتا ہے۔ اس مظہر کی عملی جھلک ہم زندگی کے ہر شعبے اور سماج کے ہر طبقے میں دیکھ سکتے ہیں۔ انسان کی انسان سے، فرد کی سماج سے، سماج کی فرد سے اور سب سے بڑھ کر انسان کی خود اپنی ذات سے بیگانگی 

0
0
0
s2smodern

اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سوشلزم نہیں چل سکتا کیونکہ اگر سب کو ’’مساوی اجرت دی جائے‘‘ تو ’’محنت‘‘ سے کام کرنے کا محرک ختم ہو جائے گا۔

یہ دلیل کئی حوالوں سے غلط ہے۔

0
0
0
s2smodern

آج مارکس کی پیدائش کو دو صدیاں بیت چکی ہیں اور اس کی مشہور زمانہ تصنیف داس کیپیٹل کو ڈیڑھ سو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن آج بھی مارکس کی شہرت اور اہمیت دنیا بھر میں کم ہونے کی بجائے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 

0
0
0
s2smodern

وہ اوائل میں مناظر فطرت یعنی آب ، و آتش ، خاک و باد اور مناظر قدرت آفتاب و ماہتاب ، برق و رعد کی پرستش کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ برائیوں اور آلام کے دیوتاؤں کا تصور رکھتے تھے 

0
0
0
s2smodern

آج دنیا کو تبدیل کرنے کی جتنی ضرورت ہے شاید کبھی بھی نہیں تھی۔ لیکن اس جملے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا ساکت و جامد ہے اور کوئی بڑا لیڈر آ کر اس کو حکم دے گا اور یہ تبدیل ہو جائے گی۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ بلکہ دنیا سمیت پوری کائنات مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور تبدیلی کا یہ عمل لا امتناعی اور کبھی نہ ختم ہونے والا ہے

0
0
0
s2smodern

مارکس نے ڈیڑھ صدی پہلے وضاحت کی تھی کہ مادی حالات ہی شعور کا تعین کرتے ہیں۔ سوشلزم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ برنی سینڈرز، زیزک یا آپ کے مقامی لبرل آرٹس سکول کا سماجی ڈیپارٹمنٹ نہیں ہے بلکہ خود سرمایہ داری ہے

0
0
0
s2smodern

بھگت سنگھ 28ستمبر 1907ء کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوا۔ بھگت سنگھ کا خاندان خاص طور پر چچا اور والد انقلابی نظریات کی طرف مائل تھے اور برطانوی راج سے ہندوستان کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں سرگرم عمل تھے

0
0
0
s2smodern

مارکسزم کے بغیر فیمینزم وسیع تر استحصالی نظام کے ساتھ محض ایک سمجھوتہ ہے۔ لیکن فیمینزم کے بغیر مارکسزم بھی محض ایک خیالی مارکسزم ہی ہے‘، ہم چونکہ مارکسی فیمینزم کی اصطلاح اور ا س کے اندر پنہاں معانی و مفاہیم کو مارکسی نظریات سے متصادم سمجھتے ہیں اس لیے ان اخذ کردہ نتائج کے مہلک اثرات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ 

0
0
0
s2smodern

جرمنی میں محنت کش خواتین کی کوئی تنظیم کیوں نہیں ہے؟ آخر کیوں ہمیں محنت کش خواتین کی کسی تحریک کے بارے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے؟ ان سوالات کو لے کر 1898ء میں ایما اہرر، جن کا شمار جرمنی میں محنت کش خواتین کی تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے، نے اپنا مضمون بعنوان ’’طبقاتی جدوجہد میں محنت کش خواتین‘‘ پیش کیا

0
0
0
s2smodern