آج دنیا کو تبدیل کرنے کی جتنی ضرورت ہے شاید کبھی بھی نہیں تھی۔ لیکن اس جملے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا ساکت و جامد ہے اور کوئی بڑا لیڈر آ کر اس کو حکم دے گا اور یہ تبدیل ہو جائے گی۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ بلکہ دنیا سمیت پوری کائنات مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور تبدیلی کا یہ عمل لا امتناعی اور کبھی نہ ختم ہونے والا ہے

0
0
0
s2smodern

بھگت سنگھ 28ستمبر 1907ء کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوا۔ بھگت سنگھ کا خاندان خاص طور پر چچا اور والد انقلابی نظریات کی طرف مائل تھے اور برطانوی راج سے ہندوستان کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں سرگرم عمل تھے

0
0
0
s2smodern

آج کے دور میں فلسفۂ موضوعی عینیت کی جو شکل ہمیں نظر آتی ہے اس کا اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ ظہور پذیر ہونا لازمی تھا۔ یہ فلسفہ آج کے دور کے مسئلے کو تجریدی زبان میں بیان کرتا ہے لیکن اس کے پاس اس کا کوئی حل نہیں اور یہی اس کی ناکامی ہے

0
0
0
s2smodern

جرمنی میں محنت کش خواتین کی کوئی تنظیم کیوں نہیں ہے؟ آخر کیوں ہمیں محنت کش خواتین کی کسی تحریک کے بارے میں بہت کم سننے کو ملتا ہے؟ ان سوالات کو لے کر 1898ء میں ایما اہرر، جن کا شمار جرمنی میں محنت کش خواتین کی تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے، نے اپنا مضمون بعنوان ’’طبقاتی جدوجہد میں محنت کش خواتین‘‘ پیش کیا

0
0
0
s2smodern

ہندوستان پر بھی اس انقلاب کے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور اس خطے کے انقلابی نوجوانوں، محنت کشوں اور آزادی پسندوں کو اس انقلاب نے شدید متاثر کیا۔ اس وقت کے روس اور ہندوستان میں بہت سے مماثلتیں پائی جاتی تھیں

0
0
0
s2smodern

آج صبح اٹھنے کے کچھ دیر بعد ہی یہ افسوسناک اور دلسوز خبر سننے کو ملی کہ کامریڈ جام ساقی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ چند روز قبل جب کراچی سچل گوٹھ میں کامریڈ رمضان کی رہائش گاہ پر دیگر کامریڈوں کے ہمراہ کامریڈ جام ساقی کی عیادت کے لیے جانا ہوا تھا تو تبھی سے یہ اندیشہ لاحق ہو گیا تھا کہ یہ دردناک خبر کسی بھی وقت موصول ہو سکتی ہے

0
0
0
s2smodern

1917ء میں روس میں برپا ہونے والے عظیم بالشویک انقلاب کو اس سال ایک صدی مکمل ہو گئی ہے۔ ایک سوسال قبل ہونے والے انسانی تاریخ کے ان اہم ترین واقعات میں محنت کش طبقے نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور کئی صدیوں سے جاری امیر اور غریب پر مبنی طبقاتی نظام کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا

0
0
0
s2smodern

1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا اور اجتماعی ملکیت کی بنیادوں پر ایک غیر طبقاتی سماج تعمیر کرنے کی شعوری کوشش کی

0
0
0
s2smodern

1917ء کے پہلے دوماہ میں روس پر ابھی رومانوف خاندان کی ہی بادشاہت تھی۔ صرف آٹھ ماہ بعد بالشویک اقتدار میں آ چکے تھے۔ سال کے آغاز پر بہت ہی کم لوگ ان کو جانتے تھے، اور جب وہ برسرِ اقتدار آئے تو ان کی قیادت پر ابھی بھی ریاست سے غداری کی فردِ جرم عائد تھی

0
0
0
s2smodern

گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، پروفیسر اور تاریخ دان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مارکسزم پر حملہ کر کے اس کو بدنام کیا جا سکے

0
0
0
s2smodern

سال 2017ء کا آغاز یورپ کی تاریخ کے سب سے سرد موسم سرما سے ہوا جس کے نتیجے میں 61 اموات واقع ہوئیں۔ ابھی سردی کی اس لہر کی وجوہات کو جاننے کی کوششیں ہی کی جا رہی تھیں کہ فروری میں افغانستان، پاکستان سرحد پر برفانی تودوں کے گرنے سے 100 سے زیادہ اموات ہو گئیں۔ اٹلی کی تاریخ کے سب سے بڑے تودے کے گرنے کی وجہ سے بے شمار لوگ ہلاک ہو گئے

0
0
0
s2smodern