صدموں سے کھچا کھچ بھرا پنڈال مبارک 
آنکھوں کو ہر اک خواب کی ہڑتال مبارک 
اس بحر_الم خیز کا پاتال مبارک
ماضی کے تعفن سے اٹا حال مبارک 
بعد از نیا ملک، نیا سال مبارک 

سورج بھی پرانا ہے ستارے بھی پرانے 
نظریں بھی تھکی ہاری نظارے بھی پرانے 
مالک کا نفع، اپنے خسارے بھی پرانے 
سینے میں دہکتے ہیں شرارے بھی پرانے 
حاکم کا نیا بھیس، نیا جال مبارک 
بعد از نیا ملک، نیا سال مبارک 

تاریک نظر آئے بھلے کوئی بھی رنگ ہو 
جب خواہش_امروز پہ تاریخ کا زنگ ہو 
ہو امن کی آشا یا بھلے حالت_جنگ ہو 
جب اپنے مقدر میں وہی بھوک ہو، ننگ ہو 
امید کی پیوند لگی شال مبارک 
بعد از نیا ملک، نیا سال مبارک 

محبس میں کوئی تازہ ہوا آئے تو مانیں 
کلیوں کے چٹکنے کی صدا آئے تو مانیں 
زخموں کو مہکنے کی ادا آئے تو مانیں 
پرسش کو یہاں چل کے خدا آئے تو مانیں 
ہر دل کو ہو پھر یاس کا ابطال مبارک 
بعد از نیا ملک، نیا سال مبارک 

گردش کی غلامی کی جوانی بھی ڈھلے گی 
کب تک یونہی یہ خلق_خدا ہاتھ ملے گی 
یہ ایسی قیامت ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی
اب بات مقدر کو بدلنے کی چلے گی 
اس چلتی ہوئی بات کی ہو چال مبارک 
بعد از نیا ملک، نیا سال مبارک

پارس جان

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh