ریکارڈو واز، ترجمہ: اختر منیر|

(یہ مضمون، venezuelanalysis.com پر شائع ہوا تھا جس میں رکارڈو واز نے وینزویلا کی صورتحال کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ عالمی سامراجی یلغار سے بچنے کے لیے وینزویلا کی عوام کو یہ لڑائی اپنی قومی گماشتہ بورژوازی کے خلاف لڑنی ہوگی۔)

وینزویلن صدر نکولس مادورو حزب اختلاف کے ساتھ ’’جمہوری بقائے باہمی‘‘ کے معاہدے پر ستخظ کرتے ہوئے جس کو موخرالذکر نے ماننے سے انکار کردیا

پچھلی بہار سے بولیوارین انقلاب کو مایوس کن صورتحال کا سامنا تھا۔ ابتر معاشی حالات اور حزب اختلاف کے پرتشدد مظاہروں کے باوجود صدر نکولس مادورو آئین ساز اسمبلی کو لے کر چلنے میں کامیاب رہا۔ قانون ساز اسمبلی کی کامیابی کے ساتھ ساتھ علاقائی انتخابات میں بھی واضح کامیابی نظر آئی جو شاویز کے حمایتیوں کے لیے تقویت کا باعث تھی۔ پر اب جبکہ صدارتی انتخابات سر پر ہیں، بولیوارین انقلاب کو ابھی بہت سے مسائل کا سامنا کرنا ہے اور اس کے ساتھ ہی سامراجی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

آئین ساز اسمبلی امن قائم کرنے میں کامیاب رہی جو کہ شاید اس کا سب سے اہم کام تھا۔ حزب اختلاف کی بائیکاٹ کی کوشش انہیں مہنگی پڑی جس کی وجہ سے پر تشدد مظاہروں میں کمی آنے لگی۔ چیف پراسیکیوٹر کی تبدیلی کرپشن کے خلاف لڑائی میں ایک نئی کوشش ثابت ہوئی، خاص طور پر تیل کی ریاستی کمپنی PDVSA میں، جس کا سب سے قابلِ ذکر ملزم اس کا سابق سربراہ رافیل رامیرز ہے 1؂۔

بلاشبہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ عوام کا آئین ساز اسمبلی پر معاشی جنگ کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا مگر اس اضافے کے مقابلے میں آمدنیوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا اور قومی اداروں کے محنت کشوں نے حزب اختلاف کے مظاہروں کے ساتھ سختی سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود گرتی ہوئی کام کی سہولیات اور معیار زندگی کا شکوہ کیا۔ لیکن گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران حوصلہ افزا تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔ آئین ساز اسمبلی نے محنت کشوں کی کونسلوں کو قانونی حیثیت دینے کا ایک قانون پاس کیا جو بہت لمبے عرصے سے تعطل کا شکار تھا۔ فیکٹریوں اور ملوں میں محنت کشوں کی کونسلوں کا قیام سرمایہ داروں کے حملوں کے خلاف ایک نہایت موثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے(اس پر بعد میں مزید بات ہو گی)۔

کرنسی تبادلے کے انتظام کو بھی ازسرنو ترتیب دیا گیا۔ ایک ڈالر کے بدلے میں 10 بولیوار کی ترجیہی شرحِ تبادلہ کو ختم کرتے ہوئے DICOM بولی کا نظام لاگو کیا گیا جس میں شرحِ تبادلہ کا تعین طلب اور رسد کی بنیاد پر ہو گا۔ امید ہے کہ اس سے بدعنوانی اور سٹے بازی کا خاتمہ ہو گا اور بلیک مارکیٹ کا بلبلہ پھٹنے کی طرف جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی نئی متعارف کی گئی کرپٹوکرنسی(Crypto Currency) پیٹرو سے بھی حکومت کو وقتی سہارا ملنے کی امید ہے۔
اس معاشی ابتری مگر سیاسی استحکام کے دوران حکومت نے اعلان کیا کہ حزب اختلاف کے ساتھ ڈومینیکن ریپبلک میں سیاسی بقائے باہمی کا معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ حکومتی وفد نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے جو ان کے مطابق حتمی تھا، جس کی تصدیق راڈریگز زپاترو اور دیگر ثالثوں نے بھی کی، مگر حزب اختلاف MUD کے وفد نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ کچھ عرصے بعد صدارتی انتخابات، جو مذاکرات میں بھی زیر بحث تھے، 22 اپریل کو کروانے کا اعلان کیا گیا، جس پہ مبینہ طور پر MUD متفق تھی۔

مذاکرات سے بغاوت تک

وینزویلا کی حزبِ اختلاف نے مذاکرات میں حصہ تو لیا مگر عین وقت پر معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، شاید ’’انکل سام‘‘ سے ہدایات ملنے کے بعد۔ متفقہ دستاویزات بقائے باہمی کے راستے، صدارتی انتخابات کے طریقہ کار اور پابندیاں ہٹائے جانے کے مطالبات کے بارے میں تھیں وہ جن کی حمایت کر رہے تھے۔

حزبِ اختلاف نے دسمبر میں فوری طور پر اپنے مطالبات پر مبنی ایک اور دستاویز جاری کی جس نے ان کے ’’آمریت‘‘ کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے مؤقف کو بے بنیاد اور کمزور ثابت کر دیا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پچھلے سال فوری صدارتی انتخابات کروانے کے مطالبے کے گرد پرتشدد مظاہروں کا آغاز کیا گیا تھا۔ OAS کا سیکریٹری جنرل اور حزب اختلاف کا سب سے بڑا لیڈر لوئس الماگرو اس فساد کی قیادت کر رہا تھا۔ پر اب جب الیکشن کرانے کی تیاریاں ہو چکی ہیں تو اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے اور اس کے نتائج کو پہلے سے مسترد قرار دیا جا رہا ہے۔

OASکے سیکرٹری جنرل الماگرو کی صدارتی الیکشن کے حوالے سے بدلتی آرا

آخری لمحوں میں دم دبا کر بھاگنے سے وینزویلا کی حزب اختلاف نے اپنی رہی سہی ساکھ کھو کر خود کو مزید کونے میں دھکیل دیا ہے۔ انتخابات میں شرکت کے سوال پر شش وپنج کا شکار رہنے کے بعد حکومت سے معاہدہ ان کی عزت بچا سکتا تھا اور وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ’’مزید یقین دہانیوں کے بعد اب ہم انتخابات میں شرکت کر سکتے ہیں‘‘۔ پر ابھی تک انتخابات میں ان کی شرکت غیر یقینی ہے۔ دراصل وہ کسی سامراجی معجزے کے ا نتظار میں ہیں جو انہیں واپس اقتدار میں لا سکے۔

امریکی سامراج کا لائحہ عمل بہت واضح ہے۔ انتخابات میں حزب اختلاف کی حمایت اس کی ترجیح نہیں ہے۔ شاویزکے حمایتیوں کی ثابت قدمی اور حزب اختلاف کی یکے بعد دیگرے حماقت کو دیکھا جائے تو ایسا کرنا زیادہ فائدہ مند بھی نہیں ہے۔ اس لیے اکھڑ امریکی سامراج کی نظر میں ایسے کسی بھی انتخاب کو پیشگی مسترد کر دینا ہی زیادہ محفوظ ہو گا۔

یورپی اور لاطینی امریکی گماشتہ ریاستوں کے ساتھ مل کر امریکی سامراج و ینزویلا پر معاشی اور تجارتی پابندیاں بڑھاتا جائے گا جس کی ا نتہا شاید تیل کی تجارت پر پابندیوں کی صورت میں نظر آئے گی، جس سے وینزویلا کے سب سے بڑے ذریعۂ آمدنی کے بند ہونے کا خطرہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وینزویلا کی عوام پر حالاتِ زندگی اس قدر تنگ کر دیے جائیں کہ مسلح افواج یا ان کا کوئی دھڑا بغاوت کی صورت میں اقتدار پر قبضہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اسے’’چلی کا ماڈل‘‘کہا جا سکتا ہے۔ ریکس ٹلرسن سے لے کر مارکو روبیو تک امریکی لیڈروں نے اس کی کھلی حمایت کی ہے۔

ان دنوں بیرونی حملوں کے امکانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ برازیل اور کولمبیا میں ہونے والی فوجی مشقیں اور غیر معمولی نقل وحرکت ہے اور اس کا نام نہاد’’انسانی ہمدردی‘‘ کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندونی انتشار کا خطرہ بھی موجود ہے۔ پھر بھی یہ امکانات بہت کم ہیں اور عوام میں ان کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، مگر حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن اگر میڈیا کی بات کی جائے تو تو وہ مسلسل جنگ کی رٹ لگائے ہوئے ہے اور امریکہ سے متاثر اس میڈیا سے کسی بھی قسم کی مخالفت کو توقع نہیں کی جا سکتی۔

 

ناکافی سوشلزم:

تجزیہ کار صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور آنے والے واقعات کو ’’فیصلہ کن‘‘،’’انتہائی اہمیت کے حامل‘‘اور’’بنانے یا بگاڑنے والے‘‘قرار دے رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ وینزویلا جنوبی امریکہ میں امریکی سامراجی عزائم کی راہ میں واحد رکاوٹ ہے اور اس کے ساتھ کیا کچھ داؤ پر لگا ہے۔

بورژوازی کا واپس اقتدار میں آنا، چاہے وہ انتخابات کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے، وینزویلا کے غریب عوام اور محنت کش طبقے کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ معاشی بحران کا حل محنت کش طبقے پر شدید کٹوتیوں اور عوامی سہولیات کے خاتمے کی صورت میں کیا جائے گا۔ ان تمام لوگوں پر گزشتہ دو دہائیوں کا شدید غصہ نکالا جائے گا جن پر شاویز کے حامی ہونے کا ذرا سا گمان بھی گزرتا ہو۔

بہرحال، اس سب کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بغاوت کا خطرہ ٹل جانے اور مادورو کے پھر سے صدر منتخب ہو جانے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اگر امریکا مادورو کو راستے سے ہٹانے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مادورو کا ہر بڑھتا ہوا قدم سوشلزم کی طرف جاتا ہے۔ لیکن یہ عملًاتنا سادہ بھی نہیں ہے۔ تمام تر واقعات اور بیان بازی کے باوجود، جو زیادہ تر بولیوارین انقلاب کے مخالفین کی جانب سے سننے میں آتی ہے، سرمایہ داری کے پنجے ابھی تک وینزویلا میں مضبوطی سے گڑے ہیں۔

ماضی قریب میں وینزویلا کی حکومت نے اپنے مؤقف سے ہٹتے ہوئے سرمایہ داروں کو، جن میں ملکی اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں، یقین دہانی کرائی ہے کہ وینزویلا میں ان کا سرمایہ منافع بخش اور قومیائے جانے کے خطرات سے پاک رہے گا 2؂۔ وقت آنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑ جاتا ہے اور اس صورتحال میں وہ گدھا کان کنی کی کمپنیاں ہیں۔ نجی کمپنیوں پر ڈالر نچھاور کرنے کی پالیسی بھی صرف اس امید پر جاری ہے کہ شاید وہ وعدے کا پاس رکھتے ہوئے وہ مختلف اشیاء درآمد کریں۔

سرمایہ داروں کو کچھ رعایتیں دینے اور مذاکرات کی دعوت دینے کا لائحہ عمل واضح طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اس کا جواب انہیں بڑھتی ہوئی جارحیت اور پابندیوں کی صورت میں مل رہا ہے اور بورژوازی کی طرف سے شاویزکے حمایتیوں کو ناکام بنانے کے لیے رسد کے عمل کو مسلسل تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر بھی لیں کہ سب کچھ ویسا ہی ہو جائے جیسا کہ شاویز کے حکومت میں آنے سے پہلے تھا، تو بھی یہ دنیا کی بڑی بڑی اجارہ داریوں اور مقامی گماشتوں کے لیے کافی نہیں ہو گا، یہ سوچ کر غصے کے مارے ان کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے کہ ان کے اور تیل کی قیمتوں کے درمیان ایک معمولی سا بس ڈرائیور (صدر مادورو)دیوار بن کر کھڑا ہے۔

ممکنہ بغاوت پر قابو پانے کی کوششیں اور معاشی جنگ آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ ڈالروں کی ٹیکس سے محفوظ مقامات پر منتقلی کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست برآمدات اور درآمدات پر پوری طرح کنٹرول حاصل کرے اور معاشی جنگ میں شامل تمام کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو قومی تحویل میں لے۔ لیکن صرف ریاست کا کنٹرول ہی کافی نہیں ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام معیشت کمیونز کے ذریعے مزدوروں کے جمہوری کنڑول میں دی جائے تا کہ تمام تر وسائل کو عوام کے مفاد میں استعمال کیا جا سکے۔

سائمن پلانس میونسپلٹی کے عوام میونسپلٹی الیکشن کے نتائج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

یہ ذاتی پسند، نا پسند یا عقیدے کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ ان لوگوں کو معاشی طاقت سے محروم کیا جائے جو معاشی جنگ میں ملوث ہیں اور سامراجی دخل اندازی کے حامی ہیں۔ کسی ممکنہ بغاوت سے نمٹنے کا سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ محنت کشوں کو منظم اور متحرک کیا جائے تاکہ وہ اپنا دفاع خود کرنے کے قابل ہو سکیں۔ وینزویلا کے پاس تمام تر وسائل سے بڑھ کر محنت کش عوام کی طاقت ہے جسے استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں دیکھا جائے تو معاشی جنگ کے خلاف محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں کمپنیاں اور کمیونز ہی واحد پناہ گاہ ہو سکتی ہیں، جہاں سرمایہ دارانہ رشتے وجود نہ رکھتے ہوں۔ یہ بات بولیوارین انقلاب میں مسلسل زیر بحث رہی ہے۔ یہ وینزویلا میں سوشلزم نافذ کرنے کا بہت سے طریقوں میں سے ایک طریقہ نہیں بلکہ واحد طریقہ ہے اور صرف اسی کے ذریعے بولیوارین انقلاب کو بچایا جا سکتا ہے۔ کمیونز یا کچھ بھی نہیں!

اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ حالیہ وقتوں میں تشویشناک واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ جن میں ایل میزل کمیون کے لیڈر اینجل پراڈو کے مئیر کے الیکشن لڑنے کی راہ میں قانونی رکاوٹیں، ایک اور واقعہ جس میں قانون نافذ کرنے والوں نے بنجر زمین کاشت کرنے کے معاملے میں کمیون کی مخالفت اور زمین داروں کی حمایت کی، یا وہ واقعہ جس میں اہم ٹریڈ یونین لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ ایک نہایت پریشان کن بات ہے کہ زیادہ لڑاکا پرتوں کو دبایا جا رہا ہے۔

یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے کہ دنیا بھر کی ترقی پسند اور بائیں بازو کی تحریکوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وینزویلا کے محنت کشوں اور غریب عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں کھڑے ہوں۔ جس کا مطلب ہے کہ سب سے پہلے تو وہ سامراجی جارحیت کی مخالفت کریں، چاہے وہ پابندیاں یا دیگر ہتھکنڈے ہوں۔ اس کے بعد ہی ہم بولیوارین انقلاب اور اس کی اندرونی حرکیات کا تنقیدی جائزہ لے سکتے ہیں۔ نام نہاد جمہوریت اور آزادی پر بڑے بڑے مغرب زدہ لیکچر صرف اور صرف امریکی حکومت کے مؤقف کو تقویت دینے کے لیے ہیں۔ مغربی لیڈر جو بھی دعوے کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ کم از کم فوجیں اتارنے سے تو وینزویلا میں آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کا بول بالا نہیں ہونے والا۔

 

نوٹس:

1؎ اس معاملے میں حکومت کو اتنی آسانی سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ PDVSA کے اندر اور رافیل رامیرز کے خلاف الزامات کا سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری تھا اور حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات میں دلچسپی صرف تب دکھائی جب اس نے حکومت کی مخالفت کا آغاز کیا۔ یہی بات سابق پراسیکیوٹر لوسیا اورٹیگا کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے۔ ابتدائی آثار تو مثبت نظر آ رہے ہیں مگر احتساب کے اس عمل کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ان کاروائیوں کو محض ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر دیکھا جائے گا۔
2؎ کچھ مضحکہ خیز حقائق:
1۔ کولمبیا میں سماجی رہنما اور سابق FARC ممبرز تقریباً ہر روز قتل ہوتے ہیں مگر میڈیا انتہائی بے شرمی سے یہ بتاتا ہے کہ کولمبیا کے صدر جون مینوئل سینٹوس نے وینزویلا میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر نہایت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
2۔ برازیل کا صدر خود ایک پارلیمانی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آیا مگر کسی صحافی کو اس کی وینزویلا کی جمہوریت سے متعلق ’’پرخلوص تشویش‘‘پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
3۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ وینزویلا میں ہر کوئی مادورو سے نفرت کرتا ہے۔ اور حزب اختلاف کے اپنے بیان کردہ سروے کے مطابق اس کی مقبولیت 25 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ مگر یہ پھر بھی امریکہ کے چہیتے برازیل اور کولمبیا کے صدور کی مشترکہ مقبولیت سے زیادہ ہے۔
4۔ کہا جاتا ہے کہ نیشنلائزیشن سے پہلے وینزویلا کی پیداواری معیشت بہت شاندار انداز میں چل رہی تھی۔ میں یہاں اس جھوٹ کا پول بھی کھولتا چلوں۔ اس دلیل کو اکثر یہ ثابت کرنے کے لیے بھی پیش کیا جاتا ہے پیداوار صرف منافع کے حصول کی لالچ کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔وینزویلی بورژوازی تاریخی طور پر طفیلی درمیانی بورژوازی کی زندہ مثال ہے جو کہ تیل کی محصولات پر پل کر درآمد شدہ اشیا کی اجارہ داریاں قائم کرتی آئی ہے۔ اس بات کا خلاصہ فینن سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا جو کہتا ہے:
’’غیر ترقی یافتہ ممالک کی بورژوازی کا پیداوار، جدت، تعمیر اور محنت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا بنیادی کردار گماشتگی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کسی نہ کسی طرح اپنا کام چلاتے رہنا اور سرمائے کے جال کا حصہ بنے رہنا ہوتا ہے۔‘‘

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh