|تحریر: ٹام ٹراٹیئر، اینٹونیو بالمر؛ ترجمہ: اختر منیر|

ایسا ہونا طے نہیں تھا۔ نیویارک کے موجودہ کانگریس کے ممبر جو کرولی، جو کوئینز کاؤنٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ بھی ہے اور ڈیموکریٹس کے دوبارہ اکثریت میں آنے کی صورت میں اس نے ایوان کے سپیکر کے طور پر نینسی پیلوسی کی جگہ بھی لینا تھی، کو ایک 28 سالہ کارکن الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز نے شکست دے دی جو اپنے آپ کو ایک سوشلسٹ کہتی ہے اور DSA کی ممبر ہے۔

کرولی نے اپنی انتخابی مہم پر تیس لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جبکہ اکاسیو کورٹیز نے اس کا دس فیصد ہی خرچ کیا۔ کچھ ماہ پہلے تک وہ بارٹینڈر کا کام کیا کرتی تھی اور اس نے پہلی مرتبہ کسی انتخاب میں حصہ لیا ہے۔

انتخاب ان حالات میں ہوا جب ٹرمپ حکومت، ریپبلکنز اور منظر عام پر موجود ڈیموکریٹک سیاستدانوں کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 28,000 ووٹرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نیویارک کے چودھویں ضلع کی پرائمری میں حصہ لیا جس کی کل آبادی سات لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے اکاسیو کورٹیز نے 58 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اب وہ اس حلقے سے کانگریس کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہو گی اور نومبر میں یقینی طور پر جیت جائے گی، جس کے بعد وہ DSA کی طرف سے رون ڈیلمز (کیلیفورنیا) اور میجر اوین (نیویارک) کی ریٹائرمنٹ کے بعد منتخب ہونے والی پہلی کانگریس کی ممبر ہو گی۔ اس سیاسی اپ سیٹ نے پورے ملک کے میڈیا میں ہلچل مچا کر رکھ دی ہے جس سے اکاسیو کورٹیز راتوں رات سیاسی سپر سٹار بن گئی ہے۔ اس کی یہ غیر متوقع جیت بائیں بازو میں جاری انتخابی لائحہ عمل اور سوشلزم کے مستقبل کے حوالے سے جاری بحث پر فوری طور پر اثر انداز ہوئی ہے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ اس مہم سے ڈیموکریٹک پارٹی پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی درست ثابت ہوئی ہے، بورژوا سیاسی تجزیہ نگار DSA کے اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور دوسرے موجودہ ڈیموکریٹ اپنے بائیں جانب موجود خطرے سے خبردار ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ہفتے کے اختتام سے پہلے ہی DSA کے ممبران کی تعداد میں ایک ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ اس جیت کی حکمت عملی کے خلاف کوئی کیسے دلیل دے سکتا ہے؟

حکمت عملی کہاں تک؟

آئیم ٹی کے امریکی سیکشننے مسلسل یہ دلیل دی ہے کے امریکی محنت کش طبقے، جو آبادی کی ایک وسیع اکثریت ہے، کا واحد ناگزیر تاریخی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی عوامی پارٹی تشکیل دے۔ جب اس میں کامیابی حاصل کر لی جائے گی تو طبقاتی جدوجہد کے خدوخال ہی تبدیل ہو جائیں گے۔ محنت کش طبقہ اس قابل ہوگا کہ سرمایہ داروں کو شکست دے سکے۔ وہ نہ صرف ان کے کٹوتی کے حملوں کا مقابلہ کر سکے گا بلکہ اپنے معیار زندگی اور مادی حالات میں بھی واضح بہتری لانے کے قابل ہو گا۔

برنی سینڈرز کے پاس 2016 ء میں ایک عوامی سوشلسٹ پارٹی بنانے کا موقع موجود تھا لیکن اس نے آخر میں ہیلری کلنٹن کی حمایت کر دی۔ مزدور یونین کے رہنما ضدی انداز میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ چمٹے رہے اور محنت کشوں کی پارٹی بنانے کے متعلق کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے لیکن کسی نے بھی اس جانب قدم نہیں بڑھایا۔ پچھلے کچھ سالوں کے دوران سوشلزم سے متعلق بڑھتی ہوئی دلچسپی اور دونوں بڑی پارٹیوں سے پہلے کبھی نہ دیکھی جانے والی بیزاری کے باوجود بائیں بازو کی اکثریت ایک عوامی سوشلسٹ پارٹی کو غیر حقیقت پسندانہ ہدف تصور کرتی ہے اور اس تصور کو وہ لوگ تقویت دیتے ہیں جو ’’حقیقی فتوحات‘‘ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، جو چاہتے ہیں کہ سیاسی عزائم کو معتدل رکھا جائے۔

بائیں بازو کی اکثریت ایک عوامی سوشلسٹ پارٹی کے امکان کو ایک غیر حقیقت پسندانہ ہدف کے طور پر دیکھتی ہے اور یوں اپنے آپ کو ڈیموکریٹک پارٹی کی تنگ چار دیواری میں محدود کیے ہوئے ہے۔

مگر طبقاتی سیاست اپنی سیاسی مہم میں’’محنت کش طبقے‘‘ کی اصطلاح استعمال سے کچھ زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ محنت کش طبقے اور سرمایہ دار طبقے میں ایک ناقابل مصالحت لڑائی ہے، ایک ایسی جنگ جسے صرف معاشرے کو نئے سرے سے تشکیل دے کر ہی جیتا جا سکتا ہے۔ محنت کش طبقے کی محنت جب دھرتی کے وسائل کے ساتھ ملتی ہے تو ہی تمام دولت پیدا ہوتی ہے، جبکہ سرمایہ دار طبقہ، جو ذرائع پیداوار کا مالک ہوتا ہے، محنت کشوں کا استحصال کرتا ہے اور سب سے بڑے حصے کا مالک بن بیٹھتا ہے۔

سوشلزم کا ایک بنیادی اصول جس کے ذریعے ہم واقعی زیادہ تنخواہ کے ساتھ سرکاری ملازمتوں کی ضمانت دے سکتے ہیں، لوگوں کو بے دخل کرنے کے وحشیانہ عمل اور سرحدوں پر فوجیوں کی تعیناتی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، سب کو معیاری رہائش کی سہولت دی سکتے ہیں، مفت تعلیم اور صحت دے سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ طبقاتی جنگ جیت کر معیشت کے بنیادی شعبوں کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔ ہمیں منصوبہ بندی یہ سوچ کر کرنی چاہیے کہ محنت کش طبقہ اقتدار کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ کون سے آج کیے گئے اقدامات سوشلسٹوں کو اس کی بنیاد رکھنے کے قابل بنائیں گے؟ کون سی وقتی فتوحات ہمیں اس مقصد کے قریب لے جائیں گی؟

اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ڈیموکریٹک پارٹی کے جھنڈے تلے کانگریس کی ایک سیٹ جیتنے کو، چاہے وہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی DSA کی ایک مخلص ممبر ہی کیوں نہ ہو، لازمی طور پر لائحہ عمل کی فتح قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کو لے کر الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز سمیت تمام کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کو نفع اور نقصان دیکھنا پڑے گا۔

ڈیموکریٹس بن کر انتخاب لڑنا۔۔۔ کون کسے قابو کر رہا ہے؟

ماضی میں، مثال کے طور پر 1930ء کی دہائی میں، بائیں بازو کے بہت سے لوگوں نے پاپولر فرنٹ حکومتوں کی حمایت کی، جن میں لیبر، سوشلسٹ اور کیمونسٹ پارٹیاں بورژوا پارٹیوں کے ساتھ مل جاتی ہیں۔ مگر سوشلسٹ اور بورژوا پارٹیوں کا اتحاد محنت کشوں کے لئے ہمیشہ برا ہی ثابت ہوا ہے، چاہے وہ فرانس ہو، سپین ہو یا پھر چلٗی ہو۔ جو یہ کہتے ہیں کہ سوشلسٹوں کو بڑی پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے یا ڈیموکریٹس کی طرف سے انتخاب لڑنے کے مقابلے میں آنا چاہیے، عملی طور پروہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ایک پاپولر فرنٹ بنانے کا کہہ رہے ہوتے ہیں، ڈیموکریٹک پارٹی جو آج سرمایہ دار طبقے کی سب سے اہم نمائندہ جماعت ہے۔

پاپولر فرنٹ بحری جہازوں کے قافلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک قافلہ اپنے سب سے بڑے اور سب سے سست بحری جہاز کی رفتار سے چلتا ہے تا کہ سب جہازوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھا جا سکے۔ جب ڈیموکریٹس لازمی طور پر کانگرس میں اکثریت اور صدارت واپس حاصل کر لیں گے (جیسا کہ08۔2006ء میں ہوا) تو لہجے کا تعین سب سے بڑے اور سب سے سست بحری جہاز سے ہو گا، سب سے رجعتی ڈیموکریٹس۔ الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز کے معاملے میں اس پر شدید دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ اپنے مؤقف کو اعتدال کی طرف لے کر آئے تا کہ ایوان واپس حاصل کرنے کیلئے نسبتاً رجعتی ووٹرز سے بھی اپیل کی جا سکے۔ اس مقصد کے ساتھ جیت کے اگلے روز NPR کو دیے جانے والے انٹرویو میں اس نے رضا مندی کا اظہار کیا۔ جب ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کے بارے میں پوچھا گیا، خاص طور پر جب یہ پوچھا گیا کہ وہ نینسی پیلوسی کی حمایت کرتی ہے یا نہیں تو اس نے کوئی تنقید نہیں کی:

’’میرے خیال میں یہ غیر مناسب ہوگا کہ ابھی ہم نے ایوان واپس جیتا بھی نہیں اور ایک فرد پر گفتگو کریں۔ پہلے ہم اسے یقینی بنائیں گے اور بعد میں ہم یہ گفتگو کر سکتے ہیں۔‘‘

جو بھی ’’سوشلسٹ ڈیموکریٹس‘‘ ہونگے وہ پاپولر فرنٹ کے ساتھ بندھ کر رہ جائیں گے۔ جب عوام بالآخر حکومت سے تنگ آ جائیں گے، جیسا کہ 2010ء میں ہوا، تو وہ کانگریس کے سوشلسٹ اراکین کو بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے حصے کے طور پر دیکھیں گے اور دائیں جانب رخ کریں گے یا بالکل ہی مایوس ہو جائیں گے۔ ’’سوشلسٹ ڈیموکریٹس‘‘، DSA اور الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز سمیت، بری الذمہ نہیں ہو پائیں گے۔ یہ ایک گھسا پٹا عمل ہے اور کسی بھی سوشلسٹ کے لیے واضح اور فوری خطرہ ہے۔

اگر ہمارا مقصد محنت کشوں کی حکومت قائم کرنا ہے تو محنت کش طبقے کو اپنی پارٹی کی ضرورت ہے اور اس پارٹی کے لیے ایک واضح پروگرام کی ضرورت ہے۔ یہ محنت کشوں کی پارٹی جمہوری طریقے سے چلائی جانے والی یونین کی طرح کام کرے گی۔ پروگرام کا تعین اور لیڈرشپ کا انتخاب سرگرم ممبر شپ کرے گی جیسے وہ جواب دے ہوں گے۔ یہ وہ چیز ہے جو ایک ڈیموکریٹ کے طور پر انتخاب لڑنے سے حاصل نہیں ہو سکتی، جو نامیاتی انداز میں ریاست سے جڑی ہوئی پارٹی ہے، جس میں پرائمری انتخابات پیسے، غیر منتخب شدہ افسر شاہی اور بورژوا میڈیا کے زور پر کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ منتخب شدہ محنت کشوں کے نمائندوں کو محنت کشوں کی پارٹی کے آگے جواب دہ ہونا چاہیے۔ کانگریس ایک سوشلسٹ کے لیے سب سے خطرناک جگہ ہے جہاں ہر قسم کی سزاؤں اور رشوت کا استعمال کر کے ’’سوشلسٹوں‘‘ کو بورژوا نمائندوں کے ’’ساتھ چلنے‘‘ پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

عوامی رائے کو دیکھتے ہوئے، جس سے پتا چلتا ہے کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے خلاف کتنی نفرت موجود ہے، DSA کو ان دونوں پارٹیوں کے خلاف ایک بے باک سوشلسٹ پروگرام کے ساتھ امیدوار کھڑے کرنے چاہئیں اور یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ محنت کش طبقہ ہی وہ واحد قوت ہے جو سماج کو بدل سکتا ہے، اگر وہ ایک طبقے کے طور پر منظم ہو جائے۔ ابھی تمام 435 کانگریس کے اضلاع میں امیدوار کھڑے کرنے کے وسائل موجود نہیں ہیں لیکن یہ پانچ یا دس جگہوں پر کیا جاسکتا ہے۔

ایک ڈیموکریٹ کے طور پر لڑنے کے لیے کیا قیمت ادا کی گئی؟

اکاسیو کورٹیز کی کمپین عدم مساوات اور رئیل سٹیٹ ڈیولپرز اور دوسرے بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کے سیاسی غلبے پر سوالات اٹھا کر محنت کش طبقے کے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کی کمپین کرولی اور ڈیموکریٹک پارٹی پر مسلط اسٹبلیشمنٹ کے بائیں جانب تو تھی، مگر ایک انقلابی سوشلسٹ پلیٹ فارم اسے محنت کش طبقے کے لیے ایک مزید پر عزم راستہ اختیار کرنے کی اجازت دیتا۔

مثال کے طور پر NPR انٹرویو کے دوران جب اس سے یہ سوال کیا گیا کہ اس کی ICE کو ختم کرنے کی تجویز کا نتیجہ محض ایجنسی کے نام میں تبدیلی ہوگا یا وہ ابھی بھی وسیع پیمانے پر تحفظ کی حمایت کرتی ہے، تو اس نے کہا:

’’خیر، میرا خیال ہے کہ یہ ایک نئے نام کے ساتھ ایک نئے نقطہ نظر کی بات ہے۔۔۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ ہمیں ایک محفوظ سرحد رکھنی چاہیے۔ ہمیں یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ لوگوں کا کاغذات میں اندراج ہو۔‘‘

’’سرحدوں کے تحفظ‘‘ کی حمایت کرنے کا مطلب کسی اور نام سے ایک ایسے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی حمایت ہے۔ لیکن اس سے ہمیں امریکہ میں لاکھوں غیر اندراج شدہ محنت کشوں اور دوسرے ملکوں سے فرار ہو کر آنے والے لوگ جو امریکی سامراج کے مسلط کیے گئے حالات سے بچنے کے لیے ملک میں داخل ہوتے ہیں، کے تحفظ کے بارے میں کچھ نہیں ملتا۔ ایک ثابت قدم سوشلسٹ جواب یہ ہوتا کہ سب کو فوری اور غیر مشروط طور پر قانونی حیثیت دی جائے۔

اکاسیو کورٹیز کی کمپین سے متعلق ویب سائٹ پر خارجہ پالیسی اور امریکی سامراج کے خلاف کچھ نہیں ملتا، سوائے پورٹوریکو کے متعلق۔ اس نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ پورٹوریکو کا وال سٹریٹ کو واجب الادا قرض منسوخ کیا جائے اور زیادہ امداد بھیجی جائے۔ لیکن اس نے کہیں سوشلسٹ پالیسیوں کی بات نہیں کی اور نہ ہی یہ وضاحت کی کہ آج وہاں پیدا ہونے والے خوفناک حالات کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام ہے۔

محنت کشوں کے متعلق دوسرے معاملات میں اکاسیو کورٹیز سب کے لیے طبی سہولیات اور حکومت کی طرف سے 15 ڈالر فی گھنٹہ کی نوکریوں کی ضمانت کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔ تمام سوشلسٹ سب کے لیے طبی سہولیات اور نوکریوں کے پروگرام کی بات کرتے ہیں اور ہم کم از کم اجرت بڑھانے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں 15 ڈالر فی گھنٹہ سے آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا کوئی واقعی اس میں گزارا کر سکتا ہے، خاص طور پر نیویارک میں؟ یہ حقیقی معنوں میں افراط زر کے حساب سے 1968ء کی کم از کم اجرت سے کچھ ہی زیادہ ہے، جو کوئی اچھا معیار نہیں ہے۔ گزارہ کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ درکار ہے۔

ایک انقلابی سوشلسٹ نقطہ نظر سے اسے یہ بات واضح کرنی چاہیے کے 25 ڈالر فی گھنٹہ کی کم از کم اجرت دینے کے لیے بھی کافی دولت موجود ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہفتہ وار کام کے اوقات کار کو اسی تنخواہ کے ساتھ چالیس گھنٹے سے بیس گھنٹے پر لاکر سب کو روزگار دیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں طبقاتی جنگ لڑنا ہوگا جس میں صرف سرمایہ داروں کی ہی جانب سے پے در پے وار نہیں ہوں گے۔

یقیناً اس سے جوابی حملوں کا آغاز ہوگا۔ حکومت کی طرف سے روزگار کی ضمانت کے سنجیدہ دفاع کی خاطر ہمیں یہ بات کرنا پڑے گی کہ محنت کش طبقہ کیسے اقتدار حاصل کر سکتا ہے۔ جب تک ریاستی طاقت سرمایہ دار طبقے کے پاس ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اتنی بڑی مراعات دے۔ سب کے لیے روزگار ہونے سے محنت کش طبقے کی گفت و شنید کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور طبقاتی طاقتوں کا توازن پرولتاریہ کے حق میں ہوگا۔ مزید یہ کہ ایسے کسی پروگرام پر عمل درآمد کے نتیجے میں سرمایہ داروں کے منافعوں کو ان کی سوچ سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ اس مقصد کے لیے طبقاتی جدوجہد کا تناظر پیش کیا جانا چاہیے، اسی سے فیصلہ کن قیادت اور اکثریتی حمایت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کا متبادل یہ ہے کہ انقلابی اقدامات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت پر انحصار کیا جائے، ایک ایسا طریقہ کار جس کا ٹریک ریکارڈ سو فیصد ناکامی کا ہے۔

حال ہی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے زیرانتظام سیاٹل میں بڑی کمپنیوں پر ایک چھوٹا سا ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی، تا کہ انتہائی ناگزیر گھروں کی تعمیر کی جا سکے کیونکہ وہاں بڑے پیمانے پر بے گھری کا مسئلہ موجود ہے۔ ایمزون، گوگل اور دیگر ’’لبرل‘‘ کمپنیوں نے اس ٹیکس کے خلاف پوری طاقت سے لڑائی کی۔ مارچ میں ایک نرم شکل میں پاس ہونے کے چھ ہفتوں بعد ہی ٹیکس واپس لے لیا گیا۔ سٹی کونسل میں آٹھ ڈیموکریٹ اور ایک سوشلسٹ ہے۔ یہ ترقی پسند سیاٹل میں اصل طاقت کا توازن ہے، سٹی کونسل میں اکیلے سوشلسٹ کی موجودگی میں۔

ڈیموکریٹ ایک سوشلسٹ کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے؟

انتخابی عمل سے متعلق جاری بحث ابھی کسی انجام کو نہیں پہنچی لیکن اس نے جوابات نہیں تو کم ازکم سوالات واضح کر دیے ہیں۔ DSA کے ہزاروں کارکنان کی اکثریت یہ نہیں چاہتی کہ انہیں ڈیموکریٹک پارٹی ہڑپ کر لے اور وہ پارٹی کے ’افسر شاہانہ‘ دھڑے کے خلاف ہے، لیکن وہ اپنے ’امیدواروں کو منتخب کروانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے‘ کے مخالف نہیں ہیں۔ جبکہ اکاسیو کورٹیز کی جیت نے اس خیال کو مزید تقویت دی ہے، یہ بات واضح ہے کہ اسے ایک عام DSA ممبر کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی پر بہت زیادہ بھروسہ ہے۔

اپنی جیت سے اگلے دن اس نے پارٹی کی یکجہتی کے حق میں ٹوئیٹ کیا:

’’اپنی گفتگو میں ’ان کے مقابلے میں ہم‘ کہنا بیکار اور میری رائے میں گمراہ کن ہے۔ یہ امریکی محنت کشوں کی پرزور وکالت کرنے سے متعلق ہے۔‘‘

یہ برنی سینڈرز کے اس بیان کے حق میں تھا کہ ’’مسئلہ اسٹیبلشمنٹ اور باغیوں کا نہیں ہے، یہ اس بارے میں ہے کہ امریکہ کے محنت کشوں کے حقوق کے لیے لڑنے کو کون تیار ہے۔‘‘

سوشلسٹ سرمایہ داری سے متعلق خوش فہمیوں کی حمایت نہیں کر سکتے، ہمیں سچ بتانا ہوگا۔ اکاسیو کورٹیز کو بھی اس نظام سے متعلق خوش فہمیاں ہوں گی اور شاید اسے پورا یقین ہو کہ یہ قابل اصلاح ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی اس کی پالیسیوں کا امتحان ہوا تو وہ اور اس کے حمایتی محنت کش بہت مایوس ہوں گے۔ اگر اکاسیو کورٹیز ایک مکمل سوشلسٹ پروگرام پر انتخاب لڑتی تو وہ محنت کش طبقے کو سچ بتا رہی ہوتی۔ اگر وہ ایسا کرتی تو پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ایک ڈیموکریٹ کے طور پر انتخاب لڑ ہی نہ پاتی اور جو کرولی پرائمری کے بعد ’’Born to Run‘‘ گا کر اس کی حمایت نہ کرتا۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کے سنتھیا مکینی بھلے ایک سوشلسٹ نہ ہو مگر وہ ایک صاف گو ترقی پسند تھی اور ڈیموکریٹکس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ ان کی پارٹی میں نہ رہے۔ اگر حقیقی سوشلسٹ سیاست ہمارا راستہ ہے تو ڈیموکریٹ اس کی اجازت نہیں دینے والے۔

اگر ہم ایک سوشلسٹ ممبر کانگریس کو منتخب کرتے ہیں تو اسے سچ بولتے ہوئے اپنے پلیٹ فارم کو محنت کشوں کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ محض’’ترقی پسند‘‘ ڈیموکریٹس کے ساتھ انتخاب لڑنے کے لیے۔ اگر اکاسیو کورٹیز کانگریس میں ایک آزاد سوشلسٹ کی حیثیت سے کام کرتی تو وہ یہ آواز اٹھا سکتی تھی کہ امیر ترین 500 کمپنیوں کو محنت کشوں کے زیر انتظام لا کر سب کے لیے روزگار اور حقیقی گزارے کے قابل اجرت مہیا کی جائے، سب کو طبی سہولیات دی جائیں، سب کو تعلیم اور رہائش دی جائیں (کرائے کو آمدنی کے 10 فیصد تک محدود کرتے ہوئے) اور ذرائع آمدورفت اور عوامی تعمیرات کے لیے بڑی رقم مختص کی جائے۔

اس قسم کے قوانین آج فوری طور پر دونوں پارٹیوں کی طرف سے مسترد کر دیئے جائیں گے، مگر ایسے مطالبات سامنے رکھنے سے کانگریس میں موجود ایک سوشلسٹ لاکھوں محنت کشوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ ایک سوشلسٹ تحریک کیا حاصل کرسکتی ہے اور اس طرح اس طبقے کو ایک عوامی پارٹی میں منظم کیا جا سکتا ہے۔ اس کی بجائے ایک ڈیموکریٹ کے طور پر اکاسیو کورٹیز ڈیموکریٹک پارٹی کی کمیٹیوں، انتخابات چیئرپرسنز، تھینک ٹینک وغیرہ وغیرہ سے بندھ کر رہ جائے گی، بھلے ہی اس نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ایک ’’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ امیدوار کے طور پر کیا ہے۔

آگے بڑھنے کا ایک اور راستہ: سوشلزم کے لیے لڑو! 

چاہے ہمیں یہ اچھا لگے یا نہ لگے’’بہترین اصلاحات کے ساتھ سرمایہ داری‘‘ ہمارے مستقبل میں نہیں ہے۔ DSA نے دکھایا ہے کہ وہ عوامی سطح پر لوگوں کو گھر گھر جاکر اور فون بینکنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر متحرک کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس مہم کی رفتار کو کب تک قائم رکھ پائیں گے اگر ان کے منتخب نمائندوں اور لبرل ڈیموکریٹس میں کوئی فرق ہی نہ رہے؟ امریکہ میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ڈیموکریٹ منصوبہ ساز اس تحرک کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ لبرلز کی ناکامی ہی تھی جو ٹرمپ کے حکومت میں آنے کا باعث بنی۔ DSA کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس سے بہت بڑا سیاسی اپ سیٹ کر سکے، ایک عوامی سوشلسٹ پارٹی کی لڑائی لڑتے ہوئے۔ یہ کوئی مستقبل بعید کا مقصد نہیں ہے جیسے ’’کسی دن‘‘ حاصل کرنا ہے بلکہ یہ ابھی شروع کیا جا سکتا ہے، کانگریس کے لیے دوسرے امیدوار کھڑے کرتے ہوئے؛ آزاد سوشلسٹ کی حیثیت سے اور ایک حقیقی سوشلسٹ پروگرام کے تحت جو سرمائے کی حاکمیت کو للکارتا ہے۔

یہ امیدوار پہلی کوشش میں اتنی آسانی سے منتخب نہیں ہوں گے مگر مستقبل قریب میں ہی محنت کش طبقے کی ایک عوامی سوشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھ دیں گے۔ ہاں! انتخابات جیتنے کے آسان راستے بھی ہیں، اگر انتخابات جیتنا ہی مقصد ہے تو۔ لیکن جو دو پارٹیوں اور مٹھی بھر ارب پتیوں کی حکومت کے نظام کی موجودہ حدود سے آگے دیکھنے کی سکت رکھتے ہیں، ان کے لیے ایک عوامی سوشلسٹ تحریک اور اس سب سے بہت زیادہ انقلابی کردار رکھنے والی محنت کش طبقے کی پارٹی کی منزل زیادہ دور نہیں ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh