تحریر: ڈیجان کیوکک|
|ترجمہ: اختر منیر|

دنیا کے سب سے طویل دریا کے دہانے کی جانب ایک بحران بہتا چلا آ رہا ہے۔ دریائے نیل ہزاروں سال سے مصر کے لیے پانی کا ذریعہ اور زراعت کی بنیاد ہے۔

مصر کے باسیوں نے بند طاسوں اور نہروں کے نظام کے ذریعے قدرت کے اس شاہکار کو اپنے قابو میں کر رکھا ہے جس سے خوب زرعی پیداوار حاصل ہوتی ہے، جو نامناسب حالات میں اس کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ جدید دور میں پہلے اسوان کے پست ڈیم اور بعد میں زیادہ اہم اسوان کے بلند ڈیم نے مصر کی نیل پر حاکمیت کو اگلے درجے پر پہنچا دیا۔ ایک موقع پر بلند ڈیم ملک کی آدھی بجلی پیدا کرتا تھا (جو اب 15۔10 فیصد ہے) اور اس کے پانی کے ذخائر نے خشک سالی کے دوران فصلیں تباہ ہونے سے محفوظ رکھیں۔

اب ایتھوپیا میں دریائے نیل کے بالائی حصے پر ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس سے مصر کی معیشت میں دریائے نیل کی بنیادی حیثیت وجودی خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ نیل ازرق (Blue Nile) پر دی گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم (GERD)، جس پر افریقہ کا سب سے بڑا پن بجلی پلانٹ ہو گا، تکمیل کے قریب ہے۔ جب یہ ڈیم مکمل ہو جائے گا تو اسے بھرنے میں تین سے پانچ سال کا عرصہ لگے گا، اس دوران مصر میں آنے والے پانی کے حجم میں شدید کمی آئے گی۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے دریائے نیل کا پانی پہلے ہی کم پڑ رہا ہے اور پانی کی آلودگی اور سطح سمندر کے اوپر آنے کی وجہ سے پانی کھارا ہو رہا ہے جس سے وادی نیل میں کھیتی باڑی کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس پر مصر تک پہنچنے والے پانی میں اچانک کمی سے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، بہت بڑے پیمانے پر قابل کاشت زمین برباد ہوجائے گی اور لوگوں کے ذاتی استعمال کے لیے بھی پانی کم پڑ جائے گا جس سے کروڑوں مصری متاثر ہوں گے۔

ڈیم کے چالو ہونے سے ایتھوپیا کو کافی فائدہ پہنچے گا۔ برسات کے موسم میں ملک کی ضرورت سے بھی زیادہ بجلی پیدا کی جا سکے گی اور اسے سوڈان کو بیچا جائے گا جس کی تار ایتھوپیا کے نیشنل گرڈ سے منسلک ہو گی۔ سوڈان کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ ڈیم سیلابوں پر بھی قابو پائے گا جس سے ان کی فصلوں کو دریائے نیل سے پہنچنے والے نقصان میں کمی آئے گی۔

مصر کے پانی میں آنے والی کمی کو دیکھا جائے تو GERD سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کا رخ مصر کی جانب بھی کیا سکتا ہے، لیکن مصر کی حکومت نے شروع سے ہی اس سارے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ تعمیر کا عمل مکمل ہونے کو ہے اور اس وجہ سے GERD کو لے کر مصر اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

دریائے نیل اور شمالی افریقہ میں مصر کا مقام

مصر افریقہ کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور تاریخی وجوہات کی بنیاد پر ان ممالک پہ اس کا رعب و دبدبہ قائم رہا ہے جن کے ساتھ نیل کے پانی پر اس کی شراکت ہے۔ 1952ء تک مصری حکومت برطانوی سامراج کی جانب سے سوڈان پر حکومت کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ برطانوی سامراج کے لیے مصر کی سٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے نیل کے پانی کا ایک بہت بڑا حصہ مصر کے کنٹرول میں تھا، جیسا کہ 1929ء میں سوڈان کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں طے کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصر تک پہنچنے سے پہلے دریا کا پانی استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

1950ء کی دہائی میں کچھ انقلابی افسروں نے مصر کی حکومت پر قبضہ کر کے برطانوی راج کا خاتمہ کر دیا۔ ان کے لیڈر جمال عبدالناصر نے صنعت کاری کے پروگرام کا آغاز کیا جس میں 1960ء کی دہائی میں اسوان کے بلند ڈیم کی تعمیر بھی شامل تھی۔ ناصر کے زیر اثر سوڈان سے متعلق مصر کی حکمت عملی میں تبدیلی آئی اور یکطرفہ حکومت کی بجائے سوڈان کی برطانوی سامراج سے آزادی کو ترجیح دی گئی۔

یہ 1958ء میں سوڈان میں ایک نوآبادیات مخالف انقلاب کے ذریعے ممکن ہوا، جس کے بعد ان کے ناصر کے مصر کے ساتھ مذاکرات ہوئے جن میں نیل کے پانی کو سیاسی برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ناصر نے نیا ڈیم تعمیر کرنے پر سوڈان کی حکومت کی رضا مندی چاہی اور اس کے بدلے میں ممکنہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنے اور نیل کے پانی کا ایک حصہ دینے کی پیشکش کی۔ سوڈان کی طرف بڑھائے جانے والا مفاہمت کا یہ ہاتھ ناصر کے عرب قومی سوشلزم کے نظریے کی بھی عکاسی کرتا ہے، اپنے سامراج مخالف موقف کی وجہ سے جس کی طرف وہ منطقی طور پر بڑھ رہا تھا۔

گو کہ 1959ء میں ہونے والا نیل کے پانی کا معاہدہ نوعیت کے اعتبار سے پہلے والے برطانوی سامراج کے زور زبردستی پر مبنی معاہدے سے بالکل مختلف تھا، مگر پھر بھی اس میں مصر کی برتر حیثیت صاف جھلکتی تھی۔ مصر کے حصے میں نیل کا 55.5 ارب کیوبک میٹر جبکہ سوڈان کے حصے میں 18.5 ارب کیوبک میٹر پانی آیا۔ ناصر کے زیر اہتمام صنعت کاری سے مصر کی معیشت اپنے شمالی افریقہ کے ہمسائیوں سے مزید برتر ہو گئی اور اس کی ساتھ ہی اسے سیاسی برتری بھی حاصل ہو گئی۔ بعد میں آنے والی حکومتوں کے دور میں یہ توازن زیادہ سے زیادہ مصر کے حق میں جاتا گیا۔

پوری بیسویں صدی کے دوران ایتھوپیا، جو اصولی طور پر بہاؤ کے شروع میں ہونے کی وجہ سے دریائے نیل کے پانی کے 86 فیصد بہاؤ پہ دسترس رکھتا ہے، دریا کے استعمال پر ہونے والی سیاسی بحث میں کہیں دکھائی نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا خطے میں معاشی لحاظ سے کوئی وجود نہیں تھا۔ ابھی بھی یہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کے پاس دکھانے کے لیے کوئی سیاسی یا معاشی طاقت نہیں تھی جس کے بل بوتے پر یہ نیل کے پانی کی تقسیم کی بحث میں شامل ہو سکتا۔

2009ء تک یہی صورتحال تھی جب ایتھوپیا کی حکومت نے 1964ء میں امریکہ کے بیورو برائے بحالی کی جانب سے سوان کے بلند ڈیم، جسے سوویت یونین فنڈ کر رہا تھا، کے مقابلے میں ڈیم بنانے کے لیے تجویز کی گئی جگہ کا جائزہ لینا شروع کیا۔ حکومت بظاہر بیرونی امداد حاصل کرنے میں کامیاب رہی جب چینی بینکوں نے ٹربائنز اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کے ساز و سامان کی مد میں 1.8 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا۔

اس منصوبے کا آگے بڑھنا دو چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ سامراجی طاقتوں کو سرمایہ کاری کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش ہے، خاص طور پر چین کا حکمران طبقہ جس کے پاس وافر سرمایہ جمع ہو چکا ہے اور وہ داخلی طور پر سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ مصر شمال مشرقی افریقہ میں ایک غالب قوت کے طور پر اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔

پچھلی دہائی کے دوران مصر کے گہرے ہوتے معاشی بحران اور اس کی حکومت کی کمزوری اور عدم استحکام کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ ماضی کی طرح موجودہ صورتحال سے ملتے جلتے حالات میں اپنے سیاسی عزائم مسلط نہیں کر سکتا۔ یہ تب واضح ہوا جب مارچ 2015ء میں خرطوم کے مقام پر مصر کی حکومت نے ایتھوپیا کی پیش کردہ شرائط کے مطابق سوڈان اور ایتھوپیا کے ساتھ ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق اسے 1929ء اور 1959ء کے معاہدوں کے تحت ملنے والے تمام حقوق سے دستبردار ہونا پڑا۔

حال ہی میں یہ جتانے کی مضحکہ خیز کوشش میں کہ مصر اپنے کمزور ہمسایوں کے ہاتھوں دباؤ میں نہیں آئے گا، مصر کی حکومت نے سوڈان کے ساتھ مثلث حلایب کے مسئلے پر دوبارہ سے جان بوجھ کر حالات میں کشیدگی پیدا کر لی ہے، جو دونوں ملکوں کی سرحد پر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اس سال جنوری میں سوڈان نے اسی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے قاہرہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ پھر مصر نے ارتيريا میں ایک اماراتی فوجی اڈے پر اپنی فوجیں بھیج دیں جس کے نتیجے میں سوڈان نے اس ملک کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی۔

سوڈان کے خلاف کوئی بھی فوجی یا حتیٰ کہ کوئی سنجیدہ سفارتی کارروائی بھی حماقت ہو گی، جس کے بارے میں مصر کا سٹھیایا ہوا صدر بھی نہیں سوچ سکتا۔ اس طرح کا کوئی بھی تنازعہ سیسی حکومت کو تاریخ کے صفحوں سے فوراً مٹا دے گا۔ تاہم حکومت کی جانب سے کشیدگی میں ہیجانی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ GERD کے معاملہ میں ان کی کتنی تضحیک ہوئی ہے۔ مصری عوام کی اس تضحیک سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک غیر متعلقہ مسئلے پر پرزور اقدامات کرنے کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔

اس کے باوجود یہ حکومت ہر موڑ پر بے نقاب ہوتی جا رہی ہے۔ اسی سال جون میں پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے صدر سیسی نے ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابئی احمد سے کہا ’’خدا کی قسم کھاؤ کہ ایتھوپیا مصر کے پانی کا نقصان نہیں کرے گا‘‘۔ اس نے بخوشی اقرار کر لیا اور سیسی فاتحانہ انداز میں قاہرہ لوٹ آیا، بالکل اسی طرح جیسے برطانوی وزیر اعظم چیمبرلین جہاز سے کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرارتے ہوئے نکلا تھا اور یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ہٹلر کے ساتھ امن قائم کر لیا گیا ہے۔

۔GERD کی تعمیر نے سیاسی طور پر مصر کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے حکومت کا دیوالیہ پن کھل کر سامنے آ گیا ہے جس کے پاس پہلے ہی حالات کو سنبھالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب ایک اور بحران اس کی طرف بڑھ رہا ہے، اس بار یہ اس کے ملک کے عظیم قدرتی وسیلے کی جانب سے آ رہا ہے۔

سوشلسٹ متبادل

اس نئے ڈیم کی تعمیر سے بلاشبہ ایتھوپیا اور سوڈان کی معیشت کو فائدہ ہو گا اور شاید خوفناک ترین غربت سے دوچار لوگوں کی زندگیوں میں کچھ بہتری آئے۔ مگر جیسا کہ پیش گوئی کی جا رہی ہے یہ بہتری مصر میں موجود کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مصریوں کی اکثریت شدید ابتر معاشی صورتحال سے گزر رہی ہے، ماحولیاتی مسائل پہلے ہی مصر کی زراعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے میں نیل کے دہانے پر آتا بحران مصر میں ایک مکمل سماجی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ صورتحال سب سے بڑھ کر سرمایہ داری کی بالکل بانجھ اور تباہ کن فطرت کو عیاں کرتی ہے۔ یہ ممالک اس حیرت انگیز اور نہ ختم ہونے والے قدتی وسیلے سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ضرورت کی بنیاد پر عالمی مدد کے ساتھ سب کے فائدے کے لیے اس کی تقسیم اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے۔ اس کی بجائے ان ممالک کی حکومتیں نیل کے پانی کو دوسروں کی قیمت پر اپنی ریاست کے مفاد کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اسی دوران عالمی سرمایہ کار اس جھگڑے کو مزید ہوا دینے کے لیے ان لوگوں پر قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ڈالتے جا رہے ہیں۔ یہ قرضے سود سمیت ان ممالک کے عام لوگوں کو نچوڑ کر واپس کیے جائیں گے۔

سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے اور سوشلزم کی ایک کامیاب جدوجہد ہی اس جیسے بحرانات کی لازمیت کو ختم کر سکتی ہے۔ نیل کے پانی کو قومی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جائے گا بلکہ کوئی بھی فیصلہ جمہوری طور پر تمام محنت کشوں اور کسانوں کے مفاد میں کیا جائے گا، تا کہ قدرتی وسائل کو انسانی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔ پوری دنیا کی معیشت کو محنت کشوں کے منصوبہ بند جمہوری کنٹرول کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے، جس میں وہ فیصلے جو ایک ساتھ بہت سے ملکوں میں محنت کشوں کو متاثر کرتے ہوں ایک عبوری معاہدے کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے کسی بھی فیصلے کے منفی اثرات، جیسے کہ ایک ملک میں ڈیم بننے سے دوسرے ملک میں کھیتی باڑی کو نقصان، سے نمٹنے کے لیے متعلقہ پیداوار کو ازسرِ نو ترتیب دے کر عالمی پیمانے پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

نیل کے بحران جیسی مثالیں انسانیت کے لیے سرمایہ داری کے زیر اثر ایک بھیانک مستقبل کی تنبیہہ ہیں۔ اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ تمام ممالک میں، شمالی یورپ سے لے کر مصر اور ایتھوپیا تک، سوشلزم کے لیے ناقابلِ مصالحت لڑائی جاری رکھی جائے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh