|تحریر: فرانسسکو مرلی، ترجمہ: اختر منیر|

(اس بات پر کافی شور مچایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ریاست کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے اور کیا نہیں۔ خاص طور پر برطانیہ میں جیرمی کاربن کی مبینہ ’’یہود دشمنی ‘‘ کے خلاف زہر آلود مہم چلائی جا رہی ہے ۔ درحقیقت یہ اسرائیل کی فلسطینی لوگوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں پر کسی بھی قسم کی تنقید کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے۔ ان حالات کی روشنی میں فرانسسکو میرلی نے نئے قانون کاجائزہ لیا ہے جس میں اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ امتیاز برتا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیا گیا ہے۔)

19 جولائی کوکنیسٹ (اسرائیل کی قانون ساز اسمبلی) نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا حمایت یافتہ یہودی قومی ریاست کا قانون منظور کر لیا جس کی حمایت میں 62 اور مخالفت میں 55 ووٹ دیے گئے۔ایسے قانون کی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی عرب آبادی (جو اسرائیل کی کل آبادی کا 20 فیصد ہے) کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلو ک باقاعدہ طور پر اسرئیلی ریاست کی قانونی بنیادوں کا جزو بن گیا ہے۔

نیتن یاہو کے مقاصد

نیتن یاہو کی خارجہ پالیسی کی بنیاد حالات کی سادہ سی تشخیص پر ہے، جس کی مثال29 اگست کو شیمون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کی نام کی تبدیلی کے موقع پر اس کا دیا گیا بیان ہے: 

PM of Israel
 
@IsraeliPM
 

PM Netanyahu: Shimon aspired toward peace but he knew that true peace can be achieved only if our hands strongly grasp defensive weaponry. In the Middle East, and in many parts of the world, there is a simple truth: There is no place for the weak. pic.twitter.com/Quh681u47E

View image on Twitter
PM of Israel
 
@IsraeliPM
 

The weak crumble, are slaughtered and are erased from history while the strong, for good or for ill, survive. The strong are respected, and alliances are made with the strong, and in the end peace is made with the strong.

 

عالمی سطح پر ا سکے لہجے میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ یہ بات واضح ہے کہ وہ غیر یہودی اسرائیلیوں کی پہلے سے موجودغیر سرکاری دوسرے درجے کے شہریوں کی حیثیت کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسا کر نے سے وہ ’’جمہوری اسرائیل‘‘ کے ڈرامے کا اختتام کر رہا ہے اور اس سے اسرائیل کے ملکی اور عالمی لبرل حمایتی افراتفری کا شکار ہو گئے ہیں۔

اگر یہ پیغام اتنا واضح نہیں لگ رہا تو کچھ عرصہ پہلے ہی کنیسٹ نے جوائنٹ لسٹ پارٹی کی جانب سے پیش کیا گیا ’تمام شہریوں کی ریاست‘‘ نامی ایک قانون بھی مسترد کیا ہے جو یہودی قومی ریاست کے مخالف تھا۔ قانون پیش کرنے والے کا موقف تھا کہ ’’ہر شہری کے برابر ہونے کا اصول لاگو کیا جائے اور دو قوموں،یہودی اور عرب، کی موجودگی کا اقرار کیا جائے جو ریاست کی عالمی تسلیم شدہ سرحدوں میں رہتے ہیں‘‘۔

بہرحال اس کام سے صرف اس مسلمہ حقیقت کو ایک مضبوط قانونی جواز ملا ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے اسرائیل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ایک ریاست کے طور پر اسرائیل کی بنیاد ہی اسرائیل میں رہنے والی عرب اقلیت کے منظم استحصال اور اسرائیل کے زیر تسلط مغربی پٹی اور غزہ میں موجود فلسطینی آبادی پہ کیے جانے والے جبر پر ہے۔

’’یہودی قومی ریاست‘‘ کا قانون ۔۔ کیا بدلا؟

نئے قانون میں اسرائیل کی تعریف ’’یہودیوں کے قومی وطن‘‘ کے طور پر کی گئی ہے جس کی قومی زبان عبرانی اور دارالحکومت یروشلم ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ ریاستِ اسرائیل میں قومی خود ارادیت کا حق صرف اور صرف یہودیوں کو حاصل ہے‘‘، یعنی فلسطینیوں کو کسی بھی قسم کے قومی حقوق یا وجود کا حق حاصل نہیں ہے۔

نمایاں طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ’’یہودی آبادکاری ایک قومی قدر ہے‘‘ اور ریاست ’’اس کے قیام اور استحکام کو فروغ دے گی‘‘۔

اس کا مطلب بالکل واضح ہے: مغربی پٹی، مشرقی یروشلم اور جولان پہاڑیوں سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر گرفت مضبوط کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ عربی زبان کی سرکاری حیثیت سے تنزلی کر کے اسے ایک ’’خاص مقام‘‘ رکھنے والی زبان قرار دے دیا گیا ہے۔

اس نئے قانون کے مندرجات جمہوریت، یعنی سرمایہ دارانہ جمہوریت کے وضع کردہ عالمی پیمانوں کا بھی منہ چڑا رہے ہیں ۔ شہریت کے دوہرے معیارات قائم کر دیے گئے ہیں اوران نوآبادیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جنہیں اقوام متحدہ غیر قانونی قبضہ قرار دے چکی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ٹرمپ اور نیتن یاہو مسئلہ فلسطین کے ’’دوقومی حل‘‘ کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں، جسے کل تک امریکہ کی پچھلی حکومت اور یورپی یونین کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

کچھ لوگوں کو امید ہو گی کہ انتہائی ’’لبرل اور جمہوری‘‘ یورپی یونین کی طرف سے اس اقدام کی بھرپور مخالفت ہو گی لیکن بظاہر وہ ’’جمہوریت‘‘ کو صرف تب تک اہمیت دیتے ہیں جب تک یہ ان کے بنیادی مقاصد کے آڑے نہیں آتی۔ نیتن یاہو نے اس امتیازی قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر تل ابیب میں موجود یورپی یونین کے نمائندے امینیول گیوفرٹ کی عوامی سطح پر مذمت کی جس پر یورپی یونین نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ’’اسرائیل اپنی تعریف کیسے کرتا ہے یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے‘‘ اور ’’ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے اسرائیل کے مشترکہ عزم کی قدر کرتے ہیں جس پر ہمارے دیر پا اور سود مند تعلقات کی بنیاد ہے۔‘‘

نئے قانون نے کچھ نیا متعارف نہیں کیا، بلکہ پہلے سے موجود امتیازی سلوک کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مثال کے طور پر 2012ء میں اقوام متحدہ کے خاص مندوب نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حکام زمینی ترقی کے ایک ایسے منصوبے پر کام کرنا شروع کر چکے ہیں جس میں اقلیتوں کو خارج کیا گیا ہے، ان سے امتیازی سلوک برتا گیا ہے اور انہیں ان کی جگہوں سے ہٹایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی نے کئی ایسے امتیازی قوانین پر عمل کی مذمت کی ہے جن میں زمین کے معاملے پر غیر یہودی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

علیحدگی اور خالص یہودی آبادیوں کو اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ایسی سینکڑوں آبادیاں موجود ہیں جن کی وجہ ’’داخلہ کمیٹیاں‘‘ ہیں جو عربوں کی بے دخلی کو یقینی بناتی ہے۔

فلسطینی، چاہے وہ مسلمان ہوں، بدو ہوں یا دروز ہوں، چاہے انہیں اسرائیلی حکمران طبقے کی طرف سے ’’وفادار‘‘ یا ’’غدار‘‘ قرار دیا گیا ہو، باضابطہ طور پر دوسرے درجے کے شہری بنا دیے گئے ہیں۔

فریب زدہ دروزی

جیسے ہی نیتن یاہو نے یہ قانون منظور کروایا، اسرائیل میں دروزیوں کے پہلے کبھی نہ دکھائی دینے والے احتجاجات کی لہر دوڑ گئی۔ دروزی روایتی طور پر صیہونی قیادت کے وفادار ساتھی ہیں جنہیں اب درست طور پر یہ لگ رہا ہے کہ نیتن یاہو اور اسرائیلی ریاست نے انہیں دھوکا دیا ہے۔

صیہونی روایتی طور پر اسرائیلی فوج میں شامل دروزی مردوں کی مثال استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ غیر یہودی افراد بھی ایک خود ساختہ یہودی ریاست میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ بہت سے دروزی (جو آبادی کا تقریباً 2 فیصد ہیں) اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) میں سپاہیوں کے علاوہ اہم عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں مقبوضہ اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں ان کے تناسب سے زیادہ تعداد میں تعینات کیا جاتا ہے۔ دروزیوں کو دائیں بازو کے صیہونی بھی قابل بھروسہ اور اسرائیل کے ’’وفادار‘‘ قرار دیتے ہیں۔

ان کا رد عمل فریب زدہ وفاداروں جیسا ہی ہے۔ ایک دروزی سکالر رباہ حلابی نے مڈل ایسٹ آئی کو بیان دیتے ہوئے کہا:

’’دروزیوں کی اکثریت صدمے سے دوچار ہے۔ ان کا خیال تھا کی اپنی وفاداری کا ثبوت دینے سے انہیں برابری کی حیثیت مل جائے گی، مگر اب انہیں دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہیں لگ رہا ہے کہ یہ سب ان کی غلط فہمی تھی۔‘‘

اس نے مزید کہا: ’’ان کا وہم ختم ہو رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ بیدار ہو رہے ہیں اور یہ دونوں فریقین کے لیے نقصان دہ ہوگا۔‘‘

ایک ریٹائرڈ IDF جنرل امل اسد نے ہزاروں افراد کے ایک مظاہرے کی قیادت کی جسے یہودی ہمدردوں کی بھی حمایت حاصل تھی، جن میں اسرائیل کی سکیورٹی اداروں کے کچھ سابق سینئر اہلکار بھی شامل تھے۔ نیتن یاہو ان سے حقارت انگیز انداز میں ملا اور انہیں کچھ ضمنی مراعات کی پیشکش کی، جس کے جواب میں دروزی رہنماؤں نے کہا: ’’امتیازی سلوک کے معاملے میں ہمیں مراعات یا جھوٹی تسلیوں سے نہیں خریدا جا سکتا۔‘‘

 

 

دروزیوں کا معاملہ کئی دہائیوں سے صیہونیوں کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا اہم حصہ رہا ہے۔ دروزی اشرافیہ کی حمایت کا فلسطینیوں کی قومی جدوجہد کو تقسیم کرنے میں اہم کردار رہا ہے، لیکن انہیں اسرائیلی حکمران طبقہ کے حصے کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا گیا۔ درحقیقت اسرائیل سے ’’وفاداری‘‘ کبھی بھی دروزی (یا بدو) آبادی کے کام نہیں آئی، انہیں بھی اسی منظم بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کا شکار اسرائیل کے دوسرے فلسطینی شہری رہے ہیں۔

دروزی آبادیاں بھی عام طور پر باقی فلسطینی آبادیوں کی طرح گنجان آباد اور وسائل سے محروم ہیں۔ دالیہ حلابی کے مطابق: ’’ہماری برادری کی وفاداری کے باوجود ریاست نے دروزیوں کی تقریباً 70 فیصد زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کے ساتھ دوسرے فلسطینیوں سے زیادہ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔‘‘

دروزی رہنماؤں کی محدودیت صاف نظر آرہی ہے۔ وہ ماضی میں واپس جانے کے خواہشمند ہیں، لیکن دروزی آبادی اور اسرائیل کے حکمران طبقے کے باہمی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ درجنوں اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے دیے جانے والے استعفے دروزی آبادی کی اکثریت میں پائے جانے والے غم و غصے کا ایک چھوٹا سا اظہار ہیں، جنہیں آبادی کے تناسب سے اسرائیل کے سرکاری اور نجی دفاعی شعبے میں بہت بڑی نمائندگی دی گئی تھی۔

لبرل صیہونیوں کے رویے سے ان کی کمزوری نظر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں کہ انہوں نے شروع میں دروزیوں کے احتجاجات کی حمایت کی تھی، مگر جوں ہی وہ زیادہ شدید ہونے لگے تو وہ ان سے علیحدہ ہو گئے۔

ایک دروزی رہنما ہونے کے ناطے یہ حیران کن بات تھی کہ اسد نے سوشل میڈیا پر یہ تنبیہ کی کہ بنیادی قانون ’’نسلی عصبیت‘‘ کی بنیادیں رکھ سکتا ہے۔ اس نے اس عمل کو ’’شیطانی اور نسل پرستانہ‘‘ قرار دیا۔

پچھلے سال افریقی پناہ گزین کو بے دخل کرنے کے خلاف چلنے والی تحریک کی طرح یہ تحریک بھی خود کو فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق سلگتے سوالات کے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی، یہی وجہ ہے کہ تمام مظلوموں کی ایک وسیع تحریک نہیں بن پا رہی۔

خان الاحمر کی مسماری

اسی دوران مغربی کنارے پر یہودی آبادکاروں کی پیش رفت جاری ہے (جو مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان لاکھوں کی تعداد میں ہیں) جس کی نئے قانون سے مزید حوصلہ افزائی ہوگی، جیسا کہ ان مثالوں سے نظر آ رہا ہے۔

چار ستمبر کو اسرائیل کی ہائی کورٹ نے باقاعدہ طور پر خان الاحمر کی مسماری کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل مسترد کر دی جس سے اسرائیل کے لیے 12 اکتوبر کے بعد پورے گاؤں کو مسمار کرنے کا راستہ صاف ہو گیا۔ کئی سالوں سے اسرائیلی حکومت اس چھوٹے سے گاؤں کو مسمار کرنے کے درپے تھی تا کہ اس علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادی کا ایک غیر منقطع سلسلہ بن جائے۔ اس سے روایتی فلسطینی زمین کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور مغربی کنارہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ جائے گا۔

خان الاحمر کے بدوؤں کو پہلے بھی دو مرتبہ بے دخل کیا جا چکا ہے۔ پہلی مرتبہ 1950ء کی دہائی میں جب انہیں نقب سے نکال کر مغربی کنارے میں دھکیل دیا گیا تھا اور دوسری مرتبہ وہ جس زمین پر جا کر بسے تھے اس پر 1967ء میں کفارادومن کی یہودی آباد کاری کے لیے قبضہ کر لیا گیا۔ انہیں ان کی زمینوں اور گھر بار سے محروم کرکے ’’لاقانونیت‘‘ میں دھکیل دیا گیا۔ بدقسمتی سے وہ ایک مرتبہ پھر اسرائیلی حکمران طبقے کے پھیلاؤ کے منصوبوں کے راستے میں آگئے ہیں۔ انخلا کے بعد انہیں ابو دیس کے قریب کوڑے کرکٹ کے ایک ڈھیر کے پاس آباد ہونا پڑے گا۔

ٹرمپ کی UNRWA کے خاتمے کی کوششیں

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسرائیل کا فلسطینیوں پر تاریخی دباؤ پہلے سے شدید ہو گیا ہے۔ امریکہ نے غیر جانبداری کا دکھاوا کرنا بھی بند کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل بھی پہلے سے زیادہ قریب آگئے ہیں کیونکہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے لڑنے کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ پچھلے 18 مہینوں کے دوران ٹرمپ نے ہر ممکن طریقے سے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا حالیہ فیصلہ، جو اسرائیل کی 70 ویں سالگرہ کے جشن کے دوران تھا، محض علامتی نہیں تھا۔ ٹرمپ کی حکمت عملی کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ کے نیچے آ کر فلسطینی قیادت ہار مان لے گی۔

ٹرمپ کے مخصوص انداز میں دو ہفتے پہلے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کے امدادی پروگراموں میں امریکہ کی طرف سے دیے جانے والے 20 کروڑ ڈالر بند کر رہے ہیں۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہی یہ اعلان کیا گیا کہ امریکہ فلسطینی پناہ گزین کے لیے قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی (UNRWA) کے لیے پہلے کی طرح سالانہ 32 کروڑ ڈالر نہیں دیا کرے گا، جس سے اس کے پورے بجٹ کا تیسرا حصہ کم ہو گیا۔ یہ UNRWA کو ختم کرنے کے امریکہ اور فلسطین کے مشترکہ مقصد کی جانب پہلا قدم ہے جس کا انہوں نے اعلان کیا تھا۔

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کے امدادی پروگراموں میں امریکہ کی طرف سے دیے جانے والے 20 کروڑ ڈالر بند کر رہے ہیں

یہ کافی خطرناک حملے ہیں، اس سے پورے مشرق وسطیٰ میں دہائیوں سے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے 50 لاکھ فلسطینیوں کا آخری سہارا بھی چھن جائے گا، جن کا خوراک، تعلیم اور صحت کے لیے UNRWA پر انحصار ہے۔ ایسے اقدامات سے ٹرمپ خطے میں مشکل سے قائم ہونے والے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جس کے سب سے پہلے لبنان اور اردن کے استحکام پر اثرات رونما ہوں گے، جو مستقبل قریب میں نظر آجائے گا۔ UNRWA اور دوسری ایجنسیوں کی طرف سے ’’انسانی بنیادوں پر‘‘ کی جانے والی مدد خطے کے استحکام کے لیے ایک ناگزیر سامراجی اوزار ہے، جس نے دہائیوں سے فلسطینی پناہ گزین میں جمع ہونے والے غصے کو پھٹنے سے روکا ہوا تھا۔

ٹرمپ کے ارادے جیرڈ کشنر کی ایک لیک ہونے والی ای میل (جسے حال ہی میں فارن پالیسی میگزین نے رپورٹ کیا ہے) میں واضح بیان کیے گئے تھے۔ ٹرمپ کا داماد مشرق وسطیٰ کے لیے صدر کا خاص ایلچی بھی ہے، اس نے لکھا تھا کہ اب ’’UNRWAکو روکنے کا وقت ہے‘‘ اور ساتھ ہی اس نے یہ بھی لکھا کہ ’’بعض اوقات آپ کو مقصد کے حصول کے لیے چیزوں کو توڑنے کا خطرہ اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘

یہ واضح طور پر فلسطینی قیادت کو بلیک میل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تا کہ وہ فلسطینی پناہ گزین کے مزید حقوق بیچ دیں۔ اس سے پہلے بھی فلسطین کے صدر محمود عباس نے ان کے واپسی کے حق سے دستبردار ہونے کا مجرمانہ فیصلہ کیا تھا۔

 

ٹرمپ کا حساب کتاب حماس اور الفتح کی قیادت کے متعلق اندازوں پر قائم ہو سکتا ہے، مگر اس حساب میں اس نے فلسطینی نوجوانوں کے آہنی ارادوں کو نہیں گنا، اپنے اوپر ہونے والے ناقابل برداشت ظلم و جبر کے خلاف لڑنے اور اسے پچھاڑنے کے ارادے۔ ہم نے کچھ مہینے پہلے نام نہاد غزہ کی سرحد پر نوجوانوں کی جو سرکشی دیکھی وہ بغاوت کے ان شعلوں کی پہلی چنگاری ثابت ہو گی جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ یہ اس تحریک کے لیے ایک موقع ہو گا کہ پہلے سے زیادہ مورچہ بند اسرائیلی ریاست میں موجود تمام مظلوم پرتوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے ہوئے اس سرمایہ دارانہ اور سامراجی بھیانک خواب سے چھٹکارا حاصل کر لے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh