|تحریر: ایلن ووڈز، ترجمہ: ولید خان|

آج نئے سال کے آغاز پر دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ سرمایہ دارانہ بحران نئی معیاری تبدیلی سے گزر رہا ہے۔۔ایک ایسی تبدیلی جس کے نتیجے میں شدید تکلیف و مشکلات سے گزر کر دوسری عالمی جنگ کے بعد بنایا گیا ورلڈ آرڈر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ 2008ء سے شروع ہوئے معاشی بحران کے دس سال بعد آج حکمران طبقہ بحران کے حل سے کوسوں دور ہے۔ 

پچھلے دس سالوں کی تکالیف اور قربانیوں کے باوجود بحران حل طلب ہے۔ لیکن یہ آلام و مصائب صرف عوام کے لئے ہیں جبکہ مٹھی بھر اقلیت جونکوں کی طرح خون چوس چوس کر ناقابلِ یقین فحش حد تک دولت اکٹھی کر رہی ہے۔ لیکن پھر حتمی تجزئیے میں سیاست مجتمع شدہ معیشت ہی ہے۔ ایک دہائی قبل ہم نے پیش گوئی کی تھی کہ حکومتوں کی معاشی توازن قائم کرنے کی کوششیں سیاسی اور سماجی توازن کو تباہ و برباد کر دیں گی۔ آج یکے بعد دیگرے ہر ملک اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ 

یورپ کو اس وقت سلگتے بریگزٹ بحران کا سامنا ہے جو بذات خود پوری صورتحال میں عمل انگیز بنا ہوا ہے۔ برطانیہ شدید بحران سے دوچار ہے جس کے حل کے کوئی آثار موجود نہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو شاید یورپ کا سب سے زیادہ سیاسی طور پر مستحکم ملک تصور کیا جاتا تھا۔ اس وقت یہ عدم استحکام کے شکار ممالک میں سر فہرست ہے۔ 

چند ہفتے قبل چینل 4 نیوز پر مشہور سیاسی قدامت پرست تجزیہ نگار میتھیو پیرس سے پوچھا گیا کہ کیا اس کے خیال میں موجودہ بحران برطانوی تاریخ کا سب سے سنجیدہ بحران ہے۔ اس کا جواب تھا کہ،


’’مجھے 1956ء کا سویز کنال بحران یاد ہے۔ وہ بہت ہی سنجیدہ مسئلہ تھا اور اس کے بعد بھی میں کئی بحرانوں کا چشم دید گواہ رہا ہوں ۔ لیکن ماضی میں بحران چاہے کتنا ہی خوفناک ہوتا، مجھ میں ایک احساس رہتا تھا کہ کہیں پر، کسی کے پاس کوئی نہ کوئی حکمت عملی ضرور موجود ہو گی۔۔۔ ایک واضح طریقہ کار کہ بحران سے کیسے نکلا جائے۔ اب مجھ میں یہ احساس موجود نہیں‘‘۔ 

محض ایک ہفتے کے بعد برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے نے اپنا بدنامِ زمانہ بریگزٹ معاہدہ برطانوی پارلیمنٹ میں منظوری کے لئے پیش کرنا ہے۔ کامیابی کے امکانات آٹے میں نمک برابر ہیں۔ لیکن اگر شدید مشکلات سے یورپی یونین کے ساتھ بنائی یہ ڈیل ناکام ہو جاتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟ یورپی یونین کے ساتھ کسی ڈیل کے بغیر انخلاء کا مطلب بے نظیر معاشی، سماجی اور سیاسی انتشار ہے۔۔۔صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ پورا یورپ اس کی لپیٹ میں ہو گا۔ 


یورپی یونین کے ساتھ کسی ڈیل کے بغیر انخلاء کا مطلب بے نظیر معاشی، سماجی اور سیاسی انتشار ہے۔۔۔صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ پورا یورپ اس کی لپیٹ میں ہو گا

یہ ممکنہ صورتحال برطانوی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے مکمل دیوالیہ پن کی غمازی کرتی ہے۔ وقت گزرتا جا رہا ہے اور برطانیہ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ کوئی بھی مجوزہ متبادل تباہ کن ثابت ہو گا، سوال صرف یہ ہے کہ تباہی کی شدت کیا ہو گی۔ بہرحال آنے والے دن برطانیہ کے لئے پر آشوب ہیں۔ 
لیکن یورپ کا بحران یہیں پر ختم نہیں ہو جاتا۔ دہائیوں سے یورپی معیشت کے پراعتماد انجن، جرمنی کی حاکم دو بڑی سیاسی پارٹیاں۔۔کرسچن ڈیموکریٹ اور سوشل ڈیموکریٹ۔۔منہدم ہو رہی ہیں۔ انجیلا مرکل کا کرسچن ڈیموکریٹ کے قائد کا عہدہ چھوڑنا واضح اشارہ تھا کہ سطح کے نیچے سیاسی کشیدگیاں بڑھتی سماجی پولرائزیشن کی وجہ سے بے قابو ہوتی جا رہی ہیں۔ 

یہ مظہر ہمیں بیشتر ممالک میں رونما ہوتا نظر آ رہا ہے۔ فرانس میں ایمانوئل ماکرون کی فتح کو دائیں اور بائیں بازو کی پرانتشار سیاست سے آزاد سنٹراسٹ سیاست کی بہت بڑی فتح قرار دیا گیا۔ غیر معمولی قوتوں کے حامل رستم کی طرح ماکرون بھی دائیں اور بائیں بازو کے انتہا پسند سورماؤں کو شکست دینے میدان میں اترا۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں یہ نامور سیاسی سپوت طبقاتی جدوجہد کی ٹھاٹیں مارتی لہروں کی نظر ہو گیا۔ جس بھی سیاسی تجزیہ نگار نے نہ صرف فرانس بلکہ پورے یورپ کے بول بالے کا سراب اس نرگسیت کے مارے سیاسی بونے میں دیکھااسے منہ کی کھانی پڑی۔ ماکرون کی مقبولیت میں گراوٹ اس کے پیشرو فرانسوا ہولاندے سے بھی زیادہ تیز تر اور تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ جن رائے شماریوں نے انتخابات کے دوران اس کی مقبولیت کا پارہ 70فیصد دکھایا تھا آج وہی دسمبر کی شدید سردی میں 20فیصد پر ٹھٹھر رہے ہیں۔

یہ حیران کن کایا پلٹ ایک ایسی صورتحال کا نتیجہ ہے جو حکمران طبقے کے شعور سے کوسوں دور تھی، یعنی عوام کا انقلابی تحرک۔ چند ہفتوں میں ہی فرانس کے نوجوانوں اور مزدوروں نے اس باطل بت کو ریزہ ریزہ کر دیااور اب فرانسیسی صدر گھٹنے ٹیکے حکومت کرنے کی بھیک مانگ رہا ہے۔ اس شخص کا دعوہ تھا کہ وہ کبھی بھی ’’گلیوں‘‘ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے گااور آج وہ شرمناک یو ٹرن لینے پر مجبور ہے۔ لیکن حتمی تجزیئے میں اب اس کی بچت کے کوئی امکانات نہیں۔

فرانس اور جرمنی

دہائیوں سے یورپ کی قسمت کا فیصلہ دو ممالک کرتے آ رہے ہیں یعنی فرانس اور جرمنی۔ ابتداء میں خوش فہم فرانسیسی حکمران طبقہ جرمنی کو ساتھ باندھ کر متحد یورپ کو جرمنی کے ذریعے معاشی استحکام فراہم کرتے ہوئے خود سیاسی قیادت فراہم کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند! حتمی تجزیئے میں یہ معاشی طاقت ہی ہے جو سیاسی طاقت کا تعین کرتی ہے۔

آج کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو سمجھ نہ پائے کہ فرانس کے بجائے جرمنی ہی وہ ملک ہے جو یورپ کو درپیش تمام کلیدی مسائل کا فیصلہ کرتا ہے۔ ماکرون کا خواب کہ وہ برلن (یہاں تک کہ واشنگٹن!) کو اپنی منشا ء کے مطابق چلا لے گا، جلد ہی دیونے کا خواب ثابت ہو گیا۔ مرکل کے بحران کا مطلب یہ نہیں کہ فرانسیسی صدر کی طاقت اور اتھارٹی مستحکم ہو گی۔ اب اپنے آفس میں چھپے ہونے کے باوجود وہ پوری دنیا کے سامنے سیاسی بونے کے طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔

فرانس اور جرمنی کے درمیان بڑھتی خلیج کسی مذہبی اصول، اخلاقیات، فلسفے یا انسان دوستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ روپے پیسے کی بنیاد پر ہے جو سرمایہ داری میں سماج کو چلانے کا انجن ہے۔ سرمایہ دارانہ بحران میں اس خلیج کو بھرنا کسی صورت ممکن نہیں۔ یہ خلیج یورپی یونین کے وجود کو اندر ہی اندر کاٹ کھا رہی ہے۔ 

ماکرون اٹلی اور دیگر بحیرۂ روم کی ریاستوں کے ساتھ ہمدردی کا بھونڈا ناٹک کر رہا ہے جو بدقسمتی سے پچھلے کئی سالوں میں قرضوں کے پہاڑ تلے دب چکے ہیں۔یورپی یکجہتی کی پوشاک پہن کر وہ یورپی یونین سے انسان دوستی اور فراغ دلی کی التجائیں کر رہا ہے۔ کیا یہ رب کا حکم نہیں کہ ’’اور ہمارے قرضے معاف کر دو؟‘‘

ماکرون: جسے یورپ کا مسیحا بنا کر پیش کیا گیا پرلے درجے کا احمق ثابت ہوا یہاں تک کہ یہ سونے کا ٹیبل بھی اس کی سیاسی یتیمی کو چھپانے میں ناکام نظر آتا ہے

یہ حقیقت ہے کہ زندگی میں دوسروں کی رقم خرچ کرنے کے پر کیف آرٹ سے بڑھ کر شاید ہی کوئی لذت ہو۔ جب ماکرون رونی صورت بنا کر قرضوں کی معافی کی بات کرتا ہے تو اسے اچھی طرح ادراک ہے کہ معاف کرنے والے پیرس میں نہیں بلکہ برلن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور جو بنڈیس بینک کی تاریں ہلاتے ہیں انہیں کسی کا قرضہ معاف کرنے کو کوئی شوق نہیں ۔اس حقیقت کے سب سے بڑی گواہ یونانی عوام ہے۔

خود اپنے ملک میں امراء کا تنخواہ دار ملازم، ماکرون، خوفناک کٹوتیوں اور امراء کے لئے ٹیکس چھوٹ پالیسی جلد از جلد لاگو کرنے کے لئے سرگرم تھا۔ لیکن پیلی واسکٹ تحریک کے آگے سرسنگوں (10ارب یورو/ 11.4 ارب ڈالر کا پیکج)ہونے کا مطلب ہے کہ فرانس کا بجٹ خسارہ اب اٹلی کی طرح یورپی یونین کی طے کردہ حدود سے تجاوز کر جائے گا۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے فرانسیسی اور جرمن حکمران طبقے کو اپنی اپنی کٹھن راہ پر چلنے کے لئے مجبور کیا ہوا ہے۔

تمام عوامل اکٹھے ہو کر ان تضادات اور تناؤ کو ابھار رہے ہیں جن کو کنٹرول کرنے کے لئے یورپی یونین بنائی گئی تھی۔ یورپ کے دروازے پر دستک دیتا تارکینِ وطن بحران جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ نتیجے میں جرمنی اور اس کی مشرقی معاشی باجگزار ریاستوں کے درمیان نئے مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔ 

ہجرت کے مسئلے پر آسٹریا کی دائیں بازو حکومت کی حمایت کے ساتھ پولینڈ اور ہنگری براہ راست یورپی یونین کے ساتھ تصادم میں اتر رہے ہیں۔ جرمنی اور خاص طور پر اس کی چار مشرقی ریاستوں میں تارکینِ وطن مخالف رجعتی AfD پارٹی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔

اس وقت اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ یورپ ایک دیو ہیکل سیاسی تصادم کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بریگزٹ کا واقعہ محض آغاز ہے۔ یورپ کا وفاقی نظریہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ یورپی اتحاد مزید مضبوط ہونے کے بجائے ہماری نظروں کے سامنے پارہ پارہ ہو رہا ہے۔ 

نئے تضادات کا جنم

فرانس اور جرمنی کے درمیان موجودہ سیاسی تضاد درحقیقت جنوبی اور شمالی یورپ کے درمیان گہرے معاشی تضادات کا مظہر ہے۔ حال ہی میں ایک نیا بلاک ابھر کر سامنے آیا ہے، ایک نیا تضاد جو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یورپ کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی ہنسیاتیک لیگ ہے (قرون وسطیٰ میں ہنسیاتیک لیگ بحیرہ بالٹک کے گردونواح میں موجود طاقتور تجارتی ریاستوں کا اکٹھ تھا جن کی یورپ کی اکثریت معیشت پر آہنی گرفت تھی)۔ 

جنوبی یورپ کے غریب ممالک اور شمالی یورپ کی خوشحال معیشتوں کے درمیان ایک دیو ہیکل خلیج حائل ہو چکی ہے۔ ڈنمارک، سویڈن، فن لینڈ، ایسٹونیا، لاٹویا، لیتھوینیا، ہالینڈ اور آئرلینڈ باقی یورپی ممالک کے لحاظ سے توچھوٹے ممالک ہیں لیکن وہ متحد ہو کر جنوبی یورپی ممالک کی یورپی بجٹ میں زیادہ حصہ داری حاصل کر کے اپنے دیو ہیکل بجٹ خساروں کو کم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ 

برلن اور برسلز کی جانب سے مسلط کردہ کئی سالوں کی جبری کٹوتیوں، کفایت شعاری اور خوفناک تکالیف نے یونان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور اب بحران اٹلی کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے جہاں کل نجٹ خسارہ GDP کے 130فیصد تک جا پہنچا ہے۔ روم میں موجود یورپی یونین مخالف اتحاد نے ایک بجٹ منظور کیا جو برسلز کی مسلط کردہ حدود سے تجاوز کر رہا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان تصادم کھل کر سامنے آ گیا۔ فی الحال دراڑوں پر ملمع کاری کر دی گئی ہے۔ لیکن اٹلی کا بحران جوں کا توں موجود ہے اور اس کے نتائج یونان کے مقابلے میں یورپی یونین کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ 

یونان یورپ کی ایک چھوٹی معیشت ہے۔ اس کے برعکس اٹلی یورپ کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ اطالوی حکومت کو امید تھی کہ معیشت میں پیسہ انڈیل کر اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے گا۔ لیکن اگر اطالوی خزانے کو دیو ہیکل جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں تو اضافی خرچے کی ممکنہ تمام تر حاصلات ضائع جائیں گی۔

کنپٹی پر رکھی برسلز کی بندوق کے سامنے فائیو سٹار موومنٹ (M5S) کے قائد لویجی دی مائیو اور شمالی لیگ کے قائد ماتیو سالوینی نے کوڑا گھونٹ پیتے ہوئے برسلز کے مطالبات تسلیم کر لئے۔ آخر میں ایک کمزور اور ناپائیدار معاہدہ طے پا گیا۔ یورپی یونین نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک سمجھوتا کر لیا۔ 

اٹلی نے بجٹ خسارے کو GDPکے 2.4 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد پر لانے کی حامی بھر لی۔ کمیشن نے ناچاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی کہ ساختیاتی خسارے(Structural Deficit)، جس میں ایک ہی مرتبہ اٹھائے گئے اقدامات اور معاشی سائیکل کے اثرات شامل نہیں ہوتے، میں اگلے سال بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ یورپی کمیشن کے نائب صدر والدیس دومبروفسکیس بڑبڑایا کہ ’’ موجودہ حل کوئی مثالی نہیں‘‘۔ اس معاہدے کے تحت کمیشن کو اٹلی کے خلاف قانونی کارہ جوئی نہیں کرنی پڑے گی۔۔’’بشرطیکہ تمام اقدامات کو من و عن لاگو کیا جائے‘‘۔ اس غلامانہ شق کا مطلب یہ ہے کہ اٹلی کے ساتھ جھگڑا حل نہیں ہوا ہے، بس تاخیر زدہ ہو گیا ہے۔ اگلے سال کے بجٹ میں ملک کے دیرینہ مسائل کا کوئی حل موجود نہیں۔ 

یورپی کمیشن نے ایک ناپسندیدہ معاہدے کے لئے حامی کیوں بھری؟ اس کا جواب معاشی نہیں سیاسی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے فرانسیسی صدر کو جان بچانے کے لئے پیلی واسکٹ سے 10 ارب ڈالر کا اضافی خرچہ کرنے کا وعدہ کرنے کی چھوٹ دی ہے۔ نتیجے میں اگلے سال فرانس کا بجٹ خسارہ یورپی یونین کی وضع کردہ GDP کے 3 فیصد کی حد کو پھلانگ جائے گا۔ اس وجہ سے وہ اٹلی پر زیادہ دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے جس کا متوقع خسارہ GDP کے 3 فیصد سے کم ہے۔ 

لیکن ساتھ ساتھ اور سنجیدہ غور طلب مسائل بھی موجود تھے۔ ایک اخبار کوریا دیلا سیرا کو انٹرویو دیتے ہوئے اطالوی وزیر اعظم گیوسیپ کونتی نے کہا کہ اس نے کمیشن کو یاد دہانی کرائی تھی کہ اس کی حکومت ’’کا فرض ہے کہ اٹلی میں سماجی استحکام قائم رکھے‘‘۔ یہ ایک دھمکی تھی، یعنی یا تو ہم پر دباؤ ڈالنا بند کرو یا پھر اٹلی میں ایسا سماجی دھماکہ ہو گا جس کے اثرات ملکی سرحدوں سے باہربہت دور تک جائیں گے۔ اس دھمکی کا برسلز میں موجود افسر شاہی پر خاطر خواہ اثر پڑا ہے۔ 

یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیو ہیکل اٹلی کو ناکام ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ اٹلی اتنا بڑا ہے کہ اسے بچایا بھی نہیں جا سکتا۔ بنڈیس بینک میں اتنا پیسہ ہی موجود نہیں کہ بیمار اطالوی سرمایہ داری کا علاج کیا جا سکے۔ یہ ڈرامہ ابھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا ہے۔ 

عالمی بحران

1920ء کی دہائی میں ٹراٹسکی نے پیش گوئی کی تھی کہ عالمی تاریخ کا محور، جو پہلے ہی بحیرۂ روم سے بحرِ اوقیانوس منتقل ہو چکا، مستقبل میں بحرِ اوقیانوس سے بحر الکاہل ہجرت کر جائے گا۔ یہ حیرت انگیز پیش گوئی آج حقیقت ہے۔ یورپ اس وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں امریکہ اور چین سے پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔ 2019ء میں انڈیا بطور پانچویں بڑی عالمی معیشت شاید برطانیہ اور فرانس پر سبقت لے جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی تاریخ کے مستقبل کا فیصلہ یورپ میں نہیں بلکہ بحرالکاہل میں ہو گا۔ 

لیکن یہ عمل بذات خود پرپیچ اور تضادات سے بھرپور ہے۔ عالمی معیشت کا زیادہ تر دارومدار چین پر ہے جو ماضی قریب تک اس کے مرکزی انجنوں میں سے ایک تھا۔ لیکن چینی معیشت کا زیادہ تر انحصار برآمدات پر ہے۔ یورپ اور امریکہ میں گرتی مانگ نے چینی معیشت کے کلیدی سیکٹرز بشمول اسٹیل میں زائد پیداوار کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ چینی شرح نمو سست روی کا شکار ہو کر 6.5فیصد سالانہ پر آ چکی ہے۔


چین ایک ایسی عالمی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے اور عالمی تسلط کے لئے امریکہ سے براہ راست تصادم میں آ رہا ہے۔

اگر یورپ اور امریکہ کی خستہ حال شرح نمو سے موازنہ کیا جائے تو یہ بہت زیادہ نظر آتی ہے لیکن اگر اس کا اپنے ہی ماضی سے موازنہ کیا جائے تو یہ حیران کن گراوٹ ہے۔ وسیع تر حلقوں میں یہ بات مانی جاتی رہی ہے کہ 8 فیصد سے کم شرح نمو چین کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ کم ازکم شرح نمو آبادی کی بڑھوتری کے ساتھ تال میل کے لئے ضروری ہے۔

برآمدات میں اضافہ کرنے کے لئے چین سستے اسٹیل کی دیو ہیکل مقدار عالمی منڈی میں پھینک رہا ہے۔ اس وجہ سے یورپ میں مقامی اسٹیل کا بحران شروع ہو چکا ہے اور خاص طور پر امریکہ کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ امریکہ چین تجارتی جنگ کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے۔ 

چین اب ایک ایسی عالمی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے جس کا عالمی تسلط کے لئے امریکہ سے براہ راست تصادم بن رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ اسی تصادم کا شاخسانہ ہے۔ 

لیکن ابھی بھی امریکہ عالمی معیشت اور سیاست میں سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والا واحد سامراج ہے۔ بڑھتی شرح سود اور ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے بڑی تعداد میں سٹہ بازی پر مبنی سرمایہ امریکہ کی طرف راغب ہوا ہے جس کی وجہ سے لاطینی امریکہ، ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کی نام نہاد ابھرتی معیشتوں کا کچومر نکل گیا ہے۔ ان کی کمزور معیشتیں طاقتور ڈالر کے رحم و کرم پر ہیں جو نہ صرف ان کو شکنجے میں کس رہا ہے اور قرضوں میں بے پناہ اضافہ کر رہا ہے بلکہ کلیدی سرمایہ کاری بھی ان ممالک سے باہر بھاگ رہی ہے۔

پچھلے عرصے میں نام نہاد ابھرتی معیشتوں نے عالمی معاشی نمو کو مہمیز فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اب وہ خود دیوہیکل گراوٹ کا شکار ہیں۔ ترکی، ارجنٹینا، برازیل اور دیگر سابقہ مضبوط معیشتیں سست روی یا جمود کا شکار ہیں۔

امریکی سامراج کا حقیقی چہرہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا ؤ‘‘ کا نعرہ درحقیقت ایک طرح کا سامراجی مینی فیسٹو ہے جس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ’’ہم امریکہ کو باقی دنیا کا کباڑا کر کے عظیم تر بنائیں گے‘‘۔ اکڑوں چال اور شیخیاں مارنے کے پیچھے پوری دنیا کے لئے ایک واضح دھمکی ہے کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہ کرو یا پھر نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ 

صدر ٹرمپ کے پاس امریکہ کے یورپی اتحادیوں کے لئے کوئی وقت نہیں جنہیں وہ درست طور پر دیو ہیکل امریکی طاقت کے سامنے بونوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسے یورپ کی خوشامد، ورلڈ آرڈر کے حوالے سے پریشانی اور امریکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی بیہودہ کوششوں سے شدید چڑ ہے۔ وہ بھنبھناتی مکھیوں کی طرح ہر وقت اس کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ اگرچہ سابقہ امریکی صدور ان کو کچھ نہ کچھ اہمیت دینے کا ناٹک کر لیا کرتے تھے لیکن ٹرمپ ان کی ایسی ٹھکائی کرنا چاہتا ہے کہ وہ ہر وقت اس کو تنگ کرنا چھوڑ د یں۔

ٹرمپ کی پالیسی اپنی اساس میں سابق صدور سے مختلف نہیں ہے۔ وہ بھی امریکی معاشی اور عسکری طاقت کو دنیا پر مسلط کر کے من مانی کرنے میں لمحہ بھر نہیں چوکتے تھے۔ لیکن ان کا طریقہ کار مختلف تھا ، یعنی اس میں کچھ نفاست تھی اور اگر سچ کہا جائے تو شدید دوغلا پن اور عیاری تھی۔ 

جمہوریت، انصاف، امن اورانسان دوستی جیسے عالی مرتبت اصولوں کی پاسدار ی کے پردے میں وہ کبھی بھی ہر اس مظہر کو پیروں تلے روندنے سے نہیں رکے جو حقیقی یا ظاہری طور پر امریکی مفادات کے خلاف ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی بالکل یہی کام کر رہا ہے لیکن وہ ان نام نہاد آفاقی اصولوں کا پرچار کرنے کی کوئی زحمت نہیں کرتا جن میں اسے کوئی دلچسپی نہیں اور ویسے بھی جن کا امریکی سامراجی خارجہ پالیسی یا کسی اور طرز کی سامراجیت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 

پوری دنیا کی تعلیم نو کے لئے ٹرمپ نے شرافت کا جھوٹا لبادا پھاڑ کر چھپا امریکی سامراج کا حقیقی اور مکروہ چہرہ ننگا کر دیا ہے۔ اس حد تک کہا جا سکتا ہے کہ اس جھوٹی اور فریبی دنیا میں وہ تازہ ہوا کا جھونکا ہے!

عالمی اسٹیج پر امریکہ ابھی بھی سب سے بڑا دیو ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی معاشی اور عسکری قوت بے مثال ہے۔ لیکن امریکی قوت لامحدود نہیں ہے۔ اس کی محدودیت کی حقیقت ہم عراق، شام اور افغانستان کی ہولناکی میں دیکھ چکے ہیں۔ اور صدر ٹرمپ نتائج اخذ کرنے میں بچہ ثابت نہیں ہوا ہے۔ امریکی حکمران طبقے کے ایک مخصوص حصے کی قدیم روایت کی طرح ٹرمپ کا رجحان بھی تنہائی پسند ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ کی اپنے یورپی ’’اتحادیوں‘‘ کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں(بے نظیر سچ گوئی کے

ایک لمحے میں اس نے انہیں ’’دشمن‘‘ گردانا، روسیوں کے برعکس جو محض ’’مخالفین‘‘ ہیں)۔
اس کے پاس NATO کے لئے بھی کوئی وقت نہیں اور اگر یہ سامراجی اتحاد بشمول اقوام متحدہ، NAFTA، WTO اور دیگر عالمی اداروں کے بکھر بھی جائے تو اسے کوئی سروکار نہیں۔

لیکن صد افسوس! اسے اپنے کئی تکلیف دہ مشیروں کی باتیں سننی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو اس ناپسندیدہ فوجی اتحاد کو تسلیم کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ شور بھی مچا رہا ہے کہ اس کے یورپی ’’اتحادی‘‘ اس اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے اپنی جیبیں ہلکی کریں تاکہ امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ بچایا جا سکے کیونکہ بہرحال اس کے لئے پیرس، برلن اور لندن میں موجود لوگوں کی رائے سے زیادہ امریکی عوام کے ووٹ اہم ہیں۔ 


پوری دنیا کی تعلیم نو کے لئے ٹرمپ نے شرافت کا جھوٹا لبادا پھاڑ کر چھپا امریکی سامراج کا حقیقی اور مکروہ چہرہ ننگا کر دیا ہے

پھر بھی ا س نے مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا یکطرفہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے یورپی ممالک کو اندازہ ہو گا کہ ٹرمپ جو کہتا ہے وہ کرتا ہے اور شاید اس اقدام کے بعد وہ پیسے کھرے کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ لگتا ہے کچھ ایسی ہی سوچ ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ عجیب و غریب رویئے میں کارفرما ہے۔ اپنی صدارتی مہم کے دوران اس نے ہر موقعے پر پیوٹن کی تعریف کی ، اسے ’’انتہائی عقل مند آدمی‘‘ کہا اور ایک ایسا شخص گردانا جس کے ساتھ معاملات چلائے جا سکتے ہیں۔

یہ الفاظ امریکی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور رپبلیکن پارٹی میں موجود انتہا پسند، دونوں کو ہی ہضم نہیں ہوئے۔ ان الفاظ نے اس کے دشمنوں کو وہ سنہری موقع فراہم کیا جس کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اس پر صدارتی مہم کے دوران روس کے ساتھ ساز باز کا الزام لگایا۔ اس وقت سے روسی مداخلت کے حوالے سے مہم مستقل جاری ہے لیکن فی الحال اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ 

ایک عام فہم پانچ سالہ بچے کے لئے بھی یہ الزام نا قابلِ یقین ہے کہ روسی مداخلت کی وجہ سے آج ٹرمپ مسندِ صدارت پر براجمان ہے۔ یہ خیال ڈیموکریٹک پارٹی کی خود فریبی ہے کیونکہ وہ یہ سمجھنے سے ہی قاصر ہیں کہ امریکی عوام موجودہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے شدید بیگانہ ہو چکی ہے اور کسی بھی قسم کی تبدیلی کے گہرے جذبات کا نتیجہ آج ٹرمپ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ 

اپنے مخالفین کے دباؤ میں ٹرمپ روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گرم سرد تاثرات دینے پر مجبور رہا ہے۔ لیکن شام سے افواج کے انخلاء کا فیصلہ اس حقیقت کی غمازی ہے کہ اس کے خیالات میں انتخابات سے لے کر اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایک بار پھر ٹرمپ کی تنہائی پسند جبلت نے اپنا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف جان کیلی اور سیکرٹری دفاع جِم میٹس نے احتجاجی استعفے دے دیئے ہیں۔ لیکن احتجاجوں اور استعفوں نے پہلے بھی ٹرمپ کی صحت پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا اور ابھی بھی اس کے کوئی خاص امکانات نہیں ہیں۔ 

لیکن تنہائی پسندی کا مطلب اجتناب پسندی نہیں ہے۔ مختلف انواع کی معیشتوں کو واحد عالمی منڈی میں پرونے کے ناقابل توقف میلان کے آگے یہ ناممکن ہے۔ عالمگیریت محض اس مظہر کا اظہار ہے جس کی آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے مارکس اور اینگلز نے ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ میں پیش گوئی کی تھی۔ 

یہ پیش گوئی خاص طور پر پچھلے پچاس سالوں میں انسانی تاریخ کی کسوٹی پر سچ ثابت ہوئی ہے۔ کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی اچھا یا بڑا کیوں نہ ہو، عالمی منڈی کی قوتوں سے بچ نہیں سکتا۔ قومی آزادی، اپنی سرحدوں کا کنٹرول اور اس قسم کی تمام گفتگو محض سستی لفاظی ہے۔ 

عالمگیر طوفان کی نوید

اس سارے عدم استحکام پر نئے عالمی معاشی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اس حقیقت کا تمام سنجیدہ معیشت دان اعتراف کر چکے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا ہو گا یا نہیں بلکہ سوال اب یہ رہ گیا ہے کہ ایسا کب ہو گا۔ 

عالمی معاشی عدم استحکام کی نوید آئے دن اسٹاک مارکیٹ میں رونما ہونے والے زلزلوں سے مل رہی ہے۔ اکتوبر میں گراوٹ اور نومبر میں مندی کے بعد S&P 500 میں 30 نومبر اور 24 دسمبر کے دوران 15فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ کرسمس کے بعد 5فیصد بحالی کے باوجود انڈکس کا اختتام سال کے آغاز کے مقابلے میں 6فیصد کم رہا۔ 2019ء کے پہلے دن ایشیاء میں گراوٹ اور یورپ میں شدید انتشار عدم استحکام کی تشہیر کرتا رہا۔

ایپل کی مصنوعات کی فروخت میں حیران کن گراوٹ کی خبر سے ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ کمپنی نے خبردار کیا کہ چینی معیشت میں تیز تر گراوٹ آ رہی ہے اور دیگر ابھرتی معیشتوں میں بھی مصنوعات کی فروخت کمزور رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چوتھی سہہ ماہی میں ممکنہ سیل ہدف سے 10فیصد کم رہے گی۔ اس کے فوری بعد ہی یہ خبر بھی آ گئی کہ چینی منیوفیکچرنگ سیکٹر بھی دسمبر میں سکڑا ہے جس کی وجہ سے عالمی سرمایہ کار مزید گھبرا گئے۔ S&P 500 میں 3 جنوری کو مارکیٹ کھلنے سے پہلے ہی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ 

پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹ میں ایسے دیو ہیکل نشیب وفراز اس حقیقت کی غمازی کر رہے ہیں کہ عالمی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے شدید پریشانی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹاک مارکیٹ میں اونچ نیچ حقیقی معیشت کی درست عکاسی نہیں کرتی لیکن بہرحال سرمایہ کاروں کے جذبات کو جانچنے کے لئے یہ ایک اہم پیمانہ ضرور ہے۔ 
اکانومسٹ میں ایک حالیہ مضمون میں اس پریشانی کا اظہار کیا گیا کہ


’’لیکن پچھلے سال کے اوائل سے ہی اسٹاک مارکیٹ کی گلی سڑی حالت ، جو سارا سا ل قائم رہی ، کچھ تو عالمی معیشت کی پریشان کن حالت کی وجہ سے اور خاص طور پر دو سب سے بڑی معیشتوں کی‘‘

آرٹیکل مزید بیان کرتا ہے کہ،

’’کی وجہ سے تھی۔۔۔اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) کے مطابق، اس سال امریکہ میں شرح نمو 2.3 فیصد رہے گی۔ فیڈرل ریزرو اپنی مانیٹری پالیسی سخت کر رہا ہے اور پچھلے سال کی ٹیکس کٹوتیوں کے اثرات اب آ کر زائل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں پیش کردہ شرح نمو پچھلے سال کی 2.9 فیصد شرح نمو سے بہت کم ہے۔ چین کی شرح نمو کی پیش گوئی 6.3فیصد کے ساتھ کافی زیادہ ہے لیکن پھر بھی 2018ء کے مقابلے میں یہ کم ہے۔۔اور کئی لوگ امریکی چینی تجارتی جنگ اور قرضوں کو کنٹرول کرنے کی چینی کوششوں کے نتیجے میں اس سے بھی زیادہ پریشان کن صورتحال کی توقع کر رہے ہیں۔

یورپ کی صورتحال اور بھی زیادہ خوفناک ہے۔ مارچ میں یورپ سے اخراج کرتے برطانیہ کی شرح نمو 1.5فیصد متوقع ہے، فرانس کی صورتحال کم پریشان کن ہے لیکن حالات مخدوش ہی ہیں۔ مستقل معاشی مایوسی اٹلی کی شرح نمو صرف 0.4فیصد رہے گی۔ اس حوالے سے اٹلی EIU کی فہرست میں ساتواں سب سے خراب کارکردگی والا ملک ہے۔ فہرست میں اس سے نیچے تمام ممالک کی معیشتیں 2019ء میں گراوٹ کا شکار ہوں گی جن میں سر فہرست کئی سالوں سے بے قابو معاشی بحران کا شکار وینزویلا ہے‘‘۔ 

توقعات کے مطابق اکانومسٹ دل پشوری کے لئے کچھ نہ کچھ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انڈیا کی شرح نمو پچھلے سال جتنی ہی رہے گی(7.4فیصد)۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ہر صبح کے بعدرات آتی ہے اور پھر معاشیات کو تو مایوسی کی سائنس بھی کہا جاتا ہے۔ لکھاری آخر میں لکھتا ہے کہ

’’لیکن 2019ء میں ایک معیشت ایسی ہے جس کے بارے میں پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ سب سے بہترین ہو گی۔۔شام، جس کی شرح نمو کی پیش گوئی 9.9فیصد ہے۔۔یہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ ایک بڑی اٹھان کی شروعات خوفناک ترین ہو سکتی ہیں‘‘۔ 

بورژوا معیشت دانوں کی قابل ذکر تعداد میں سراسیمگی پھیلتی جا رہی ہے۔ اس خوف کی بنیاد درست ہے۔ پہلی مرتبہ پوری ایک دہائی میں S&P 500 میں چوٹی کی امریکی کمپنیوں کے شیئرز پر کل حاصل (نفع یا نقصان جمع حصص منافع)منفی تھا۔ دیگر منڈیوں میں صورتحال اور بھی ابتر تھی۔ شنگھائی انڈکس میں ایک تہائی گراوٹ آئی۔ ڈوبتی کشتی سے چھلانگیں مارتے چوہوں کی طرح سرمایہ کار پر خطر اثاثوں (ان میں نام نہاد ابھرتی معیشتیں بھی شامل تھیں)سے محفوظ اثاثوں کی جانب سرپٹ دوڑے۔ بانڈز اور سونے کی مانگ اسٹاک مارکیٹ حصص سے کوسوں آگے تھی۔ ممکنہ سخت حالات کے پیش نظر سرمایہ دار اس وقت پیسہ پیداوار میں لگانے کے بجائے ذخیرہ کر رہے ہیں۔ 

تمام اشاریئے نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگلے آنے والے معاشی بحران کے سامنے 2008ء کا بحران کے مقابلے میں بدترین ثابت ہو گا۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پچھلی ایک دہائی میں بورژوازی نے وہ تمام حربے استعمال کر لئے ہیں جو ماضی میں بحرانات کو ٹالنے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے یا پھر ان کے ذریعے بحرانوں کی گہرائی اور دورانیے کو کنٹرول کیا جاتاتھا۔

سرمایہ داروں کے پاس بنیادی طور پر معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے دو ہتھیار ہیں۔ پہلا تو یہ کہ شرح سود کم کر دی جائے۔ لیکن پچھلے بحران سے باہر نکلنے کی ہیجانی تگ و دو میں انہوں نے پہلے ہی شرح سود کو تقریباً صفر کے قریب لے جا کر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔یعنی شرح سود کو مزید کم کرنا ناممکن ہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ میں فیڈرل ریزرو نے پچھلے سال میں کئی مرتبہ شرح سود کو بڑھایا ہے لیکن پھر بھی کوئی حکمت عملی بنانابہت مشکل ہے۔

دوسرا طریقہ کار معیشت میں گردشی پیسے کی مقدار کو مرکزی اور ریاستی بینکوں کی مداخلت کے ذریعے بڑھانا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں نجی بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے معیشت میں پیسے کی دیو ہیکل مقدار ٹھونسی گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پہلے نجی بینک دیوالیہ کے دہانے پر کھڑے تھے اور اب دس سال بعد قومی معیشتیں دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ہر جگہ دیوہیکل قرضے معیشتوں پر ناقابلِ برداشت بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ بورژوازی قرضوں کا حجم کم کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بورژوازی دوبارہ بحران سے نکلنے کے لئے ریاست کو مزید لوٹ نہیں سکتی۔

بورژوازی کو درپیش المیے کی سنجیدگی کا اندازہ ا س سے لگایا جا سکتا ہے کہ یورپی مرکزی بینک نے عین اس وقت مقداری آسانی پالیسی ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب اعشاریے سامنے آرہے ہیں کہ یورپی معیشت سست روی کا شکار ہو رہی ہے۔ لیکن اس وقت یورپی بورژوازی کے سر پر بریگزٹ اور تارکینِ وطن کا مسئلہ سوار ہے جس کی وجہ سے وہ سست روی کے مسئلے پر بالکل توجہ نہیں دے رہے۔ سرمایہ دارانہ نکتہ نظر سے ECB اس وقت بالکل وہ کام کر رہا ہے جو اسے کسی صورت نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے یورو اور پھر حتمی تجزیئے میں یورپی یونین کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔

بحرِ اوقیانوس کی دوسری جانب بھی حالات خوشگوار نہیں۔ سال 2019ء کا استقبال امریکی سیاسی اشرافیہ نے ایک پھکڑ جھگڑے سے کیا جس کی وجہ سے امورِ ریاست 22 دسمبر سے جزوی طور پر بندہیں۔ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کے ڈیموکریٹک قائدین چک شومر اور نینسی پیلوسی سے ٹی وی پر نشر ایک بحث کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’’اگر مجھے میری دیوار نہ ملی تو میں حکومت بند کر دوں گا‘‘۔ اور پھر اس نے اپنی دھمکی پوری کر دکھائی۔ 

یہ درست ہے کہ ایسی بندشیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اتنا لمبا عرصہ نہیں چلی۔ یعنی پورا سیاسی نظام ہی شدید بحران کا شکار ہے جس میں ٹرمپ کے شدید ترین مخالفین ڈیموکریٹس کانگریس کو کنٹرول کر رہے ہیں۔توقعات کے عین مطابق آخری لمحات میں ایک معاہدہ طے پا گیا۔ لیکن ٹرمپ معاہدے کو منسوخ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اور زیرِ سطح کوئی ایک تضاد بھی حل نہیں ہوا ہے۔

عمومی انتشار میں مزید اضافہ صدر اور امریکی فیڈرل ریزرو کے درمیان چلنے والا مستقل اور تلخ تنازعہ کر رہا ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو کا اصرار ہے کہ شرح سود ہر قیمت پر بڑھائی جائے۔ ایک طرف سیاست دان معاشی پالیسی پر بحث مباحثہ کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف منڈیاں واشنگٹن میں بیٹھے افراد سے مشورہ لئے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنانے کے لئے پر تول رہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا شخص معلوم ہوتا ہے جو ساری عمر انتہائی خوش قسمت رہاہے۔ ایک خوش قسمت انسان عام طور پر جواری ہوتا ہے۔ کیونکہ ماضی کے جوئے کامیاب رہے ہیں، کیوں نہ مزید کھیلا جائے؟ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ہر جواری کی قسمت بالآخر اسے دھوکہ دے ہی دیتی ہے۔ ٹرمپ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس وقت وائٹ ہاؤس داخل ہوا جب امریکی معیشت کی حالت قدرے بہتر تھی۔ وہ ان اقدامات کا سہرا اپنے سر باندھ سکتا تھا جن سے اس کا کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔ لیکن اس کے حامیوں نے حقائق میں کوئی فرق نہیں کیا اور اس کی قسمت چمکتی رہی۔ 

وہ کچھ صداقت کے ساتھ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کی ٹیکس کٹوتی پالیسی کی وجہ سے معیشت کچھ بہتر ہوئی ہے۔ لیکن فطرت کی طرح معیشت میں بھی جلد یا بدیر ہر چیز اپنے الٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا پیکج ایک سال پہلے لاگو ہوا تھا اور اب چینی اور یورپی معیشتوں کی سست روی کے ساتھ ایک سال بعد اس کے اثرات بھی زائل ہو رہے ہیں۔ محصولات اور تجارتی جنگ میں مزید تیزی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ منافعوں کی تمام تر پیش گوئیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے گھٹایا جا رہا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں ہیجان حقیقی معیشت کی عکاسی ہے۔ امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے پرپیچ اور مشکل دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کی قسمت کا ستارہ ڈوبنے کو ہے۔

قیادت کا بحران

سماج دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک طرف مٹھی بھر امراء جو نظام کے مالکان ہیں اور دوسری طرف عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جو شدید غربت کی گہرائیوں میں ڈوبا نظام کے خلاف کھلی بغاوت پر اتر آیاہے۔ ہم جہاں دیکھیں ہمیں موجودہ نظام کے خلاف غم و غصہ اور نفرت بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں اس کا اظہار مختلف ہے۔ لیکن ہر جگہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام، مزدور اور نوجوان تحرک میں ہیں اور پرانے نظام کو للکارتے ہوئے اس کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ 

2018ء میں کئی ممالک میں ہم نے عوامی تحریکیں دیکھیں جیسے ایران، عراق، تیونس، اسپین، کیٹالونیا، پاکستان، روس، ٹوگو، ہنگری اور فرانس۔ حال ہی میں فرانس میں رونما ہونے والے واقعات سماج کو تبدیل کرنے کی عوامی قوت پر شک کرنے والے تمام مایوس اور تذبذب کا شکار افراد کو منہ توڑ جواب ہیں ۔ بجلی کی طرح مزدور اور نوجوان سڑکوں پر نکلے اور چند ہفتوں میں انہوں ے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اگر اس تحریک کو ایک سنجیدہ قیادت میسر ہوتی تو اب تک نہ صرف فرانسیسی حکومت کا تختہ الٹ چکا ہوتا بلکہ فرانسیسی سماج کی بنیادی تبدیلی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہوتا۔

واضح قیادت اور پروگرام کی عدم موجودگی میں عین ممکن ہے کہ تحریک کچھ دیر کے لئے پسپائی کا شکار ہو جائے۔ لیکن زیرِ سطح تضادات نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنی شدت میں مستقل بڑھ رہے ہیں۔ ماکرون حکومت کا سفینہ دو چار دن مزید تیر کر بالآخر ڈوب جائے گا۔ مزدوروں اور نوجوانوں کو متحد طبقاتی تحرک کی قوت کا احساس ہو رہا ہے۔ اب ان کو عارضی یا جزوری مراعات سے ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا۔ جلد یا بدیر وہ پھر تحرک میں اتریں گے اور اس مرتبہ ان کے سامنے واضح اہداف موجود ہوں گے کہ ایک جنگجو پروگرام کے ذریعے ہی ایک قابلِ نفرت صدر کو باہر پھینک کر ایسی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے جو محنت کش طبقے کے مفادات کے لئے کام کرے۔ 

ایک سوشلسٹ انقلاب کے لئے عوام کی برجستہ تحریک بنیادی شرط ہے۔ لیکن صرف اپنے تئیں یہ تحریک کامیابی کی ضامن نہیں۔ 1938ء میں ٹراٹسکی نے لکھا تھا کہ آج انسانیت کا بحران محنت کش طبقے کی قیادت کے بحران میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ یہ بات آج زیادہ درست ہے۔ تاریخ ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کیسے بہادر سپاہیوں کی ایک دیو ہیکل فوج کو کئی گنا چھوٹی لیکن مضبوط نظم و ضبط اور تجربہ کار قیادت سے لیس فوج نے شکست فاش دی۔ کئی مواقع پر طبقاتی جنگ اور قومی جنگ میں گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔


حالیہ دنوں میں فرانس میں رونما ہونے والے واقعات تمام مایوس اور تذبذب کا شکار افراد کو منہ توڑ جواب ہیں جو سماج کو تبدیل کرنے کی محنت کش طبقے کی صلاحیت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

اصلاح پسندوں کی بزدلانہ پہلو تہی اور کچی پکی حکمت عملی بحران کو حل کرنے کے بجائے اسے زیادہ شدید، تکلیف دہ اور تباہ کن بنائے گی۔ یہ انقلابیوں کا فرض ہے کہ سرمایہ داری کی طویل اور تکلیف دہ موت کو جتنا ممکن ہو مختصرکرتے ہوئے محنت کش طبقے کی تکالیف میں بھرپور کمی کی کوشش کی جائے۔ اس کے لئے فیصلہ کن عمل لازم ہے۔ صرف مارکس وادی ہی وہ قیادت فراہم کرنے کے اہل ہیں جو موجودہ بحران سے پرامن اور تکلیف دہ آزادی کی ضامن ہو۔ 

یہ درست ہے کہ ناموافق طویل معروضی حالات کی وجہ سے عالمی طور پر مارکس وادیوں کی قوتیں بہت محدود ہیں۔ اصلاح پسندی اور سٹالن ازم کی غداریوں نے سرمایہ داری کو زندہ رہنے کا موقع فراہم کیا لیکن ان کے اقدامات کی بنیاد بھی سرمایہ داری کا قدرے معاشی و سماجی استحکام تھا جس نے محنت کش طبقے کو کچھ مراعات فراہم کیں۔

لیکن اب یہ عہد اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ دہائیوں سے ہم بہاؤ کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس سارے عہد میں صرف اپنی قوتوں کو قائم رکھے رہنا ہی ایک شاندار تاریخی کامیابی ہے۔ لیکن اب تاریخ کا دھارا نئی سمت مڑ رہا ہے۔ اب بہاؤ کے خلاف تیرنے کے بجائے ہم بہاؤ سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ 

تمام پرانے حقائق دم توڑ رہے ہیں۔ محنت کش طبقے کے حواس پر براجمان پرانے بت ٹوٹ رہے ہیں۔ عوام پر حقیقت اپنی پوری قوت کے ساتھ آشکار ہو رہی ہے اور وہ درست نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی قوت ہے اور یہی سرمایہ داری اور اصلاح پسندی کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

ہماری انٹرنیشنل کے پاس اصلاح پسند پارٹیوں کی طرح دیوہیکل معاشی ذرائع موجود نہیں ہیں۔ لیکن سب سے اہم شعبے میں ہم پوری دنیا کے کسی بھی رجحان کے مقابلے میں سب سے زیادہ قوی ہیں۔ ہمارے پاس مارکسزم کے نظریات ہیں۔ اور یہ نظریات ہی ہیں جن میں دنیا تبدیل کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے نظریات، پروگرام ، تناظر اور محنت کش طبقے پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے جو سماج کی تبدیلی کی واحد قوتِ محرکہ ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے اوپر اعتماد ہونا چاہیے کیونکہ اگر ہم یہ کام نہیں کریں گے تو ہمارے لئے کوئی یہ کام نہیں کرے گا۔

0
0
0
s2smodern