تحریر: آدم پال|

عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام بد ترین بحران کا شکار ہے اور ہر روز اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔عالمی سرمایہ دار طبقے کے منافعوں کو قائم رکھنے کے لیے جتنے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں اتنا ہی نظام کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ مالیاتی اداروں، صنعتوں اور تجارت سے ہوتا ہوا یہ بحران سیاسی عدم استحکام میں بھی اپنا اظہار کر رہا ہے جس کے باعث ریاستیں کمزور ہو رہی ہیں اور ہر جانب سیاسی ہیجان اور معاشی انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماضی کی دیو ہیکل سیاسی پارٹیاں ٹوٹ کر بکھر رہی ہیں اور ان کی جگہ لینے کے لیے نئی تحریکیں ابھر رہی ہیں۔نظام کے بحران نے پوری دنیا میں لاکھوں ، کروڑوں افراد کو سڑکوں پر نکلنے اور ہڑتالیں کرنے پر مجبور کیا ہے اور وہ اپنے گرتے ہوئے معیار زندگی اور روزگار کے دفاع کے لیے اس نظام کو چیلنج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ تمام عمل دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مختلف رفتار کے ساتھ جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے اسے کسی ایک ملک کے حکمران طبقے کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کی بنیادیں پوری دنیا میں موجود سرمایہ دارانہ نظام کے زائد پیداوار یا زائد صلاحیت کے بحران میں ہیں۔ پاکستان کی معیشت و سیاست بھی اس نظام کے ساتھ وابستہ ہے اس لیے یہاں موجود بحران کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مالیاتی بحران

اکتوبر 2018ء میں ایک دفعہ پھر دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینجوں میں شدید مندی دیکھنے میں آئی اور صرف امریکہ میں تقریباًدو ہزار ارب ڈالر کی مالیت کے حصص مارکیٹ میں سے نکل گئے۔اس سال کے آغاز میں فروری میں بھی ایسی ہی شدید مندی دیکھنے میں آئی تھی جس کے بعد مختلف حربوں سے ان کو سنبھالا دیا گیا تھا۔ لیکن اکتوبر میں ہونے والی اس ’’خونریزی‘‘ کے بعد سرمایہ داری کے بہت سے سنجیدہ ماہرین خود ایک بہت بڑی کساد بازاری کا عندیہ دے رہے ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ 2008ء سے کئی گنا بڑا مالیاتی بحران عالمی معیشت کے سر پر منڈلا رہا ہے جس سے بچنے کے راستے مسلسل مسدود ہوتے جا رہے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق امریکی سٹاک ایکسچینج کے ایک اہم انڈیکس S&P 500کے لیے اس سال کا اکتوبرسات سال قبل 2011ء کے ماہ ستمبر کے بعد بد ترین مہینہ تھا۔یہ انڈیکس نیو یار ک سٹاک ایکسچینج اور NASDAQمیں موجود 500بڑی امریکی کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ اس انڈیکس میں مندی کے رجحان کا مطلب ہے کہ ان کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ کا رجحان حاوی ہے اور وہ بحران کا شکار ہیں۔

اکتوبر کے مہینے میں اسی انڈیکس میں موجود ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں بڑے پیمانے پر گراوٹ دیکھی گئی۔اس مہینے کے دوران اس انڈیکس میں 6.9فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی جو ستمبر2011ء کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے جب 7.2فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی۔نومبر کے مہینے میں بھی یہ گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا جو 10فیصد سے بھی زیادہ ہو گیا جس کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث انرجی کمپنیوں کے حصص میں کمی تھی۔ 10فیصد گراوٹ کے بعد تکنیکی طور پر یہ Correctionکے نچلے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔

جن کمپنیوں کے سٹاک میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھنے میں آئی ان میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں سر فہرست ہیں۔ اکتوبر میں ایمازون (20.2فیصد) اور نیٹ فلکس(19.3 فیصد) جیسی دیو ہیکل کمپنیاں بڑی گراوٹ کا شکار رہیں۔فینگ کے گروپ کے نام سے جانے والی پانچ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کل مالیت کے حجم میں اس ایک ماہ میں 300ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ان پانچ کمپنیوں میں فیس بک، ایمازون، ایپل،نیٹ فلکس اور گوگل شامل ہیں۔صرف ایمازون کی مالیت میں 163ارب ڈالر کی کمی دیکھنے میں آئی ۔S&P 500انڈیکس میں شامل کمپنیوں کی مالیت میں اکتوبر کے ایک ماہ کے دوران تقریباً دو ہزار ارب ڈالر کی کمی ہوئی جو امریکہ سمیت دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینجوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔
اسی طرح ایک اور اہم انڈیکس Dow Jones Industrial Averageمیں بھی ہیجان نظر آیا اور اکتوبر کے مہینے کے 13دن یہ انڈیکس کمی کا شکار رہا۔ اس انڈیکس میں امریکہ کی 30بڑی کمپنیوں کے سٹاک کو دیکھا جاتا ہے جن میں مائیکرو سافٹ اور کوکا کولا جیسی دیو ہیکل کمپنیاں شامل ہیں۔کیٹر پلر اور3M جیسی کمپنیاں مندی کے رجحان کا شکار رہیں۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان کمپیوٹر اور موبائلوں کے پراسیسر اور دیگرپرزے بنانے والی کمپنیوں کو اٹھانا پڑا جنہیں Semiconductor کی ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیاں بھی کہا جاتا ہے۔ان کمپنیوں میں AMD، Nvidia، Micronاور دیگر ایسی کمپنیاں شامل ہیں جن کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے حصص میں 20فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی۔کچھ ماہرین کے مطابق حصص میں 20فیصد سے زیادہ کمی کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں مندی کے رجحان کا آغاز ہو چکا ہے جسے Bear Marketبھی کہا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر کساد بازاری کے آغاز کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔کمپیوٹر کے پراسیسر بنانے والی مشہور کمپنی AMDکے حصص میں اکتوبر کے ماہ میں 41فیصد کمی دیکھنے میں آئی ۔ 1992ء کے بعد اکتوبر کا مہینہ اس کمپنی کے لیے سب سے برا مہینہ تھا۔ اس شعبے سے وابستہ دیگر کمپنیاں بھی شدید بحران کا شکار ہیں اور ان کے حصص میں بھی بہت بڑے پیمانے پر کمی واقع ہو رہی ہے۔

اس تمام تر بحران کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سرمایہ داری کے اہم تجزیہ نگار امریکی فیڈرل ریزرو کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس تمام تر گراوٹ پر شدید غصے کا اظہار کیا جو اس کے دور حکومت میں ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔اس نے بھی اس کی ذمہ داری فیڈرل ریزرو کے سربراہ پر ڈال دی ۔فیڈرل ریزرو نے گزشتہ عرصے میں سرکاری شرح سود میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور آنے والے عرصے میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود 2.25فیصد ہے اور امکان ہے کہ اسے 3.4فیصد تک لے جایا جائے گا۔ 2008ء کے مالیاتی بحران سے نپٹنے کے لیے امریکہ میں شرح سود کو تیزی سے کم کیا گیا تھا اور یہ تاریخ کی کم ترین سطح پر صفر کے قریب پہنچ گئی تھی۔شرح سود کو کم ترین سطح پر لے جانے کا مقصد نجی شعبے کو بڑے پیمانے پر سستے قرضے فراہم کرنا تھا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کر سکیں اور اپنے کاروباروں کو پھیلاتے ہوئے روزگار میں اضافہ کرسکیں۔ 2008ء سے لے کر 2015ء تک یہ شرح سود 0.25فیصد تک رہی جسے بعض تجزیہ نگار انسانی تاریخ کی کم ترین شرح سود بھی قرار دے رہے تھے۔ اسی پالیسی کے تسلسل میں جاپان اور یورپ میں منفی شرح سود بھی دیکھنے میں آئی جو خود اس نظام کے تضادکا منہ بولتا ثبوت تھی۔ اسی پالیسی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر نوٹ چھاپنے کی پالیسی بھی جاری رہی جسے مقداری آسانی یا Qunatitative Easingْؑ بھی کہا جاتا ہے۔اس تمام تر پالیسی کا مقصد سرمایہ دار طبقے کو عوام کی قیمت پر سہولیات فراہم کرنا تھا۔

2015ء میں اس شرح سود میں انتہائی معمولی 0.25اضافہ دیکھنے میں آیاجس کے بعد اسی معمولی رفتار سے اس میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا۔2017ء میں شرح سود میں تین دفعہ اضافہ کیا گیا جبکہ 2018ء میں بھی تین دفعہ اضافہ کیا جا چکا ہے اور دسمبر میں چوتھا اضافہ متوقع ہے۔ستمبر 2018ء میں ہونے والے اضافے کے بعد شرح سود 2.25فیصد تک پہنچ گئی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یہ اضافہ آئندہ سال بھی ایسے ہی جاری رہے گا۔

یہ اضافہ امریکی کمپنیوں اور بالعموم سرمایہ دار طبقے کے لیے ایک قیامت بن کر نازل ہو رہا ہے اور ان کے لیے موجود سستے قرضے کی فراہمی ختم ہوتی جا رہی ہے۔اس سے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ 2008ء کے مالیاتی بحران کے بعد ہونے والی تمام تر ریکوری نام نہاد ہے اور یہ صرف سستے یا تقریباً مفت قرضوں کے باعث ہی موجود ہے۔ درحقیقت تمام سرمایہ داروں نے ان سستے قرضوں سے نئی سرمایہ کاری کرنے اور صنعتوں کو پھیلانے کی بجائے ان قرضوں کو اپنی ہی کمپنیوں کے سٹاک خریدنے پر صرف کیا، جس کے باعث ان کی کمپنیوں کے حصص میں مصنوعی طور پر اضافہ ہوتا رہا جبکہ قرضوں کا بلبلہ پھولتا رہا۔اب جبکہ اس سستے قرضے کی فراہمی ختم ہو رہی ہے تو یہ نام نہاد ریکوری، جس میں نہ تو بڑے پیمانے پر نئی صنعتیں لگ سکیں اور نہ ہی روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو سکے ، ختم ہو رہی ہے اور پہلے سے کئی گنا بڑے مالیاتی بحران کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ سمیت زیادہ تر سرمایہ داروں اور تجزیہ نگاروں کی خواہش ہے کہ شرح سود میں جاری اس اضافے کے رجحان کو روکا جائے تا کہ ممکنہ بحران کو مزید ٹالا جا سکے ۔ بہت سے تجزیہ نگار مقداری آسانی کی پالیسی کو بھی پہلے کی طرح جاری رکھنے پر زور دے رہے جس میں کمی کی جا رہی ہے اور بتدریج خاتمے کی جانب لیجایا جا رہا ہے گو کہ یورپی سنٹرل بینک نے ابھی کمی کا آغاز بھی نہیں کیا۔ ان تجزیہ نگاروں کے مطابق 2008ء کے بحران سے نکلنے کے لیے شروع کی جانے والی ان پالیسیوں کے خاتمے سے بحران پہلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر لوٹ آئے گا۔

لیکن دوسری جانب ایسے تجزیہ نگار اور پالیسی ساز بھی موجود ہیں جن کا اصرار ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافہ اور مقداری آسانی کی پالیسی کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ان کا خیال ہے کہ کسی بھی مالیاتی بحران سے نپٹنے کے لیے موجود ہتھیاروں میں سب سے کار آمد ہتھیار شرح سود میں کمی ہی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی معیشت نے گزشتہ عرصے میں بہتری کے کچھ آثار دکھائے ہیں جس کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ شرح سود کو واپس بڑھایا جائے تاکہ آنے والے بحران سے نپٹنے کی تیاری کی جا سکے۔لیکن اکتوبر کے مہینے میں ہونے والی مندی ان پالیسی سازوں پر دباؤکو انتہاؤں پر لے گئی ہے اور صدر ٹرمپ نے بھی اس پالیسی پرناراضگی کا اظہار کیا ہے۔آنے والے عرصے میں اگر شرح سود بڑھانے کی پالیسی کو ایسے ہی جاری رکھا جاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ مارکیٹوں میں مزید مندی دیکھنے میں آئے گی اور اس پالیسی کے نتیجے میں ہی بحران کا آغاز ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف اس اضافے کو روکنے کا مطلب صرف بحران کو کچھ وقت کے لیے ٹالنا ہے جو اب ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔

امریکی مالیاتی منڈی میں مندی کی ایک اور وجہ ڈالر کی قدر میں اضافہ بتائی جا رہی ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں ڈالر انڈیکس میں 2فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس انڈیکس کے تحت ڈالر کا موازنہ دیگر اہم کرنسیوں سے کیا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بر سر اقتدار آنے کے بعد امریکی سرمایہ داروں کو بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں چھوٹ دی تھی اور دیگر ایسے اقدامات کیے تھے جن کے باعث ڈالر مضبوط ہوا ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافہ بھی ڈالر کی قدر میں اضافے کا موجب بنا ہے۔ ڈالر کی مضبوطی کا نقصان امریکی برآمد کنندگان کے علاوہ دنیا بھر کی معیشتوں کو اٹھانا پڑتا ہے ، خاص طور پر نام نہاد ’’ابھرتی ہوئی معیشتوں‘‘ کو جن کی کرنسیوں کی قدر میں اس وجہ سے بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے۔ چین کی کرنسی کی قدر میں دس فیصد کمی سے لے کر ہندوستان، انڈونیشیا، برازیل ، جنوبی افریقہ سمیت دنیا بھر کے اکثر ممالک کی کرنسیوں کی قدر میں گراوٹ دیکھنے میں آئی جس کے باعث عالمی معیشت کے بحران میں بھی اضافہ ہوا ۔ امریکی کمپنیوں کے حصص میں حالیہ گراوٹ کی ایک وجہ ڈالر کی قدر میں اضافے کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ

موجودہ بحران کی ایک وجہ ٹرمپ کی جانب سے شروع ہونے والی چین کیخلاف تجارتی جنگ کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔سرمایہ داروں کو خدشہ ہے کہ یہ آغاز عالمی سطح پر ایک وسیع تر تجارتی جنگ کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث عالمی تجارت کو بد ترین نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی بھی بربادی کی جانب بڑھے گی۔

ٹرمپ اس وقت چین سے امریکہ آنے والی 250ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر درآمدی ٹیکس لگا چکا ہے۔ دس فیصد سے لے کر پچیس فیصد تک لگنے والے اس ٹیکس کا مقصد امریکہ کے چین کے ساتھ موجود تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔جنوری 2019ء میں ان ٹیکسوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔جی20کے نومبر کے آخر میں ہونے والے اجلاس کے آغاز سے پہلے ٹرمپ نے تجارتی جنگ کے منڈلاتے خطرات کو اپنے بیان سے مزید تقویت دی اور کہا کہ چین کی باقی ماندہ 267ارب ڈالر کی برآمدات پر بھی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے کیونکہ چین نے ابھی تک ہمارے اقدامات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔جی20کے اس اجلاس سے امریکی سرمایہ داروں کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس موقع پر امریکی و چینی صدور کی ملاقات کے دوران تجارتی جنگ کے حل پر غور کیا جائے گا اور بحران کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہو سکے گی۔ لیکن ٹرمپ کے بیان نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

ٹرمپ کی ان تمام تر پالیسیوں کا مقصد تجارتی خسارہ ختم کرنا اور امریکہ میں بیروزگاری میں کمی کرنا ہے۔ لیکن ابھی تک ان اقدامات کے الٹ اثرات ہی دکھائی دے رہے ہیں۔بہت سی امریکی کمپنیاں چین سے مینوفیکچرنگ کروا رہی ہیں جنہیں اب اپنی ہی اشیا کی درآمد پر زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث ان کے منافعوں میں کمی ہو رہی ہے۔دوسری جانب امریکی صارفین کے لیے بہت سی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث وہ براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے عوام اپنی معیشت کے تحفظ کے لیے چینی اشیا پر تھوڑا بہت ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسے صدر کی خام خیالی ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں پہلے ہی عوام کی ایک بڑی تعداد غربت میں زندگی گزار رہی ہے اور ان کے حالات زندگی بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ٹرمپ کے متعدد احکامات کے باوجود چین سے امریکہ منتقل ہونے والی صنعتوں اور روزگار میں بڑا اضافہ نہیں ہو سکا بلکہ صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔

ٹرمپ کے لیے حالیہ جھٹکا امریکہ کی گاڑیاں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی جنرل موٹرز کی جانب سے آیا ہے جس نے اپنی مختلف فیکٹریوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے امریکہ اور کینیڈا میں اس کمپنی کے چودہ ہزار ملازمین کو بیروزگار کیا جائے گا جبکہ اخراجات میں 6ارب ڈالر تک کمی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے جنرل موٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ چین سے اپنی صنعتیں امریکہ منتقل کرے لیکن اس پر تاحال عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا ۔گاڑیاں بنانے والی دیگر کمپنیاں بھی بحران کا شکار ہیں اوران میں بھی بڑے پیمانے پر بندش کے امکانات ہیں۔ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے دوران چین اور یورپ سے اسٹیل اور ایلومینیم کی امریکہ میں برآمد پر بڑے پیمانے پر ٹیکس لگائے گئے تاکہ مقامی صنعت کو تحفظ دیا جائے ۔ لیکن اب نتائج سے نظر آ رہا ہے کہ اس اقدام کے الٹ اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور دیگر صنعتکار خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔

ٹرمپ کے اقدامات کے جواب میں چین نے بھی امریکہ سے چین آنے والی اشیا پر دس فیصدٹیکس لاگو کیا ہے ۔ ان اشیا کی مالیت کا حجم110ارب ڈالر ہے جو امریکہ کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔اس اقدام میں امریکہ سے چین درآمد ہونے والاسویا بین بھی شامل ہے۔ اس اقدام کے بعد امریکہ میں سویا بین کی فصل سے وابستہ کسان شدید متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ان کی پیداوار کا بڑا حصہ چین کو برآمد کیا جاتا تھا۔ان کسانوں کی ایک بڑی تعداد ٹرمپ کے ووٹروں پر مشتمل ہے لیکن حالیہ تجارتی جنگ سے انہیں شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اسی طرح اس تجارتی جنگ کا سب سے زیادہ نزلہ کمپیوٹر اور موبائل کے پراسیسر اور دیگر پرزے بنانے والی کمپنیوں پر گر رہا ہے۔ Semiconductorکی ٹیکنالوجی سے وابستہ ان کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کے لیے سپلائی چین کو باقیوں سے الگ کریں ۔ یعنی امریکہ میں فروخت ہونے والے کمپیوٹر وغیرہ کے تمام کلیدی پرزے امریکہ میں ہی مینوفیکچر کیے جائیں ۔ جبکہ چین اور دیگر ترقی پذیرممالک میں فروخت ہونے والے کمپیوٹروں وغیرہ کے پرزوں کو چین یا دوسرے ممالک میں مینوفیکچر کیا جائے۔ اس اقدام کے تحت پوری دنیا کے سپلائی چین کا نظام متاثر ہو رہا ہے اور اس پورے سائیکل کو از سر نو ترتیب دینے کی بات کی جا رہی ہے ۔ یہ سب کرنا بظاہر ناممکن دکھائی دے رہا ہے جس کے باعث اس شعبے سے وابستہ کمپنیاں شدید بحران کا شکار ہیں۔

امریکہ کی جانب سے چین پر ٹیکنالوجی چوری کرنے کا الزام بھی مسلسل عائد کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ایک مہم جاری ہے جس میں دنیا بھر میں چین کی ہرزہ رسائی کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل چینی کمپنی ZTEپر امریکہ میں بھاری جرمانہ اور پابندی بھی عائد کی گئی تھی کیونکہ اس پر الزام تھا کہ اس نے امریکہ سے ٹیکنالوجی چوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ایک اور چینی کمپنی Huaweiپر بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم چینی طلبہ پر پابندی عائد کر دی جائے کیونکہ یہ خدشہ موجود ہے کہ یہ طلبہ امریکہ میں ہونے والی جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو چین منتقل کر دیں گے۔اس وقت ساڑھے تین لاکھ سے زائد چینی طلبہ امریکی یونیورسٹیوں میں موجود ہیں جبکہ ہر سال بڑی تعداد میں مزید چینی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔امریکی نائب صدر مائیک پینس نے بھی ایک حالیہ بیان میں کھل کر کہا ہے کہ ہمیں اپنی جدید ٹیکنالوجی کو چوری ہونے سے بچانا ہو گا کیونکہ یہی ٹیکنالوجی دنیا میں ہماری معاشی برتری کی بنیاد ہے۔

گزشتہ ماہ ایک چینی باشندے کو یورپ کے شہر برسلز سے گرفتار کر کے امریکہ لیجایا گیا ہے۔ اس شخص پر الزام ہے کہ وہ امریکہ کی ہوائی جہاز بنانے والی اور دیگر کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن چوری کرنے میں ملوث تھا۔ اسی طرح کے دیگر بہت سے الزامات بھی سامنے آئے ہیں جن میں چینی کمپنیوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

دوسری جانب چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ساتھ ہی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی کوششوں کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ 2025ء تک وہ ’مصنوعی دانش‘ سمیت مختلف ٹیکنالوجیوں میں دنیا میں اول نمبر پر ہوگا۔ اسلحے کی صنعت کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ چین موبائل فون سمیت مختلف جدید صنعتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور دیگر ممالک سے بازی لیجانے کی کوششیں کر رہا ہے۔خاص طور پر 2019ء میں متوقع 5Gٹیکنالوجی میں چین دنیا پر برتری حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے اور اس کے لیے بھرپور تیاری کر رہا ہے۔ اسی طرح روبوٹ ٹیکنالوجی اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں میں بھی تیز ترین پیش رفت جاری ہے۔امریکہ کے ساتھ ساتھ بہت سے یورپی ممالک بھی اس حوالے سے خوفزدہ ہیں اور امریکہ کے ساتھ مل کر اپنی برتری کو قائم رکھنے کی کوششو ں میں مصروف ہیں۔

لیکن جہاں امریکہ اور چین کی مسابقت اور مخاصمت موجود ہے وہاں دونوں عالمی سرمایہ داری کے کلیدی ستون ہونے کے ناطے ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں۔خاص کر چین جس کی معیشت امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں کی جانے والی برآمدات پر انحصار کرتی ہے۔گوکہ چین نے حالیہ عرصے میں اپنی داخلی منڈی کو وسعت دینے کی متعدد کوششیں کی ہیں لیکن ابھی تک اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔دیگر ممالک چینی معیشت کے اس کردار پر غم و غصے کا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں لیکن چند سالوں سے چین کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے جسے چین اپنے اقدامات کی کامیابی بنا کر پیش کر رہا ہے۔ چین کے مطابق وہ اپنی داخلی منڈی کو وسعت دے رہا ہے اور دیگر ممالک سے اشیار درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے اکتوبر میں چین میں ایک امپورٹ ایکسپو بھی منعقد کی گئی تاکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کو چین میں اشیا فروخت کرنے کی دعوت دی جا سکے۔ اس موقع پر جاپان اور جنوبی کوریا کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا اور انہیں اپنے قریب لانے کی کوشش کی گئی۔

لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود امریکی اور یورپی معیشتوں کی سست روی نے چین پر اہم اثرات مرتب کیے ہیں۔چین کی معیشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور شرح ترقی تیزی سے کم ہوتے ہوئے 6.5فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تخمینہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ سال یہ 6فیصد کی انتہائی کم سطح تک گر سکتی ہے۔اتنی بڑی گراوٹ چین کی معیشت کے لیے قیامت سے کم نہیں ہو گی اور چین کی سیاست اور سماج پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب آئندہ سال امریکی معیشت کی شرح ترقی میں بھی گراوٹ کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں جو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اس صورتحال سے نپٹنے کے لیے دنیا بھر میں تحفظاتی اقدامات کا فروغ نظر آرہا ہے جس میں ہر ملک کا حکمران طبقہ متوقع بحران سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد خود کو محفوظ رکھتے ہوئے بحران کو دوسرے ممالک میں دھکیلنا ہے۔ امریکہ اس دوڑ میں سر فہرست ہے اور باقی دنیا کی قیمت پر امریکی معیشت کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ان تمام کوششوں کے الٹ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس بحران کی بنیادرحقیقت زائد پیداوار کا بحران ہے جس کا اس نجی ملکیت پر مبنی نظام کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی حل نہیں۔ سرمایہ داری سے پہلے انسانی تاریخ میں ایسا بحران کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ایک جانب اشیائے ضرورت کے انبار موجود ہیں اور دنیا کی آبادی سے کئی گنا زیادہ آبادی کی تمام ضروریات کی تکمیل کی پیداواری صلاحیت موجودہے لیکن دوسری جانب سرمایہ دار منڈی کے سکڑنے اورکھپت نہ ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں۔ صنعتوں کی بندش اور معاشی بحران کے باعث لاکھوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں جس کے باعث ان کی قوت خرید مزید کم ہو رہی ہے اور وہ غربت اور محرومی کی دلدل میں دھنس رہے ہیں۔ ملکی معیشتوں کے بحران کا ملبہ بھی محنت کشوں پر ڈالا جا رہا ہے اور علاج، تعلیم اور دیگر ضروریات پر خرچ ہونے والی رقم میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں جبکہ سرمایہ داروں کے منافعوں میں مزید اضافے کے لیے انہیں رعایتیں دی جا رہی ہیں۔ اس عمل میں سرمایہ دار وں کے منافع کی ہوس مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور دولت کا ارتکاز کم سے کم ہاتھوں میں ہو رہا ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں پیداواری قوتوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اور پہلے سے موجود صنعتوں اور ٹیکنالوجی کومزید ترقی دینے کی بجائے انہیں تباہ کیا جا رہا ہے ۔اس تضاد کو حل کرنے کا واحد رستہ تمام ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت میں لیتے ہوئے مزدوروں کا جمہوری کنٹرول قائم کرنا ہے۔ یہ صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

تحفظاتی پالیسیاں اور سامراجی قرضے

اس وقت عالمی سطح پرمختلف ممالک کی معیشت جتنی ایک دوسرے سے جڑ چکی ہے ماضی میں کبھی بھی نہیں رہی۔گلوبلائزیشن یا عالمگیریت اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد کے 70سالوں میں اس میں تیز ترین پھیلاؤ آیا ہے۔آج اس معیشت کو دوبارہ ریاستوں کی حدود میں مقید کرنے کی کوشش دیو کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ تجارتی جنگ اور دیگرتحفظاتی اقدامات سے مسئلہ حل ہونے کی بجائے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چین سمیت دنیا بھر کے ممالک امریکہ پر یہی تنقید کر رہے ہیں کہ وہ گلوبلائزیشن اور آزاد تجارت کیخلاف ہے جس کے باعث عالمی معیشت بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔ جبکہ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ آج گلوبلائزیشن امریکی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اس کے یہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ایسی صورتحال میں چینی صدر گلوبلائزیشن یا آزاد تجارت کا سب سے بڑا محافظ بننے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کا حتمی مقصد چین کے حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ ہے۔

اس تمام تر لڑائی میں دوسری عالمی جنگ کے بعد ابھرنے والا تمام تر ورلڈ آرڈر ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں بننے والے عالمی سطح کے اہم اداروں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور وہ نئی صورتحال سے نپٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ڈبلیو ٹی او جیسا عالمی ادارہ ٹرمپ کے اقدامات کے بعد مذاق بن چکا ہے جبکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی ادارے بھی بحران کا شکار ہیں۔ان اداروں پر امریکہ کی اجارہ داری تھی اور وہ ہی اس ورلڈ آرڈر کا ضامن تھا لیکن اب وہ اس پر سب سے بڑا حملہ آور بن چکا ہے۔

امریکی معیشت کے بحران کے باعث امریکہ کا سامراجی کردار بھی محدود ہوا ہے اور آ ج وہ دنیا بھرمیں اپنی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں شکست اور شام اور یوکرائن کی خانہ جنگیوں میں روس کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے باعث دنیا بھر میں اس کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔ ددوسری جانب چین بھی ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے جال کے ذریعے اپنے شکنجے میں لینے کی کوششیں کر رہا ہے جس کے باعث اس کا امریکہ سے ٹکراؤ بن رہا ہے۔چین کے قرضوں کے باعث آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو رہی ہے اوردنیا کے درجنوں ترقی پذیر ممالک دیوالیہ پن کے دہانے پر لڑکھڑا رہے ہیں۔2000ء سے 2017ء کے درمیان چین کی حکومت، بینکوں اور کمپنیوں کی جانب سے افریقی ممالک کو 143ارب ڈالر کے قرضے دیے گئے۔ ان قرضوں کی شرائط اور واپسی کے طریقہ کار کی معلومات آئی ایم ایف سمیت کسی بھی ادارے کے پاس نہیں ہیں۔وینزویلا سمیت لاطینی امریکہ کے کچھ ممالک بھی چینی قرضوں پر انحصار کر رہے ہیں لیکن آنے والے عرصے میں انہیں آئی ایم ایف سے بھی بیل آؤٹ پیکج درکار ہوگا۔ بحرالکاہل کے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ممالک میں بھی چین اپنے دائرہ اثر کو بڑھا رہا ہے اور امریکہ،جاپان اور آسٹریلیا کے دائرہ کار کو کم کرنے کی کوششوں میں وہاں بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔جنوبی اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں بھی ایسی ہی صورتحال جہاں سری لنکا، مالدیپ،ملائشیا، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار سمیت دیگر ممالک کو چین بڑے پیمانے پر قرضے دے رہا ہے۔پاکستان کو دیے جانے والے قرضے بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہیں جس کے باعث آئی ایم ایف اور امریکی حکمران غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کا الزام ہے کہ چین ان ممالک کی معیشتوں کوبے جا قرضوں کے ذریعے ڈبونے کا باعث بن رہا ہے۔دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ ممالک ایک لمبے عرصے سے آئی ایم ایف کے دائرہ اثر میں تھے کیونکہ چین اس شعبے میں نووراد ہے، اس لیے ان ممالک کے معاشی بحران کی ذمہ داری آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جبکہ چین ان ممالک کو بحران سے نکلنے میں مدد دے رہا ہے۔

درحقیقت دونوں جانب سے لگنے والے الزامات اس نظام کے رکھوالوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا مقصد بھی ان ترقی پذیر ممالک کی لوٹ مار اور امریکی سامراج کی اجارہ داری اور سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنا تھا۔ جبکہ چین بھی اپنے معاشی بحران کو برآمد کرنے کے لیے یہ قرضے دے رہا ہے۔چین کا معاشی بحران بھی پورے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے زہر قاتل ہوگا اس لیے چین کا یہ عمل بھی ایک حوالے سے اس نظام کے بقا کی کوشش ہے۔ چینی قرضوں کااصل مقصد ان ممالک کے وسائل کی لوٹ مار ہے جس سے چینی کمپنیاں ہی فیض یاب ہو رہی ہیں جبکہ ان ممالک میں بیروزگاری، غربت، بھوک اور بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ تمام تر صورتحال امریکہ اور چین کے حکمرانو ں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ جلد از جلد ایک نئے معاہدے کی جانب پیش قدمی کریں تاکہ عالمی سطح پر موجود ان کے مفادات کے ٹکراؤ کو خوش اسلوبی سے طے کیا جا سکے۔ لیکن ایسے کسی بھی معاہدے سے پہلے امریکہ چین کے اثر و رسوخ کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے پیچھے کی جانب دھکیل رہا ہے جبکہ چین ایسے متوقع معاہدے میں بڑا حصہ لینے کے لیے کوشاں ہے اور کسی بھی صورت میں پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔لیکن اگر کوئی ایسا معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو وہ دیر پا نہیں رہ سکتا کیونکہ ہر طرف طاقتوں کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جو ہر طاقت کو کچھ عرصے بعدنیا معاہدہ کرنے کے لیے اکسائے گا۔

عالمی معیشت پر منڈلاتے نئے بحران کے سائے اس حوالے سے کلیدی حیثیت کے حامل ہیں اور ایک نیا بحران طاقتوں کے توازن کو بڑے پیمانے پر تبدیل کرنے کی جانب جائے گا۔ یورپ کی معیشت پہلے ہی بحرانوں کا شکار ہے اور جرمنی کی شرح ترقی میں بڑے پیمانے پر گراوٹ آ رہی ہے جبکہ جرمنی کے سیاسی بحران کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ یورو زون کا دوسرا بڑا ملک فرانس معاشی بحران اوروسیع تر عوامی تحریکوں کی زد میں ہے اور وہاں 1968ء سے بڑے انقلاب کی پیش گوئیاں گردش کر رہی ہیں۔ یوروزون کا تیسرا بڑا ملک اٹلی ایک بہت بڑے معاشی بحران کے دہانے پر ہے اور وہاں پہلی دفعہ بر سر اقتدار آنے والی دائیں بازو کی نئی پارٹیاں یورپی یونین کے احکامات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے دیوالیہ پن کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ لیکن سب سے بڑا بحران دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت برطانیہ پر منڈلا رہا ہے جہاں بریگزٹ کا معاہدہ ایک مالیاتی اور سیاسی بحران کا آغاز کر رہا ہے۔ برطانیہ میں عوام اس بحران کا خمیازہ گزشتہ کئی سالوں سے بھگت رہے ہیں اور اب ان پر ایک نیا عذاب گرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بیروزگاری، غربت اور لاعلاجی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور بہت بڑے سماجی دھماکے صورتحال کی کوکھ میں پنپ رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں امریکہ اور چین کا تنازعہ حل ہونے کے امکانات مسدود ہوتے جا رہے ہیں اور اس میں شدت آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی مالیاتی ادارے بحرانوں کا شکار ہیں اور استحکام کا کوئی تناظر دکھائی نہیں دے رہا۔ تیزی سے بگڑتی عالمی صورتحال میں پاکستان جیسی چھوٹی اور کمزور معیشتیں تنکوں کے ڈھیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے قرضوں کی بیساکھیوں پر چلنے والی یہ معیشتیں بڑے طوفانوں میں ناقابل تلافی نقصان اٹھا سکتی ہیں۔یہاں موجود نئی حکومت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود چین اور آئی ایم ایف سے نئے قرضے حاصل نہیں کر سکی۔ درحقیقت دونوں جانب خدشات موجود ہیں کہ ان کے دیے جانے والے قرضوں کو دوسری طاقت اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ لیکن یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ان کی پہلے سے موجود سرمایہ کاری محفوظ نہیں اور اسے محفوظ بنانے کے لیے مزید قرضوں کا اجرا ضروری ہے۔یہ تمام تر کیفیت عالمی سطح پر موجود صورتحال کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اس کا فیصلہ بھی عالمی سطح پر طاقتوں کے توازن سے ہی ہوگا۔لیکن اس دوران یہاں کے عوام پر اس بحران کا تمام تر ملبہ ڈالا جائے گا اور تمام بڑی طاقتیں عوام کی پیدا کی ہوئی دولت کو لوٹنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں گی۔اس لڑائی میں جہاں معیشت مزید بربادی کی جانب بڑھے گی وہاں محنت کش عوام کا استحصال بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔

پاکستان کی موجودہ حکومت کوآئی ایم ایف بجلی کی قیمتوں میں بیس فیصد اضافے، شرح سود میں اضافے، روپے کی قدر میں مزید کمی اورنجکاری کے ذریعے مزید لاکھوں افراد کو بیروزگار کرنے کی شرائط سنا چکا ہے۔ ان شرائط پر عملدرآمد ہی نئے قرضے کے حصول کی بنیاد ہے۔ دوسری جانب چین کی مصنوعات پہلے ہی یہاں کی مقامی صنعت کو تباہ کر چکی ہیں اوراب اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ چین زراعت کے شعبے میں بھی پنجے گاڑنے کا عندیہ دے چکا ہے اور رہی سہی صنعتوں کی بندش بھی واضح دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کی لوٹ مار، چینی کوئلے، سیمنٹ،اسٹیل اور دیگر خام مال کی درآمد اور ماحولیاتی آلودگی سمیت دیگر مسائل چینی قرضوں کا ناگزیرنتیجہ ہیں۔ جبکہ امریکہ اور چین کی لڑائی میں ریاستی اداروں کی ٹوٹ پھوٹ اور زوال پذیری بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔ ایسے میں ملکی معیشت کے مستقبل کے بارے میں کھل کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ مزید بڑے بحرانوں کا شکار ہو کر دیوالیہ پن کی جانب تیزی سے سفر کر رہی ہے ۔ اوراس سفر میں آئندہ عرصے میں مزید شدت آئے گی۔

لیکن اس تمام تر عمل میں نئی تحریکوں اور انقلابات کا ابھرنا بھی ناگزیر ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف عوامی تحریکیں معمول بن چکی ہیں۔خود امریکہ کے حکمران اپنے ملک میں سوشلزم کے نظریات سے خوفزدہ ہیں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔چین میں بھی مزدوروں اور طلبہ کی نئی تحریکیں ابھر رہی ہیں اور ان میں وسعت آتی جا رہی ہے۔ آنے والے عرصے میں پاکستان میں بھی ایسی عوامی تحریکوں کا ابھرنا ناگزیر ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو چیلنج کریں گی اور اس بوسیدہ اور عوام دشمن نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی جانب بڑھیں گی۔پوری دنیا میں موجود بحرانوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی واحد راہ نجات یہی ہے۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh