|تحریر: لوچا ڈی کلاسز، وینزویلا|

خوان گائیڈو خود حلف اٹھاتے ہوئے

جیسا کہ ہم پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ وینزویلا میں سامراجیوں اور ان کے کاسہ لیس لیما کارٹل کی سرکردگی میں کُو جاری ہے جب کہ اپوزیشن میں ان کے کٹھ پتلی اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ 23جنوری کو جاری کُو اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا جب ممبر پارلیمان گوائڈو نے جمہوریہ کے صدر کے بطور حلف اٹھایا۔ 

وائٹ ہاؤس نے ردعمل دینے میں گھڑی بھر کا بھی توقف نہیں کیا۔ ٹویٹر پر پیغام دیا گیا کہ ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلن نیشنل اسمبلی کے صدر خوان گوائڈو کو وینزویلا کے عبوری صدر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں‘‘، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب پلان کا حصہ تھا۔ 

The White House
 
@WhiteHouse
 
 

President @realDonaldTrump has officially recognized the President of the Venezuelan National Assembly, Juan Guaido, as the Interim President of Venezuela.

 
60.2K people are talking about this

اسی طرح امریکہ کی وزارتِ نوآبادیات (OAS) کے جنرل سیکرٹری الماگرو بھی کُو کرنے والوں کے حمایت میں میدان میں کود پڑے اور نیشنل اسمبلی کی طرف سے مقرر کئے جانے والے ’’سفیر‘‘ کو تقرری سے ایک دن قبل ہی تسلیم کر لیا۔ 

سامراجی مداخلت کے جواب میں صدر مادورو نے امریکی حکومت سے تمام تر تعلقات کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے سفارتی عملے کو 72گھنٹے میں ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ جس کے جواب میں کٹھ پتلی ’’صدر‘‘ گوائڈو نے ایک اعلامیہ جاری کیا جو ’’تمام سفارتی مشنز کے سربراہوں کے نام‘‘ تھا ،جس میں کہا گیا کہ ’’وینزویلا میں کام جاری رکھیں۔‘‘

Juan Guaidó
 
@jguaido
 
 

para todas las Embajadas presentes en Venezuela.

Responsablemente les digo que somos una nación soberana y seguiremos manteniendo las relaciones diplomáticas con todos los países del mundo.

Seguimos firmes en retomar el Orden Constitucional.

 
55.3K people are talking about this

یہ کرتے ہوئے حقیقت میں اس نے سامراجی مداخلت کو تیز کرنے کا کہا ہے۔ 

بولیوارین انقلاب کے دشمن کے بطور پہچان رکھنے والا مارکو روبیو بھی کُو کے حق میں بھونکنے کے لئے منظر عام پر آگیا اور یہ مطالبہ کیا کہ وینزویلن سفارتی عملوں کو ملکوں سے بیدخل کر دیا جائے اور صرف ان کو تسلیم کیا جائے جن کو کٹھ پتلی صدر نے نامزد کیا ہو۔ 

عالمی مارکسی رجحان کا وینزویلن سیکشن، لوچا ڈی کلاسز، نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ ہم مادورو کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ طبقاتی مصالحت کا مطلب ہے کہ بحران کا بوجھ محنت کش طبقے کے کندھوں میں ڈال دیا جائے ، عوام کے انقلابی اقدامات کا گلا گھونٹ دیا جائے، انقلاب کی فتوحات کو ختم کر دیا جائے اور رجعت کی فتح کے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔ 

اسی وقت ہم نے ٹرمپ، بولسونارو اور الماگرو کی ایما پر ان کے دم چھلا لیما کارٹل کی طرف سے شروع کئے گئے کُو کو بھی یکسر مسترد کرتے ہیں۔ سامراجیوں کی حمایت سے رجعتی اپوزیشن کے اقتدار میں آنے کا مطلب غریب عوام اور محنت کشوں کے لئے معاشی، سماجی، سیاسی اور جمہوری نقطہ نظر سے ایک تباہی ہے۔ ہم خود کو اس حوالے سے بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ نیشنل اسمبلی کا مرتب کردہ ’’عبوری پلان‘‘ قومیائی گئی کمپنیوں کی نجکاری اور سرکاری شعبے سے بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی کھلے عام بات کرتا ہے جو واضح طور پر محنت کش مخالف اور کاروبار موافق پالیسی ہے۔

سامراجی حمایت یافتہ کُو کی مخالفت کرو!

اس رجعتی کُو کے خلاف محنت کش طبقے اور غریب کسانوں کی انقلابی توانائی کے بلبوتے پر ہی لڑا جا سکتا ہے۔ ہر صورت علاقوں، آبادیوں اور فیکٹریوں کی ملیشیائیں تشکیل دینا ہوں گی۔ فیکٹریوں پر قبضے کرتے ہوئے وہاں مزدوروں کا جمہوری کنٹرول ترتیب دینا ہو گا۔ اشرافیہ کی ملکیت زرعی اراضی پر قبضہ کرنا ہو گا اور ان کا دفاع پاپولر ڈیفنس بریگیڈز کے ذریعہ کیا جائے جو ملک کے مختلف علاقوں میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ 

گوائیڈو کے خود کو صدر نامزد کرنے کے بعد منتخب صدر نکولس مادورو میرا فلورس محل سے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے

کُو سے لڑنے کے لئے کُو کی حمایت کرنے والے بینکاروں اور کاروباریوں سے ان کی معاشی طاقت چھیننا ہو گی۔ کُو میں ملوث تمام بڑی کمپنیوں اور ملٹی نیشنلز کی ضبطگیاں عمل میں لائی جائیں۔ تمام تر مفلوج اور نیم مفلوج کمپنیوں پر قبضے کئے جائیں تاکہ اکثریت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انہیں محنت کشوں کے کنٹرول میں پیداوار کے جمہوری طریقہ کار سے چلایا جائے۔ سرمایہ داروں کو دی جانے والی رعایتیں بہت ہو چکیں: ہم بینکوں، بڑی کمپنیوں اور بڑی جاگیروں ضبطگیوں اور ان کو محنت کشوں اور منظم کسانوں کے کنٹرول میں دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

کُو سے لڑائی کا راستہ محنت کشوں کے سلگتے ہوئے مسائل کے حل میں مضمر ہے جو کُو کو منظم کرنے والی بورژوازی کے ساتھ معاہدوں، مذاکرات اور رعائتیں دینے کی پالیسی کے خاتمے سے ممکن ہے، اور ایسی پالیسیاں مرتب کرنے سے جو محنت کش اکثریت کے مفادات کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ 
یہ کسی قسم کے ابہام کا وقت نہیں ہے۔ سامراج، جو معاشی پابندیوں اور اقتصادی ناکہ بندیوں کے ذریعے وینزویلا کے عوام پر حملے کر رہا ہے، اگلا قدم اٹھا چکا ہے اور کُو کی حکمت عملی کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے ہم پوری دنیا کی عوام، محنت کشوں اور نوجوانوں سے مطالبہ کرتے ہیں اس رجعتی سامراجی کُو کے خلاف منظم ہوں اور تمام تر ممالک میں امریکہ اور کینیڈا کے سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے سامنے احتجاج کریں۔ 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh