اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کرنے میں مصروف تھا

0
0
0
s2smodern

پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے

0
0
0
s2smodern

تیل اور دیگر معدنی وسائل کے باعث یہ خطہ سامراجی قوتوں کا اکھاڑا رہا ہے اور اسی مقصد کے تحت یہ قوتیں اس کو تاراج کرتی رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جو اپنے جغرافیائی حدود و اربعہ، سیاسی و معاشی اثرو رسوخ یا پھر اپنے سامراجی عزائم کی وجہ سے خطے میں موجود اپنے ہمسایوں اور عمومی عالمی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں

0
0
0
s2smodern

اتوار کو تہران یونیورسٹی کے تین طالب علموں کو ان احتجاجی تحریکوں میں کردار ادا کرنے کی پاداش میں کل نو سال کی قید سنائی گئی۔ محسن حق شناس کو ایک سال، سینا رابعی کو دو جبکہ لیلا حسن زادے کو ’’حکومت مخالف مہم‘‘ کی پاداش میں چھ سال کی قید سنائی گئی

0
0
0
s2smodern

یوریشیا گروپ نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ لبرل (یعنی بورژوا) جمہوریں ’’عالمی جنگ کے بعد سے سب سے زیادہ عدم اعتماد ‘‘ کا شکار ہیں، لیڈر حقیقت سے بالکل لاتعلق ہیں اور اس سیاسی انتشار کی وجہ سے ایسے حالات پک کر تیار ہو رہے ہیں کہ کوئی بھی ایک بڑا واقعہ عالمی معیشت اور منڈی پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے

0
0
0
s2smodern

اقوام متحدہ میں تمام تر ہنگامے، پر شور پروپیگنڈے اور چالبازیوں کے بعد شام میں ہونے والی جنگ بندی اچانک شرمناک اور ناقابلِ یقین انداز میں ختم ہو چکی ہے۔ درحقیقت اس کی مثال ایک ایسے بچے کی سی ہے جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی مردہ حالت میں تھا

0
0
0
s2smodern

پچھلے چار دن سے ایرانی ریاست کو 1979ء کے انقلاب کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں کا سامنا ہے۔ اگرچہ یہ احتجاج حجم میں 2009ء کی سبز تحریک سے چھوٹے ہیں جو بڑے شہروں تک ہی محدود تھی لیکن حالیہ تحریک کا پھیلاؤ بڑے شہروں سے باہر وسیع تر ہے

0
0
0
s2smodern

رجائیت اور امید کی ایک لہر پچھلے بدھ سے جنوبی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، جب سے جیکب زوما صدارت کے عہدے سے مستعفی ہوا ہے۔ زوما کی صدارت کا 9 سالہ بدعنوانی سے عبارت دور بالآخر ختم ہونے پر سب نے سکون کا سانس لیا

0
0
0
s2smodern

ٹرمپ کے اس پیغام نے عالمی سیاست میں ہنگامہ کھڑا کر دیا اورایک کے بعد دوسرے سربراہان مملکت اس کی مخالفت میں سامنے آئے، حتیٰ کہ امریکہ کی بغل بچہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں قیامِ امن کے ’’امکانات‘‘ کے لئے مفید نہیں۔ جرمنی اور فرانس نے بھی بیان کی مذمت کی جو کہ یورپ اور امریکہ میں بڑھتی خلیج کی غمازی کرتا ہے

0
0
0
s2smodern

بلاشبہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ عوام کا آئین ساز اسمبلی پر معاشی جنگ کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا مگر اس اضافے کے مقابلے میں آمدنیوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا 

0
0
0
s2smodern

تطہیری مہم میں اب تک تقریباً دو درجن سابق وزیر، چار حاضر سروس وزیر اور گیارہ شہزادوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں مشہور عالمی سرمایہ کار سعودی شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہے۔ اس کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی عرب کے پہلے فرمانروا شاہ محمد بن عبدالعزیز کے بعد سے ملک کا طاقت ور ترین انسان گردانا جا رہا ہے

0
0
0
s2smodern