گزشتہ دن کی عام ہڑتال کیٹالونیا کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی معیاری جست ہے۔ پچھلے چار دنوں سے پرامن مظاہرین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہا ہے

0
0
0
s2smodern

برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا وقت سر پر آن پہنچا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جوں جوں یہ وقت گھٹتا جا رہا ہے برطانوی اور یورپی حکمران و سرمایہ دار طبقے کے سروں پر خطروں کی گھنٹیاں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ دو سال کے طویل وقت میں بھی ٹوری حکومت اور یورپی یونین بریگزٹ سے متعلق کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر سکے

0
0
0
s2smodern

اب تک لاکھوں لوگوں حصہ لے چکے ہیں، جو بالخصوص گاڑیوں کے ایندھن پر لگائے جانے والے ٹیکسوں اور عمومی طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف چل رہی ہے۔ یہ تحریک واضح نظر آنے والے معاشی بحران اور موجودہ حکومت کی طرف سے لاگو کردہ جبری کفایت شعاری کی پالیسیوں کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔

0
0
0
s2smodern

پیلی واسکٹ والوں کی تحریک ایک غیر معمولی نوعیت کا سماجی زلزلہ ہے۔ یہ فرانس کی طبقاتی جدوجہد کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے اور اس کے علاوہ پوری دنیا کے محنت کشوں کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ اس سے ملکی سیاست پر اہم اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے

0
0
0
s2smodern

سی بھی پارٹی، یونین یا تنظیم کی عدم موجودگی میں لاکھوں افراد نے ڈیزل اور پیٹرول پر ٹیکس بڑھوتری کے خلاف اس تحریک میں حصہ لیتے ہوئے نام نہاد حکومتی رعایتوں اور دھمکیوں کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ پیلی واسکیٹ تحریک کو بھاری عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔

0
0
0
s2smodern

15 دسمبر کو مسلسل پانچویں ہفتے پیلی واسکٹ والے مظاہرین نے فرانس کی سڑکوں کا رخ کیا، جسے تحریک کی ’’پانچویں قسط‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ 10 دسمبر کو میکرون کی طرف سے اعلان کی جانے والی مراعات، پورے ہفتے جاری رہنے والے طالب علموں کے مظاہروں اور

0
0
0
s2smodern

بریگزٹ کے پر انتشار مذاکرات ایک ایسا بھونڈا مذاق بن چکے ہیں جن میں ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔ لیکن یہاں اس بھونڈے تماشے سے زیادہ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم تھیریسامے ایک ایسے سیاسی طوفان میں گھری ہوئی ہے جو اس کی حکومت کو برباد کرنے کے در پے ہے

0
0
0
s2smodern

|تحریر: ریوولوشن؛ ترجمہ: اختر منیر|

 

فرانس کی سماجی اور سیاسی صورتحال خوفناک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہ سے کم عرصے میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے ملک کو انقلابی بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دہلیز پار بھی ہو سکتی ہے۔ تحریک کو آگے دھکیلنے میں کیا چیز فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؟ 
دوسری انٹرنیشنل کے انہدام پر لکھے جانے والے اس مضمون میں لینن نے انقلاب کے معروضی حالات بیان کیے ہیں:
’’1) جب حکمران طبقے کے لیے کسی تبدیلی کے بغیر اپنا اقتدار قائم رکھنا ناممکن ہو جائے، جب ’بالا طبقات‘ میں کسی نہ کسی شکل میں بحران موجود ہو؛ حکمران طبقے کی پالیسی میں بحران، جس سے ان کے درمیان دراڑیں پیدا ہو جائیں، جنہیں مظلوم طبقات کا غصہ اور بے چینی توڑتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایک انقلاب کے لیے ’نچلے طبقات کی پرانے طریقے سے نہ رہنے کی خواہش‘ ناکافی ہوتی ہے، یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اوپر والے طبقات میں پرانے طریقے سے رہنے کی صلاحیت ہی نہ رہے۔
2) جب مظلوم طبقات کی اذیت اور محرومی معمول سے زیادہ شدید ہو جائے۔
3) جب اوپر بتائے گئے حالات کے نتیجے میں عوامی ہلچل میں کافی حد تک اضافہ ہو جائے، جو پرامن حالات میں تو خاموشی سے لٹتے رہتے ہیں، مگر ہنگامہ خیز حالات میں بحرانی صورتحال اور ’بالا طبقات‘ کی وجہ سے آزاد تاریخی عمل میں اتر آتے ہیں۔‘‘
فرانس میں بالکل یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ’’مظلوم طبقات کی اذیت اور محرومی‘‘ گزشتہ کچھ سالوں میں بد سے بدتر ہوئی ہے۔ مگر ’’کاربن ٹیکس‘‘ بارود کے لیے ایک چنگاری ثابت ہوا۔ بدھ کے روز ایک پیلی واسکٹ والی خاتون نے ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے حالات کا خلاصہ یوں کیا: ’’ابھی تک ہم معاشی لحاظ سے تلوار کی دھار پر چل رہے تھے، اب ہم گرنے لگے ہیں۔‘‘
اس کے نتیجے میں عوام نے پیلی واسکٹ والوں کی تحریک کی شکل میں ’’آزاد تاریخی عمل‘‘ کا آغاز کر دیا ہے، جس سے محنت کش طبقے کے ساتھ ساتھ طالب علم نوجوانوں کے تحرک کے بھی حالات پیدا ہوئے ہیں۔
اور بالآخر ’’حکمران طبقے کی پالیسی کا بحران‘‘ کوئی نئی تبدیلی نہیں ہے۔ میکرون کی انتخابی جیت اور دو تاریخی حکومتی پارٹیوں (سوشلسٹ اور رپبلکن) کا زوال بذات خود فرانس کی سرمایہ دارانہ حکومت کے بحران کا اظہار تھا۔ اپریل 2017ء سے حکومت کے بحران کا کئی طریقوں سے اظہار ہو چکا ہے: قانون ساز انتخابات میں بڑے پیمانے پر رائے دہی سے گریز، بنالا کا معاملہ (جس میں میکرون کا سکیورٹی افسر احتجاج کرنے والے طالب علموں پر تشدد کرتا ہوا فلمایا گیا تھا)، اولو (وزیر ماحولیات) اور کولوم (وزیر داخلہ) کا استعفیٰ، وغیرہ۔ میکرون کے تکبر ، اس کے مصنوعی طرز عمل اور عوام کے خلاف تضحیک آمیز رویے، سے عوام میں اشرافیہ کے خلاف پائے جانے والے غصے میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس سب سے ریاست کی اوپری پرتوں میں دراڑیں بڑھی ہیں ’’جنہیں مظلوم طبقات کا غصہ اور بے چینی توڑتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں‘‘، جیسا کہ لینن نے لکھا تھا۔

میکرون بحران میں؛ ٹریڈ یونین لیڈران کی شرمناک پالیسیاں

تین ہفتوں سے حکومت کا بحران بد سے بدتر ہوا ہے۔ چند گھنٹوں میں وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ ’’مہلت‘‘ میکرون کے حکم سے جنوری 2019ء میں لاگو ہونے والے تمام تر ٹیکسوں میں اضافے کی منسوخی میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے علاوہ وزیر برائے مساوی مواقع مارلین سکیاپا نے دولت مند لوگوں پر ISF ٹیکس کی بحالی کا اعلانیہ مشورہ دیا۔ میڈیا پر ’’افراتفری‘‘ کی بات کی جا رہی ہے مگر سچ اس سے کہیں گہرا ہے۔ حکومت تقسیم ہوچکی ہے، کیونکہ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سماجی بحران سے کس طرح نمٹا جائے۔ وہ اس وقت دہشت کے عالم میں ہے۔ اور یہ دہشت ان صحافیوں کی پریشان سطروں میں بھی پڑھی جاسکتی ہے جو گزشتہ 18 ماہ سے حکومتی پالیسی کی وفاداری کا دم بھر رہے ہیں۔
پس انقلابی بحران کے معروضی حالات واضح ہیں۔ اس فہرست میں ایک اور اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے: تمام جائزوں میں سامنے آیا ہے کہ درمیانے طبقے کی اکثریت پیلی واسکٹ والوں کی حمایت میں ہے۔ اسی مضمون میں لینن وضاحت کرتا ہے کہ یہ حالات علیحدہ علیحدہ انقلاب کے آغاز کے لیے کافی نہیں ہوا کرتے:
’’۔۔۔ ہر انقلابی صورتحال انقلاب کو جنم نہیں دیتی، انقلاب صرف ان حالات میں جنم لیتا ہے جن میں اوپر بیان کیے گئے تمام معروضی حالات ایک موضوعی تبدیلی سے جڑتے ہیں، جو ایک عوامی انقلابی تحریک کی اس قدر مضبوطی ہے جو پرانی حکومت کو توڑنے (یا اسے ہلا کر رکھ دینے) کے قابل ہو، جو خود بخود کبھی نہیں ’’گرتی‘‘، بحران کے دور میں بھی نہیں، اگر اس کا تختہ نہ الٹا جائے۔‘‘
’’انقلابی طبقہ‘‘ محنت کش طبقہ ہی ہے۔ یہ انقلابی ہے کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جس کے پاس کوئی ملکیت نہیں ہے اور کیونکہ پیداواری سرگرمی میں اپنی حیثیت کی وجہ سے اسے اقتدار کی لگام تھام کر سرمایہ دارانہ نظام کو گرانا ہے اور سوشلسٹ بنیادوں پر ایک نیا سماج تعمیر کرنا ہے۔ لینن کے وقت کی طرح آج بھی محنت کش طبقے کا تحرک کسی بھی انقلاب میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ حالات کی انقلاب میں تبدیلی کے لیے ایک ’’عوامی انقلابی تحریک جو اس قدر مضبوط ہو کہ پرانی حکومت کو کو گرانے کے قابل ہو‘‘ ضروری ہے، جیسا کہ لینن نے کہا تھا۔ اس کے لیے وسیع ہڑتالوں کی ایک غیر محدود تحریک درکار ہے جس کے بارے میں فرانسیسی یونیورسٹیوں میں طالب علموں کے اجتماعات میں منظور کی جانے والی قرارداد میں بات کی گئی ہے (جو ہمارے کامریڈوں نے پیش کی تھیں)۔
17 نومبر سے ہی پیلی واسکٹ والوں کی تحریک کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ٹریڈ یونین لیڈران (اگر وہ اپنے عہدوں کے قابل ہوتے) کو اپنی پوری طاقت سے ہڑتالوں کی ایک بڑی تحریک چلانے کی تیاریوں کا آغاز کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا۔ اور اب تین ہفتوں بعد بھی وہ کچھ نہیں کر رہے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ ٹریڈ یونین لیڈران (SUD کے علاوہ) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں عملی طور پر تحریک روکنے کا کہا گیا ہے۔ اس میں پیلی واسکٹ والوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ احتجاج نہ کریں، اس کی بجائے وہ یونین لیڈران کو حکومت کے ساتھ ’’گفت و شنید‘‘ کرنے دیں۔ لیکن اگر تحریک، اور اس سے حکومت پر پڑنے والا دباؤ، رک جائے تو گفت و شنید کے لیے کیا رہ جائے گا؟
اس شرمناک بیان کی وجہ سے یونینز کے کارکنان میں، درست طور پر، غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بہت سے کارکنان اس کے باوجود پیلی واسکٹ والوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں، اور اب نوجوان بھی جنہیں اپنے اقدامات کی وجہ سے شدید جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مسلسل ہڑتالوں کی تحریک!

ٹریڈ یونین فیڈریشنز کی حمایت کے بغیر بھی آنے والے دنوں میں کارکنان کی قوت رفتار کے بل پر ہڑتالوں کی ایک طاقتور تحریک چل سکتی ہے، جیسا جون 1936ء اور مئی 1968ء میں ہوا تھا۔ فرانس میں ہزاروں محنت کش اور ٹریڈ یونین کارکنان اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر کارخانوں اور فیکٹریوں کو بند کردیا جائے تو میکرون گھٹنے ٹیک دے گا۔ وہ کم ازکم قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ بہرحال اقتدار کا سوال موجود رہے گا، کیونکہ انقلاب ہمیشہ یہ سوال اٹھایا کرتا ہے۔ اگر میکرون قومی اسمبلی تحلیل کر بھی دیتا ہے تو یہ بات یقینی نہیں کہ بورژوازی فوری طور پر آسانی سے حالات پر دوبارہ قابو پا لے گی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے محض وہ جوش و جذبہ دیکھنا ہی کافی ہے جس کے ساتھ بہت سے پیلی واسکٹ والے اس پورے سیاسی نظام سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔
اب اس کے بعد تحریک کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جمہوری اداروں سے لیس کرے۔ ایسے اکٹھ (پنچایتیں) قائم کرنے چاہئیں جو تمام جدوجہد کرنے والوں کے لیے کھلے ہوں اور وہ مقامی اور قومی سطح پر مندوبین منتخب کریں، تا کہ ہڑتالیں منعقد کی جا سکیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ کام کی جگہوں پر پھیلایا جا سکے۔ فوری مقصد معیشت کو مفلوج کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جدوجہد کرنے والوں کے یہ جمہوری ادارے محنت کش حکومت کی بنیاد بھی رکھیں گے، کیونکہ اگر میکرون حکومت کا تختہ الٹ گیا تو فوری طور یہ سوال جنم لے گا۔

ہڑتالوں کی لامحدود تحریک!
حکومت محنت کشوں کی!
انقلابِ فرانس زندہ باد!

0
0
0
s2smodern

وزیر اعظم کی امید تھی کہ وہ برسلز میں موجود اپنے ہم منصبوں کو قائل کر لے گی کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاملے پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔ لیکن EU27 کے درمیان حتمی اتفاق اس نتیجے پر ہوا کہ کوئی بھی نتیجہ اخذ نہیں ہوا! نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اگلے ماہ منعقد ہونے والے بریگزٹ سربراہی اجلاس کو منسوخ کر دیا گیا ہے

0
0
0
s2smodern

فرانس میں ہونے والے ییلے یونز (پیلی واسکٹ والوں کے) مظاہرے ایک فیصلہ کن موڑ پر آ چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے انقلابی جذبات کی وجہ سے، جن سے اب حکومت کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے، 

0
0
0
s2smodern

 

|تحریر: جارج مارٹن، ترجمہ: اختر منیر|

ایک سال قبل یکم اکتوبر کو ہونے والا کیٹالونیا کی آزادی کا ریفرنڈم کیٹالونیا اور سپین کی پوری ریاست میں سیاسی حالات کا محور بن گیا تھا۔ عوام انتہائی تیزی سے سیاسی میدان میں داخل ہونے لگے جسے ہم ’’ریپبلکن اکتوبر‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ نچلی سطح سے بہت بڑا تحرک دیکھنے میں آیا جس نے ریاستی ڈھانچوں اور جنریلیٹیٹ (کیٹالان حکومت) کے رہنماؤں کی ہچکچاہٹ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جو 1978ء کی تحریک کے بعد کی ریاست کے لیے گزشتہ چالیس برس میں سب سے بڑا مسئلہ ثابت ہوا۔

اب ایک سال بعد کیٹالان حکومت کے وہ افراد جنہوں نے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا یا تو ناقابل ضمانت گرفتار ہیں (اور غداری کے مقدمے چلنے کا انتظار کر رہے ہیں) یا جلاوطن ہیں۔ درجنوں رپبلکن کارکنان کو نفرت انگیز جذبات ابھارنے سے لے کر دہشت گردی تک کے مقدمات کا سامنا ہے اور کچھ کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اس پر مسلسل یہ تلوار بھی لٹک رہی ہے کہ اسپین کی ریاست مداخلت کرتے ہوئے کیٹالونیا کے اداروں کو دیے گئے اختیارات چھین سکتی ہے۔ کیٹالان حکومت ہسپانوی ریاست کی قائم کردہ حدود کو تسلیم کر رہی ہے۔

’’نہ بھولو نہ ہی معاف کرو‘‘

یکم اکتوبر کے ریفرنڈم کی سالگرہ ایک سال پہلے ریفرنڈم کے دفاع میں بننے والی کمیٹیوں کی جانب سے سڑکیں بلاک کرتے ہوئے اور گلیوں میں مظاہرے کرتے ہوئے منائی گئی۔ طالب علموں نے ہڑتال کردی اور 50,000 طلبہ بارسلونا کی سڑکوں پر نکل آئے۔ شام کے وقت بارسلونا اور دوسرے شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ’’یکم اکتوبر، نہ بھولو نہ ہی معاف کرو‘‘ کے نعرے کے ساتھ سڑکوں پر ریلیاں نکالیں۔ ان کا مزاج لڑاکا اور سرکش تھا اور ساتھ ہی وہ کیٹالان کی حکومت میں موجود تحریک آزادی کے رہنماؤں پر بھی شدید تنقید کر رہے تھے۔

اس بات پر لوگوں کی بے چینی بڑھ رہی ہے کہ بارسلونا میں حکومت کی حمایت کرنے والی پارٹیاں (ظاہری طور پر آزادی کی حامی PDECat اور ERC) ’’کیٹالان ریپبلک کو ایک حقیقت بنانے‘‘ اور ’’ریفرنڈم میں سامنے آنے والی عوام کی مرضی پر عمل درآمد‘‘ کی بات تو کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر انہوں نے خود کو ہسپانوی ریاست کی جانب سے مقرر کردہ حدود تک محدود کر رکھا ہے۔

مظاہرے کے آخر میں ہونے والی ریلی میں لوگوں نے کیٹالونیا کے صدر قوئم ٹورا پر آوازے کسے۔ ’’لوگ حکم دیں، حکومت مانے‘‘ کے نعرے سنائی دے رہے تھے۔ بعد ازاں کیٹالونیا کی پولیس نے کیٹلان پارلیمنٹ کے دروازوں تک پہنچنے والے اور وایا لائیٹانا کے مرکزی پولیس سٹیشن کے باہر موجود آزادی کے حامیوں پر تشدد بھی کیا۔ آزادی کے حامیوں پر پولیس کے جبر (اور دائیں بازو کے اشتعال پسندوں کے ساتھ نرمی) کی وجہ سے کیٹالونیا کے وزیر داخلہ میقیل بچ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

ماضی کے اسباق

آزادی کی تحریک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ پچھلے سال جو کچھ بھی ہوا اس سے نتائج اخذ کرنا ضروری ہے۔ لاکھوں عام لوگوں نے نیچے سے منظم ہو کر کمیٹیاں بنائیں اور پولنگ اسٹیشنوں کے کھلنے کو یقینی بناتے ہوئے ہسپانوی ریاست کی طاقت کو ٹکر دی۔ وہ پولیس کی ظالمانہ مداخلت کے آگے ڈٹے رہے۔ ان کوششوں کے بغیر ریفرنڈم نہیں ہوسکتا تھا۔

کیٹالان حکومت کے رہنما ریفرنڈم کو ہسپانوی ریاست کے ساتھ سودے بازی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے، یا اس کی ناکامی کی صورت میں یورپی یونین کو مداخلت پر مجبور کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ایک بڑی عوامی سول نافرمانی کا خیال ان کے حساب کتاب میں ہی نہیں تھا۔ یکم اور 3 اکتوبر کی عام ہڑتالوں کی شکل میں عوام کی فیصلہ کن مداخلت سے سارا منظر نامہ تبدیل ہو گیا۔ تحریک نے باغیانہ روش اختیار کر لی۔ ہسپانوی ریاست نے ریفرنڈم کو روکنے کا عزم کیا اور اس مقصد کے لیے مسلح افراد کے جتھوں کی طاقت استعمال کی۔ پر وہ ناکام ہو گئے۔ ریفرنڈم ہوا۔ لوگ جیت گئے۔

اگلے روز پیٹی بورژوا قوم پرست سیاستدان، جو تحریک کی قیادت کر رہے تھے، مفلوج ہو کر رہ گئے۔ وہ متزلزل اور تذبذب کا شکار تھے۔ 10 اکتوبر کو انہوں نے ریپبلک کا اعلان کر دیا مگر فوراً ہی اعلان کو معطل بھی کر دیا۔ انہوں نے ہسپانوی ریاست کو مذاکرات کی دعوت دی۔ ہسپانوی ریاست نے تنبیہ کی۔ ایک مرتبہ پھر کیٹالان حکومت تذبذب کا شکار ہو گئی۔ بالآخر 27 اکتوبر کو انہوں نے ریپبلک کا اعلان کر دیا مگر محض علامتی طور پر، جس کے دفاع کا وہ کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ کچھ جلاوطن ہو گئے اور باقی عہدوں سے ہٹائے جانے اور گرفتار ہونے کا انتظار کرنے لگے۔

ہسپانوی ریاست بالکل نہیں ہچکچائی۔ اس نے کیٹالان حکومت اور پارلیمنٹ کو تحلیل کیا اور قبل از وقت انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا۔ آزادی کی حامی پارٹیاں دوبارہ الیکشن جیت گئیں، مگر ہسپانوی عدلیہ نے نئی کیٹالان حکومت کی تشکیل روک دی تاوقتیکہ کوئی ایسا صدر منتخب کیا جائے جس پر ریفرنڈم میں حصہ لینے کا الزام نہ ہو۔ کیٹالان پارلیمنٹ کی آزادی کی حامی اکثریت نے احتجاج کیا مگر ہسپانوی ریاست کی جانب سے متعین کردہ حدود کو تسلیم کر لیا۔

سرمایہ داری کے خلاف، کیٹالان ریپبلک کے لیے!

پیٹی بورژوا قوم پرستوں کی جانب سے مسلسل تذبذب اور پیچھے ہٹنے کے عمل نے نہ صرف بے چینی کو جنم دیا بلکہ کیٹالان ریپبلک کی تحریک کے کارکنان میں ان کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت بھی پیدا ہوئی۔ ریفرنڈم کا ایک سال پورا ہونے پر ہونے والے واقعات میں ریپبلک کے دفاع کے لیے بننے والی کمیٹیوں اور CUP نے اپنے طور پر وسیع عوامی احتجاج منظم کرنے سے لے کر کیٹالان حکومت کی مخالفت میں کھڑے ہونے تک کے اقدامات کیے۔

ایک سال پہلے ہونے والا کیٹالونیا کی آزادی کا ریفرنڈم اسباق سے بھرا پڑا ہے۔ 1978ء کی ہسپانوی ریاست کے تناظر میں خودارادیت محض انقلابی اقدامات سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ لوگوں نے یہ اقدامات اٹھائے: عوامی تحرک، کارکنان کی تنظیم، احتجاج اور عام ہڑتالیں۔ پیٹی بورژوا قوم پرست سیاستدان اس راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں تھے اور انہوں نے تحریک کو بند گلی میں دھکیل دیا۔

نتیجہ واضح ہے: تحریک کو آگے لے جانے کے لیے ایسی قیادت درکار ہے جس کی مضبوط بنیاد ان اقدامات پر ہو جو لوگوں نے ریفرنڈم کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے تھے۔ ہزاروں کارکنان اپنے ذاتی تجربات سے یہ نتائج اخذ کر رہے ہیں۔

CRDs اور CUP کے کندھوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ریفرنڈم کی سالگرہ کے موقع پر احتجاج سرمایہ داری مخالف رنگ اختیار کرنے لگے، بینکوں کے باہر ریلیاں نکالی گئیں، (بینکوں کی طرف سے) گھر ضبط کرنے کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور بارسلونا سٹاک ایکسچینج کو بند کر دیا گیا۔ آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے۔ کیٹالان ریپبلک کے حصول اور 1978ء کی حکومت کے خلاف جدوجہد صرف تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے اگر انقلابی اور سرمایہ داری مخالف راستہ اختیار کیا جائے، جسے پورے سپین کے عوام کی یکجہتی اور حمایت حاصل ہو۔

0
0
0
s2smodern