اعلامیہ: ریولوسیو، ترجمہ: ولید خان|

مندرجہ ذیل اعلامیہ عالمی مارکسی رجحان کے کیٹالان سیکشن کے کامریڈز نے جاری کیا ہے۔ اس میں 21 دسمبر کے ’’غیر قانونی اور زبردستی مسلط کردہ‘‘ کیٹالان کے انتخابات میں کامریڈز کی CUP کے لئے حمایت، 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ کی شدید مخالفت اور جمہوریہ کیٹالان کی تحریک کے لئے ضروری لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہمیں ایسے انتخابات کا سامنا ہے جو کہ غیر قانونی ہیں اور آرٹیکل 155(کیٹالونی اداروں کے خلاف ہسپانوی ریاست کی جبری مداخلت) کے جابرانہ اور آمرانہ قانون کے تحت مسلط کئے گئے ہیں اور CUPپارٹی کے اندر بھی ہمارا یہی موقف ہے۔ کئی ہفتے گرفتاریاں اور ہراساں کرنے کی مہم اور یکم اکتوبر کے آزادی ریفرنڈم کے دوران پولیس کے بے مثال جبر کے بعد ان انتخابات کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ اس جبر کے ناصرف JxSi (کیٹالونی مخلوط حکومت United for Yes)، کیٹالونی قومی اسمبلی اور اومینیم کی قیادت پر تباہ کن اثرات پڑے ہیں، جو کہ سب سے زیادہ واضح اور ڈرامائی مثالیں ہیں بلکہ Generalitat (کیٹالونی حکومت) اور حریت پسندوں پر بھی شدید منفی اثرات پڑے ہیں۔

IMT کیٹالان سیکشن کا اخبار

دھمکیوں اور الزاموں کا ایک سیلاب ہے جو خوف و ہراس کی فضا قائم کر نے پر تلا ہوا ہے۔ ہسپانوی ریاست نے کیٹالونیا اور پورے ملک میں ہسپانوی قوم پرستی کے ہیجان آمیز تحرک کا سہارا لیا ہے اور فاشسٹ گروہوں کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے شاونزم کی فضا قائم کر دی ہے۔ ہم پوری 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ، حکومت، PSOE اور Cs، عدلیہ، بادشاہت، بورژوا ذرائع ابلاغ، سرمایہ داروں کی تنظیموں (ہسپانوی اور کیٹالونی) وغیرہ کے منظم اور پرعزم اقدامات کی بات کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں حریت پسندوں کو ہر طرح کے مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گاجس کی وجہ سے یہ انتخابات ایک غیر مساوی سیاسی لڑائی ہوں گے۔ اس غیر معمولی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حریت پسند دو مرکزی پارٹیوں کی قیادت اس وقت یا تو جیل میں ہے یا ملک بدر ہے۔ یہ پھر 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ اور ہسپانوی آئین کی اصل حقیقت کو واضح کر دیتا ہے: جابر، حق خود ارادیت اور آزادی کی شدید مخالف اور کرپٹ رجعتی اشرافیہ کی خدمت پر ہر لمحہ معمور۔

CUP کے دیگر کامریڈز کی طرح ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ انتہائی غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں، یہ یکم اکتوبر کے ریفرنڈم کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں اور انتہائی جبر کی کیفیت میں انہیں مسلط کیا جا رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک دیو ہیکل اور منظم بائیکاٹ سے کیٹالونیا (پورے ملک اور عالم) میں ریاست کی اتھارٹی مجروح ہو جائے گی اور جمہوریہ کی جدوجہد کی بنیاد پھر اسی واحد موثر طریقہ کار پر دوبارہ استوار ہو جائے گی: نافرمانی۔ لیکن، ERC اور PDeCAT کے ان انتخابات میں شمولیت کے فیصلے کے بعد ہم ان انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور ہیں۔ حریت پسند امیدواروں کی فتح رجعتی ہسپانوی شاونزم، PP کی حکومت اور پوری ریاست کے خلاف ایک کاری ضرب ہو گی۔ یعنی ہمارا نصب العین حریت پسند کیمپ کے لئے ایک بھرپور فتح اور اس کیمپ میں اس واحد طاقت کی تقویت ہے جو قابل ذکر ہے اور جو سب سے زیادہ بائیں طرف کھڑی ہے یعنیCUP۔

CUP کی کال پر ہونے والی عام ہڑتال کا ایک منظر

لیکن ہمیں اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے کہ حریت پسند کیمپ کی فتح، اس جمہوریہ کے حصول کے لئے کافی نہیں ہو گی جس کی ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ہسپانوی ریاست، ہسپانوی، کیٹالونی اور غیر ملکی بڑے کارباریوں اور سامراجی یورپی یونین کی بھرپور اور کھلم کھلا حمایت کے ساتھ کبھی بھی حق خود ارادیت کو کچلنے کے عزم سے دست بردار نہیں ہو گی۔ ہمارا دشمن مضبوط اور سفاک ہے۔ اس کا مقابلہ ہم صرف انقلابی تحرک کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں: گلیوں اور کام کی جگہوں پر عوامی تحرک اور نافرمانی، غیر متزلزل جدوجہد اور قربانی کے جذبے سے سرشار، 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ اور اس کے حامی سرمایہ دار اور سامراجی نظام سے ناطہ توڑنے کی بھرپور ہمت۔

ہسپانوی ریاست میں حق خود ارادیت ایک انقلابی فریضہ ہے۔ یقیناً اس خزاں میں سب سے بڑی فتوحات Generalitat کی نہیں بلکہ عوامی جدوجہد کا نتیجہ تھیں: 20 ستمبر، یکم اور 3 اکتوبر، 8 نومبر؛ ہڑتالیں، قبضے، براہ راست عمل اور بائیکاٹ، عوامی احتجاجوں اور عوام میں منظم CDRs(Committees for the Defence of the Republic) کے ذریعے۔ یہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اور ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ ایک انقلابی فریضے کو ایک انقلابی سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جس کی سماج کے سب سے انقلابی طبقے میں گہری جڑیں موجود ہوں یعنی محنت کش طبقے میں۔

JxSi اور سب سے زیادہ PDeCAT کا تحریک پر تسلط جمہوریہ کیٹالان کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ اس کے باوجود کہ ہم ان پر کئے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے مستقل تضادات اور لیت و لعل سے کام کرنے کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے عوامی تحریک کمزور ہوئی ہے۔ اب، وہ ان انتخابات میں بغیر کسی حکمت عملی کے حصہ لے رہے ہیں، اس اعلان کے ساتھ کہ وہ آرٹیکل 155 کی پاسداری کریں گے اور یکطرفہ اقدامات کا راستہ ترک کر دیں گے۔ اب تک جو کچھ ہو چکا ہے، کیا اس کے بعد بھی کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ ہسپانوی ریاست (یا یورپی یونین) حریت پسند کیمپ کے ساتھ مذاکرات کرے گی؟ PDeCAT اور ERC کا تامل کوئی حادثہ یا عمومی خصلت نہیں ہے: یہ ان کے بورژوا اور پیٹی بورژوا کردار کی عکاسی ہے۔

CUPحالیہ چند مہینوں میں حق خود ارادیت کی جدوجہد میں وہ واحد سیاسی پارٹی رہی ہے جو سب سے زیادہ ثابت قدمی اور عزم کے ساتھ ڈٹی رہی ہے، جس نے درست موقف اختیار کیا کہ جمہوریہ، صرف نافرمانی کے ذریعے ہی جیتی جا سکتی ہے اور اس جدوجہد کو 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ سے مکمل لاتعلقی اور سماجی حقوق کی لڑائی کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس وقت CUP کا یہ فریضہ ہے کہ وہ تحریک کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لے اور اسے وہ انقلابی کردار فراہم کرے جو فتح یابی کی اولین ضمانت ہے۔ اس فریضے کے حصول میں ہمارے قائدین کا عوامی تحریک کو منقسم کرنے کا کردار رہا ہے۔ ماضی میں CUP نے واضح انداز میں JxSi سے تعلق نہیں توڑا (اس میں یہ تلخ حقیقت بھی شامل ہے کہ انہوں نے کٹوتیوں بھرے بجٹ کی حمایت میں ووٹ بھی دیا) اور انتہائی اہم لمحات میں اس نے وہ واضح متبادل نعرے فراہم نہیں کئے جن کے ذریعے آگے بڑھنے کا راستہ تراشا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ رائے شماریوں میں CUPکی مقبولیت تعطل کا شکار ہے: ’’جلسے‘‘ پر ایک سنجیدہ تنقید (یہ خیال کہ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا عمل ہے جس کا کوئی منطقی انجام نہیں)کی عدم موجودگی اس کی منطق کو تقویت بخشتی ہے اور ان سیاسی پارٹیوں کو تقویت بخشتی ہے جو مستقل مزاجی سے اس عمل کا دفاع کر رہی ہیں، PDeCATاور سب سے بڑھ کر ERC، جبکہ بہت سارے حریت پسند حامیوں کی نظر میں CUP کوئی پریشانی یا رکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔

اپنے نقطہ نظر کے دفاع میں ہمیں ثابت قدمی اور تحمل کے ساتھ یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ PDeCAT اور ERC کی زیادہ ڈرپوک پرتیں، تحریک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور اپنے طبقاتی کردارکی وجہ سے آزادی کے لئے درکار جدوجہد کرنے سے قاصر ہیں۔ گرانولر اسمبلی (CUP) کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں جن میں PDeCAT اور ERC کے ساتھ انتخابی مہم کی مشترکہ فہرستوں کو رد کر دیا گیا ہے۔ اس لائحہ عمل کو مزید ٹھوس کرنے اور وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سرگرم اور بکھرتے بائیں بازو کا ایک مضبوط اور وسیع بلاک تشکیل دیا جائے۔ پرانی PODEM اور ECP کی پرتوں کی ریڈیکلائزیشن، جس کی قیادت البانو دانتے، مارتا سیبینا اور دیگر کامریڈز کر رہے ہیں، بہت مثبت اقدام ہے کیونکہ وہ ہمارے فطری اتحادی ہیں تاکہ حریت کیمپ کے بائیں بازو کی وسعت کو زیادہ سے زیادہ گہرا کیا جا سکے، جو 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ سے نہ صرف لفظی بلکہ عملی طور پر بھی قطع تعلقی کرے۔ سیاسی محور کو اور زیادہ بائیں جانب دھکیلنے کے ساتھ ساتھ یہ انتہائی ضروری ہے کہ سماجی محور کو محنت کش طبقے کی طرف دھکیلا جائے۔ محنت کشوں کی وسیع پرتیں جمہوریہ کے حصول اور جبر کے خلاف جدوجہد کرتے رہے ہیں، جن کی ہڑتالوں اور تحرک نے اہم لمحات میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن یہاں یہ کہنا پڑے گا کہ محنت کش طبقے کا ایک حصہ تو متحرک ہے لیکن دوسرا حصہ، شاید زیادہ اکثریت میں، پورے عمل میں متحرک نہیں ہے اور آزادی کے حوالے سے یا تو لا تعلق ہے یا پھر مخالف بھی ہے۔ اس کی وجہ رجعتی سوچ نہیں ہے، کم از کم یہ سب سے اہم وجہ نہیں، لیکن اس کی وجہ ERC قوم پرست اور اس سے بھی زیادہ PDeCAT ہے، ایک ایسی پارٹی جو کٹوتیوں اور جبر کے پروگرام پر گامزن ہے، جو کرپشن سے داغدار ہے اور یہاں تک کہ ماضی قریب میں محنت کشوں کے خلاف خوفناک اقدامات کر رہی تھی؛ کی قیادتوں پر عدم اعتماد ہے۔ ایک سوشلسٹ پروگرام کی ضرورت ہے، جو محنت کشوں میں اپنی جڑیں بنا سکے، ان میں جوش و جذبہ بھر دے اور انہیں جمہوریہ کی جدوجہد کے لئے متحرک کرے۔ جمہوریہ کے پروگرام میں واضح سماجی اور ترقی پسند روح کے ذریعے ہی اس کی محنت کشوں میں سماجی بنیادیں بنائی جا سکتی ہیں۔ جیسا کہ ویڈال اراگونز نے درست طور پر بیان کیا، ایک ایسی جمہوریہ جس کی بنیادیں کٹوتیاں اور سرمایہ داری ہو، کبھی بھی عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکتی۔ CUP کے مطالبات میں بہت مثبت اجزا موجود ہیں جن کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے اور جس کے گرد ہمیں اپنی جدوجہد کو کیٹالونیا کے بڑے محنت کش مراکز میں لے کر جانا ہو گا۔

بارسلونا میں آزادی کے حق میں ہونے والا مظاہرہ

اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں 14-2011ء کی دیو ہیکل تحریکوں کو بھولنا نہیں چاہیے جن سے میڈرڈ اور ہسپانوی ریاست کے دوسرے اہم مراکز کے درودیوار دہل گئے تھے، جو پورے جزیرہ نما میں موجودشدید غم و غصے کا واضح اظہار تھے۔ کیٹالونی جمہوریہ کی تحریک کے فطری اتحادی والیکاس کے نوجوان، آستوریا کے کان کن، مورسیا کے مکین (جو AVE تیز گام ٹرین کی دیوار کی تعمیر کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں) اور اندلس کے کسان ہیں۔ ان کی ہمدردیاں جیتنے، شاونزم کی لہر کو توڑنے اور ہسپانوی ریاست کو کمزور کرنے کے لئے ہمیں جمہوریہ کی جدوجہد کو انٹرنیشنل ازم کے رنگ میں رنگنے کی ضرورت ہے اور ان سے اپیل کرنے کی ضرورت ہے، یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم ایک مشترکہ دشمن کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ یکم اکتوبر سے پہلے، CUP اور یہاں تک کہ ERC نے پوری ہسپانوی ریاست میں بڑی سرگرم کیمپین کی۔ ’’میڈرڈ کو فیصلہ کرنے کا حق ہے‘‘ ریلی جسے PP منسوخ کرنا چاہتی تھی، میں کامریڈ نوریا گیبرٹ کی موجودگی اس پیغام کا واضح اظہار ہے جسے ملک کے طول و عرض میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس رویے کو پھر سے ثابت قدمی اور اولو العزمی سے تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ ویڈال اراگونز کا میڈرڈ کا کامیاب دورہ، جس میں اس نے کھلم کھلا الفون (2011ء کی عام ہڑتال کی پاداش میں پابند سلاسل) اور کوکا کولا کے ہڑتالیوں کے ساتھ ہماری یکجہتی اور طبقاتی جڑت کا واضح اظہار کیا، ایک درست مثال ہے۔ ہم اگر اس تمام لائحہ عمل کا خلاصہ کریں: کیٹالونی اور ہسپانوی محنت کش طبقے کی طرف ہماری تحریک کا جتنا کم قوم پرستانہ رویہ ہو گا، اتنا ہی ان میں ہم اپنا اثرورسوخ بڑھا سکیں گے۔

D-21 کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ CUP کے عملی فرائض کا تعلق، پروگرام کے فرائض کے ساتھ ہے: تحریک پر ERC اور PDeCAT کے تسلط کے خلاف ایک مستقل جنگ تاکہ نافرمانی اور قطع تعلقی کی بنیاد پر جمہوریہ کی جدوجہد کو مسلسل آگے بڑھایا جائے؛ اور تحریک کو ایک سماجی اور ترقی پسند کردار فراہم کیا جائے جو ہم پر سرمایہ داری کے بحران کی وجہ سے مسلط مستقل کٹوتیوں کی منطق کو پاش پاش کرے، جس کے حوالے سے محنت کش طبقہ پرجوش اور پر امید ہو اور پورے ملک کے محنت کشوں میں حمایت حاصل کر سکے، اور یہ صرف اسی وقت ہو گا جب اس تحریک کی ایک واضح بائیں بازو کی قیادت موجود ہو گی۔

کیٹالون جمہوریہ کی جدوجہد 1978ء کی ریاست کی تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کیٹالونیا کی ایک انقلابی تحریک پورے ملک اور عالم میں نوجوانوں اور محنت کشوں کی سرگرم حمایت اور یکجہتی جیتنے کا موجب بن سکتی ہے۔ ٹرائیکا کی طرف سے یونانی عوام کی کٹوتیوں کی زنجیر کو توڑنے کی کوششوں کو کچلنے کے بعد، سپراس اور سائریزا حکومت کی بد ترین غداری کے بعد، کیٹالونیا میں فتح یورپی حکمران طبقے کو جھنجھوڑنے کا باعث بنے گی اور اس سے پورے بر اعظم کے محنت کشوں اور نوجوانوں کوترغیب ملے گی۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh