|تحریر: آدم پال|

امریکہ کی جانب سے افغانستان سے فوج کی نصف تعداد کے انخلا کی خبریں منظرعام پر آ چکی ہیں۔ اس کے بعد ایک نئی بحث اور خطے میں طاقتوں میں توازن میں ہونے والی تبدیلی کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کے حق اور اس کی مخالفت میں بھی مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں جبکہ بہت بڑی تعداد ایسے نام نہاد دانشوروں کی ہے جو دانتوں میں انگلیاں دبائے سب کچھ حیرانگی اور پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ماضی کے بنے ہوئے رٹے رٹائے فارمولوں کو نئی صورتحال پر لاگو کرنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے اور بہت سے کرائے کے پٹھو امریکہ کے اس انخلا کا موازنہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا سے بھی کر رہے ہیں۔اسی طرح ، چین ، روس ، طالبان اور دیگرعوام دشمن سامراجی و بنیاد پرست قوتوں کی طاقت کو مبالغہ آمیزی کے ساتھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ان قنوطیوں کی بد حواسی سے قطع نظر یہ تمام تر صورتحال افغانستان سمیت پورے خطے میں بہت بڑی تبدیلیوں کا تسلسل اور سطح پر اظہارہے اور اس خطے کو آگ اور خون کے ایک نئے سلسلے کے دہانے پر لا چکی ہے۔پاکستان کے سامراجی عزائم گوکہ اس وقت پسپائی کا شکار ہیں لیکن وہ صورتحال میں مداخلت کی بھرپور کاوشیں کر رہا ہے۔ ایسے میں صورتحال کا سائنسی بنیادوں پر سنجیدہ تجزیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

امریکہ کی افغانستان میں جاری جنگ کو سترہ سال بیت چکے ہیں اور یہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بن چکی ہے۔افغانستان اور امریکہ سمیت پوری دنیا بھر میں بلوغت کو پہنچتے بہت سے نوجوانوں کی تمام تر زندگی اس جنگ کے سائے کے تحت ہی بسر ہوئی ہے۔ اس طویل جنگ نے جہاں افغانستان سمیت پورے خطے میں لاشوں کے انبار لگائے ہیں اور امریکی سامراج کے انسانیت سوزجرائم کی نئی تاریخ رقم کی ہے وہاں اس نے مزید عدم استحکام، خونریزیوں اور بغاوتوں کے بیج بھی بوئے ہیں۔2001ء میں جب امریکی سامراج نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تھا اس وقت اس کی کیفیت ایک طاقت کے نشے میں بد مست ہاتھی جیسی تھی جو اپنے مذموم مقاصد کے لیے کسی بھی خطے کو تاراج کرنے کے لیے تیار تھا۔ پاکستان سمیت تمام اتحادیوں کی کاسہ لیسی اور معاونت کے باوجود آج اس سامراج کی کیفیت ایک دم دبا کر بھاگتے ہوئے گیدڑ جیسی نظر آتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جہاں عراق سے ذلت آمیز پسپائی کے بعد شام سے بھی فوجوں کے انخلا کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس خطے میں بھی امریکی سامراج کے اثر و رسوخ میں مزید کمی آچکی ہے۔

امریکہ کی جانب سے موجودہ اعلان کے امکانات کچھ عرصے سے واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔ خاص طور پر ٹرمپ واضح طور پر اس اقدام کا حامی تھا۔ گو کہ اگست 2017ء میں جب اس نے جنوبی ایشیا کے لیے اپنی پالیسی کا اعلان کیا تو افغانستان میں فوجوں میں اضافہ کر دیا گیا جو بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔لیکن اس وقت بھی واضح تھا کہ یہ سب کچھ پسپائی کو تذلیل آمیزکی بجائے ایک فتح بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہے تاکہ سفارتی سطح پر اس کا واویلا کر کے دنیا میں اپنی بچی کھچی ساکھ بحال رکھی جا سکے۔لیکن اب واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ کے لیے یہاں زیادہ عرصہ رہنا ممکن نہیں اور وہ تیزی سے اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔گو کہ اس عمل میں بھی وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو ایک کم از کم سطح پر رکھنے کی کوشش ضرور کرے گا تا کہ اس خطے میں اس کا اثر ورسوخ کسی حد تک موجود رہے۔
اس حوالے سے خود کو بایاں بازو کہنے والے لبرل اپنے آقا سے بہت ناراض نظر آتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اس خطے سمیت شام میں بھی اپنی موجودگی کو برقرار رکھے۔ امریکی ریاست کے ایک حصے کا بھی یہی خیال ہے اورانہی بنیادوں پر امریکی وزیر دفاع جم میٹس کا استعفیٰ بھی سامنے آیا ہے۔پاکستانی ریاست میں موجود بہت سے امریکی گماشتوں کا بھی یہی خیال ہے اوریہ تمام افراد امریکہ پر ’’دباؤ‘‘ ڈال رہے ہیں کہ وہ انخلا کو مؤخر کرے۔ٹرمپ کے فیصلے میں بھی ہچکچاہٹ نظر آ رہی ہے اور انخلا کی رپورٹوں کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری کی گئی ایک ای میل بھی سامنے آ ئی ہے جس میں انخلا کی خبروں کی تردید کی گئی ہے۔امریکی سامراج کی یہ تمام تر ہچکچاہٹ اس کے خصی پن، شکستگی ، لاچارگی اور پسپائی کی غمازی کرتی ہے اور اس کی بنیادیں اس خطے سمیت پوری دنیا کی صورتحال میں پیوست ہیں جس کو سمجھنے سے یہ کرائے کے دانشور قاصر ہیں۔

آج بھی امریکہ کی پسپائی کی ایک بڑی وجہ اس کا مالیاتی اور سیاسی بحران ہے جس نے امریکی ریاست کو کمزور کر دیا ہے اور پوری دنیا میں امریکی سامراج پسپائی کا شکار ہے

اس وقت پوری دنیا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کیا گیا ورلڈ آرڈر ٹوٹ چکا ہے اور پوری دنیا دیو ہیکل تبدیلیوں کی زد میں ہے۔موجودہ صورتحال کی بنیادامریکی سامراج کا معاشی اور سیاسی بحران ہے جو درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ہے۔اس بحران کے اثرات اس خطے سمیت پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔امریکہ اور یورپ میں جہاں عوامی سطح پر بغاوتیں اور مزاحمتی تحریکیں پھیلتی چلی جا رہی ہیں وہاں 2008ء سے کئی گنا بڑے عالمی مالیاتی بحران کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ایسے میں اس خطے کی صورتحال کو باقی دنیا سے کاٹ کے دیکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

امریکی سامراج کی پسپائی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو چین اور روس پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن دونوں میں اتنی سکت اور ہمت نہیں کہ اس خلا کو پر کر سکیں اس لیے وہ ان کوششوں میں خود زیادہ بڑے بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی رائے کے بر عکس ان دونوں ممالک کا سوشلزم اور کمیونزم سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں اور یہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ان کی معیشت اور سیاست بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ایک ہی نظام کا حصہ ہونے کے باعث امریکی سامراج کی پسپائی اور بحران ان دو ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے اوران ممالک کی استحکام ، دیر پاامن اور بقائے باہمی کی خواہشات کو غارت کر چکا ہے۔اس کے علاوہ ہر خطے میں موجود مقامی ریاستیں بھی اپنے سامراجی عزائم کے ساتھ امریکہ کے خلا کو پر کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہیں ۔ افغانستان میں چین اور روس کے علاوہ یہاں ایران، سعودی عرب، قطر، بھارت اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے سامراجی عزائم واضح طور پر نظر آتے ہیں جس کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہو چکی ہے۔

اس صورتحال میں امریکی سامراج اگر لبرل دانشوروں کے مشوروں کے تحت اپنی فوجیں باہر نہیں نکالتا یا پھر ان میں کسی حد تک اضافہ بھی کر لیتا ہے، جس کے امکان دکھائی نہیں دیتے، تو بھی صورتحال کو کسی طور کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔2018ء میں افغانستان میں امریکی جارحیت کے ان تمام سترہ سالوں میں سب سے زیادہ خونریزی اور قتل و غار ت دیکھنے میں آئی اور اتحادی افواج کو اہم محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ غزنی اور فرح جیسے صوبوں کا کنٹرول بڑی قتل و غارت کے بعد کچھ عرصے کے لیے اتحادی افواج سے چھین لیا گیا جبکہ کابل سمیت دیگر اہم ترین علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہوتے رہے۔ اشرف غنی کی سربراہی میں چلنے والی افغانستان کی موجودہ حکومت جسے طالبان اب ’’کابل ایڈمنسٹریشن‘‘ کہتے ہیں مکمل طور پر ناکام نظر آئی اور جنگ بندی کی شکست خوردہ اپیلیں کرتی رہی۔ یہ نام نہادحکومت جنرل رازق جیسے اہم عہدیدار کی زندگی کی حفاظت بھی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کے سربراہ کو بھی نشانے پر لینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔یہ تمام ذلت کافی نہیں تھی کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز کر دیا جس میں طالبان کی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے رکھی جانے والی تمام شرائط بھی مان لی گئیں۔انہی شرائط کے تحت ’’کابل ایڈمنسٹریشن‘‘ کو مذاکرات سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا اور طالبان کے اہم راہنماؤں کو مختلف جیلوں سے رہا کروایا گیا۔ایسی صورتحال میں امریکی افواج اگر اپنی موجودگی کو جاری رکھتی ہیں تو انہیں ہر روز مزید ہزیمت اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ اس تمام تر موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالر امریکہ کے اندر بہت سے سوالات اور تضادات کو جنم دیتے رہیں گے جو امریکی ریاست کو حتمی طور پرکمزور کرنے کا باعث بنیں گے۔

؂دوسری جانب امریکی افواج کے انخلا سے بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا اور بہت سے لوگوں کی خواہشات کے بر عکس چین اور روس اس خطے کا مکمل کنٹرول نہیں سنبھال سکیں گے۔چین کا معاشی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کے علاوہ عالمی معاشی بحران اس کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ روس میں بھی پیوٹن کیخلاف ایک حقیقی عوامی تحریک ابھر چکی ہے جو وقت کے ساتھ پھیلتی چلی جائے گی۔ شام میں روس کی’’فتح‘‘ اس کے لیے نئے مسائل اور تضادات کا باعث بھی بنے گی۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود یہ دونوں ممالک افغانستان میں سامراجی عزائم کے تحت کلیدی کردار ادا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔چین سی پیک کو افغانستان تک وسعت دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جبکہ اپنے سنکیانگ صوبے میں اسلامی بنیاد پرستی کا ہوا کھڑا کر کے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فوجیں تعینات کر چکا ہے۔ انہی مقاصد کے تحت افغانستان میں’’ دہشت گردی سے نپٹنے‘‘ کے لیے تربیتی پروگرام بھی شروع کرنے کا ارادہ موجود ہے۔ امریکہ بھی ’’دہشت گردی کیخلاف جنگ‘‘کا نقاب پہن کر ہی یہاں اترا تھا تاکہ اسلحے کی صنعت کے منافعوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطے میں اپنے اثر ورسوخ کوتقویت دے سکے۔ چین بھی یہاں کی معدنیات کی لوٹ مار کر رہا ہے اوراس کو مزید وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔ روس بھی یہاں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ بہت سی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے طالبان کو منظم کرنے اور ان کی پشت پناہی کرنے میں اس وقت روس اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔سرکاری سطح پرطالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حالیہ سلسلے کا آغاز بھی روس نے ہی کیا تھا جس میں امریکہ کو باہر نکال دیا گیا تھا۔آنے والے دنوں میں روس کے اس کردار میں اضافہ ہونے کے امکانات واضح طور پر موجود ہیں۔

لیکن سب سے زیادہ اہم کردار ایران نے ادا کیا ہے۔مختلف رپورٹوں کے مطابق مسلکی طور پر مخالف ہونے کے باوجود ایران کی ریاست نے طالبان کی حالیہ کامیابیوں میں سب سے زیادہ معانت کی ہے اور ان کے تربیتی کیمپوں کوبڑے پیمانے پر پھیلایا ہے۔سرکاری سطح پرطالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کے آغاز کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں آنے والے عرصے میں ایران کا اثر ورسوخ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ کم از کم ایران سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں یہ اثرات آج بھی موجود ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گا۔لیکن دوسری جانب ایران کا معاشی بحران دیوالیہ پن کی حد کو چھو رہا ہے اور پورا ملک وسیع عوامی تحریکوں اور مزدوروں کی ہڑتالوں کی زد میں ہے۔شام اور عراق میں جاری سامراجی مداخلت بھی بوجھ بنتی جارہی ہے اور نئے تضادات کو جنم دے رہی ہے۔ ایسے میں افغانستان کی خونی دلدل میں پوری طرح داخل ہونا اس کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔

بھارت نے بھی گزشتہ عرصے میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اسی کے تحت ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ ان مقاصد کی حوصلہ افزائی آغاز سے ہی امریکہ نے کی ہے اور بھارت کو یہاں فوجیں بلانے کی بھی دعوت دی گئی تھی جو اس نے رد کر دی تھی۔ امریکہ نے بھارت کو ایران سے تجارت کرنے کی پابندی سے بھی استثنیٰ دے رکھا ہے جو اس کے اثر و رسوخ میں مزیداضافے کا باعث بنا ہے۔ امریکی سامراج کی پسپائی کے بعدکی صورتحال بھارت کے لیے پریشان کن ہے اور اب وہ نئے کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے پر غور کر رہا ہے یہاں تک کہ افغان طالبان سے بھی مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا جا رہا۔طالبان اور ان کے سرپرستوں کے لیے بھارت سے تعلقات کی استواری گھاٹے کا سودا نہیں ہو گی اور انہیں بہت سے خطرات سے محفوظ چھتری بھی فراہم کر سکے گی۔لیکن یہ سب کچھ سیدھی لکیر میں ہونا ممکن نہیں۔چین اور بھارت کے تضادات یہاں بھی اپنا اظہار کریں گے۔ گوکہ ایک قابل قبول حل کا سراب دکھائی تو دیتا ہے لیکن اس کا حصول نا ممکن ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے لوگ اب افغانستان کے اندرطالبان کی طاقت کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ طالبان نے امریکہ کو شکست دے دی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلے انہوں نے سوویت یونین کو شکست دی تھی اور اب امریکہ کوناکامی سے دوچار کیا ہے۔یہ سب جھوٹے پراپیگنڈہ کے سوا کچھ بھی نہیں اور حقیقت سے بہت دور ہے۔سوویت یونین کو شکست امریکہ یا اسلامی بنیاد پرستوں نے نہیں دی تھی بلکہ اس کی شکست کی وجہ اس کا اندرونی معاشی و سیاسی بحران تھا جو ایک طویل عرصے سے بتدریج جاری تھا اور بالآخر اس کے انہدام پر منتج ہوا۔سٹالنزم کی غداریوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی افسر شاہی کی زوال پذیری کو دیکھتے ہوئے انقلاب روس کے عظیم قائد ٹراٹسکی نے اس انہدام کی پیش گوئی 1934ء میں ہی کر دی تھی۔افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کے بعد بھی نجیب حکومت قائم رہی تھی جو اپنے داخلی تضادات اور نظریاتی وسیاسی غداریوں کے باعث منہدم ہوئی اور امریکہ کے حواریوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔ملاؤں کی اقتدار کے لیے قتل و غارت نے کابل سمیت پورے افغانستان کو آگ اور خون کی ایک نئی دلدل میں دھکیل دیا تھا جو آج تک جاری ہے۔

آج بھی امریکہ کی پسپائی کی ایک بڑی وجہ اس کا مالیاتی اور سیاسی بحران ہے جس نے امریکی ریاست کو کمزور کر دیا ہے اور پوری دنیا میں امریکی سامراج پسپائی کا شکار ہے۔افغانستان میں امریکہ کیخلاف ایک عمومی نفرت موجود ہے اور اس کی کٹھ پتلی حکومت معمولی سی بھی بنیادیں حاصل نہیں کر سکی۔پاکستان کی گماشتہ ریاست کو اربوں ڈالر دینے کے باوجود اس کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں کروایا جا سکا۔ بلکہ یہ جنگ اس تجربہ کار پرانے کاسہ لیس اتحادی کو بھی کمزور اور دیوالیہ کرنے کا باعث بنی ہے۔ اسی عمل میں طالبان کی بنیادیں بھی انتہائی کمزور ہوئی ہیں اورانہیں کہیں بھی عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ رپورٹوں کے مطابق آج بھی وہ ملک کے صرف 13فیصد حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ 49فیصد حصے پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی طرح داعش اور القاعدہ کی موجودگی کو بھی مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور دفاعی بجٹوں میں اضافے اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے ان بکھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے گروہوں کو ایک دیو ہیکل قوت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔گو کہ انتشار اور افرا تفری کی کیفیت میں ایسے رجعتی عناصر کو پنپنے اور پھیلنے کے بھرپور مواقع میسر آتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی نظریاتی بنیادیں کمزور ہوئی ہیں اور ان کا عوام دشمن کردار سب پر واضح ہواہے۔ان میں سے کسی کے پاس بھی یہ اہلیت نہیں کہ وہ افغانستان کے کسی بھی علاقے کا کوئی ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی حل کر پائیں۔امریکہ کی جانب سے اربوں ڈالر خرچ کر کے اگر کابل میں مستحکم حکومت نہیں کھڑی کی جا سکی تو پوست کی کاشت اور دیگر پسماندہ ذرائع پر انحصار کرنے والے گروہ کیا کر پائیں گے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

ایسے میں پاکستان کی سامراجی ریاست کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہے۔اس کے جنم سے لے کر آج تک سرپرستی کرنے والا آقا امریکہ شدید ناراض ہے اور سخت ترین پابندیوں کی دھمکیاں لگا رہا ہے۔ افغانستان سے انخلا کے بعد کسی مزید امریکی امداد کا آسرا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے علاوہ چین اور روس بھی اس پرمکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ان کے پاس امریکہ جتنے وسائل موجود ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کی سامراجی جنگ بھی خطے میں شدید تر ہوتی جا رہی ہے جس میں پاکستان واضح صف بندی میں آنے سے کترا رہا ہے۔افغان طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ بھی نہیں گو کہ مستقبل میں انہیں بہت سی سہولیات دینے کی گنجائش اور ارادے دکھائی دے رہے ہیں۔لیکن اس سب کے اخراجات کو پورا کرنے کاکوئی رستہ فی الحال دکھائی نہیں دے رہا۔اس سارے عمل میں ریاستی ٹوٹ پھوٹ اور شکست وریخت میں شدت آئی ہے اور دھڑے بندی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتحال میں خطے کے تمام حکمران اپنے مفادات کے لیے ا س خونی دلدل سے مزید منافع بٹورنے کی کوششیں کریں گے جبکہ یہاں رہنے والے کروڑوں عوام کومزید بھوک، بیماری، لاعلاجی، جہالت اور قتل وغارت کے سمندر میں دھکیل دیا جائے گا۔افغانستان کے محنت کش عوام کئی نسلوں سے اس عذاب کو بھگت رہے ہیں۔انہیں مذہبی، قومی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہوئے مختلف سامراجی طاقتوں اور سیاست دانوں نے اپنے مفادات حاصل کیے ہیں۔لاکھوں افغانیوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک کے محنت کشوں سے ان کاقومی بنیادوں پر تضاد بنانے کی بھی کوششیں کی گئی ہیں۔آج بھی ایسے زہریلے قوم پرستوں کی کمی نہیں جو تنگ نظر سوچوں سے باہر جھانکنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔سامراجی بیساکھیوں پر پلنے والے ان قوم پرستوں کے پرچار کے بر عکس آج افغانستان کے مسائل کا حل اس پورے خطے کے محنت کش طبقے کے مسائل کے حل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین ایران، پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں موجود ہیں۔ان مہاجرین اور خطے کے محنت کش طبقے کی جدوجہد الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہے۔ہر طرف محنت کش طبقے کا مفاد حکمران طبقے کے مفادات کے ساتھ ٹکراتا ہے۔ ایک کی جیت دوسرے کی شکست ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت کش طبقے کی تمام لڑائیوں کو یکجا کرتے ہوئے اس نظام کو چیلنج کیا جائے۔ یہی طبقاتی جڑت افغانستان کے عوام کو چین،روس اور امریکہ کے محنت کش طبقے کے ساتھ بھی جوڑے گی۔آج سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں پر جنگوں اور خونریزیوں سے چھٹکارا ممکن نہیں ۔ بلکہ نظام کا بحران مزید نئے ممالک کو ان جنگوں اور خانہ جنگیوں میں دھکیل رہا ہے۔ان سامراجی جنگوں کو ختم کرنے کے لیے ایک طبقاتی جنگ کی ضرورت ہے جس میں خطے کے محنت کشوں کو یکجا ہو کر اس خونی نظام کوسوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اکھاڑنا ہو گا۔جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے تحت ہی یہاں کے عوام بھوک، ننگ، بیماری، بنیاد پرستی، رجعتیت اور سامراجی غلامی سے مکمل نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh