گزشتہ کچھ ہفتوں سے سندھ میں ایک طویل عرصے کے سیاسی سکتے کے بعد بڑی ہلچل دیکھنے میں آرہی ہے۔ خاص طور پر وائس آف مسنگ پر سنز کی طرف سے کراچی پریس کلب پر لگائے گئے تین روزہ احتجاجی کیمپ پر پولیس، رینجرز اور

0
0
0
s2smodern

تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں پہلے 100 دن کے پروگرام کا بڑا چرچا ہے۔ عمران خان کے حمایتی اس پروگرام کو ’’انقلابی‘‘ قرار دے رہے ہیں جن کی اقلیت ہی اس پروگرام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ ٹاک شوز میں سیاسی مخالفین اور تجزیہ نگار اسے ایک ڈھونگ اور انتخابات سے پہلے ’’دھاندلی‘‘ قرار دے رہے ہیں

0
0
0
s2smodern

پاکستان کا سماج ایک ایسا پریشر کُکر بنتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔ یہاں کے دانشوروں کا سالہا سال تک سب سے مرغوب جملہ یہی رہا کہ ’یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘۔ اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے دلائل دیئے جاتے تھے، نئی نویلی اصطلاحات بروئے کار لائی جاتی تھیں۔ ثقافتی، تاریخی، تہذیبی ہر طرح کے جواز گھڑے جاتے تھے

0
0
0
s2smodern

انتخابات کا بہت شور مچایا جا رہا ہے اور جمہوریت کے تسلسل پر جشن منائے جا رہے ہیں۔ تیاریاں بھی زور و شور سے دکھائی دے رہی ہیں اوروفاداریوں کا بھاؤ بھی منڈی میں بڑھتا جا رہا ہے۔ گرما گرم بحثوں کا آغاز ہو چکا ہے اور ایک دوسرے پر الزامات کے آخری حملے کرنے کا وقت قریب پہنچ رہا ہے

0
0
0
s2smodern

یوں تو پاکستانی میڈیا پر دن میں کئی بار آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت جمہوریت کی گردان سننے کو ملتی ہے اور اس عمل میں سیاسی پارٹیاں ہوں، مذہبی یا قوم پرست پارٹیاں، چاہے بیوروکریٹس ہوں یہاں تک کہ ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیل بھی اس رٹے رٹائے سبق کو دہراتے نظر آتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل جمہوری عمل کے جاری رہنے میں پنہاں بتایا جاتا ہے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کا درس دیا جاتا ہے

0
0
0
s2smodern

 وانا، جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے گھر عوام کے اکٹھ پر مسلح افراد کا حملہ قابل مذمت ہے جو واضح کرتا ہے کہ طالبان ابھی بھی ان علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے خاتمے کا واویلا صرف جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ضربِ عضب اور ردالفساد کی کامیابیوں کا سہرا اپنے اپنے سر پر باندھنے کے لیے سول قیادت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں مسابقت دیکھنے سے تعلق رکھتی 

0
0
0
s2smodern

گزشتہ سات دہائیوں سے پاک و ہند دشمنی کو زندہ رکھنے کے لیے کشمیر کو تقسیم کرنے والی سرحد جسے کنٹرول لائن کہا جاتا ہے، کے آر پار بسنے والے غریب کشمیریوں کے خون کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ کنٹرول لائن پر پاک و ہندفوج کے مابین ہونے والی فائرنگ (جو فائربندی کے مختصر یا تھوڑے لمبے وقفوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتی ہے)

0
0
0
s2smodern

فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ موجودہ امکانات میں سب سے زیادہ قابل عمل قدم ہے، تاہم اس عمل میں مجرمانہ تاخیر سے کوئی انکار نہیں۔ 7 ایجنسیوں اور 6 فرنٹیر ریجنز پر مشتمل یہ علاقے ’’آزادی‘‘ کے نام پر 1901ء سے انگریز سامراج کے مسلط کردہ ہولناک قوانین، ایف سی آر کی شکل میں بدترین غلامی کا طوق پہنے ہوئے تھے

0
0
0
s2smodern

سال 2018ء کا یوم مئی ایک ایسے عہد میں منایا جائے گا جب سرمایہ داری کی تاریخ کا سب سے گہرا اور بد ترین بحران دسویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پورے کرۂ ارض پر تلاطم خیز تبد یلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انقلابات اور رد انقلابات،جنگیں اور خانہ جنگیاں،پرانی سامراجی طاقتوں کا زوال اور نئی سامراجی قوتوں کا ابھار،کئی ریاستوں کا انہدام اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلقات

0
0
0
s2smodern

موجودہ دور میں خواتین کے استحصال اور جبر کی وجوہات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔ آج کے تمام تر انسانی معاشروں میں خواتین کی اکثریت کے عمومی حالات، اس کی کم تر حیثیت، اس کا معاشی استحصال اور صنفی جبر کی جو انتہائیں ہمیں نظر آتی ہیں یہ ہمیشہ سے وجود نہیں رکھتی تھیں

0
0
0
s2smodern