تحریر: انعم خان|

ہم سال 2018ء میں محنت کش خواتین کا عالمی دن انتہائی غیر معمولی حالات میں منانے کی طرف جا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ بحران کے دس سالوں نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، بحران سے پہلے سیاسی افق پر سکوت ایک معمول تھا، لیکن دس سال سے جاری اس معاشی بحران میں تحریکیں اور بغاوتیں ایک نیا معمول بن چکی ہیں۔ قرضوں کے بڑھتے ہوئے انبار پر سوار حکمران طبقات دس سال بعد بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ اس بحران سے کیسے نپٹا جائے؟ یہ قرضوں کے انبار ہی تھے جنہوں نے سرمایہ داری کو بحران میں دھکیلا، اوربحران کے آغاز کے بعد بھی انہی قرضوں کے ذریعے مصنوعی بحالی کرنے کی کوششیں کی گئیں جس کی وجہ سے آج پہلے سے بڑے بحرانی زلزلوں کے حالات تیار کئے جا چکے ہیں۔  

ٹرمپ کی جیت کے بعد ہونے والا ویمن مارچ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ احتجاج تھا

ہر جگہ حکمران طبقات اپنے پیدا کئے گئے معاشی بحران کا خمیازہ کٹوتیوں اور معیار زندگی پر حملوں کی صورت میں محنت کش عوام پر ڈال رہے ہیں۔ لیکن محنت کش عوام اور نوجوان سرمایہ داری کے خلاف بغاوتیں کرتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بحران اور بغاوتوں نے سرمایہ داری کی پیدا کردہ پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کی تقسیم کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ بہت طاقتور، نارمل اور کمزور سرمایہ دارانہ دنیائیں سب ایک سی ہو گئیں ہیں، خاص کر ان میں حکمرانی کر نے والے سرمایہ داروں کا ذہنی توازن، اب پاکستانی سرمایہ داروں اور حاکموں سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ ٹرمپ جیسے نفسیاتی مریض کا سرمایہ داری کے کعبے کا صدر منتخب ہونا سرمایہ داری کی صحت کی درست عکاسی کر رہا ہے۔

دنیا بھر میں مختلف کیفیتوں میں جاری طبقاتی جنگ کے معرکے میں حکمرانوں کے حملے اور لوگوں کی بغاوتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ حکمران طبقات بحران کا سارا نزلہ عوام پر منتقل کر رہے ہیں اور پھر عوام پر پڑنے والے اس بوجھ سے سب سے زیادہ محنت کش خواتین ہی متاثر ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقے کی طرف سے کیے جانے والے معاشی حملوں کے خلاف ہونے والی بغاوتوں میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ کیونکہ معاشی اذیتیں بھی سیاسی، سماجی اور ثقافتی حملوں کی صورت میں سب سے بڑھ کر پھر خواتین کو ہی متاثر کرتی ہیں، جن کے خلاف سماج کی یہ پسماندہ سمجھی جانے والی پرت پوری آب و تاب سے طبقاتی معرکے میں صفِ اول میں لڑتی نظر آرہی ہے۔ ٹرمپ کے خلاف خواتین نے پچھلے سال تاریخ کے سب بڑے احتجاجی مظاہرے کئے۔ کیٹالونیا کی آزادی کی تحریک ہو یا ایران میں ملائیت کے خول میں لپٹے سرمایہ دار حکمرانوں کے خلاف بغاوتیں ہوں، ہر جگہ خواتین آگے بڑھ کر لڑ رہی ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان میں باغیانہ روش کی آبیاری کا سال رہا، ایک طرف مشال خان اور قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبہ تحریک کی ابتدائی جھلکیاں دیکھنے کو ملیں تو دوسری طرف زینب قتل پر ہونے والے احتجاجوں نے یہ واضح کر دیا کہ یہاں کے محنت کش، عام عوام اور نوجوان عذابوں سے بھرا معمول بن چکی زندگی کو اب برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان کے حکمران طبقات کی صورت حال دیکھیں تو واضح پتہ چلتا ہے کہ معیشت کی بہتری، انفراسٹرکچر کی تعمیر، معاشرے کی عمومی ترقی کبھی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی کبھی ہو گا۔ معیشت اور انفرا سٹرکچر کے صرف ان منصوبوں پر کا م کیا جاتا ہے جن سے ان کی اپنی ’ترقی‘ ہوسکے۔ مثلاًشریف برادران کے حوالے سے یہ لطیفہ مشہور ہے کہ اگر صحت اور تعلیم میں بھی لوہا صرف ہوتا تو آج یہاں یہ محکمے بدحالی کا شکار نہ ہوتے، کیونکہ یہ لوہے کے بیوپاری ہیں۔  

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی سماج کبھی بھی یکسانیت کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس میں تضاد اور امتیاز ہمیشہ موجود رہے گا۔ بلکہ سچ پوچھیں تو یہی تضاد ہی انسانی معاشرے کا حقیقی حسن ہے۔ رنگا رنگی اور متنوع مزاجی زندگی کی علامات ہیں۔ لیکن ہر معاشرے میں کچھ تضادات فطری ہوتے ہیں اور کچھ غیر فطری۔ مثال کے طور پر مرد اور عورت میں پایا جانے والا تضاد فطری ہے جبکہ عالیشان محلوں اور جھونپڑ پٹیوں یا ٹوٹے پھوٹے بغیر چاردیواری والے سکولوں، ہسپتالوں اور بلندو بالا عمارات میں قائم تعلیمی اداروں اور نجی ہسپتالوں کا تضاد سراسر غیر فطری اور نا قابلِ قبول ہے۔ اور یہ انسانی سماج کے حقیقی حسن کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی اس سرمایہ دارانہ بدصورتی نے مرد عورت کی فطری تقسیم کو غیر فطری بنا کر خواتین کے مصائب میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ معیشت کی معاشی زبوں حالی کی وحشتیں بھی پھر خواتین کو سب سے زیادہ اپنا شکار بناتی ہیں۔ صحت، تعلیم، لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روز گا ری، وسائل اور انفراسٹرکچر کی کمی، ثقافتی پراگندگی میں اضافے کا باعث بن کر ریپ اور گینگ ریپ، ونی، کاروکاری، کم عمری کی شادیاں، جسمانی و نفسیاتی تشدد، غیرت کے نام پر قتل اورایسی دیگر کئی وحشتوں کو بڑھا کرخواتین کے استحصال کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری طرف ان تما م مصائب کو اپنا مقدر سمجھ کر برداشت کرنے کی سوچ کو تقویت دینے کے لیے مذہب کا استعمال کیا جاتا ہے، جو جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔

سندھ میں خواتین نائیجیریا کی غریب خواتین سے زیادہ غزائی قلت کا شکار ہیں

صحت کے حوالے سے دیکھیں تواقوامِ متحدہ کی 15 فروری 2018ء کوڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’48 فیصد پاکستانی خواتین کو خود اپنی صحت کے معاملات میں رائے دینے کا حق ہی حاصل نہیں ہے !اس حوالے سے پشتون خواتین سب سے زیادہ محروم ہیں۔ ‘‘’وعدوں کو عمل میں تبدیل کرنا: 2030ء میں صنفی برابری کا حصول ‘ نامی اس رپورٹ کے مطابق؛ نائیجیریا کے غریب ترین دیہی علاقوں، ساحلی اور مغربی افریقی علاقوں کی فیولانی خواتین میں غذائی قلت کی وجہ سے جسمانی کمزوری (Low Body Mass)کی شرح 18.9فیصد ہے جبکہ غریب دیہی سندھی خواتین میں یہ شرح40.6فیصد ہے! ‘‘ یعنی نائیجیریا کی غریب ترین دیہی خواتین کی بد حالی اپنی سندھی بہنوں سے پچاس فی صد بہتر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین گھریلو ضروریات میں بھی شدید محرومی کا شکار ہیں، مثال کے طور پر کھانا پکانے کے صاف ستھرے ایندھن (سوئی گیس، لکڑی، بجلی یا کوئلہ وغیرہ )کے حوالے سے یہاں کی 63.3فیصد خواتین محرومی کا شکار ہیں۔

اسی طرح دوران زچگی خواتین کی اموات کی شرح بھی خوفناک ہے، پاکستان ہیلتھ ڈیموگریفک سروے کی اکتوبر 2014ء کی رپورٹ کے مطابق ہرایک لاکھ میں سے272 مائیں دوران زچگی جان کی بازی ہار دیتی ہیں، بلوچستان میں یہ شرح سب سے خوفناک ہے جہاں 785 خواتین دوران زچگی جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ یہ رپورٹ بہت پرانی ہو چکی اور اس کے بعد سے اب تک سترھویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کے شعبے کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی کے بعد یہ شعبہ پہلے سے زیادہ تباہ حال ہے، جس کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اب اس سے کہیں زیادہ مائیں موت کی بے رحم ڈائن کا لقمہ بن رہی ہوں گی۔  

19 اکتوبر2017ء کو ڈان اخبارمیں شائع ہونے والی عالمی ادارۂ صحت کے مرتب کردہ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان میں زچہ و بچہ کی صحت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی اور غربت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زچہ و بچہ کی صحت میں مسلسل ابتری کاثقافتی اظہار بیٹے کو ترجیح دے کر ہوتا ہے۔ پاکستانی بچیوں کواپنے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں ویکسینز کا مکمل کورس نہیں کروایا جاتا۔ اس عمل میں کچھ تبدیلی تو آنا شروع ہوئی لیکن گزشتہ تیس سالوں سے موجود اس نابرابری کا مطلب یہ کہ نوجوان لڑکیاں اور خواتین قابلِ علاج بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ ‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں دونوں اصناف میں ڈائریا اور نمونیا کے علاج کی مانگ میں کمی آئی ہے، لیکن بچیوں میں یہ کمی زیادہ ہے، جس کامطلب ہے کہ ماضی کی نسبت بچیوں میں ان بیماریوں کا علاج بھی کم ہی کرایا جائے گا۔ ‘‘

غریب ترین دیہی علاقوں کی 98.8 فی صد خواتین تعلیمی غربت کا شکار ہیں

اسی طرح تعلیم کے حوالے سے بھی اقوامِ متحدہ کی 15 فروری کی رپورٹ کے مطابق، غریب ترین دیہی علاقوں کی 98.8 فی صد خواتین تعلیمی غربت کا شکار ہیں، یعنی انہوں نے چھ یا اس سے بھی کم تعلیمی سال مکمل کئے ہیں۔ ‘‘ اسی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں خواتین کے لیے روزگار کے مواقع کے حوالے سے حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جس میں امیرترین خواتین میں روزگار کے حصول کی کمی 86.8فیصد ہے جبکہ غریب ترین خواتین میں یہ کمی 53.3فیصد ہے۔ ‘‘ اس کا مطلب ہے کہ وائٹ کالر روزگار کے مواقع خواتین کے لیے بہت کم ہیں اور انہیں زیادہ تر کم تنخواہوں والی اور زیادہ مشقت والی نوکریاں ہی کرنی پڑتی ہیں جیسا کہ گھروں میں غیر انسانی مشقت اور فیکٹریوں اور کھیتوں میں انتہائی کم اجرت کے عوض کام۔ اسی رپورٹ کا ایک مفہوم یہ بھی نکلتا ہے پاکستان میں محنت کش خواتین کی تعداد معاشی طور پر خود کفیل یا مردوں پر معاشی انحصار کرنے والی درمیانے طبقے کی خواتین سے کہیں زیادہ ہے۔

صحت اور تعلیم جیسی بنیادی انسانی ضروریات کا فقدان پاکستان کی اکثریتی آبادی کولاحق ہے، لیکن اس زمرے میں بھی زیادہ استحصال خواتین اور بچیوں کا ہوتا ہے۔ معاشرے میں انفراسٹرکچر کی پستی اورروز بروز بڑھتا معاشی دباؤ ایک پسماندہ مردانہ معاشرے میں خاندان کی ٹوٹ پھوٹ، نفسیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن کر عورت کے صنفی استحصال کو بھی کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ خواتین پر استحصال کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے بد ترین خطوں میں ہوتا ہے۔ نہ صرف خواتین بلکہ چھوٹے بچوں اور خاص کر بچیوں کے جنسی استحصال میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک بچی اور ہر چھ میں سے ایک بچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے۔ بچوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں826 17 کیس’ رجسٹر‘ کئے گئے، یعنی منظر عام پر لائے گئے اس حساب سے دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے بہت ہی قلیل تعداد میں کیسز رجسٹر ہوتے ہیں۔ اور زیادہ تر بچوں اور بچیوں کے والدین ثقافتی دباؤ اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کے باعث خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان میں ہر دو گھنٹوں میں ایک خاتون کا ریپ کیا جاتا ہے، اسی طرح ہر چار سے آٹھ دنوں میں ایک گینگ ریپ کا واقعہ ہوتا ہے

بچوں کے علاوہ بالغ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے اعداد و شمار بھی دہلا دینے والے ہیں۔ دی نیشن اخبار میں 24 دسمبر2015ء کوہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’پاکستان میں ہر دو گھنٹوں میں ایک خاتون کا ریپ کیا جاتا ہے، اسی طرح ہر چار سے آٹھ دنوں میں ایک گینگ ریپ کا واقعہ ہوتا ہے۔ ‘‘ایسے ہی 12 جنوری 2016ء کی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ریپ کیسز کے حوالے سے دنیا کے دس سنگین ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ یہاں کی دونمبر سماجی، ثقافتی و اخلاقی قدریں اتنی گھٹیا ہیں کہ ان حادثات کا الزام بھی خواتین پر ڈالا جاتا ہے، اسی لیے بدنامی سے بچنے کے لیے زیادہ تر واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ کام کی جگہوں پر خواتین کو جنسی طور ہراساں کرنا بھی ایک معمول بن چکا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 2اگست 2010ء کی اشاعت میں ہیومن ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ہر گھنٹے میں دو خواتین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔ یہ رپورٹ یقیناًگھریلو تشدد کے حوالے سے تھی جس میں یہ معصوم خواتین اپنے ہی بھائی، باپ یا خاوند کے ہاتھوں مار کھا کر بھی ’خدا کا شکر‘ ادا کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ گھر سے باہر بھی ان کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ صرف یونیورسٹیوں کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں آپ کوشاید ہی کوئی ایسی لڑکی ملے جسے ہراساں نہ کیا گیا ہو۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر دوران حج و عمرہ جنسی طور ہراساں ہونے واقعات گردش کر رہے ہیں، بی بی سی اردو کی 10فروری2018ء کی رپورٹ کے مطابق چند گھنٹوں میں ہی پاکستان سمیت دنیا بھر سے 2000 سے زائد خواتین نے ’’ہیش ٹیگ ماسک می ٹو‘‘ (#MosqueMeToo!) کا استعمال کیا۔ یعنی دورانِ ادائیگی حج و عمرہ، جسے مذہب اسلام کی رو سے سب سے روح پرور مذہبی سرگرمی سمجھا جاتا ہے، اور خانہ کعبہ جسے مقدس ترین جگہ خیال کیا جاتا ہے وہاں بھی طواف کرتے ہوئے خواتین کو بخشا نہیں جاتا، اور ہراساں کرنے والے بھی مذہبی فرائض سر انجام دینے ہی آئے ہوتے ہیں۔  

ہر سانس پر خود کو مہذب مذہبی معاشرہ گرداننے والے اخلاقی مافیا کے منہ پر یہ اعداد و شمار ایک زور دار طمانچے کے مترادف ہیں۔ لیکن گذشتہ چند مہینوں سے اس اخلاقی مافیا کے سیاسی و معاشی کعبے یعنی خود سعودی عرب میں بھی ’’اخلاقی زلزلوں‘‘ کے شدید جھٹکے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ معاشی بحران کے باعث سعودی معیشت شدید تناؤ کا شکار ہے اوروہاں سیاحت کو فروغ دینا سعودی حکمران طبقے کی مجبوری بنتا جا رہا ہے جس کے باعث خواتین کو ڈرائیونگ، مرضی کے کپڑوں، محرم کی اجازت کے بغیر گھومنا پھرنا، سٹیڈیم اور سینما میں جانے کی آزادی سمیت اب حال ہی میں ویلنٹائن ڈے کو بھی حلال قرار دے دیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اب کاروبار کرنے یا تعلیم وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کسی خاتون کو اپنے باپ یا خاوند یا کسی ولی کی اجازت درکار نہیں ہو گی۔ جب کہ پاکستان میں ان کے دلال ملاّہر سال کی طرح اس سال بھی ویلنٹائن ڈے پر’’حیا ڈے‘‘ منانے کی مہم چلا رہے تھے۔

سعودی عرب ایک لمبے عرصے سے پوری دنیا میں مذہبی و اخلاقی معاملات کا چیمپئن چلا آ رہا تھا، لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پیدا ہونے معاشی بحران نے اس کا یہ نقاب اکھاڑ پھینکا ہے اور ثابت کر دیا ہے حکمران طبقات چاہے کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتے ان کی بنیادیں اور عیاشیاں ان کے نظام کے تحفظ میں ہیں جس کے لیے یہ کوئی بھی روپ دھار سکتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حکمران طبقات مذہب، اخلاقیات، مسلک اور قومیت سمیت تمام تعصبات کو محنت کشوں اور نوجوانوں کو تقسیم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن بس وہاں تک جہاں تک یہ ان کی حاکمیت اور نظام کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ ایک وقت تک مذہبی لبادہ اوڑھ کر نظام چلایا گیا لیکن جیسے ہی معیشت چلانے کے لیے ٹور ازم کی انڈسٹری کے فروغ کی ضرورت پیش آئی تو اس لبادے کو اتارنے میں انہوں نے لمحہ بھرکی ہچکچاہٹ نہیں کی۔ ہم مارکس وادی خواتین کوملنے و الی ان تھوڑی بہت ثقافتی آزادیوں کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن بہت جلد ہی سعودی خواتین پر یہ بات آشکار ہو گی کہ سرمایہ داری کے ہوتے کوئی بھی آزادی معاشی آزادی کی جگہ نہیں لے سکتی اور آبادی کی اکثریت کی معاشی آزادی سرمایہ داری میں ممکن نہیں خواہ وہ مذہبی طرز کی سرمایہ داری ہو یا پھر نام نہاد لبرل جمہوریت۔  

سرمایہ داری کوئی پہلا طبقاتی نظام نہیں ہے۔ لیکن یہاں تک آتے آتے معاشرے کی طبقاتی تقسیم اپنی انتہاؤ ں کو پہنچ گئی ہے، جو اب اپنے اختتام کے راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ معاشرے کی یہی طبقاتی تقسیم ہی تھی جس نے عورت کے استحصال کی بنیاد ڈالی تھی، جو آج خاص کر پاکستان جیسے معاشروں میں درندگی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بظاہر تو مرد اس سب کا ذمہ دار نظر آتا ہے لیکن یہاں پر مرد بھی انہی سماجی و ثقافتی قدروں پر چلتا ہے جو کہ طبقاتی و معاشی نظام نے اس کے لیے بنائی ہیں۔ اس لیے ہم مارکس وادی مردوں کو اور معاشرے کی محض نفسیات اورسوچ کو تبدیل کرنے کی بجائے اس نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کا پرچار کرتے ہیں جو کہ اس نفسیات اور سوچ کو پروان چڑھانے کی مادی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ اس کی سب سے آسان مثال تنخواہوں میں موجود صنفی فرق کے خلاف جدوجہد کے عمل سے لی جا سکتی ہے۔ ایک ہی پوسٹ پر کام کرنے والے مرد اور عورت کی تنخواہ میں مالکان فرق روا رکھتے ہیں، ان کا مقصد ایک طرف تو تنخواہوں میں کمی کے رحجان کو بڑھانا ہوتا ہے تو دوسری طرف مزدوروں کو صنفی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر نسوانیت پرست اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور تنخواہیں برابر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں(ویسے پاکستانی نسوانیت پر ست محنت کش خواتین کے مسائل اور عذابوں میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے)۔ اس کے بر عکس ہم مارکس وادی دونوں کی تنخواہیں برابر کرتے ہوئے انہیں بڑھانے کے مطالبے کے گرد مزدوروں کے ساتھ عملی جدوجہد کرتے ہیں۔ ہم سبھی مزدوروں کو قائل کرتے ہیں کہ خواتین مزدوروں کی تنخواہیں بڑھنا مجموعی طور پر مزدور طبقے کے حقوق کی جنگ ہے جسے مل کر لڑنا ہوگا۔ اس طرح ہم صنفی جدوجہد کو طبقاتی لڑائی کا حصہ بناتے ہوئے محنت کشوں کو اس نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کے عملی کام میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس کو ایک اور مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ محنت کشوں کی عمومی تنخواہوں میں اضافے کی جدوجہد کا حصے بننے سے پہلے خواتین کو اپنی تنخواہیں مرد محنت کشوں کے برابر کرنے کی جدوجہد تک ہی خود کو محدود کرنا چاہیے اور اسے حقیقت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں، ہم ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ مرد اور عورت کی اجرت میں واضح فرق ہے مگر کیا مرد محنت کشوں کی اجرتیں اس فرق کے باوجود مطلق حیثیت میں اتنی ہوتی ہیں جن میں ان کا اور ان کے بیوی بچوں اور بزرگوں کا گزارا ہو سکے؟اور اگر نہیں تو کیا ان کے خاندان کی عورتیں بھی براہِ راست ان مرد محنت کشوں کی اجرتوں کے رحم و کرم پر نہیں ہیں؟ اور اگر مرد محنت کشوں اور محنت کش خواتین دونوں کے لیے اجرتوں کو افراطِ زر سے منسلک کرتے ہوئے اتنی اجرت کے مطالبے کو مشترک مطالبے کی شکل دے دی جائے جتنی رقم میں ایک انسانی زندگی گزارنا ممکن ہو سکے تو کیا یہ زیادہ قابلِ عمل، فطری اور حقیقت پسندانہ مطالبہ نہیں ہو گا؟اور پاکستان میں مطالبے کی یہ رقم یقیناًایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہونی چاہیے۔ اس مشترکہ مطالبے کے گرد بننے والی کوئی بھی تحریک اگر اپنا حتمی مقصد حاصل نہ بھی کر سکے تب بھی بحیثیتِ مجموعی مرد اور خواتین محنت کشوں کی اجرتوں میں خاطر خواہ اضافے کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ انہی بنیادوں پر ہم کہتے ہیں کہ عورت پر استحصال کی لڑائی در اصل طبقاتی جنگ کے میدان میں ہی لڑ کر جیتی جا سکتی ہے۔ خاص کر پاکستان جیسے خصی سرمایہ دار ملک میں، جہاں تھوڑے بہت قوانین بھی ان کے لیے راہ نجات نہیں بن پاتے، یہاں خواتین کے استحصال کا خاتمہ صرف ایک سوشلسٹ انقلاب ہی کر سکتا ہے۔

لبرل دانشور اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے فعال خواتین و حضرات اکثر ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ طبقاتی تضاد کی بات کرتے ہو اور آپ کو یہ سادہ سی حقیقت دکھائی نہیں دیتی کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ ہم ان سے جواباً یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کو یہ نظر نہیں آتا کہ خواتین بھی آپس میں برابر نہیں ہیں۔ اور اس حقیقت کی سادگی شاید اول الذکر حقیقت کی سادگی سے کئی گنا زیادہ نمایاں اور واضح ہے۔ گھر میں کام کرنے والی عورت پر جسمانی تشدد مرد نہیں عورتیں ہی تو کرتی ہیں۔ اور اس ظلم کا شکار خواتین اور ظالم خواتین کی زندگیاں، مصائب اور ان کا حل کیسے ایک یا مشترک ہو سکتا ہے۔

اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبات کا انتظامیہ کے جبر کے خلاف احتجاج

اس حوالے سے پاکستان میں چلنے والی حالیہ تحریکیں بھی اسی بات کا اظہار ہیں کہ یہاں چاہے تعلیمی اداروں کے مسائل ہوں یا فیکٹریوں کے، ہر جگہ خواتین اپنی جدوجہد میں مرد ساتھیوں کے ساتھ نہ صرف شانہ بشانہ بلکہ کئی جگہوں پر تو ان سے آگے بڑھ کر لڑتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ ان دنوں بولان میڈیکل کالج کے طلبہ کی شاندار تحریک جاری ہے جس کو 17 فروری کو حکامِ بالا نے پولیس تشدد کے ذریعے ڈرا کر ختم کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے جب دھرنا ختم کرنے کے لیے تشدد شروع کیا تو اس دوران طالبات کی بڑی تعداد نے پولیس سے مقابلہ کیا اور انہیں مارا بھی۔ جب پروگریسو یوتھ الائنس کے ایک نوجوان کوچند پولیس والے گھیر کر مار رہے تھے تو ایک طالبہ نے اپنے ساتھی کے دفاع میں بڑھ کر پولیس والے کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک اورخاص کر یہ تھپڑ ان تمام تر لوگوں کے منہ پر مارا گیا ہے جو پاکستان میں صنفی تفریق کوپروان چڑھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تھپڑ پاکستان کے حکمرانوں اوراس ریاست پر آنے والی طلبہ تحریک کی جانب سے پہلی یلغار بھی ہے۔ جو بہت جلد ابھر کر یہاں کے محنت کش طبقے کے شانہ بشانہ چلتے ہو ئے نہ صرف طبقاتی نظام کا خاتمہ کرے گی بلکہ خواتین پر ہونے والے استحصال کے خاتمے کی بنیادیں بھی یہیں سے پڑیں گی۔ بولان میڈیکل کالج کے طلبہ کی یہ شاندار تحریک بالعموم اور ایک دلیر اور پرعزم طالبہ کی طرف سے ریاستی غنڈے کے منہ پر پڑنے والا یہ تھپڑ مظلوموں کی طرف سے ظالموں کے خلاف جنگ کی شروعات کا واضح اور دو ٹوک اعلان ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہی محنت کش خواتین کے عالمی دن 2018ء کا اس سفاک ریاست اور حکمرانوں کو واضح پیغام ہے کہ اب تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔  

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh