تحریر: ناصرہ وائیں|

دور جدید میں سائنسی ترقی کی بدولت انسان مریخ تک تو جاپہنچا ہے لیکن اس کرۂ ارض پر بسنے والی اکثریت جن حالات میں زندگی کا بوجھ ڈھونے پر مجبور ہے ان میں بہتری کے بجائے ابتری ہی دکھائی پڑتی ہے۔ آج کوئی اخبار کھول لیا جائے یا پھر الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا پر ایک سرسری سی نگاہ دوڑائی جائے تو ہمیں سماج کی ایک بڑی پرت سراپا احتجاج دکھائی دیتی ہے۔ ان بدترین سیاسی، معاشی وسماجی حالات کا شکار سماج کا جزو اول یعنی خواتین ہیں جن کو عقل و شعور اور جسمانی طاقت کے لحاظ مرد سے کمتر سمجھا جاتا ہے اسی بنا پر ان کوبورژوا دانشور نام تو صنف نازک کا دیتے ہیں لیکن ان کے ساتھ رویہ حیوانوں جیسا روا رکھا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کش خواتین کن کن مسائل سے دوچار ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ محنت کش طبقہ کی خواتین کن مسائل کا شکار نہیں ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔ ان کی خستہ حالت، سماجی ناانصافی اور استحصال کی وجہ مرد ہیں یا پھر ملا یا پھر کوئی اور؟ اس مضمون میں ہم عورت کے بارے پائے جانے والے چند مغالطوں اور مسائل کا تجزیہ وحل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ خود کو کمزور اور کمتر سمجھنے والی جزو اول اپنی تاریخی اہمیت جان کر مستقبل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

سب سے پہلا مغالطہ تو یہ ہے کہ ’’عورت مرد سے کمتر ہے۔ ‘‘مرد معاشی، تہذیبی، سیاسی اور ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں عورت اس کی ماتحت اور فرماں بردار کا کردار دا کرتی ہے۔ طبقاتی سماج کے مراحل : غلام داری، جاگیر داری اور سرمایہ داری میں اس کی یہی حیثیت رہی ہے۔ یہ ایک ایسی کہاوت ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا کہ مرد سماجی لحاظ سے برتر ہے کیونکہ وہ ’’قدرتی طور پر برتر واعلیٰ ہے۔ ‘‘ دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ عورت جسمانی ساخت کے اعتبار سے مرد سے کمزور ہے۔ تیسرا مغالطہ عورت کی قسمت روز اول سے ہی ایسی ہے کہ وہ مرد کی ماتحت ہی رہی ہے۔ ا ور ایک بڑا مغالطہ کہ اگر سماج میں عورت نے حیثیت کو منوانا ہے تو اس کو مردوں کے برابر حقوق دیئے جائیں۔ فیمینسٹ کہتے ہیں کہ عورت کی اس حالت کا ذمہ دار مرد ہے ۔ لہٰذا عورت کو مرد کے برابر حقوق ملنے سے تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ پھر لبرل سوچتے ہیں کہ اگر ریاست سیکو لر ہو جائے اور ہر فرد کو اظہاررائے اورملکیت کے حقوق دئیے جائیں، ملائیت ختم ہو جائے تو سب اچھا ہو جائے گا۔ ایک اور مغالطہ بھی ہے جو ناصرف عورت کیلئے زہر قاتل ہے بلکہ مرد کے لئے بھی؛صوفی ازم یا پھر اپنی ہستی میں کھو جانے سے دورِ جدید یعنی سر مایہ داری کے تمام مسائل نا پید ہو جائیں گے۔ الیکٹرونک میڈیا پر ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے خوبصورت اور قیمتی لباس میں ملبوس خواتین و حضرات پسے ہوئے طبقہ کی زرد رنگت اور چیتھڑوں میں تن ڈھانپنے والی محنت کش خواتین کی ذہن سازی کی کوشش کرتے ہیں کہ معروض تو ٹھیک ہے بلکہ یہ باور کرواتے ہیں کہ جس دنیا میں آپ لوگ زندہ ہیں وہ تو جنت گم گشتہ ہے بس اس کو اپنے اندر سے محسوس کریں۔ ساری خرابی توآپ کی ذات میں ہے، باقی تو سب اچھا ہے۔ یہ سب اس منفی سوچ کا سراب ہے جو آپ کے سامنے جنت کو دوزخ بنا کر پیش کرتا ہے اگر آپ مثبت انداز میں سوچیں گے توپھرسماج میں موجود سر مایہ داری کی تمام غلاظتیں، ناانصافیاں، عورت کے ساتھ کیا جانے والا امتیازی سلوک، صنفی امتیاز وغیرہ وغیرہ سب اڑن چھو ہو جائے گا۔

آئیں! ہم اپنے تجزیہ کا آغاز پہلے مغالطے سے کرتے ہیں کہ ’عورت مرد سے کمتر ہے‘ آیا کہ ایسا ہے یا پھر اس جھوٹ کو سچائی کا لبادہ پہنانے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ ’مرد سماجی لحاظ سے برتر ہیں اس لئے فطری طور پر بھی عورت سے اعلیٰ ہیں ‘ یا اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ’عورتیں فطری لحاظ سے کمتر ہیں اس لئے سماجی لحاظ سے بھی‘۔ عورت کو ’پاؤں کی جوتی ‘سمجھا جاتا ہے۔ یا پھر اس کو کم عقل یا اس کے ٹیڑھے پن کا تصور بھی سماج میں موجود ہے ۔ سرمایہ داری نظام محنت کشوں کو مختلف اندازمیں تقسیم کر تا ہے تاکہ وہ سب مل کرسرمایہ داری کا تختہ نہ الٹ دیں۔ ساری تقسیم ذاتی ملکیت کے تحفظ کے لئے ہے۔ ورنہ ا انسانی سماج کی کی ابتدا میں مرد اور عورت میں ایسی تفریق موجود نہیں تھی۔ بلکہ جب تاریخ کی ابتدا ہوئی اس وقت مرد اور عورت کا رتبہ سماج میں برابر تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کھوج لگائی جائے کہ یہ کہاوتیں یا تصورات کہاں سے آئے ہیں۔ سب سے پہلی بات ایسی کوئی تاریخی سچا ئی موجود نہیں ہے کہ روز ازل سے عورت کمترتھی اور بے وقعت جنس اور مرد کی ملکیت تھی ۔ اس کیلئے ہمیں ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا پڑے گا یا پھر ماضی کے مزاروں سے دھول ہٹانی پڑے گی۔  

طبقاتی سماج کا آغاز جب چند ہزار سال پہلے ہوا ’’تب سے مرد اور عورت کے مابین عدم مساوات کی ابتدا ہوئی۔ اور ابھی تک طبقاتی سماج کی تین مختلف شکلیں ہیں؛ غلام داری، جاگیر داری اور سرمایہ داری۔ اسی بنا پر سماج میں مرد کا تسلط قائم ہے، نجی ملکیت، ریاست، مذہب اور خاندانی نظام نے اس کو مزید تقویت بخشی۔ ‘‘ انسانی سماج اس وقت جس حالت میں ہے اس کی تہذیب وثقافت ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی بلکہ سماج ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے ۔ انسانیت اپنے ارتقا کے ابتدائی دنوں میں دور بربریت اور تہذیب کے آغاز سے قبل مختلف ارتقائی ادوار سے گزری۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب انسان نے اپنے آپ کو فطرت سے الگ سمجھنا شروع کیا اور دو پاؤں پر کھڑا ہو گیا تھا، اس وقت زندگی کی باگ ڈور کو قائم رکھنا خاصا دشوار تھا۔ چونکہ اس وقت انسان کا فطرت سے براہ راست تعلق نہیں رہا تھا۔ اس سے پہلے ایسا ہی تھا۔ ’’عہد وحشت جس میں انسان قدرت کے خزانے سے زیادہ تر وہ چیزیں لیتا تھا جو کھانے پینے کے لئے تیار ملتی تھیں۔ انسان خود زیادہ تر ایسے اوزار تیار کرتا تھا جن سے ان چیزوں کو لینے میں آسانی ہو۔ عہد بربریت جس میں انسا ن نے مو یشی پا لنا اور کھیتی کر نا یعنی اپنی محنت سے قدرت کی زرخیز ی کو بڑھا نے کا طریقہ سیکھا ۔ تہذیب کا عہد جس میں ا نسان نے قدرت کی نعمتو ں سے مزید کا م لینا سیکھا اور صنعت و حرفت اور فنون کی واقفیت حا صل کی۔ ‘‘

اپنا پرانا مسکن چھوڑے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا اور فطرت کی بے رحمی سے نبرد آزما تھا۔ فطرت کے قوانین کو پر اسرار قوتیں سمجھ کران کے سامنے سر تسلیم خم تھا۔ اسی بنا پرانسان فطرت سے خوفزدہ تھااور اس کے رازوں سے واقف نہیں تھا اس لئے اس مرعوب ہو کر اس کو پوجتا تھا کہ کہیں پر اسرا قوتیں ناراض ہو کر اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں اس لئے جہالت اور مستقبل کے خوف مارے اس نے خیالی دیویاں گھڑ لیں ۔ عورت کی بچہ جننے کی فطرت سے مرعوب ہو کر اس کو پوجا جانے لگااور اس کو زرخیزی کی دیوی ماناجانے لگا۔ ماں ہی تھی جس نے تمام محنت کی۔ عورت کی لیبر نے سماج کو قائم رکھااسی لئے عورت یا مدر پیدا کار کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔ اس نے زراعت کی ابتدا کی۔ کہا جاتا ہے کہ مرد شکار کیلئے جاتے تھے اور عورت گھر پر رہتی تھی ۔ جب مرد شکار سے خالی ہاتھ لوٹتے تھے تو بھوک کیلئے اس نے پودوں کی جڑوں کو ایک شاخ کی مدد سے کھود کر ان سے کھانے کا انتظام کیا۔ پودے اگانے کا راز جانا۔ مٹی کے برتن بنائے اور شکار بھی کرتی رہی۔ اسی بنا پر اس کی عزت وتکریم کی جاتی تھی اور اس کی عقیدت میں نظمیں لکھی جاتی تھیں۔ اور موہنجوداڑو سے ملنے والی حاملہ عورت کی مورتیاں جادو ٹونے کے لئے استعمال ہوتی تھیں تاکہ فصل اچھی ہو۔ زراعت سے پہلے کے قدیم دور میں مذہب کا کوئی وجود نہیں تھا۔ جب قدیم تہذیب میں مذہب نے جنم لیا تو اس وقت خداکوئی نر نہیں تھا بلکہ مادہ تھی۔ ’’یہواہ‘‘ مادہ دیوتا تھی۔ اور اس کیلئے ساتھی ’’ نر‘‘ کی شکل میں پیدا کیا گیا۔ بہرحال طبع پیداوار میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ سماج میں عورت کا مقام بھی تبدیل ہوتا گیا۔ ابتدائی کمیون نظام میں عورت کو جتنی اہم حیثیت حاصل تھی وہ کسی بھی دور میں نہیں رہی۔ بیشتر ممالک میں فصل پکنے پر تہوار منائے جاتے ہیں۔ عورت ان میں ماتا۔ دیوی ماتا تھی۔ اناج کی دیوی تھی۔ عورت کو زرخیزی اور زندگی کی علامت سمجھ کر اس کو پوجا جاتا تھااور نسل یا خاندان کا سلسلہ ماں سے چلتا تھا۔ مادرانہ حق یا حق مادری تھا۔

قرین قیاس ہے کہ عورت نے زراعت کا آغاز کیا۔ امکان ہے کہ کچھ بیج اتفاق سے جھونپڑی میں گر پڑے ہوں اور ان میں سے انکھوے پھوٹ پڑے ہوں۔ اس وقت مرد شکار کیلئے جنگل جاتے تھے۔ اس طرح سے زراعت کا آغاز عورت نے کیا۔ بچوں اور بزرگوں کی ذمہ داری عورت پر ہوتی تھی۔ اور خوراک کی مرد پر تھی۔ یہ بھی قیاس ہے کہ زبان کی ابتدا میں عورت کا اپنا کردار ہے۔ زراعت کی ابتدا سے گندم سے ایک ایسی جنس ہاتھ لگی جس کو ضرروت کے وقت استعمال کے بعد محفوظ بھی کیا جا سکتا تھا۔ اس نے انسانی زندگی اور خاندان میں انقلاب برپا کر دیا۔

کھانا پکانا، برتن بنانا، بچوں کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ سب عورت کے ذمہ تھا۔ لیکن آج جس طرح کھانا پکانے کو لیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ایسا نہیں تھا کہ عورت یا مرد بازار سے ضرورت کا سارا سامان خرید لایااور اگر کھانا پکانا نہیں سیکھا تو گوگل سے ترکیب دیکھی اور فورا کھانا تیار کر لیا بلکہ جیسا کارل مارکس کہتا ہے کہ اگر سیب اگانے کا عمل ابتدا سے کیا جائے تو بہت دشوار ہو گا۔ سب چیزیں پیدا کرنی ہوں گی۔ اسی طرح گندم یا سبزیاں اگانے سے توڑنے سے ان کو پکانے تک کا عمل اور گندم اگانے، فصل پکنے ۔ اس کی کٹائی اور پسوائی تب کہیں جا کر روٹی پکنے کے لئے تیار ہوتی تھی۔ پھر پکانے اور برتن بنانے کا کام بھی صفر سے شروع ہوتا تھا۔

اگر سرجیمس جارج فریزر کی کتاب’’ شاخ زریں‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ فصل کی بوائی وکٹائی کی تما م رسمیں عورت کے گرد ادا کی جاتی تھی۔ اور اس دور میں عورت کو ’’ان ماتا‘‘ اور بھاگوان کا درجہ حاصل تھا ۔ کیونکہ زرخیزی اسی سے ملتی تھی۔ اس بنا پرسارا سماج اس کی تعظیم کرتا تھا۔

پہلے سوال کا جواب تو تاریخ سے مل گیا کہ عورت ہمیشہ سے کم تر یا پاؤں کی جوتی نہیں بلکہ گھر کی مالکہ تھی۔ لیکن اس سے ہم ہرگز یہ نتیجہ اخذ نہیں کرتے کہ عورت سردار تھی اورمرد کی حیثیت اس سے کم تر تھی۔ بلکہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عورت اور مرد دونوں نے مل کر محنت سے اس سماج کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ عورت نے تہذیب کی دہلیز تک پہنچنے میں مرد کی مدد کی۔ غلام داری، جاگیر داری اور سرمایہ داری جو کہ طبقاتی سماج کے مختلف مراحل تھے ان میں ذرائع پیداوار بدلنے سے اس کے مقام اور حیثیت میں تبدیلیاں آئی۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے جس کو مارکس اور اینگلز نے دریافت کیا۔

عورت کو گھر تک محددو کرنے کا آغاز طبقاتی سماج کے ساتھ ظہور پذیر ہوا۔ زائد پیداوار کے ساتھ مرد میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ اس کی نجی دولت پر اس کے گن کا حق ہونا چاہئے، کیونکہ مادرانہ نظام میں یا حق مادری کی رو سے نسل ماں کے نام سے چلتی تھی اور ترکہ یا ورثہ پر حق ماں کے خاندان کا بنتا تھا۔ اب اس زائد پیداوار یا نجی ملکیت کو مرد اپنی ملکیت میں رکھنا چاہتا تھا۔ یہ بات یقینی بنانے کے لئے کہ اس کی بیوی کے بطن سے جنم لینے والا بچہ اس کا ہو اس نے عورت پر پہرے بٹھانے شروع کئے۔ وہ خود تو پیشہ ور حسین عورتوں کے حسن سے لطف اندوز ہوتا تھا لیکن عورت کو سخت پہرو ں میں زنان خانہ میں رکھا جاتا تھا۔ پدرانہ نظام میں عورت کو وہ اپنی ملکیت سمجھنے لگا جیسے دولت اس کی نجی ملکیت تھی اسی طرح عورت بھی اس کی ملکیت بن گئی۔ عورت کو غلام بنانے اور سمجھنے کا آغاز اس وقت ہوا جب انسان نے ایک طرف جنگلی جانوروں کو سدھانا سیکھ لیااور دوسری جانب زراعت سے زائد پیداوار حاصل ہونا شروع ہوئی۔ اس زائد پیداوار پر عورت کو کوئی اختیار نہیں تھا اور جو وہ کام گھر میں انجام دیتی تھی اس کا کوئی معاوضہ نہیں تھا اس لئے عورت اپنے مرتبہ سے گر گئی۔ غلامی کا آغاز ہوا تو مرد اور عورت سب آقا کے غلام تھے۔ سماج میں غلام کو خاندان کا حصہ سمجھا جاتا تھا اور اس کیلئے Familaکا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ آقا کی ذمہ داری تھی کہ اس نے غلام کی قوت محنت خریدی تھی۔ وہ اس کو گھر، روٹی کپڑا مہیا کرتا تھا۔ لیکن اعلیٰ طبقہ کی عورت کا سماج میں بڑا مقام تھا۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ غلام کی محنت سے لطف انداز ہوتی تھی۔ ایتھینز میں عورت مرد کے بغیر یا کسی ملازمہ کے بغیر گھر سے اکیلی نہیں نکلتی تھی۔ جبکہ سپارٹا کی عورت اس کے مقابلے میں آزاد تھی۔

غلام داری وقت کے ساتھ ختم ہو گئی کیونکہ اب آقا کے لئے غلاموں کے کام سے زیادہ ان کا بوجھ اٹھانا پڑتا تھا۔ پہلے غلام آقا کے لئے اور اپنے لئے کام کرتا تھا لیکن اب پورے خاندان کا بوجھ آقا پر آگیا تھا۔ اس لئے غلام دار ی نے معروضی حالات کی بنا پر ختم ہونا ہی تھا۔ اب جاگیر دار کے ساتھ مزارع کی شکل میں طبقاتی سماج ابھرا۔ غلام اب کھیت میں کام کرتا اور اپنے لئے اور جاگیر دار کے لئے کام کرتا تھا۔ زمین جاگیر دار کی ملکیت تھے، اب مزارع زمین سے فصل اگاتا اور اس کی زائد پیداوار پر مالک کا حق ہوتا۔ غلامانہ دور سے عورت کے ساتھ جو رویہ تھا اب جا گیر دار عورت کو اپنی جا گیر گردانتا اور عورت کا حصہ کسی کنگلے عاشق کے حصہ نہ چلا جائے اس کی شادی بغیر اس کی مرضی کے بڑے جاگیردار سے کر دی جاتی۔ جاگیر دارانہ نظام میں لکھا گیا ادب اس زمانے میں عورت کے معاشی وسماجی استحصال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان میں تو بڑے بڑے نام نہاد جاگیر دار وں نے جاگیریں بچانے کے لئے بیٹیوں کو قران سے بیاہ کر ان کی جاگیر کو گھر میں ہی رکھا۔ اوراپنے زنان خانے میں ہر گھر اور مزارع کی بیوی اور بیٹی پر اپنا حق جمایا۔ یورپ میں جاگیر داری کو بورژوا انقلاب کے ذریعے ختم کیا گیا اور اس کے بعد سرمایہ داری کو ابھرنے کا موقع ملا۔

سرمایہ داری نے عورت کو مامتا سے تو کیا عورت پن سے ہی بیگانہ کر دیا! عورت غلام داری سماج میں غلام، جاگیرداری میں مرد کی جاگیر تھی لیکن سرمایہ داری نے تو اس کو کموڈیٹی بنا دیا۔ ایک ایسی کموڈیٹی جو محض مرد کی جنسی تسکین کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس پدرانہ نظام میں شور برپا کیا جا تا ہے حوا کی بیٹی، حوا کی بیٹی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے حوا کی بیٹی تو وہ تھی جو مادرانہ نظام میں تھی ۔ جو گھر مالکہ اورمرد کے شان بشانہ محنت سے سماج کی تہذیب کو بن رہی تھی۔ اس سرمایہ دارانہ نظام میں اگر اس اصطلاح کو تبدیل کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ آج کی عورت ’آدم کی بیٹی‘ ہے کیونکہ وہ پدرانہ سماج میں پلتی ہے۔

مرد عورت کا دشمن نہیں ہے۔ اور نا ہی عورت عورت کی دشمن ہے جیسا کہ ہمارے سماج میں مغالطہ موجود ہے۔ ساس بہو، بھابی اور نند ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں بلکہ طبقاتی سماج ہے جس نے عورت میں معاشی و سماجی عدم تحفظ پیدا کر رکھا ہے۔ اسی عدم تحفظ کی بنا پر وہ مد مقابل بن جاتی ہیں۔ کیونکہ مرد کی تنخواہ یا جائیداد پر اگر ماں کا قبضہ ہو تو بیوی کی حق تلفی ہوتی ہے یا پھر اس کے الٹ ہوتا ہے۔ یہ نجی ملکیت کا سارا کھیل ہے جو سماج کی ترقی کی ایک طاقت ہے۔ اگر سب کو ضرروت کے مطابق ملنے کا یقین ہو تو یہ خاندانی جھگڑے خود خود دم توڑ دیں گے۔

اب یہ دیکھتے ہیں کہ آیا مرد اور عورت برابر ہیں؟ فیمینسٹ کہتے ہیں کہ اگر عورت اور مرد برابر ہو جا ئیں تو سارا سماج بدل سکتا ہے تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ سب سے پہلی بات کہ کس بنیاد پر عورت کو مرد کے برابر کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم کسی چیز کو جاننا چاہتے ہیں تو اس کے ظاہر سے آغاز کرتے ہیں۔ اسی طرح مرد اور عورت کو ظاہر سے لیا جائے تو جسمانی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ ان کی حیاتیاتی ساخت ایک دوسرے سے ایک جیسی بھی ہے اور مختلف بھی ہے۔ کیا ان کو برابر کرنے کیلئے چھوٹے قد کی عورت کا قد لمبا کیا جائے یا مرد کا قد لمبا ہے تو اس کا آپریشن کروا کے ٹانگیں چھوٹی کی جائیں تاکہ دونوں جسمانی طور پر برابر ہو جائیں۔ اسی طرح کالی عورت کا رنگ گورا یا گورے مرد کا رنگ کالا کیا جائے تو ان میں برابری پیدا کی جائے۔ وغیرہ وغیرہ (یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت عورت کے برابر ہے؟ اس پر بعد میں بات کرتے ہیں) اور اگر فطرت نے بچہ پیدا کرنے کی جسمانی ساخت عورت کی بنائی ہے تو کیا مرد کی بھی ایسی ساخت بنائی جائے تاکہ جب مرد چاہے وہ بھی بچہ جن سکے۔ اور عورت جو اس سماج میں نفسیاتی مریضوں کے جنون کا شکار ہوتی ہیں۔ اس وقت زینب، عاصمہ اور اب ایک ہندو لڑکی کا نام اور کل ایک نوعمر لڑکی کو سنگسار کیا گیا جس سے اس کی موت واقعہ ہو گئی۔ اور نجانے اس مضمون کے چھپنے تک کتنی اور زینب اور عاصمہ جیسی لڑکیاں اس نظام کی بھینٹ چڑھیں گی۔ کیا یہ سب رک جائے گا۔ ایسا کسی سرمایہ دار یا سیاست دان کی بیٹی کے ساتھ تو نہیں ہوتا۔ کسی جج کی بیٹی کے ساتھ یا کرنل یا جنرل کی بیٹی کی خبر تو نشر نہیں ہوتی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا ہوتا نہیں ہے یا پھر سامنے نہیں آتا۔ یقیناًان کی بہو بیٹیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تو معزز گھرانے کی خواتین ہیں۔ کوئی ان کو میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ میلی آنکھیں تو میلے لوگوں کی بیٹیوں کیلئے ہوتی ہیں۔ تو کیا ایسی جنونی حرکات کرنے کی اجازت عورت کو بھی دے دی جائے کہ وہ کسی کا بھی ریپ کردے۔ یا پھر وہ اپنے دشمن مرد پر تیزاب پھینک کر اس کا چہرہ بدنما کردے۔ کیا ایسا کرنے سے سماج میں جرائم کی فہرست چھوٹی ہو جائے گی یا پھر ان کا تناسب اتنا ہی رہے گا ۔ بس اب جرم کا شکار ہونے والے فرد کی جنس تبدیل ہو جائے گی، جرم تو اپنی جگہ قائم رہے گا جیسے ہر نئے الیکشن کے بعد صرف سیاست دانوں کی طرح چہرے بدل جاتے ہیں نظام نہیں بدلتا۔

مرد کوعورت کا دشمن بنا کر پیش کرنا یا مغالطہ پھیلانا کہ مرد عورت کے تمام استحصال کا ذمہ دار ہے یہ فیمینیسٹوں کا ایجنڈا ہے جس کے پیچھے سرمایہ دار کا بنایا ہوا طبقاتی نظام ہے تاکہ ان دو جنسوں کو آپس میں الجھا کررکھاجائے اور وہ اپنے حقیقی دشمن کو جان نہ پا ئیں۔ لبرل بھی سرمایہ دار انہ نظام کو بچانے کیلئے جانتے بوجھتے یا پھر ان جانے میں مرد کے مقابلے میں عورت کو لاکھڑا کرتے ہیں۔ اسی حق کی بات کرتے ہیں کہ عورت کو بھی یہ حق مل جائے کہ وہ مرد کی غیر موجودگی میں کسی غیر مرد کو اپنا دل بہلانے کیلئے بلا لے۔ مارکس وادی اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ایسی لبرل فکر اور سوچ کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔ ایسی سوچ کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کے تحت عورت کو ایک کموڈیٹی بنانے کے عمل کو تقویت دینا ہے ۔ اس سے نہ معاشی طور پر عورت آزادہو سکتی ہے اور نہ ہی سماجی حیثیت میں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مارکس وادی عورت کی سماجی آزادی کے قائل نہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کو اپنی زندگی کے تمام فیصلے کرنے کا پورا حق ہے لیکن اس کی حقیقی آزادی صرف ایک سوشلسٹ سماج میں حاصل کی جا سکتی ہے جس میں سرمائے کا جبر موجود نہ ہو۔

ہم مارکس وادی عورت اور مرد دونوں کو اس سماج کی بنیادی اکائی سمجھتے ہیں۔ بلکہ عورت اور مردمیں پایا جانے والا رشتہ ہی فطری ہے۔ سماج کی بنیاد ان دونوں کے مابین پائے جانے والے رشتہ پر ہے۔ اگر ان دونوں کو برا بر کے حقوق مل جائے تو سماج کسی بھی ناانصافی کا شکار نہیں ہو گا۔ اوپر بات ہوئی تھی کہ ہم عورت کو مرد کے برابر لانا چاہتے ہیں ۔ ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیاعورت عورت کے برابر ہے؟ تو اس پسے ہوئے طبقے کی عورت کی بات کرتے ہیں جس کے لئے بغیر گھونگھٹ اوڑھے گھر سے نکلنا، بلکہ گھر سے نکلنا ہی شجر ممنوع ٹھہرا یا جاتا ہے۔ وہ عورت تو عورت کے برابر ہی نہیں ہے اس کو ہم مرد کے برابر حقوق کی بات کیسے کرسکتے ہیں اس کو انسان ہی مانا نہیں جاتا۔ ہماری مراد یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت اور محنت کش طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت سے ہے۔ طبقاتی نظام میں استحصال کرنے والوں اور استحصال کا شکار ہونے والوں کا الگ الگ طبقہ ہے۔ جن کے پاس ذرائع پیداوار ہیں ان کی ایک کلاس ہے اور جو ان کے لئے کام کرتے ہیں ان کی بھی ایک کلاس ہے۔ اس لئے جب تک غیر طبقاتی سماج وجود میں نہیں آتا یہ فرق ہمیشہ رہے گا۔ پسند کی شادی کی اجازت تو قانون دیتا ہے لیکن ہماری تہذیب وثقافت نہیں دیتی۔ اشرافیہ کے ہاتھ میں قانون لونڈی بن جاتا ہے اور سماج ہاتھ باندھ کر مودب ہو جاتا ہے اور جب کسی محنت کش کی بیٹی کی بات ہوتی ہے پھن اٹھا لیتا ہے۔ یہ ساری لڑائی طبقات کی ہے مرد اور عورت کی نہیں ہے۔ بور ژوا طبقہ کی عورت کسی بھی وقت اٹھ کر کسی بھی محنت کش مرد کے منہ پر طمانچہ مارلیتی ہے۔ لیکن محنت کش طبقہ کی عورت اٹھ کر بور ژوا کے منہ پر تھپڑ تو دور اپنے بنیادی حق کا استعمال کرتی ہے تو اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اس کے باقی بہن بھائیوں سمیت۔  

اگر پاکستان میں عورت کے مقام پر بات کی جائے تو یہاں لڑکیاں کبھی مذہب پر، کبھی خاندان، کبھی اپنے بھائی کے ناکردہ گناہوں کی بلی چڑھائی جاتی ہیں۔ کبھی ان کو ونی کیا جاتاہے تو کبھی کارروکاری قرار دے کر زندہ درگور کیا جاتا ہے۔ اور کبھی ’’غگ‘‘ کرکے ساری عمر ان کو ایک تیاگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتاہے۔ پسند کی شادی کرنے پر احاطۂ عدالت میں گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر روز ایک زینب کے لئے، کبھی عطیہ کیلئے اور کبھی عاصمہ کے لئے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے تو ایک زینب کے قتل کا فیصلہ آنے تک نجانے کتنی زینبیں اس نظام کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔

علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے اس سماج میں عورت دوہرے تہرے استحصال کا شکار ہے۔ خاص طور پر ملازمت پیشہ عورت۔ غیر شادی شدہ تو سارا دن چند ٹکو ں کی خاطر پورا پورا دن گھر سے باہر خاک چھاننے پر مجبور ہے ۔ مثلاً اگر تعلیم کا منافع بخش کاروباری ادارہ کی مثال لے لیں تو غیر شادی شدہ جوان سال لڑکیاں پہلے تعلیمی اداروں میں استحصال کے عمل سے گزرتی ہیں پھر کسی تعلیمی اکیڈمی کا۔ اگر نرسنگ کی خدمات سر انجام دینے والے خواتین کو دیکھا جائے تو وہ آٹھ گھنٹے کی خدمت کے بعد محلے میں اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔ کچھ لڑکیاں تو صبح کے وقت تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور شام کے وقت گھر پر یا کسی ادارے میں یاپھر ہوم ٹیوشن کیلئے شہر بھر کی خاک چھانتی ہیں۔ کچھ لڑکیاں صبح کے وقت نجی تعلیمی اداروں میں پڑھاتی ہیں اور شام کے وقت تعلیم حاصل کرتی ہیں اور ایک ایم۔ اے کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا تاکہ کسی بھی مضمون میں ان کی سرکاری ملازمت کے لئے سلیکشن ہو سکے۔ جوانی کے دن وہ فطرت سے لطف اندوز ہونے کی بجائے فطرت پر قابض لوگوں کا آلہ کار بن جاتی ہیں تاکہ باقی کی زندگی وہ اپنے فطری تقاضوں کو پورا کر سکیں لیکن وہ کبھی بھی اس منحوس چکر سے باہر نہیں نکل پاتی اور فطری تقاضے کسی نا کسی فرسٹریشن یا ہسٹریا کی شکل لے لیتے ہیں۔ اور اگر پولیو ورکرز کو لیں تو ان کی حالت اور بھی ناگفتہ بہ ہے۔ ایسی لڑکیاں جو رضاکارانہ طور پر کام کرتی ہیں ان کومحض ان چند دنوں کی اجرت کسی بھی مزدور کی اجرت سے کم ادا کی جاتی ہے۔ چار چار دن بارہ بارہ گھنٹے پیدل چل کر ریاست اور عوام کی خدمت بجالاتی ہیں ان کو دوہزار روپے کی رقم ادا کی جاتی ہے۔ ان کی آمدنی کسی بھی گداگر کی ایک دیہاڑی کا پچیس فیصد سے بھی کم ہے۔ زندگی سے ہاتھ دھونے کا خطرہ الگ۔ اور مزدور خواتین جو اس سماج کے ہاتھوں تعلیم کے زیور سے محروم رہ جاتی ہیں وہ شدید گرمی وسردی میں اپنے بچوں کی فوج سمیت پتھر کوٹ رہی ہیں اور سڑک پر پتھر بچھانے پر مجبور ہیں۔ پھر قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ کم پڑھی لکھی خواتین جو گھر گھر جا کر اپنی قوت محنت بیچنے پر مجبور ہیں۔ جس میں بچیوں کی تعداد نوے لاکھ کے قریب ہے۔ ان پر الگ ستم ڈھائے جاتے ہیں۔ مختلف قسم کی ذہنی وجسمانی اذیتوں کا شکار بنایا جاتا ہے۔

وہ عورتیں جو فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں۔ ان کی اجرت مرد کے مقابلے میں خاصی کم اور اوقات کار بہت لمبے ہوتے ہیں۔ جس ماحول میں وہ کام کرتی ہیں ان کو صاف ستھرا ماحول میسر نہیں ہوتا۔ بچوں کی خاطر خواتین کام کرنے کیلئے نکلتی ہیں اور ان کے علاج معالجے کیلئے چھٹی نہیں ملتی۔ ان کی دیکھ بھال کا سارا وقت فیکٹری مالک کیلئے منافع بنانے میں صرف ہو جاتا ہے۔ جو کپڑا وہ بنتی ہیں یا سلائی کرتی ہیں ان پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ مختلف جگہوں پر کام کرنے والی آیا جو ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ ہیں ان کو سکولوں میں یا کالجز میں نہایت کم تنخواہ پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ اور سارا دن کوہلو کے بیل کی طرح کام میں جتی رہتی ہیں۔ نجی سکولوں میں کام کرنے والی خواتین کو تو بچوں کی پاجامے بھی صاف کرنے پڑتے ہیں۔ آٹھ آٹھ گھنٹے کی مزدوری کے بعد ان کو تین ہزار سے بھی کم اجرت ملتی ہے۔

ان کی نجات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ سیاسی میدان میں براہ راست اپنا حصہ ادا نہیں کرتیں۔ جب تک گھریلو غلامی ہے اور عورت باورچی خانہ اور نرسری سے باہر نکل کر وسیع دنیا کا حصہ نہیں بنتی تب تک اس کی نجات ممکن نہیں۔ عورت اس وقت مرد کے برابر ہو سکتی ہے جب وہ معاشی لحاظ سے مرد کے برابر ہوگی۔ اس کیلئے سماج کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ عورت نے جدوجہد کرکے تعلیم حاصل کرنے کا، ووٹ ڈالنے کا اور پھر اپنی اجرت میں اضافہ کا حق حاصل کیا۔ لیکن یہ جد وجہد ابھی تک نا مکمل ہے۔ اس وقت تک جب تک سماج جس پر اس کی بنیادیں کھڑی ہیں ان کواکھاڑ پھینک کر نئے معاشی و سماجی نظام کی بنیاد نہیں رکھی جاتی جس میں تمام فیصلوں میں عورت براہ راست حصہ لے گی۔ سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh