|تحریر:آفتاب اشرف|

23جنوری کو وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں ’فنانس سپلیمنٹری بل2019ء‘ پیش کیا۔ یہ درحقیقت موجودہ حکومت کی طرف سے پیش کیا جانے والا دوسرا منی بجٹ تھا۔ حکومتی دعوؤں کے مطابق یہ بل پاکستان کو شدید ہوتے معاشی بحران سے نکالنے میں ایک نسخۂ کیمیا کا کردار ادا کرے گا۔ حکومت کے زر خرید تجزیہ نگاروں اور معیشت دانوں کی طرف سے اس ’ٹیکس فری منی بجٹ‘ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ فنانس بل ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی بھی کایا پلٹ دے گا۔اب یہ بات تو بالکل درست ہے کہ نہ صرف یہ منی بجٹ ٹیکس فری تھا بلکہ اس میں پہلے سے لاگو بہت سے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور بعض کا تو بالکل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ یوں اس بجٹ میں دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا تخمینہ کھربوں روپے میں بنتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکسوں میں یہ تمام تر چھوٹ آخر کس طبقے کو دی گئی ہے اوراس بجٹ سے فائدہ کس طبقے کو ہو گا؟ سرمایہ داروں، صنعتکاروں اور بینکاروں کو یا محنت کش عوام کو؟ لبرل دانشوروں، عمومی سوچ رکھنے والے خواتین وحضرات اور تبدیلی سرکار کے اندھے مقلدوں کے لئے تو یہ سوال یقیناکوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا لیکن مارکس وادیوں اور عوام کے لئے کسی بھی حکومتی اقدام کا طبقاتی پہلو بنیادی ترین اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے اگر اس منی بجٹ کا تجزیہ کیا جائے تو صورتحال بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں سرمایہ دار طبقے اور اوپری درمیانے طبقے کو دل کھول کر نوازا گیا ہے جبکہ عوام پر سے ٹیکسوں کے بوجھ میں ایک دھیلے کی کمی بھی نہیں کی گئی۔ آئیے اب ذرا جزئیات میں جا کر اسد عمر صاحب کی خوش نما لفاظیوں کا پردہ چاک کرتے ہیں۔

منی بجٹ میں بینکوں کے چھوٹی و درمیانی صنعتوں، زرعی شعبے اور سستی رہائشی سکیموں کو دیے جانے والے قرضوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس 39فیصد سے کم کر کے 20فیصد کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا موقف یہ ہے کہ اس طرح وہ بینکوں کو ان شعبہ جات کو قرضے دینے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر درحقیقت یہ سب لفاظی ہے اور حکومت کا اصل مقصد صرف نجی بینکوں کے منافعوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اگر حکومت واقعتا ان شعبوں کی نمو میں دلچسپی رکھتی تو وہ بینکوں کو دی جانے والی اس چھوٹ کو متعلقہ شعبہ جات کے لئے قرضوں پر شرح سود میں کمی سے منسلک کرتی مگر ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ مزید برآں پاکستان کی نجی بینکاری جتنی کرپٹ ہے اس کا ایک اندازہ ہمیں حالیہ عرصے میں مختلف بینکوں میں کھولے گئے پانچ ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس کے منظر عام پر آنے سے ہوتا ہے جنہیں منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ نجی بینکوں کو دی جانے والی اس ٹیکس چھوٹ کا نتیجہ صرف یہ نکلے گا کہ بینک قرضے ماضی کی طرح اپنی ترجیحات کے مطابق ہی دیں گے لیکن ٹیکس بچانے اور منافعوں کو بڑھانے کے لئے ان کا اندراج متعلقہ شعبہ جات کے کھاتوں میں کیا جائے گا۔ اسی طرح نان بینکنگ کمپنیوں (بڑی صنعتیں اور دیگر بڑے کاروبار)پر عائد سپر ٹیکس کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ہے۔سرمایہ دار طبقے کو دی جانے والی ایک اور بڑی چھوٹ کارپوریٹ ٹیکس(کارپوریٹ منافعوں پر ٹیکس) کے حوالے سے ہے۔2013 ء میں جب ن لیگ حکومت بر سر اقتدار آئی تو اس نے سرمایہ دار طبقے کو بڑی ٹیکس چھوٹ دیتے ہوئے کارپوریٹ ٹیکس کو ایک فیصد سالانہ کمی کے ساتھ مالی سال 2018 ء تک 35فیصد سے کم کر کے 30فیصد تک لانے کا فیصلہ کیا تھا۔اسی طرح فنانس بل 2018ء میں سابقہ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس میں ایک فیصد سالانہ چھوٹ قائم رکھتے ہوئے اسے مالی سال2023ء تک 25فیصد کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے آخری بجٹ میں اس فیصلے پر عمل در آمد کرتے ہوئے مالی سال 2019ء کے لئے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29فیصد مقرر کی۔موجودہ حکومت نے بر سر اقتدار آنے کے بعد یہ تجویز پیش کی کہ کارپوریٹ ٹیکس میں سالانہ کمی کو چند سالوں کے لئے فریز کر دیا جائے۔ اس کی وجہ عوام سے ہمدردی نہیں بلکہ زبر دست مالیاتی خسارے کے پیش نظرحکومت کی ٹیکس آمدن کو بڑھانا تھا۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کے حوالے سے حکومت پر آئی ایم ایف کا بھی شدید دباؤ تھا۔ مگر جب بڑے کاروباری حلقوں کو اس امر کا علم ہوا تو انہوں نے حکومت کو اس کی اوقات یاد دلا نے میں دیر نہیں کی۔اس سب کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حالیہ منی بجٹ میں حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کے حوالے سے سابقہ حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلے کو من وعن جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی طرح حکومت نے برآمدی صنعتوں(ٹیکسٹائل،سپورٹس،سرجیکل،لیدر گڈز وغیرہ)کیلئے خام مال اور مشینری کی درآمد پر عائد درآمدی ڈیوٹیوں میں بھی قابل ذکر کمی(بعض کیسز میں خاتمہ) کی ہے۔ یاد رہے کہ ابھی حال ہی میں ان صنعتوں کو براہ راست ٹیکسوں میں اضافی چھوٹ کے ساتھ ساتھ نہ صرف بجلی اور گیس کی مد میں بھاری سبسڈی دی گئی تھی بلکہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ان کے لیبر اخراجات میں بھی اپنے بیرونی مد مقابلوں کے تقابل میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ برآمدی صنعتوں کے ساتھ ساتھ درآمدی خام مال پر بھاری انحصار کرنے والی دیگر صنعتوں(آٹو انڈسٹری ،کیمیکل انڈسٹری وغیرہ)کے لئے بھی درآمدی ڈیوٹی میں خاصی کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح گرین فیلڈ پراجیکٹس(بالکل نئے صنعتی منصوبے)کو مشینری کی درآمدپر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مکمل چھوٹ دینے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لئے ان کا انکم ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا ہے۔ سی پیک کے تحت بننے والے خصوصی اقتصادی زونز میں لگنے والی صنعتوں کوبھی تمام مشینری کی درآمد پر امپورٹ ڈیوٹی معاف کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اخباری صنعت کے لئے نیوز پرنٹ(اخباری کاغذ)کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ صنعتکاروں کو ایک اور بڑی چھوٹ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس(ایک قسم کا سرچارج) کی مد میں دی گئی ہے۔ ویسے تو گیس کاا ستعمال کرنے والے تمام صنعتی سیکٹرز کے لئے GIDC کم کیا گیا ہے لیکن فرٹیلائیزر انڈسٹری کے لئے تو اس میں پورے 50 فیصد کی کمی کی گئی ہے مگر دوسری طرف فرٹیلائیزر انڈسٹری کو یوریا کھاد کی فی بوری قیمت میں صرف دوسو روپے کی کمی کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ یاد رہے فرٹیلائیزر انڈسٹری پہلے ہی گیس کی مد میں حکومت سے سب سے بھاری سبسڈی لینے والے سیکٹرز میں شامل ہے۔ اسی طرح ملکی آٹو انڈسٹری کی سیلز بڑھانے کی خاطرمقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی تک کی گاڑیوں کی خریداری کے لئے ٹیکس فائلر ہونے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

حکومتی موقف کے مطابق صنعتی شعبے کو دی جانے والی ان تمام چھوٹوں کا مقصدملک میں صنعتکاری کا فروغ ہے تا کہ روز گار پیدا ہو سکے۔ یہ وہ آزمودہ جھوٹ ہے جو کہ آج تک ہر فوجی وجمہوری حکومت سرمایہ دار طبقے کو ٹیکس چھوٹ دینے اور ان کے منافعوں میں اضافہ کرنے کی خاطر بولتی آئی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس وقت پاکستان کا صنعتی شعبہ شدید بحران سے دوچار ہے۔ہر طرف سے دھڑا دھڑ صنعتوں کی بندش کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔لیکن اس بحران کی وجہ پاکستانی صنعتکاروں پر ٹیکسوں کا بوجھ،مہنگی لیبر، مہنگے قرضے یا مہنگا مینوفیکچرنگ ان پٹ ہر گز نہیں ہے۔ایک تو ویسے ہی ہر حکومت آج تک صنعتکاروں کو ٹیکس ریلیف دیتی آئی ہے اور دوسری طرف یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ پاکستانی سرمایہ داروں کی ایک بھاری ترین اکثریت کرپٹ ریاستی اداروں کی ملی بھگت کے ساتھ بڑے پیمانے کی ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔یہی وجہ ہے کہ دیگر ممالک کی اکثریت کے برعکس پاکستانی حکومت کی کل ٹیکس آمدن کا بمشکل ایک تہائی براہ راست ٹیکسوں سے اکٹھا ہوتا ہے اور اس براہ راست ٹیکس آمدن کا بھی ایک قابل ذکر حصہ تنخواہ دار درمیانے طبقے پر لگنے والے انکم ٹیکس سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں کم ہی ملک ہوں گے جہاں لیبر پاکستان جتنی سستی ہوگی۔ ٹریڈ یونین تحریک کے زوال ،بے تحاشہ غربت ،ریاستی جبر اور بیروزگاری کے دباؤ نے محنت کشوں کے ہاتھ پیر باندھ رکھے ہیں اور کمزور لیبر قوانین،کرپٹ عدالتوں اور ریاستی اداروں کی موجودگی میں صنعتکاروں کو مزدوروں کا ہر طرح سے استحصال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔نجی صنعتوں میں مستقل ملازمتوں کا تو تصور ہی ناپید ہو چکا ہے اور ہر طرف ٹھیکیداری نظام رائج ہے۔صورتحال یہ ہے اس مہنگائی کے دور میں حکومت کی طرف سے مقرر کی گئی مضحکہ خیز کم از کم اجرت (پندرہ ہزار روپے ماہوار)بھی کم ہی صنعتوں میں دی جاتی ہے۔ اکثر صنعتوں میں خصوصاً غیر ہنر مند مزدوروں سے آٹھ سے دس ہزار روپیہ ماہوار میں سولہ سولہ گھنٹے روز کام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح بڑے پاکستانی صنعتکار حکومت اور ریاستی اداروں میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے بینکوں سے لئے گئے قرضے معاف کرانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ اگر یہ بینک سرکاری ہوں تو ان ڈوبے ہوئے قرضوں کا بوجھ براہ راست قومی خزانے یا دوسرے الفاظ میں عوام کے کندھوں پر پڑتا ہے اور اگر نجی ہوں تو حکومت عوام کی قیمت پر ان بینکوں کو ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات دے کر ان کے نقصان کا ازالہ کرتی ہے۔اسی طرح خام مال کی درآمد وغیرہ پر بھی صنعتکاروں کو ہمیشہ سے بھاری چھوٹ ملتی رہی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ کسٹمز اوردیگر ریاستی اداروں کے کرپٹ حکام کیساتھ مل کر ڈیوٹیوں سے بچنا ان لوگوں کو خوب اچھی طرح سے آتا ہے۔گیس اور بجلی میں بھی ہر حکومت ان کو بھاری سبسڈی دیتی ہے اور ویسے بھی بڑے صنعتکاورں کی ایک بھاری اکثریت بڑے پیمانے کی بجلی اور گیس چوری میں ملوث ہے۔نام نہاد ’لائن لاسز‘ کے بہانے سے جو اضافی بوجھ بجلی کے عام صارفین پر ڈالا جاتا ہے وہ انہی صنعتکاروں کی چوری ہوتی ہے جس کی قیمت عام آدمی کو اپنی جیب سے ادا کرنی پڑتی ہے۔مندرجہ بالا تمام بحث سے یہ بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو دی جانے والی تمام چھوٹ سے ان کی تجوریاں تو ضرور بھرتی ہیں لیکن اس سے نہ تو ملک میں صنعتکاری فروغ پاتی ہے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر روز گار پیدا ہوتا ہے۔اگر صرف ٹیکس چھوٹ اور مراعات دینے سے ملک میں صنعتکاری فروغ پاتی تو یقین کیجیے کہ ایوب خان کے ریاستی سرمایہ داری کے ماڈل کے تحت پاکستان کب کا ایک جدید صنعتی ملک بن چکا ہوتا کیونکہ سرکاری قرضوں پر صنعتیں لگا کر تقریباً مفت میں کاروباری خاندانوں میں بانٹنے،بیرونی تجارت پر ریاستی اجارہ داری قائم کر کے مقامی صنعت کوایک محفوظ ملکی منڈی فراہم کرنے،صنعتی انفراسٹرکچر تعمیر کرنے اور صنعتکاروں کو ہر قسم کے ٹیکسوں کی مکمل چھوٹ دینے کے حوالے سے جو اقدامات اس نے کئے ،آج وہ کرنا پاکستانی ریاست کے بس میں ہی نہیں ہے۔ مزید برآں اس وقت عالمی سطح پر سرمایہ داری کے تاریخی ابھار کی وجہ سے بھی حالات صنعتکاری کے لئے نہایت موضوع تھے۔ مگر پاکستان کا سرمایہ دار طبقہ اپنی تاریخی تاخیر زدگی اور اس سے جنم لینے والی اپنی نامیاتی تکنیکی اور ثقافتی پسماندگی کی وجہ سے اس وقت بھی ریاستی بیساکھیوں کے سہارے قائم رہنے اور منافع خوری کرنے والا ایک طفیلیہ تھا اور آج بھی یہی ہے۔مزید برآں آج عالمی معاشی سست روی، سروں پر منڈلاتے ایک نئے عالمی معاشی بحران اورآزاد تجارت کے معاہدوں کے پس منظر میں اگر کوئی شخص پاکستانی سرمایہ دار طبقے سے صنعتکاری کے فروغ کی ہلکی سی بھی امید رکھتا ہے تووہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔لہٰذا مارکس وادیوں کو بالکل واضح ہونا چاہئے کہ صنعتکاروں کو دی جانیوالی ان تما م چھوٹوں کا اصل اور حقیقی مقصد صرف اور صرف ان کی منافع خوری میں اضافہ کرنا ہے۔ آئیے اب منی بجٹ کی طرف واپس چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تبدیلی سرکار اور کیا کیا ’تبدیلیاں‘ لائی ہے۔

منی بجٹ میں ایک اور بڑی ٹیکس چھوٹ سٹاک ایکسچینج کو دی گئی ہے اور حکومت نے شیئرز ٹریڈنگ پر عائد 0.02فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ظاہر ہے اس چھوٹ کا سب سے زیادہ فائدہ سٹاک مارکیٹ کے بڑے کھلاڑیوں کو ہو گاجو کہ پہلے دن سے حکومت پر اس ٹیکس کو ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے تھے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو نوازنے کے لئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ملک میں جائیداد خریدنے کے لئے ٹیکس فائلر ہونے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔یاد رہے کہ جہاں ہنر مندیاپیشہ ور تارکین وطن کی طرف سے کی گئی جائیدادوں کی خریداری رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں قیمتوں اور نتیجتاً منافعوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے وہیں اس شعبے میں انویسٹ ہونے والے کالے دھن کی ایک بڑی مقدار کو بھی پہلے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوایا جاتا ہے اور پھر وہاں مقیم اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے واپس ملک میں انویسٹ کیا جاتا ہے۔ ان سب چیزوں کے علاوہ اس منی بجٹ کو ’عوامی ٹچ‘ دینے کے لئے ایک دو نسبتاً بہتر فیصلے بھی کئے گئے۔ان میں سے ایک فیصلہ ٹیکس فائلرز کے لئے بینک سے رقم نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا ہے جبکہ دوسرا زرعی شعبے میں استعمال کے لئے ڈیزل انجنز کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کم کرنے کا ہے۔لیکن ان فیصلوں کا فائدہ بھی درمیانے کاروباریوں اور امیر یا اوپری درمیانے کسانوں کو ہو گا۔محنت کش عوام کے لئے تو اس منی بجٹ میں کچھ بھی نہیں تھا۔لیکن کیا واقعی ایسا کہنا بالکل درست ہو گا؟یہ بات تو اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ اس منی بجٹ سے عوام کو ایک ٹکے کا بھی ریلیف نہیں ملے گالیکن یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے ،اس کو پورا کرنے کے لئے ملک پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور آئی ایم ایف کی طرف سے نئے قرضوں کے اجرا کے لئے مالیاتی خسارے کو قابو میں لانے جیسی پیشگی شرائط کی موجودگی میں سرمایہ داروں کو دی جانے والی ان چھوٹوں سے پیدا ہونے والے ریونیو شارٹ فال(حکومتی آمدن میں کمی) کو پورا کیسے کیا جائے گا؟اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ سرمایہ دار طبقے کو دی جانے والی اس تمام چھوٹ کا سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر لادا جائے گا اور متوقع ریونیو شارٹ فال کو محنت کشوں کی ہڈیوں سے گودا نچوڑ کر پورا کیا جائے گا۔مگر یہ سب کیسے ہو گا؟اس پر بات کرنے سے قبل ہم ان چھوٹوں سے پیدا ہونے والے ریونیو شارٹ فال کے حجم کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 


اطلاعات کے مطابق تو حکومت اسی منی بجٹ میں جی ایس ٹی میں ’Across the board‘(یعنی تمام اشیا پر)ایک فیصد اضافے کا اعلان کرنا چاہتی تھی(یہ نئے قرضے کیلئے آئی ایم ایف کی شرط بھی ہے) لیکن غالباً سانحہ ساہیوال کے خلاف پھٹ پڑنے والے عوامی رد عمل سے خوفزدہ ہو کر اس نے کچھ وقت کے لئے یہ فیصلہ موخر کر دیا

کبھی ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ جھوٹ بولنے اور معاشی اعدادوشمار میں ہیراپھیری کرنے کے معاملے میں کوئی اسحاق ڈار اور اس کی ٹیم کو شکست نہیں دے سکتا۔ لیکن اب پتہ چل رہا ہے کہ موجودہ حکومت اور اس کے وزیر،مشیر اور اہلکار تو اس معاملے میں سابقہ حکومت سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔ منی بجٹ کے بعد ایف بی آر کے ایک سینئر اہلکار نے پریس کو بتایا کہ ان تمام ٹیکس چھوٹوں سے حکومت کی ٹیکس آمدن میں صرف 6.8ارب روپے کی کمی ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ حکومت مالی سال 2019 ء کے لئے اپنے 4.4ٹریلین روپے(44 سو ارب)کے ٹیکس آمدن ٹارگٹ میں کمی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہی بات دو دن بعدتجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد(جو خود بھی ایک بڑا سرمایہ دار ہے) نے کراچی میں خوش وخرم صنعتکاروں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دہرائی۔ یقین کیجیے کہ اس پیمانے کے جھوٹ تو ہم نے کبھی ن لیگ کی رذیل مزدور دشمن حکومت کے منہ سے بھی نہیں سنے تھے۔ متوقع ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے عوام کی کیا درگت بنائی جائے گی، اس کا مکمل اندازہ تو ہمیں آنے والے دنوں میں ہی ہو گا۔ ابھی ہم حکومت کے صرف ایک اقدام سے اس شارٹ فال کے حجم کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم نے بالائی سطور میں ایک جگہ آئندہ سے صنعتوں کو گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس(GIDC) کی مد میں دی جانے والی چھوٹ کا ذکر کیا تھا۔منی بجٹ کے اگلے ہی روز حکومت نے فرٹیلائیزر،ٹیکسٹائل ، سی این جی اور دیگر صنعتوں کے ذمے پہلے سے واجب الادا400 ارب روپے کے GIDCمیں سے بھی آدھا یعنی 200ارب روپیہ معاف کرنے کا اعلان کر دیا۔اس دریا دلی سے سب سے زیادہ فائدہ (120ارب روپیہ) فرٹیلائیزر انڈسٹری کو ہوا۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ تمام صنعتیں اس سیس کی مد میں صارفین سے زائد قیمت پہلی ہی بٹور چکی تھیں لیکن حکومت کو یہ رقم ادا کرنے سے انکاری تھیں۔ان اعدادوشمار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اگر صرف اس ایک مد میں دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے حکومت کی ٹیکس آمدن میں سالانہ کھربوں روپے کی کمی ہوگی تو پھر اس منی بجٹ سے پیدا ہونے والا مجموعی شارٹ فال کتنا ہو گا۔یاد رہے کہ سرمایہ دار طبقے کو یہ تمام چھوٹ ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب حکومت اپنے پہلے منی بجٹ میں عوام پر 182 ارب روپے کا اضافی ٹیکس بوجھ پہلے ہی ڈال چکی ہے،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور عام صارفین کے لئے سبسڈی میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے، رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 250ارب روپے کی کمی کی جا چکی ہے، اپنے اقتدار کے صرف پانچ ماہ میں اسٹیٹ بینک سے 4 ٹریلین (40کھرب) روپے کا اندرونی قرضہ لے چکی ہے اور بے قابو ہوتے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لئے سر کاری اداروں کی نجکاری اور ڈاؤن سائزنگ کے ایک خون آشام منصوبے کا آغاز کر چکی ہے۔ رہی سہی کسر روپے کی قدر میں ہونے والی تیز گراوٹ سے جنم لینے والے افراط زر نے پوری کر دی ہے۔ مزید برآں اطلاعات ہیں کہ بیرونی قرضوں کے لئے منتیں کرتی حکومت کو آئی ایم ایف نے رواں مالی سال میں ٹیکس آمدن کا ہدف 4.7ٹریلین روپے تک بڑھانے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔اس تمام تر صورتحال میں یہ بات واضح ہے کہ حکومت سرمایہ داروں کو دی جانے والی اس چھوٹ سے پیدا ہونے والے بڑے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے مستقبل قریب میں محنت کش عوام پر نہایت ہی خوفناک معاشی حملے کرے گی۔اس سلسلے میں عوام پر مختلف اقسام کے بالواسطہ ٹیکسوں کی بھر مار کی جائے گی۔ باخبر حلقوں میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق تو حکومت اسی منی بجٹ میں جی ایس ٹی میں ’Across the board‘(یعنی تمام اشیا پر)ایک فیصد اضافے کا اعلان کرنا چاہتی تھی(یہ نئے قرضے کیلئے آئی ایم ایف کی شرط بھی ہے) لیکن غالباً سانحہ ساہیوال کے خلاف پھٹ پڑنے والے عوامی رد عمل سے خوفزدہ ہو کر اس نے کچھ وقت کے لئے یہ فیصلہ موخر کر دیا۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کے ساتھ ساتھ غالب امکان ہے کہ تنخواہ دار درمیانے طبقے کو بجٹ 2018ء میں دیا جانے والا انکم ٹیکس ریلیف بھی جلد ہی واپس لے لیا جائے گا۔ اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتوں میں نہ صرف مزید اضافہ کیا جائے گا بلکہ عام صارف کو حاصل تھوڑی بہت سبسڈی کا بھی مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ حکومتی اخراجات میں کمی کرنے اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لئے نجکاری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی میں چند ہفتے پہلے صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیکیداری نظام کے تحت چلانے کی منظوری کے بل کا بحث کے لئے جمع کرایا جانا اسی امر کی غمازی کرتا ہے۔ اسی طرح حال ہی میں نجی شعبے کی سربراہی میں ’سرمایۂ پاکستان کمپنی‘ کے نام سے ایک ہولڈنگ کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو 193سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھالے گی۔ اس کا اصل مقصد ان اداروں میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں کرتے ہوئے اور ان کے حصے بخرے کرتے ہوئے منافع بخش شعبوں کی فاسٹ ٹریک نجکاری کرنا ہے۔ پی آئی اے میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر پابندی اور ایک حاضر سروس ائیر وائس مارشل کی بطور سی ای او تعیناتی کے ساتھ ساتھ کوئی درجن بھر دیگر باوردی فوجی افسران کی ’خدمات‘ حاصل کرتے ہوئے سینکڑوں محنت کشوں کی جھوٹے الزامات کے تحت نوکری سے برخاستگی اسی سلسلے کی ابتدائی جھلکیاں ہیں۔قصہ مختصر یہ کہ اگر آنے والے دنوں میں پاکستان کے محنت کش طبقے نے زندہ رہنا ہے تو اسے ایک بھر پور طبقاتی لڑائی کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔

ابھی تک ہم نے تمام بحث منی بجٹ،اس کی جزئیات اور اس کے اثرات کے حوالے سے کی ہے۔اس بحث میں ہمارا زیادہ تر فوکس پاکستانی معیشت کے اندرونی شعبے پر رہا ہے۔ لیکن ہم آنے والے دنوں میں ملکی معیشت میں گراوٹ اور محنت کش عوام پر ہونے والے معاشی حملوں کی مکمل تصویر کشی اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم معیشت کے بیرونی شعبے ،خاص کر ادائیگیوں کے توازن (BoP ) کے بحران پر بات نہ رکھیں۔مالی سال 2017-18ء میں سابقہ حکومت کو 36.4ارب ڈالر کے بلند تجارتی خسارے اور 5.6ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کی وجہ سے18.1ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس خسارے کو پورا کرنے اور BoP کے بحران سے بچنے کے لئے سابقہ حکومت نے پچھلے مالی سال میں چینی ، خلیجی اور دیگر بیرونی کمرشل بینکوں،یورو اور سکوک بانڈز کے اجرا،اے ڈی بی اورورلڈ بینک وغیرہ سے مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر کے نئے قرضے حاصل کئے اورمختلف ممالک سے دیگر شعبوں کے لئے ملنے والی لگ بھگ 700ملین ڈالرز کی گرانٹس کا استعمال کیا۔مگر یہ سب کرنے کے بعد بھی پیچھے 6.4ارب ڈالر کا خسارہ بچ رہا تھا جسے پورا کرنے کے لئے بالآخر اسٹیٹ بینک کے فارن ایکسچینج ریزرو کا سہارا لیا گیا۔نتیجتاً پچھلے مالی سال کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے پاس صرف 9.8ارب ڈالر کا فارن ایکسچینج ریزرو رہ گیا تھا جو بمشکل تین ماہ کی درآمدات کے لئے کافی تھا۔ روپے کی قدر میں پچھلے اس سارے عرصے میں آنے والی تیز گراوٹ کے قلابے بھی اسی امر سے جا ملتے ہیں کیونکہ اب اسٹیٹ بینک کے پاس اتنا فارن ریزرو تھا ہی نہیں جسے ملکی مالیاتی منڈی میں پھینک کر اور بدلے میں روپیہ اٹھا کر روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھا جا سکتا۔ BoP کا یہ بحران کسی ایک حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کی جڑیں عالمی معاشی سست روی،پاکستان کی گماشتہ بھکاری ریاست کے عالمی مالیاتی اداروں پر لمبے انحصار، آزاد منڈی کی معاشی پالیسیوں،پاکستانی بورژوازی کی نامیاتی تکنیکی اور ثقافتی پسماندگی ،نام نہاد نیشنل سکیورٹی اسٹیٹ کے بے پناہ فوجی اخراجات اور حالیہ عرصے میں سی پیک جیسے لوٹ مار کے سامراجی منصوبے میں پیوست تھیں۔مگر موجودہ حکومت نے بر سراقتدار آتے ہی حسب روایت اس صورتحال کا سارا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈالتے ہوئے ’سب اچھا‘ کر دینے کا دعوی کیا۔مگر مارکس وادیوں نے اس وقت بھی یہ واضح کیا تھا کہ اس نظام کی حدود میں رہتے ہوئے کچھ بھی ٹھیک کرنا اب ممکن نہیں رہا اور موجودہ حکومت کو بھی نہ صرف سابقہ حکومتوں کی معاشی پالیسیاں بر قرار رکھنا پڑیں گی بلکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ داروں کو پہلے سے بھی بڑی چھوٹیں دیتے ہوئے محنت کشوں پر ماضی سے بھی بڑے معاشی حملے کرنا پڑیں گے۔مزید برآں یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی BoPکا بحران مزید شدت پکڑتا جائے گا اور یہ بھکاری ریاست یونہی ڈیفالٹ کے کنارے لڑکھڑاتی رہے گی تاوقتیکہ کوئی بڑا معاشی جھٹکا(جیسے ایک نیا عالمی معاشی بحران) اسے دیوالیہ پن کی اندھی کھائی میں دھکیل نہیں دیتا۔آج یہی سب ہو رہا ہے۔مگر حکومت معیشت کے باقی تمام پہلوؤں کی طرح بیرونی شعبے کے متعلق بھی جھوٹ پہ جھوٹ بول رہی ہے۔اندرون خانہ نئے قرضے کے حصول کے لئے آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی ادارے کے تلوے چاٹے جا رہے ہیں،اس کی عوام دشمن پیشگی شرائط کو دھڑا دھڑ پورا کیا جا رہا ہے،آئی ایم ایف میں امریکی سامراج کی ویٹو پاور کے پیش نظر افغانستان میں واشنگٹن کی ’اینڈ گیم‘ کے لئے سہولت کاری کی جا رہی ہے مگر عوام کے سامنے ’ملکی خود مختاری‘ کا ڈھول پیٹتے ہوئے یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ ہم نے ’دوست ممالک‘ کی مدد سے BoP کے بحران پر قابو پا لیا ہے اور ہمیں فوری طور پر آئی ایم ایف کے قرضے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔آئیے ذرا اس حوالے سے حکومتی دعوؤں کا پول کھولتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ رواں مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ لگ بھگ بنے گا کتنا؟رواں مالی سال کے آغاز میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ لگ بھگ 27ارب ڈالر کا لگا یا تھا۔ مگر حکومت کا دعوی ہے کہ آئی ایم ایف کے یہ اعدادو شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے اور انہوں نے برسر اقتدار آنے کے بعدBoPبحران سے نکلنے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں ان کے نتیجے میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی ہو گی اور اسی لئے انہیں آئی ایم ایف کے قرضے کی کوئی فوری ضرورت نہیں ہے۔چلیں ہم نہ آئی ایم ایف کی مانتے ہیں اور نہ ہی وزارت خزانہ کی،بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ حکومت کو ’Best Case Scenario‘(بہترین ممکنہ صورتحال) کا فائدہ دیتے ہوئے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم از کم کتنا ہوگا۔ تجارتی خسارہ اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سب سے بڑا موجب ہے۔حکومت برآمدات بڑھانے کے لئے اپنے اقدامات کی خوب تشہیر کر رہی ہے مگر جیسا کہ ہم نے اوپر تفصیل سے بیان کیا تھا کہ محض سرمایہ داروں کو ٹیکس چھوٹیں دینے اور روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے نہ ہی پاکستانی صنعت کی نامیاتی کمزوریاں دور ہو سکتی ہیں اور نہ ہی برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح درآمدات کو دیکھا جائے تو ماضی میں ان میں اضافے کی بڑی وجہ بننے والی سی پیک پراجیکٹس کی مشینری کی درآمد اب بھی جاری ہے۔چین سمیت مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت دھڑا دھڑ سستی بیرونی صنعتی مصنوعات کی ملکی منڈی میں ڈمپنگ اب بھی جاری ہے اور پاکستانی صنعت ان کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی۔ لے دے کر اگر اب تک کے درآمدی بل میں کوئی تھوڑی بہت کمی ہوئی ہے تو اس کی وجہ کوئی حکومتی پالیسیاں نہیں بلکہ کم پڑتی عالمی مانگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمت ہے جو کہ پچھلے سال جنوری میں 69 ڈالر فی بیرل کے مقابلے میں اس سال جنوری میں 61ڈالر فی بیرل پر ہے۔ یوں رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تجارتی خسارہ بمشکل ایک ارب ڈالر کم ہوا ہے۔اس صورتحال کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک تجارتی خسارے میں پچھلے سال کی نسبت زیادہ سے زیادہ 2.5ارب ڈالر کی کمی ہو جائے گی۔ مگر حکومت سعودی عرب اور یواے ای دونوں سے سالانہ تین ارب ڈالر کا تیل ادھار پر لینے کا معاہدہ کر چکی ہے ۔اس معاہدے کی مدت تین سال ہے اور یہ فروری سے نافذ العمل ہو رہا ہے۔یعنی رواں مالی سال کے آخری پانچ ماہ میں اس ادھار تیل کی وجہ سے تجارتی خسارے میں 2.5 ارب ڈالر کی مزید کمی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح برآمدات بڑھانے کے لئے کئے گئے تمام تر حکومتی اقدامات سے رواں مالی سال کی برآمدات میں گھسیٹ گھساٹ کر چند سو ملین ڈالر کا اضافہ تو ہو ہی جائے گا۔یوں بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی رواں مالی سال کے تجارتی خسارے میں پچھلے مالی سال کی نسبت بمشکل 5.5ارب ڈالر تک کمی (یعنی 31 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ)کی امید کی جا سکتی ہے۔بیرونی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کی مد میں نگران حکومت نے رواں مالی سال میں11.7ارب ڈالر کی ضرورت کا تخمینہ لگایا تھا۔موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بھاگ دوڑ کر کے چند واجب الادا قرضوں کی شارٹ ٹرم ری شیڈولنگ کرا لی ہے اور اس کے نتیجے میں رواں مالی سال میں اس مد میں درکار رقم 9ارب ڈالر رہ گئی ہے۔چلیں ہم حکومت کو بہترین ممکنہ صورتحال کا فائدہ دیتے ہوئے ان کے اس دعوے کو فی الحال تسلیم کر لیتے ہیں۔دوسری طرف اگر ہم تارکین وطن کی ترسیلات زر کو دیکھیں تو ان میں کسی خاطر خواہ اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے اور اب تک کے ریکارڈ کے مطابق وہ رواں مالی سال میں بمشکل ہی 20ارب ڈالر تک پہنچ پائیں گی۔ اسی طرح پچھلے مالی سال میں ملک میں کل ملا کر(ایف ڈی آئی جمع ایف پی آئی) پانچ ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔رواں مالی سال میں یہ بمشکل ہی تین ارب ڈالر تک ہوگی کیونکہ ایک طرف تو اب تک کے سی پیک منصوبوں کی سرمایہ کاری پہلے ہی ملک میں آ چکی ہے لیکن دوسری طرف نئے منصوبوں(جیسے کہ مین لائن ون پراجیکٹ) کا آغاز مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کی طرف سے گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر کے لئے سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ بھی ابھی اعلانات تک ہی محدود ہے۔ ویسے بھی اس پراجیکٹ کے عملی جامہ پہننے کے امکانات کم ہی ہیں۔ یوں تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی رواں مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم از کم 17ارب ڈالر بنتا ہے یعنی پچھلے مالی سال سے محض 1.1ارب ڈالر کم۔ اب حکومت اس خسارے کو پورا کیسے کر ے گی؟اس کا سادہ سا جواب ہے کہ ماضی کی تمام حکومتوں کی طرح دھڑا دھڑ نئے بیرونی قرضے لیکر۔ اسی لئے آئے روز آپ کو وزیر اعظم صاحب کشکول لے کر پوری دنیا میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی تو جنرل باجوہ صاحب بھی اس مشکل کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے ہیں۔ رواں مالی سال میں اب تک چین،سعودی عرب،یواے ای اور مختلف کمرشل بینکوں سے کل ملا کر دس ارب ڈالر (ادھار تیل کے علاوہ) کے نئے بیرونی قرضے لئے جا چکے ہیں اور نتیجتاً پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 100ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہترین ممکنہ صورتحال کے مطابق بھی پاکستان کو رواں مالی سال میں اپنا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے کم از کم 7ارب ڈالر مزید چاہئے ہوں گے۔ پچھلے مالی سال کی طرح اس بار یہ ادائیگی اسٹیٹ بینک کے فارن ایکسچینج ریزرو سے تو نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ دس ارب ڈالر کے تازہ قرضوں میں سے 7.8ارب ڈالر کی رقم ٹرانسفر ہو جانے کے باوجود بھی اس وقت 8.8ارب ڈالر ہیں جو کہ بمشکل تین مہینے کی درآمدات کے لئے کافی ہیں۔لہٰذا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے حکومت کو اگلے پانچ ماہ میں کم از کم سات ارب ڈالر کے مزید بیرونی قرضے درکار ہوں گے۔اس مقصد کے لئے حکومت دو سے تین ارب ڈالر کے قرضے کے لئے چینی کمرشل بینکوں سے مذاکرات کر رہی ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے تارکین وطن کی فارن کرنسی سیونگز کا فائدہ اٹھانے کی خاطر Diaspora بانڈز کا اجرا بھی کیا ہے لیکن اس سے کچھ خاص ملنے والا نہیں ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ حکومت کو رواں مالی سال میںBoPبحران سے بچنے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضہ لینا ہی پڑے گا۔ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول اے ڈی بی،ورلڈ بینک سے مزید قرضوں کے حصول کے ساتھ ساتھ حکومت کے لئے عالمی مالیاتی منڈیوں میں یورو بانڈز اور سکوک بانڈز کے اجرا کا راستہ بھی ہموار کر دے گا۔ لیکن آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لئے ریاست اور حکمران طبقے کو جہاں ایک طرف افغانستان میں سر نیہوڑا کر امریکہ کی گماشتگی اور خطے میں اس کے دیگر سامراجی مفادات کا تحفظ کرنا پڑے گا وہیں دوسری طرف قرض کی شرائط کے مطابق روپے کی قدر میں مزید کمی، شرح سود میں مزید اضافے، ترقیاتی بجٹ میں مزید کٹوتی، بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافے اور نجکاری جیسے عوام دشمن اقدامات میں بھی مزید تیزی لانی پڑے گی۔ اسی طرح اگر ہم چین اور خلیجی ممالک سے لئے گئے قرضوں کو دیکھیں تو وہ بھی ریاست کو’اللہ واسطے‘ نہیں دیے گئے اور بلند شرح سود کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ دیگر کڑی شرائط بھی منسلک ہیں جنہیں حکومت عوام سے چھپا رہی ہے۔ سعودی عرب اوریو اے ای جہاں قرضوں کے بدلے پاکستانی ریاست کو یمن جنگ اورمشرق وسطیٰ میں ایران کیخلاف اپنی دیگر پراکسی جنگوں میں گھسیٹ رہے ہیں وہیں یقینی طور پر چین بھی قرضوں کو پاکستان پر اپنا سامراجی تسلط بڑھانے کے لئے استعمال کرے گا۔

رواں مالی سال میں اگر ریاست جیسے تیسےBoP کے بحران کو ٹال بھی دیتی ہے تو اگلے سال کیا ہو گا اور آنے والے مزید سالوں میں کیا صورتحال بنے گی جب بلند تجارتی خسارے کے ساتھ ساتھ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گا اور سی پیک منصوبوں سے منافعوں کی بیرون ملک منتقلی بھی شروع ہو جائے گی۔ جبکہ دوسری طرف نہ تو برآمدات میں کسی خاطر خواہ اضافے کا کوئی امکان ہے اور خلیجی ممالک کی معاشی سست روی کی وجہ سے ترسیلات زر میں بھی بتدریج کمی ہو گی ۔ اسی حوالے سے آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 45ارب ڈالر تک پہنچ جائے گاجبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق میڈیم ٹرم میں پاکستان کے جی ڈی پی کی حقیقی شرح نمو3فیصد کے آس پاس رہے گی۔ایسی صورتحال میں حکمران طبقہ بحران کا تمام تر بوجھ محنت کش عوام کے کندھوں پر منتقل کرتے ہوئے ان پرشدید ترین معاشی و سماجی حملے کرے گا۔ اسی لئے ہمارا واضح موقف ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی قسم کی بہتری کی امید رکھنا بے وقوفی ہے۔پاکستان کے محنت کش طبقے کے پاس اب مزید انتظار کا وقت نہیں ہے۔ اس وقت ان کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔انہیں طبقاتی بنیادوں پر متحد ہوتے ہوئے جدوجہد کے میدان میں اترنا ہو گا اور اس پورے نظام کا تختہ الٹتے ہوئے اس دھرتی پر ایک سوشلسٹ انقلاب بر پا کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں ایک طرف تمام تر سامراجی قرضوں کو ضبط کرتے ہوئے اور دوسری طرف بینکوں،بڑی صنعتوں، جاگیروں اور معدنی وسائل سمیت تمام تر دولت پیدا کرنے والے ذرائع پر محنت کشوں کی اجتماعی ملکیت اور جمہوری کنٹرول قائم کرتے ہوئے ایک منصوبہ بند معیشت کی تعمیر کی جائے گی جو کہ عوام کو زند گی کی ہر ممکنہ سہولت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh