محنت کش عوام پرمہنگائی اور بیروزگاری کے نئے حملوں کا سیلاب آ چکا ہے۔ ہر روز محنت کشوں کی بڑی تعداد کو غربت اور ذلت کی گہری کھائی میں دھکیلا جا رہا ہے جبکہ حکمران طبقے کی پر تعیش زندگیاں پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے جاری ہیں۔ محنت کشوں کے گھروں میں زندگیاں تاریکی میں غرق ہورہی ہیں جبکہ حکمرانوں کے محلوں میں رونقوں کی برسات ہے۔ پہلے دوائیوں کی قیمتوں میں تین سو فیصد تک اضافہ کیا گیا پھر ہسپتالوں کی نجکاری جس کے ذریعے عوام سے علاج کی سہولت بھی چھینی جا رہی ہے۔ اس کے بعد پٹرول کی قیمت میں اضافہ اور پھر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کے فیصلے۔ اسی دوران سات سو ارب روپے کے مزید نئے ٹیکس لگانے کے اعلانات جبکہ سرمایہ داروں کے لیے نئی مراعات، عوام کے پیسے سے انہیں سبسڈیوں کی فراوانی اور ٹیکسوں میں چھوٹ جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ واضح طور پر حکمران طبقے کی عیاشیوں کو جاری رکھنے کے لیے لاکھوں محنت کشوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے اور ان سے جمع پونجی کا آخری سکہ بھی حکومتی خزانے کے لیے چھینا جا رہا ہے۔ اس ظلم اور نا انصافی میں تمام سیاسی پارٹیاں، میڈیا اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں اور سب مل کر عالمی سامراجی قوتوں کی گماشتگی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

افراط زر میں تیز ترین اضافے اور کرنسی کی قدر میں چالیس فیصد سے زیادہ گراوٹ کے باوجود محنت کشوں کی اجرت میں ایک پیسے کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب مزدور کی طے کردہ کم از کم اجرت سولہ ہزار روپے ماہانہ ہے لیکن لاکھوں محنت کش اس سے بھی کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح یہ اجرت آٹھ گھنٹے کام کی طے کی گئی ہے جبکہ اس وقت بارہ سے سولہ گھنٹے روزانہ کام نجی شعبے میں معمول بن چکا ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی کا تصور بھی ختم ہو گیا ہے۔ ٹھیکیداری اور دیہاڑی دار کام کے بعد اب فی گھنٹے کے حساب سے کام لیا جا رہا ہے۔ بد ترین استحصال اور انتہائی کم اجرتوں کے تعین کے باوجود اکثر جگہوں پر اجرتیں ادا ہی نہیں کی جاتیں اور کئی کئی ماہ بغیر اجرتوں کے کام لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سرمایہ داروں کی بجلی، گیس اور ٹیکس چوری کا خمیازہ بھی عوام زیادہ بلوں اور بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں بھگتتے ہیں۔ اس سرسری سی صورتحال سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے سرمایہ دار کتنے بڑے پیمانے پر منافع نچوڑ رہے ہیں۔

اب نجکاری کے مزید بڑے حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ بچے کھچے سرکاری اداروں کو بھی ان گدھ نما انسانوں کے سامنے پھینک دیا جائے تاکہ وہ انہیں نوچ کر اپنی ہوس پوری کر سکیں۔ ان حملوں میں صحت، تعلیم اور دیگر ایسے بنیادی نوعیت کے اداروں کے ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو بیروزگار کر دیا جائے اور جو باقی بچ جائیں گے انہیں نجی شعبے کے دیگر محنت کشوں کی طرح منافع کی ہوس کے لیے بد ترین استحصال کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اس سے پہلے جن درجنوں اداروں کی نجکاری کی گئی ان اداروں سے لاکھوں افراد بیروزگار ہوئے اور ان کے خاندان آج غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مشرف کی آمریت تھی یا پیپلز پارٹی، ن لیگ یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کی حکومت ہر دفعہ حکمران طبقے نے محنت کشوں کا ہی معاشی قتل عام کیا۔ موجودہ حکومت بھی حکمران طبقے کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے عوام کا گلا گھونٹ رہی ہے۔

پنجاب بھر کے ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈیکس ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف سراپا احتجاج ہیں

یہ تمام صورتحال اس ملک کی مزدور تحریک کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور انہیں اس کے خلاف ایک واضح لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے اداروں میں احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو آنے والے عرصے میں مزید شدت اختیار کرے گا۔ اسٹیٹ لائف انشورنس اور یوٹیلیٹی سٹورز کے ملازمین میدان عمل میں اتر چکے ہیں اور ان پر ریاستی جبر کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ کراچی میں نرسوں، اسٹیل مل کے ملازمین، پورٹ ورکرز اور دیگر اداروں کے ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ پنجاب اور پختونخوا میں صحت کے شعبے کے ملازمین بھی احتجاج اور ہڑتالوں کے سلسلے کاآغاز کر چکے ہیں اوراس شعبے کے ملازمین اپنے آپسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہو چکے ہیں۔ آنے والے عرصے میں اساتذہ سمیت دیگر شعبوں کے ملازمین بھی احتجاج پر مجبور ہوں گے اور زیادہ بڑی تعداد میں نجکاری اور بیروزگاری کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔ اسی طرح نجی شعبے میں بھی بہت بڑے پیمانے پر تحریکیں موجود ہیں جو اجرتوں کی ادائیگی اور ان میں اضافے سے لے کر یونین سازی کے بنیادی حق کے لیے ملک بھر میں ابھر رہی ہیں۔ لیکن ان تمام تحریکوں میں ایک امر واضح ہو کر سامنے آیاکہ ہر طرف محنت کش طبقہ کسی بھی سیاسی پارٹی پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں اور ان تمام پارٹیوں اور ریاستی اداروں کے عوام دشمن کردار سے بخوبی واقف ہو چکا ہے۔ جب بھی اس ملک کے ریاستی اداروں پر بیٹھے افسران یا پارلیمنٹ میں موجود سیاستدانوں کی تنخواہوں میں اضافے کی بات ہو تو فوری طور پر خزانے سے پیسے مہیا کر دیے جاتے ہیں لیکن جب بھی محنت کش تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کریں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے اور انہیں ملک و قوم کے لیے قربانی دینا ہوگی۔ اسی طر ح سرمایہ داروں کے لیے منافعوں میں اضافے کی پالیسیاں بنانے اور لوٹ مار کی اجازت دینے کے علاوہ سبسڈی اور ٹیکسوں پر چھوٹ دینے کے لیے بھی پیسے موجود ہوتے ہیں لیکن عوام کے بنیادی استعمال کی ہر شے پر ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے اور سبسڈی ختم کی جارہی ہے۔ اس سے ہی واضح ہوتا ہے کہ یہ ریاست اور یہ نظام سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے موجود ہے اور محنت کشوں کی زندگیوں کا مقصد محض دولت مند افراد کی خدمت کرنا اور ان کے لیے قربانی دینا ہی ہے۔

لیکن اب محنت کشوں کو اس خونی چنگل سے باہر نکلنا ہوگا اور اپنی صفوں کو درست کرتے ہوئے امیر اور غریب کی اس طبقاتی لڑائی میں خود کو متحد کرنا ہو گا۔ اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں اور طبقے کے غداروں کو بھی نکال پھینکنا ہو گا اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کرنی ہو گی۔ محنت کش طبقے کی نجات کا واحد رستہ سوشلسٹ انقلاب ہی ہے، جس میں تمام سرمایہ داروں کی دولت اور جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی اور سامراجی قرضے ادا کرنے سے انکار کر دیا جائے گا۔ اس مزدور ریاست میں طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ہوگا اور روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم ہر شخص کو فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہو گی۔اس پیغام کو مزدوروں کے زیادہ سے زیادہ حصوں تک پہنچانا آج کے دور کا اہم ترین فریضہ ہے۔ کیونکہ یہی پیغام آج ابھرنے والی تمام تحریکوں کو وہ نظریاتی بنیادیں فراہم کرے گا جسے سے وہ نہ صرف حکمرانوں کے موجودہ حملوں کو شکست دے سکتے ہیں بلکہ اس نظام کیخلاف بھی ایک فیصلہ کن لڑائی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔اس حتمی لڑائی میں کامیابی ہی محنت کش طبقے کو تمام مصائب سے نجات دلائے گی۔

0
0
0
s2smodern