|تحریر: پارس جان|

اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا ثقافتی و تمدنی تقدس کی بھیانک اصلیت کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کے تمام تر اخبارات اور ٹی وی چینلز پر سب سے زیادہ گردش کرنے والا نام ایک ایسی خاتون کا ہے جس کے چرنوں میں نجانے کتنے مہان اکابرین و قائدین کی شہرت اور عزت ناک سے لکیریں کھینچ رہی ہے۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی منچلے اپنی اپنی فرسٹریشن کے کیتھارسس کے لیے موصوفہ کی ویڈیوز کو موضوع بحث بنائے ہوئے ہیں۔ حریم شاہ نام کی یہ خاتون اس وقت اچانک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی تھیں جب وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ان کی نہایت بیباک چہل قدمی و جلوہ افروزی کی ویڈیو کچھ عرصہ قبل منظرعام پر آئی تھی۔ ویڈیو میں موصوفہ کی بے تکلفی سے صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا وہاں آنا جانا محض اتفاقیہ نہیں بلکہ معمول کی بات ہے۔ حال ہی میں شیخ رشید کے ساتھ بھی حریم شاہ کی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامیوں کی طرف سے حریم شاہ کو شدید تنقید اور دشنام کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ردعمل کے طور پر موصوفہ نے غصے میں وزیراعظم عمران خان کی ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی تک دے ڈالی۔ تحریک انصاف پنجاب کے ایک نامی گرامی لیڈر فیاض الحسن چوہان کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے واٹس ایپ کال پر موصوفہ سے التجا کی کہ وہ میڈیا پر آنے سے جتنا ممکن ہو سکتا ہے گریز کریں اور ساتھ ہی چند میڈیا اینکرز کو خوب لتاڑا کہ وہ موصوفہ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مذکورہ صوبائی وزیر کی تجاویز اور التماس کو خاطر میں لانا تو دور کی بات، یہ وٹس ایپ کال بھی پبلک کر دی گئی۔ اس سے درپردہ تضادات کی سنگینی اور ہولناکی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا۔ پاکستانی سیاست و ثقافت پر ہلکی سی بھی نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص بلا کسی ہچکچاہٹ کے اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ موصوفہ اپنے تئیں اس حد تک جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ اس حد تک تو فیاض الحسن چوہان کی بات درست ہے کہ اس خاتون کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن جن ٹی وی اینکرز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان کی اپنی حیثیت بھی کٹھ پتلیوں یا مہروں سے بڑھ کر نہ کبھی تھی اور نہ ہی کبھی ہو سکتی ہے، وہ بھی موصوفہ کی طرح صرف اداکار ہیں، اس سنسنی خیز ڈرامے کے سکرپٹ رائٹر اور ہدایتکار وہی ہیں جن کی انگلیوں پر ناچتے ناچتے فیاض الحسن چوہان اور ان جیسے دیگر سیاسی گماشتے موجودہ مقام اور مرتبے پر فائز ہوئے ہیں۔ یہ نظام اور ریاست کا بحران ہی ہے جو ہر راز کو آشکار اور ہر دامن کو داغدار کرتا چلا جا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ طاقت کے ایوان ان طوائفوں کے قدموں کی آہٹ سے پہلی دفعہ شناسا ہوئے ہیں، بلکہ تاریخی طور پر تاخیر زدہ یہ مملکت خداداد کا حکمران طبقہ اور اس کی ناسور زدہ ریاستی مشینری مالیاتی، تکنیکی اور سیاسی طور پر جتنی پسماندہ ہے، اس سے کئی گنا زیادہ یہ اخلاقی، ثقافتی اور نفسیاتی پراگندگی کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی شاہکار مثال اس اسلامی ریاست کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ فوج کے یحییٰ خان جیسے بدقماش اور عیاش سربراہ کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تب سے لے کر پرویز مشرف تک ریاست کا مذہبی بخار اگرچہ سامراجی گماشتگی کے جینیاتی فشار کے باعث چڑھتا اور اترتا رہا ہے، مگر ثقافتی زوال کا سفر ہمیشہ برق رفتاری سے جاری رہا ہے۔ اس ضمن میں سول اور ملٹری اشرافیہ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر عبرت انگیز اور حقارت آمیز کردار کی حامل ہیں۔

جب کسی بھی سماج کا حکمران طبقہ اس حد تک غلاظت میں لتھڑا ہوا ہو تو اس سماج کی عمومی ثقافتی اقدار کا معیار بھی اس کے اثرات قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کارل مارکس نے وضاحت کی تھی کہ کسی بھی سماج کی حاوی اخلاقیات اور ثقافت اسی طبقے کی ہوتی ہے جو پیداواری قوتوں کا مالک ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس ثقافتی تعفن کے اثرات کو گراس روٹ لیول تک سرایت کرتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ہم قنوطیت پسند وجودی و مابعد جدیدی دانشوروں کی طرح یہ بالکل نہیں کہتے کہ سماج میں انسانیت ناپید ہو چکی اور کچھ بھی مثبت باقی نہیں بچا لیکن بہرحال حکمران طبقہ چونکہ سماج میں سوشل اور فزیکل انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کی اہلیت سے محروم ہے، اسی لئے نام نہاد اخلاقیات کا دوغلا اور کھوکھلا پن بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔ مردوں کو قبروں سے نکال کر جنسی ہوس کا شکار بنانا، معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، خواتین کا ریپ اور جنسی ہراسانی اور اسی طرح کے روح کو لرزا دینے والے واقعات کی تعداد میں اگرچہ بہت اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کے خلاف نفرت اور حقارت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ان کی وجوہات کو جاننے کا تجسس اور تدارک کی ضرورت اور اہمیت کا احساس بھی تقویت پکڑ رہا ہے۔ چند روز قبل مانسہرہ کے ایک مدرسے میں ایک دس سالہ معصوم بچے کے ساتھ وحشی ملاؤں کے سو سے زیادہ بار جنسی تشدد کے واقعے پر نوجوانوں کا سوشل میڈیا پر جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وقتی طور پر معاشی و سیاسی مسائل سے صرف نظر کر بھی لیا جائے تو محض اسی طرح کے غیر انسانی واقعات بھی عوامی لاوے کے پھٹ کر نظام کو خاکستر کر دینے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ لوگوں کی برداشت جواب دے رہی ہے۔ سب سے اہم بات ان تمام غیر انسانی واقعات کا طبقاتی پہلو ہے۔ زینب اور اس کے بعد ریپ کے بعد قتل ہونے والے معصوم بچوں سے لے کر مانسہرہ کے اس معصوم پھول کے مسلے جانے تک تقریباً تمام ہی متاثرین کا تعلق سماج کی غریب ترین اور پسماندہ پرتوں سے ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس طرح کی ثقافتی یلغار میں ایک آدھ حکمران طبقے کی کلی بھی مسل دی جائے، مگر غریبوں کی جھونپڑیوں میں اس طرح کے آلام و مصائب ہمیشہ بغیر دستک دیئے داخل ہونے کے عادی ہو چکے ہیں۔ عوام اور بالخصوص نوجوان نسل اب اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ نہ صرف ملیریا اور ہیضہ جیسی بیماریاں، بیروزگاری اور خودکشیوں جیسے ناسور، زلزلوں اور سیلاب جیسی قدرتی آفات بلکہ جنسی وحشی اور درندے بھی غریبوں پر ہی حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان سب سے چھٹکارے کی واحد صورت اس غربت سے نجات کے علاوہ ممکن ہی نہیں۔

درمیانے طبقے کی چند ایک بالائی پرتوں یا انتہائی رجعتی پرتوں کو نکال کر باقی ماندہ درمیانہ طبقہ بہت تیزی سے عمران خان سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بے چینی جوں جوں بڑھتی جائے گی، اس کا اظہار طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کی مہنگی تعلیم، یونین کی بحالی، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، جنسی ہراسانی وغیرہ کے گرد ہونے والے احتجاجوں اور تحریکوں کی شکل میں بڑھتا رہے گا۔

تبدیلی سرکار کو دو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد واقعی اس تبدیلی سے خوشگوار توقعات وابستہ کیے ہوئے تھی۔ ان توقعات کی بھی مادی وجوہات تھیں۔ یہاں تک کے شہری محنت کشوں کی کچھ سیاسی اعتبار سے پسماندہ پرتیں بھی درمیانے طبقے کی طرف سے دکھائے جانے والی جنت کے سحر میں گرفتار ہوئی تھیں۔ درحقیقت، اس سے قبل مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے مابین جمہوری رسہ کشی کے نتیجے میں یہاں کے محنت کش تو نسل در نسل برباد ہی ہوئے ہیں۔ درمیانے طبقے کی بہت سی پرتیں بھی شدید معاشی تناؤ کا شکار ہوتی رہیں۔ اگر درمیانے طبقے کے حجم میں کچھ خاطر خواہ سطحی اضافہ بھی ہوا تو وہ بھی پرویز مشرف کے اقتدار کے دنوں میں دیکھنے میں آیا۔ اس کی بنیادی وجوہات بھی اس وقت کی ملکی سے زیادہ بین الاقوامی معیشت کے مصنوعی غبارے میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ لیکن جدلیاتی طور پر یہ درمیانہ طبقہ اپنے طبقاتی تشخص کو تبدیل کر کے حکمران طبقات کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے ہمیشہ بے صبری اور چھچھورے پن کا شکار نظر آیا۔ اس کا کوئی مستقل سیاسی رجحان پنپ ہی نہیں سکا۔ پہلے اسے جمہوریت کا بخار چڑھا تو اس نے روایتی بورژوا سیاست سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تحریک انصاف کے لیے سماجی مواد کی فراہمی کا فریضہ سر انجام دیا۔ پھر اقتدار کی فوری دستیابی کے معدوم ہوتے ہوئے امکانات کے پیش نظر ایک فوجی جرنیل کو مہان دیوتا بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا اور”شکریہ راحیل شریف“ کی موج اس درمیانے طبقے کی جمہوری آشاؤں کو بہا کر لے گئی۔ اسی فوجی آشیرباد کو سیاست میں جائز اور قومی مفاد کی ضامن قرار دیتے ہوئے اسی درمیانے طبقے نے سویلین لبادے میں تحریک انصاف کے حالیہ فوجی اقتدار کو لبیک کہا۔ لیکن گزشتہ دو سالوں میں اب تبدیلی سرکار نے اس درمیانے طبقے کے معیارزندگی پر گزشتہ بورژوا پارٹیوں سے بھی زیادہ وحشیانہ حملے کیے ہیں۔ کرپشن اور احتساب کے ٹرک کی بتی بھی اب فیوز ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس جس کے تحت پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال باہر کیا گیا ہے اور بغیر اخباری نوٹس کے ملزم کی گرفتاری پر بھی قدغنیں لگائی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ریمانڈ کی مدت کو نوے دنوں سے چودہ دنوں تک محدود کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر خود عمران خان کا یہ کہنا کہ ہمارے دوستوں پر بھی نیب کے مقدمات تھے، ان کو بھی ریلیف ملے گا، اس نے درمیانے طبقے کی خجالت کو مہمیز دی ہے۔ اس وقت عمران خان کی اپوزیشن کے دور کی وہ تمام تقاریر جو اس نے درمیانے طبقے کی خوشنودی اور حمایت جیتنے کے لیے اقتدار کی ہوس میں ببانگ دہل کی تھیں، حکومت کے خلاف کیمپئین کرنے اور اس کی سماجی حمایت میں گراوٹ کے لیے کافی مواد فراہم کر رہی ہیں۔ اسی طرح پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو موخر کرنے کے لیے بھی موجودہ حکومت نے خود ایک فریق بن کر حکم امتناع حاصل کرنے کی کوشش کی، اس سے بھی اس نام نہاد جمہوری حکومت کا پردہ فاش ہو گیا۔ یوں درمیانے طبقے کی چند ایک بالائی پرتوں یا انتہائی رجعتی پرتوں کو نکال کر باقی ماندہ درمیانہ طبقہ بہت تیزی سے عمران خان سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بے چینی جوں جوں بڑھتی جائے گی، اس کا اظہار طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کی مہنگی تعلیم، یونین کی بحالی، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، جنسی ہراسانی وغیرہ کے گرد ہونے والے احتجاجوں اور تحریکوں کی شکل میں بڑھتا رہے گا۔ درمیانے طبقے کی یہ سیاسی لرزش اور تذبذب سماج کی بڑی انقلابی کروٹ کی تیاری کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

قومی غربت کی شرح جو 2018ء کے وسط میں 33 فیصد کے لگ بھگ تھی اب 40 فیصد کے قریب ہے۔ اشیائے خوردونوش میں افراط زر کی شرح (Food Inflation) 16فیصد تک جا پہنچی ہے اور محض سانسوں کا رشتہ برقرار رکھنے کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ غذائی قلت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

محنت کش طبقے کے لئے تو یہ دو سال کسی قیامت سے کم نہیں تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ گزشہ تین ساڑھے تین دہائیوں میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی بالترتیب دو اور تین حکومتوں نے محنت کش طبقے کے حق میں کوئی اصلاحات کی تھیں بلکہ انہوں نے بھی مسلسل محنت کشوں پر معاشی حملے ہی کیے تھے۔ حقیقت میں موجودہ حکومت کی کوئی ایک بنیادی پالیسی بھی ان سابقہ حکومتوں سے مختلف نہیں ہے اور ان اپوزیشن پارٹیوں کا بھی ان حالیہ پالیسیوں سے کوئی اصولی اختلاف سامنے نہیں آیا۔ لیکن ماضی میں سرمایہ دارانہ نظام کے لمبے ابھار اور 69-68ء کے انقلاب کی جیتی گئی چیدہ چیدہ حاصلات کے باعث سماج میں مجموعی طور پر اتنی معاشی سکت موجود تھی کہ محنت کش طبقے کی دو، تین نسلوں نے ان تمام معاشی حملوں کے باوجود امید کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔ لیکن موجودہ حکومت کی طرف سے بھی انہی پالیسیوں کے تسلسل نے مقدار کو معیار میں بدل دیا ہے اور موجودہ سرمایہ دارانہ ڈھانچے میں اب محنت کشوں کے لیے امید کی ایک کرن تک موجود نہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ماہر معیشت حفیظ پاشا کے اندازے کے تحت موجودہ حکومت کے اس ڈیڑھ سال میں انہی معاشی پالیسیوں کے تسلسل کے باعث اب تک 80 لاکھ سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گر چکے ہیں۔ پہلے ہی 70 فیصد سے زیادہ آبادی عالمی پیمانے کے مطابق غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ملکی پیمانے کے مطابق تقریباً نصف آبادی غربت کی دلدل میں غرق ہو چکی ہے۔ اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قومی غربت کی شرح جو 2018ء کے وسط میں 33 فیصد کے لگ بھگ تھی اب 40 فیصد کے قریب ہے۔ اشیائے خوردونوش میں افراط زر کی شرح (Food Inflation) 16فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ایک طرف حکومت مسلسل روپے کی قدر میں کمی کرتی رہی ہے، جبکہ دوسری طرف آئے مہینے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ آمدن مسلسل سکڑ رہی ہے اور محض سانسوں کا رشتہ برقرار رکھنے کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ غذائی قلت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم اور علاج کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی کی گئی ہے۔ اور امکان غالب ہیں کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ طرح طرح کے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ اور ابھی ایک منی بجٹ کی آمد کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک تقریر میں وزیراعظم صاحب نے آئی ایم ایف کی’اصلاحات‘ کے پیکج پر ہر قیمت پر عملدرآمد کرانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شعبہ صحت سمیت تمام اداروں میں اصلاحات کی جائیں گی اور ان اصلاحات کا مرکزی نکتہ ظاہر ہے کہ نجکاری ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں میں ’مافیا‘(یعنی ٹریڈ یونینز) موجود ہیں،انہیں ختم کیا جائے گا اور ہر قسم کے مزاحمت کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیا جائے گا۔ اس سے حکمران طبقے کے ارادوں اور نیت کا پتہ چل رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کا بوسیدہ اور مصنوعی سرمایہ دارانہ ڈھانچہ مکمل انہدام کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور یہ آبادی کی اکثریت پر غیر انسانی اور وحشیانہ جبر کیے بغیر خود کو برقرار ہی نہیں رکھ سکتا۔ محنت کش طبقہ لڑنے اور مزاحمت کرنے کی بھلے ہی خواہش نہ رکھتا ہو مگر حکمران طبقے اور ریاست کے جبر کے یہ تازیانے اس کو اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے پر مجبور کریں گے۔ اپنی نوعیت میں یہ دفاعی تحرک کسی بھی حادثاتی واقعہ کے نتیجے میں جارحانہ کردار اختیار کر لے گا اور درمیانے طبقے کی نالاں اور مضطرب پرتوں کی منتظر حمایت محنت کش طبقے کی اس مدافعت کو ایک عوامی تحریک کا روپ دے گی۔ پہلے سے داخلی خانہ جنگی کا شکار ریاستی مشینری اس قسم کی انقلابی صورتحال کی کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتی اور اس کا طبقاتی بنیادوں پر دو لخت ہونا یقینی ہو گا۔

جب جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے معاملے پر سپریم کورٹ نے موجودہ حکومت کو ضروری آئین سازی کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی تھی، تو اس دن وزیراعظم نے ٹویٹ کیا تھا کہ اداروں میں تصادم دیکھنے کے خواہشمند حضرات کو آج شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ لیکن ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ پرویزمشرف کو غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ اس سے ایک دفعہ پھر عدلیہ اور افواج پاکستان کے مابین کھچاؤ شدت اختیار کر گیا۔ نہ صرف آئی ایس پی آر بلکہ حکومت کے شعبہ اطلاعات کی طرف سے بھی اس فیصلے کو ملک کے خلاف ایک سازش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا کہ ہر بیرونی اور اندرونی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ تشویش کی بات صرف یہ نہیں تھی کہ ایک جنرل کو پہلی دفعہ ایک غیر آئینی اقدام کی پاداش میں سزا سنائی گئی بلکہ اس خصوصی عدالت کے بینچ میں شامل پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے تحریری فیصلے میں قلمبند کیے گئے ریمارکس نے طاقت کے ایوانوں کی کھوکھلی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ موصوف نے لکھا کہ اگر سزا پر عملدرآمد سے پہلے جنرل مشرف طبعی موت مر جائے تو اس کی لاش کو لا کر تین دن تک ڈی چوک پر لٹکا دیا جائے۔ یہ اسلوب اور الفاظ داخلی خانہ جنگی کے اس نقطے کی طرف سفر کا اشارہ کر رہے ہیں کہ جہاں سے واپسی چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہے۔ صحافت کے تقریبا تمام سیانے کوئے اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ یہ لڑائی عدلیہ بمقابلہ فوج نہیں ہے بلکہ فوج کے مختلف دھڑوں کی باہمی رسہ کشی ہے۔ جنرل حمید گل کے سیاسی ورثا آج بھی اس فیصلے پر جشن منا رہے ہیں اور حاوی فوجی اشرافیہ کو تلقین کر رہے ہیں کہ مشرف کے خلاف ہونے والے فیصلے کو ادارے کے خلاف فیصلہ قرار دے کر ادارہ جاتی تصادم کو مزید شدید کرنے سے گریز کیا جائے۔ کچھ لوگ تو آئی ایس پی آر پر توہین عدالت کی کاروائی تک کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ داخلی تصادم مذہبی اور سیکولر ریاستی دھڑے کے اختلافات کا شاخسانہ ہے اور چونکہ قمر جاوید باجوہ پر قادیانی ہونے کا الزامہے اس لیے ریاست کا انتہائی دایاں بازو اس کے خلاف سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت میں اس صورتحال کو کسی ایک یا دوسرے فرد کی موجودگی یا فیصلوں اور ان کے اثرات کی روشنی میں سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ در اصل ایک پراسیس ہے جو عمومی طور پر سرد جنگ کے دنوں سے اور خصوصی طور پر ڈبل گیم کی پالیسی کے دور سے پوری شد و مد سے جاری ہے اور کوئی بھی ایک فرد یا اس کے کیے گئے فیصلے اس پراسیس کو روکنے یا مراجعت کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اگر کوئی فرد وینزویلا کے ہوگو شاویز کی طرز پر موجودہ سامراجی تسلط سے یکسر انکار کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ ریاست کے ڈھانچے کو ہی چیلنج کر دے تو شاید یہ پراسیس اپنی نفی میں بدل جائے مگر موجودہ صورتحال میں اس کے امکانات یکسر موجود نہیں۔ یوں ریاست اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن دکھائی دے رہی ہے۔ یوں بھی پرانے ورلڈ آرڈر کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ابھی تک سرمایہ دارانہ بنیادوں پر کسی نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل ممکن دکھائی نہیں دے رہی اور یوں پاکستان جیسی دم چھلہ ریاستوں کی فروعیت اور تصنع عیاں ہو چکا ہے۔ نظریہ پاکستان یعنی دو قومی نظریہ اپنی موت آپ مر چکا ہے، اور حکمران طبقے کی طرف سے اتنے وحشیانہ معاشی حملوں کے نتیجے میں حب الوطنی اور ملی جذبات ایک مضحکہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں ریاست کا کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں جس کے ایکٹوازم کے ذریعے ریاست اور عوام کے مابین مسلسل طول پکڑتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے۔ عوامی شعور ایک یا دوسرے راستے سے اسی نتیجے پر پہنچ رہا ہے کہ یہ ریاست ایک فیصد مٹھی بھر جاگیردار، سرمایہ دار، فوجی اور سول افسر شاہی کی ریاست ہے۔ ملاں ان کے ٹاؤٹ ہیں جن کا کردار حکمران طبقے کے تسلط کو اخلاقی اور شرعی پوشاک میں ڈھانپ کر رکھنا ہے۔ ملک کی دو سب سے بڑی مذہبی جماعتوں کے مقامی اکابرین مانسہرہ میں دس سالہ بچے پر جنسی تشدد کرنے والے وحشی کو پناہ دیئے ہوئے تھے اور انہوں نے طویل مذاکرات کے بعد اس درندے کو ان شرائط پر پولیس کے حوالے کیا ہے کہ اس پر کوئی تشدد نہیں کیا جائے گا اور اس سے ملاقات پر پابندی نہیں ہوگی۔ اس سے ان ملاؤں کا حقیقی چہرہ ایک دفعہ پھر سامنے آیا ہے۔ ان دو مذہبی جماعتوں میں جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ بھی شامل ہے جسے ابھی حال ہی میں ہمارے لبرل خواتین و حضرات جمہوریت کے مجاہدین جیسے القابات سے نوازتے رہے ہیں۔ نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے’جمہوری انقلاب‘ کی بھی آخری ہچکیاں طوالت پکڑ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ پرانے جغادری حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے پھر سندھ کارڈ کے ساتھ ساتھ سوشلزم کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن نوجوان نسل ان مداریوں کا اصلی چہرہ پہچان چکی ہے۔ ایسے میں نجکاری، بیروزگاری اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف چلنے والی مختلف تحریکوں کو باہم جوڑنے کی منظم اور سنجیدہ کوشش ثمرآور ہو سکتی ہے۔ اگر ایک حقیقی انقلابی قوت قبل از انقلاب کی اس معروضی صورتحال میں سائنسی حکمت عملی سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے درکار مقداری اور معیاری قوت حاصل کر لے تو محنت کش طبقے کی یہ نوجوان نسل سرمایہ دارانہ نظام کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے اور ایک سرخ سویرا لانے کے لئے تیار ہے۔

0
0
0
s2smodern