ثناء احمد۔جرمنی 

حیرت کی بات ہے۔امن کی بات کرنے والے امن قائم کرنے کے لئے زمین کو خون سے رنگین کر دیتے ہیں۔ اور دعوی بھی رکھتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کی غرض سے ایسا کر رہے ہیں۔کبھی دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے اور کبھی اپنے سینوں میں بغض وکینہ اور انا کی تکمیل کے لئے بھڑکنے والی آگ سے ماحول کو آگ کے شعلوں کی نذر کیا جاتا ہے۔ وائے حیرت!ایران،عراق،شام،مصر اور لیبیا میں جتنا خون نا حق افراد کا بہایا گیا ہے۔اس کی مثال نہیں ملتی۔اب 3جنوری 2020 کوعراق میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو مار دیا گیا۔ ایرانی صدر آیت اللہ خامنائی کے بعد وہ دوسرے بڑے طاقتور لیڈر تھے۔ انہوں نے ایران اور افغانستان کے درمیان منشیات فروش افراد کے خلاف بھی جدوجہد کی۔ وہ عراق میں امریکی حکومت کے حملوں کے خلاف بھی لڑے۔ انہیں جہاں بہت سے لوگ پسند کرتے تھے تو اس کے ساتھ ساتھ نا پسند کرنے والے بھی تھے۔ایران کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار سامنے آیاہے اور آتا بھی کیوں نہیں زندہ قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ایران ایک جنگجو قوم ہے۔عراق ایران میں اس سانحے کے بعد مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ ایران کی کل آبادی8 کڑور ہے۔معیشت بھی قابل ذکر نہیں ہے۔ جنرل قاسم کے قتل کے بعد مسجد جمکران پر سرخ جھنڈا لہرا دیا گیا۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے جرنیل کا بدلہ لیں گے ایران نے ایک اور بڑا اعلان کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ وایٹ ہاوس پر حملہ کریں گے۔ عراق، کویت اورسعودی عرب امریکہ کے معاملے میں پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ہر دو اطراف سے دھمکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ عراق سے امریکی فوج کو نکلنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ اس وقت ۵ ہزار امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں۔ ٹرمپ نے اس سے انکار کرتے ہوئے عراق پر پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دی ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ میں یہ قرار داد منظور ہو چکی ہے۔ امریکہ کے مطابق عراق میں انہوں نے بہت مہنگی اور جدید ایر بیس بنا رکھی ہے اور اب امریکہ کاکہنا ہے اگر ہمیں عراق سے فوج کے انخلاء کا کہا گیا تو ایسی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ جو اس سے پہلے عراق نے سوچی بھی نہ ہوں گی۔ ایران پر پہلے ہی معاشی پابندیاں ہیں۔ اس کے باوجود  وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اور ہر حال میں بدلہ لینا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے سر کی قیمت 8 کڑور ڈالر رکھ دی گئی ہے۔ یہ بات بڑی سرکا ر کیسے ہضم کر سکتی تھی۔ ردعمل میں جواب دیا گیا میں آپ سب کو اڑا کے رکھ دونگا۔

ایرانی قوم ایک بہادر قوم ہے اس نے امریکہ کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اب امریکیوں کے تابوت اس خطے سے جائیں گے۔حسن نصراللہ کا کہنا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے بہادری کا کام کیا ہے۔ تو ہم نے تابوت تیار کر لئے ہیں اب اس خطے سے امریکیوں کے تابوت جائیں گے۔ اور آپ دیکھیں گے کہ ہم کیسے ایک ایک کر کے امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور سبق چکھاتے ہیں۔ حسن نصراللہ وہ انسان ہیں۔جنہوں نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ حزب اللہ پر ہی امریکہ نے پہلے حملہ کیا تھا۔ ایران نے بغداد میں امریکہ کی  ایمبیسی پر حملہ کیا تھا۔ اور اب جنرل قاسم کی شہادت ہو گئی ہے اس کے ساتھ ہی عالمی سیاست کے میدان میں ایک خوفناک کھیل کا آغاز ہو چکاہے۔ جنگ پھولوں کی سیج نہیں۔ جاپان پر گرائے گئے ایٹم بم آج تک لو گ بھلا نہیں پائے۔ اور اب امریکہ نے ایران پر ایٹم گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کام امریکہ،برطانیہ کے ساتھ مل کر کرے گا۔ میدان سجائے جا رہے ہیں۔ جس کا انجام آگ ہی آگ ہے۔ انسانی لاشیں شمار میں بھی نہیں آئیں گی۔ برطانیہ کی طرف سے دو بحری بیڑے ایران کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ روسی نیوز ایجنسی کے مطابق ان بیڑوں نے حملے کے لئے پوزیشن سنبھالی ہے اور یہ حملہ ایٹمی ہو گا۔ اور یہ بالکل ویسے ہوگا جیسے امریکہ نے ناگا ساکی اور ہیروشیما پر کیا تھا۔ اسی طرح ایران پر حملے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ امریکہ نے ایرانی جرنیل کو جب سے مارا ہے۔ خطے کا امن خطرے کا شکار ہے۔ اور اب کے شائد اسے روکنا مشکل ہو جائے۔ ایران ہر صورت بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اور اس نے ایٹمی طاقت بننے کے عزم کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے اس خطے میں ہی نہیں۔ امریکہ میں بھی لاشیں بچھادیں گے۔ہم ساری دنیا کو بتائیں گے کہ اس دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے۔ ایران یہ بھی برداشت نہیں کرے گا۔ اگر امریکہ نے کسی بھی ملک کی سر زمین کو استعمال کیا۔ کیونکہ ایران کے مطابق اس سر زمین کے مالک دشمن تصور کئے جائیں گے۔ ایران کی منصوبہ بندی میں بقول اس کے اس نے 35 ہدف نشانے پہ رکھے ہیں۔ اب امریکہ کا کہنا ہم  نے52 مقامات کو نشانے پہ رکھا ہے۔طاقت انسان سے کیا کیا کرواتی ہے اور بول بچن بھی ملا حظہ فرمائیں۔ ”ہم ایران کو تہس نہس کر دیں گے“پاکستان,عراق اورایران پر امریکہ ہتھیار بنانے پر پابندی لگاتاہے ۔افغانستان, بھارت سب اس اندھی طاقت کا خمیازہ بھگتیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا امریکہ اس خطے کا خدا بن چکا ہے؟جب چاہے جو چاہئے کرے۔ دنیا مزید کوئی ناگا ساکی اور ہیروشیما نہیں دیکھنا چاہتی۔75 سال ہوگئے اس سانحے کو۔۔۔۔ مزید نہیں۔۔اور اگر پھر اس خطے میں یہ جنگ چھڑ جاتی ہے۔ تویہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر کے حکم پر  ایرانی جرنیل کو  راکٹوں سے  نشانہ بنانے کے ساتھ ہی اس کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس کے بدلے میں ایران نے امریکن ایئربیس پر میزائلوں سے حملے شروع کر دئیے ہیں اور امریکہ کو خبر دار کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہے۔ جرنل قاسم سلیمانی کو مارنے کی عجیب حماقت کی گئی ہے۔ اس وقت امریکہ کا ساتھ کوئی بھی نہیں دینا چاہتا۔ چین اور روس نے امریکہ کو خبر دار بھی کر دیا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک سکرین  پر نظر نہ آئیں۔ اور حالات اتنے خراب نہ لگیں مگر اس کے بر عکس ہونے جا رہاہے۔امریکن عوام بھی یہی کہہ رہی ہے کہ قاسم سلیمانی کو مارنے والا فیصلہ غلط تھا۔تو ٹرمپ کو کیوں سمجھ نہیں آتی؟۔۔۔  2فوجی اڈے عراق میں تباہ کئے گئے ہیں۔جن میں 80 فوجی مارے گئے ہیں۔ امریکہ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ نظر آ رہا ہے کہ امریکہ کا دفاعی نظام متاثر ہوا ہے۔ میزائل اپنے ہدف پر ہی گرے ہیں۔ جنگ کا خدشہ حقیقت میں بدل گیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہے امریکہ، خطے سے اپنی فوجیں نکالے۔ آئندہ کسی بھی امریکن حملے کی صورت میں اس سے زیادہ سخت جواب دیں گے۔  

بڑا عجیب لگتا ہے جب کہا جاتا ہے۔ جنگ محدود پیمانے پہ ہوگی۔ کوئی بھی جنگ اگر ہوتی ہے تو وہ محدود نہیں ہوتی۔ اور یہ اختیار میں نہیں ہوتا کہ اسے محدود کر سکیں معلوم نہیں کہ جنگ کے شعلے کتنے ملکوں کواپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ وہ جنگ ہے اور ایک خوفناک عمل ہے۔ اسے اول تو ہونا نہیں چاہیے اور اگر وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔ تو اسے صرف سمیٹنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ فی زمانہ ایک ایٹم ہی بہت بڑی تباہی پھیلا جائے گا۔ اور یہ چیز بہت ہی اذیت ناک ہو گی کہ خدا کی مخلوق آگ کی بارش کی نذر ہو جائے

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh