گزشتہ سات دہائیوں سے پاک و ہند دشمنی کو زندہ رکھنے کے لیے کشمیر کو تقسیم کرنے والی سرحد جسے کنٹرول لائن کہا جاتا ہے، کے آر پار بسنے والے غریب کشمیریوں کے خون کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ کنٹرول لائن پر پاک و ہندفوج کے مابین ہونے والی فائرنگ (جو فائربندی کے مختصر یا تھوڑے لمبے وقفوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتی ہے)

0
0
0
s2smodern

سال 2018ء کا یوم مئی ایک ایسے عہد میں منایا جائے گا جب سرمایہ داری کی تاریخ کا سب سے گہرا اور بد ترین بحران دسویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پورے کرۂ ارض پر تلاطم خیز تبد یلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انقلابات اور رد انقلابات،جنگیں اور خانہ جنگیاں،پرانی سامراجی طاقتوں کا زوال اور نئی سامراجی قوتوں کا ابھار،کئی ریاستوں کا انہدام اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلقات

0
0
0
s2smodern

کسی بھی لڑائی کو جیتنے کے لیے جہاں اس لڑائی کے داؤ پیچ پر عبور کی ضرورت ہوتی ہے وہیں دشمن کی ممکنہ چالوں کو قبل از وقت بھانپ لینا بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاکہ یہ سمجھا جائے کہ کونسا داؤ کب کارگر ہو سکتا ہے۔تحریک کے حالیہ مرحلے پر ریاست کے لیے تحریک پر براہِ راست حملہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے

0
0
0
s2smodern

پشتون تحفظ تحریک جو گزشتہ دو ماہ سے منظر عام پر آئی ہے، اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ کراچی میں نوجوان نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل نے فاٹا کے عوام میں ایک طویل وقت سے پلنے والے غم و غصے میں ایک نیا ابال پیدا کیا اور عوام نے اس قتل پر ریاستی مؤقف کو ماننے سے انکار کر دیا

0
0
0
s2smodern

اسلام آباد لرز رہا ہے۔8 اپریل کو پشاور میں ہونے والا پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہِ عام ریاست کے لیے کسی بھونچال سے کم نہیں تھا جس میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی

0
0
0
s2smodern

جنوری میں وزیر نجکاری دانیال عزیزنے اعلان کیا کہ حکومت 15 اپریل سے پہلے پی آئی اے کی نجکاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس وقت تک پی آئی اے کے فلائنگ شعبے کو باقی شعبہ جات سے علیحدہ رکھا جائے گا اور پھر اعلان کردہ تاریخ تک نجکاری کر دی جائے گی

0
0
0
s2smodern

8اپریل کے دن صبح سے ہی شرکا کے قافلے جلسہ گاہ پہنچنا شروع ہوگئے۔ پختونخوا اور ملک کے دوردراز سے تعلق رکھنے والے پشتون محنت کش اور نوجوان ریاستی جبر کو شکست دینے جوق درجوق جلسے کے مقام پر پہنچ رہے تھے

0
0
0
s2smodern

کوئٹہ کے عظیم الشان جلسے کے بعد 8اپریل کوپشاور میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ریاستی جبرکے خلاف اس ابھرتی تحریک کو ملنے والی عوامی حمایت سے ریاستی ادارے خوف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جس کے بعد سے تحریک کے رہنماؤں اور کارکنان کوگرفتار، جبری غائب اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں

0
0
0
s2smodern

یہ دھرنا مسلسل آٹھ روز تک کامیابی کیساتھ جاری رہا جس میں صوبہ بھر کے سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ خاص طور پر رکشہ اور ٹیکسی ڈارئیوروں کی ایک بڑی تعداد اس دھرنے میں شریک تھی

0
0
0
s2smodern

پاکستان کی ریاست کے فوجی جبر کے خلاف پشتون عوام کی پھیلتی ہوئی تحریک نے ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نقیب اللہ محسود کے ریاستی قتل کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہونیوالا چھوٹا قافلہ منظور پشتین کی قیادت میں اب ایک بہت بڑی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے 

0
0
0
s2smodern