نظم ۔ پارس جان

سوچ کے قاتلو!
عقل کے دشمنو!
وحشیو، پاگلو!

خوف کے تاجرو!
بوالہوس شاطرو!

مجھ کو پہچان لو
غور سے دیکھ لو

آنکھ میں جھانک لو
دل کو بھی ٹٹول لو

عشق کا ابال ہوں
رقص ہوں، دھمال ہوں

گونجتا خیال ہوں
امن کا سوال ہوں

خوف کا زوال ہوں
حسن کا کمال ہوں

ہجر کا ملال ہوں
لذتِ وصال ہوں

میں بھی تو مشال ہوں
میں بھی تو مشال ہوں

 

مجھ سے ڈر گئے ہو تم
تم سے میں ڈرا نہیں

کب کے مر گئے ہو تم
میں ابھی مرا نہیں

خوں نہیں عَلم ہے یہ
سر نہیں قَلم ہے یہ

ذوق میری زندگی
حق مرا جنون ہے

دار، یار ہے مرا
غم ، قرار ہے مرا

تری حیات رائیگاں
ترا غرور بے اماں

مجھے تو دکھ میں ہے مزہ
قفس میں بھی سکون ہے

تم وہم، میں یقین ہوں
میں علم کا امین ہوں

تم ماضی کے مزار ہو
میں مستقبل ہوں، حال ہوں

میں انقلابِ وقت ہوں
میں زیست کی مثال ہوں

چراغ ہوں جلا ہوا
میں رمزِ ماہ و سال ہوں

گلاب ہوں کھلا ہوا
میں ریشمی رومال ہوں

میں زندگی ہوں زندگی
میں موت کا زوال ہوں

میں روشنی، میں تازگی
میں سُر بھی ہوں ، میں تال ہوں

میں بھی تو مشال ہوں
میں بھی تو مشال ہوں

 

مشعل خان کا ریاستی بہیمانہ قتل اور مذہب کی سیاست

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh