استاد اور طالب بھی مجرم

فیض اور جالب بھی مجرم

اچھا ہوا مر گیا خبطی

ورنہ ہوتے غالب بھی مجرم

سارا بلوچستان ہے مجرم

گلگت بلتستان ہے مجرم

دہشتگردوں کی جنت میں

لفظِ امن امان ہے مجرم

ہر اچھا انسان ہے مجرم

جمہوری سیاستدان ہے مجرم

مزدور اور کسان ہے مجرم

ایدھی اور سلمان ہے مجرم

بچھو سانپ مولوی کے سوا

سارا پاکستان ہے مجرم

فیض کی ساری غزلیں مجرم

جالب سلمان کی نظمیں مجرم

سورج کی سب کرنیں مجرم

جہل فساد پھیلائیں تو خوش

ورنہ قلم کتابیں مجرم

شاعر: ارمان کاظمی

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh