احمد فراز

کی 1971 کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے  بعد پاک فوج پر لکھی گئی نظم 

میں نے اکثر تمہارے قصیدے کہے

اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں

اپنے شعروں کی حرمت پہ ہوں منفعل

اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں

پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں

اپنے دل گیر پیاروں سے شرمندہ ہوں

جب کبھی بھی مری دل زدہ خاک پر

سایۂ غیر یا دستِ دشمن پڑا

جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے

سرحدوں پر مری جب کبھی رن پڑا

میرا حرفِ ہنر تھا کہ خونِ جگر 

نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمہیں الوداعیں کہیں

رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمہیں

تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی

ہم نے پھر بھی کیا ہے گوارا تمہیں

تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے

ہار میں بھی نہ جی سے اتارا تمہیں

سینہ چاکانِ مشرق بھی اپنے ہی تھے

جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے

مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے

یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے

ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر

ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو بھی ہوا سو ہوا

شب گئی، خواب ہائے پریشاں گئے

کس رعونت کے تیور تھے آغاز میں

کس حجالت سے تم سوئے زنداں گئے

تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے

طوق در گردن و پابجولاں گئے

یاد ہوں گے تمہیں پھر وہ ایام بھی

تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے

ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے

اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے

اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر

تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

کیا خبر تھی کہ تم سے شکستہ انا

اپنے زخموں کو بس چاٹنے آئیں گے

جن کے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا

ظلم کی سب حدیں پاٹنے آئیں گے 

قتلِ بنگال کے بعد بولان میں

شہریوں کے گلے کاٹنے آ ئیں گے

آج پشاور سے لاہور و مہران تک

تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو!

اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے

کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو!

کس شہنشاہِ عالی کا فرمان ہے

کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو!

جیسے برطانوی راج میں گورکھے

باغیوں پر ستم عام ان کے بھی تھے

جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں

حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے

آج تم ان سے کچھ مختلف تو نہیں

رائفلیں، وردیاں، نام ان کے بھی تھے

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے!

ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں

ہونٹوں پر جمی پپڑیاں خون کی

کہہ رہی ہیں کہ منظر قیامت کے ہیں

کل تمہارے لئے پیار سینوں میں تھا

اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں

خول اترا تمہارا تو ظاہر ہوا

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہئیں

اب فقط مسئلہ تاجِ شاہی نہیں

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh