بداعنوانیاں جو کھبی چھپ کر اور شرمندگی سے کی جاتیں تھیں آج کھلے عام بڑی دلیر ی سے اپنا حق سمجھ کر کی جاتیں ہیں ۔ حکومتیں اور ریاست جو شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور عوام کی خدمت کے فریضے کے لیے سمجھی جاتیں تھیں آج لوٹ ما ر ، کرپشن اور عوام پر ظلم و جبر اور بھیانک استحصال کا بے رحم ہتھیار اور اوزار بن چکی ہے اور عوام بے سہارہ اور لاورث ہیں ۔ آج وہ کون سا جرم ہے جو اس دھرتی ماں کی کوکھ میں نہیں ہوتا ۔ معصوم اور نا بالغ بچیوں سے زیادتیاں ، عورتوں کی بے آبروری،بچوں کو اٹھانے اور ان سے پرتشدد بد سلوکی ، غربت اور بے روزگاری سے خود کشیاں،انسانی جسم اور اعضا کی خریدو فرخت کا بازار،بجلی ، پانی ، گیس کی لوڈ شیڈنگ سے ذہنی کچھاو اور نفسیاتی بیماریاں ،اسی لیے 1947 کو جن آنکھوں نے آزادی ، امن اور خوشحالی کا خواب دیکھا تھا آج پتھرا چکی ہیں یا پھر خون کے آنسو رو ر رہی ہیں ۔ پاک سر زمین کے لیے جدوجہد کرنے والے آج اپنی جدوجہد سے شرمند ہیں کیونکہ اس انتہائی وسیع طبقاتی سماج میں جسم فروشی سے ضمیر فروشی تک کا وہ بازار گرم ہے جو تاریخ نے پہلے کھبی نہیں دیکھا ۔ وکی لیکس سے پانامہ لیکس تک مقامی اور عالمی حکمرانوں کے سیاسی اور مالی کالے دھندوں کی منہ بولتی فلمیں ہیں ۔سوئس بینکوں کے سکینڈل سے32 سے زائد خاندانوں کی پاکستان پر بادشاہت کے قصے آج نئے نہیں رہے ۔ اور اسی مالیاتی لوٹ کھسوٹ کو قائم رکھنے کے لیے آج کے سیاسی اور ریاستی ڈھانچے کی آمرانہ تعمیر و تشکیل اس طرح کی گئی ہے ۔ جس میں عوام کے سیاسی ، معاشی ، سماجی حقوق کو غصب کیا جاتا ہے اور اسکے خلاف عوامی مذاحمت روکنے کے لیے حکمران طبقات خود پاکستان میں مذہب ، رنگ ،نسل ، قوم کے نام پرخون کی ندیاں بہا رہے ہیں اور اس پر محب الوطنی کا کھواڑ کیا جاتا ہے ۔ میڈیا اور حکومت فوجی آپریشن ضرب عضب کی ناکام ڈرامہ بازی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ ماضی میں فوجی آمریتوں کی خونی یلغار سے پاکستان جو آج بھی زخموں سے چور اور خون آلودہ ہے اس کا ازلہ ہو سکے ۔ فوجی آمر وں کی خاکستری کے بعد نام نہاد جمہوری ادوار میں ہمیشہ فوجی حکمرانوں کی ذلت و رسوائی کم کرنے اور انکی عزت بحال کرنے کے لیے پاکستان بچاو فوجی آپریشن شروع کیے جاتے ہیں اس لیے کہ آج پاکستان میں مالیاتی جمہوریت اور آمریت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزم ہیں جو وقفوں وقفوں سے اپنی تعشیات یا لگژری زندگی اور مالیاتی استحصال کے لیے عوام کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں ۔ 

پاکستانی ریاست کے حکمران ہر روز عوامی حقیقی ایشوز دبانے کے لیے نان ایشوز کی فلمیں میڈیے پر چلتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں نے عوام کو کچھ تو دینا ہے مسائل کا حقیقی حل نہیں تو حل کی گولی یا جھانسا ہی سہی اور میڈیا اپنے اس مقدس فریضے کو بڑے احسن طریقے سے ادا کرتا ہے آخیر میڈیا بھی ریاست کے ستونوں میں سے ایک ہے جو ہر وقت عوام کے ذہنوں کو مجرو ح کرنے کا حکمرانوں سے بھاری معاوضہ وصول کرتا ہے ۔ جو اپنے مالکان کی اچھی تعبداری کرتا ہے وہ معاوضہ بھی اچھا پاتا ہے اسی لیے آج پاکستانی میڈیا اپنے اپنے منتخب کردہ حکمران کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں کوئی موجودہ برسر اقتدار اور کوئی مسقبل کے برسر اقتدار حکمرانوں کے لیے اور کچھ تو فوجی جرنیلوں کے لیے حمد و ثنا کر رہے ہیں سب اپنے اپنے مفادات کی جنگ بڑی بے شرمی سے عوام کے نام پر کرنے میں مشغول ہیں جبکہ عوام اپنے ساتھ ہونے والے یہ سب پتلی تماشے اور زیادتیاں ابھی تک بڑی خاموشی اور صبر سے دیکھ رہے ہیں لیکن وہ اب زیادہ لمبا عرصہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتےکیونکہ محنت کش عوام کی زندگی دولت مندوں کی اندھی لوٹ مار نے عذاب بنا دی ہے ۔ دماغی سائنس کا قانون ہے کہ ہر صبر کی ایک حد ہوتی ہے جسکی اب حدہو گئی ہے ۔عمران خان کی تحریک میں بھی درمیانہ طبقہ اس کا اظہار بڑے واضح انداز میں کر رہا ہے جو اب محنت کشوں کے ساتھ پس چکا ہے ۔ پی ٹی آئی اب تک صرف مڈل کلاس کی اصلاح پسند تحریک ہے جس میں پاکستان کے 99 فیصد لوگوں کے لیے کوئی جامع پروگرام نہیں ہے یعنی بے روزگاری کا خاتمہ یا بیس ہزار روپے الاونس ، مزدوروں کی ایک تولہ سونے کے برابر تنخواہ ، بجلی ، پانی ، گیس ، لوکل ٹرانسپورٹ ، مکان ،اور تعلیم تمام سطحوں تک تمام عوام کو بلا تفریق بالکل مفت مہیا کرنا ریاست کی اول ذمہ داری ہے اور اس عوامی پروگرام اور محنت کشوں کی قیادت کے بغیر پی ٹی آئی کی تحریک حکمرانوں کو زخمی تو کر سکتی ہے لیکن حقیقی تبدیلی کھبی نہیں لا سکتی پاکستانی عوام کا تمام روائتی پارٹیوں سے مکمل مایوس اور نامید ہونا پی ٹی آئی کی عارضی اور تغیر پذیر حمائت ہے لیکن یہ مستقل اور دیر پا نہیں ہے ۔ 

آج نظام اور ریاست کے جرائم پر پردہ پوشی کے لیے کھبی انڈین جاسوں کا اور کھبی غداروں کا سکرپٹ بنایا جاتا ہے ۔ اور کھبی اپنے ہی مسلح گرپوں کو دہشت کہہ کر ان سے لڑنے کی ڈرامہ بازی کی جاتی ۔ کھبی ایم کیو ایم کو تیار کر کے اسے کراچی کے جدید اور ترقی یافتہ مزدورں کی طاقت توڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اورمنہ زور ہونے پر پھر اس کی طاقت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم( جس کے کا غذی شیر آج فاروق ستار ہیں ) اور نواز شریف کی مسلم لیگ ، اور مذہبی جماعتیں ضیا آمریت کی باقیات ہی ہیں اگر ایک غدار ہے تو پھر دوسری کیسے محب الوطن یا دوھ کی دھولی ہو سکتی ہیں یہ سب انہیں کے اپنے پیدا کردہ کھبی غدار اور کھبی وطن پرست ہیں جس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب پاکستان عوامی ہوگا تو پھر غدار اور وطن پرست بھی عوامی ہوں گئے ابھی تو یہ حکمرانوں کے اپنے کھیل تماشے ہیں جو عوام کے پیسوں اور زخموں پر رچائے جاتے ہیں ۔ 

مالیاتی نظام اور حکمرانوں کے جبر استحصال نے پاکستان کو اپنے بھیانک انجا م پر لاکھڑا کیا ہےیہ آج نہ صرف خون میں آلودہ ہے بلکہ اپنی ٹوٹ کی طرف بھی گامزن ہے جس میں غیر اعلانیہ خانہ جنگی جاری ہے پاکستان کو اب صرف عوام اور انکا اشتراک ہی بچا سکتے ہیں ۔ میں نے پچھلے چند سالوں میں دنیا میں رونما ہونے والے اور خاص طور پر پاکستان میں اہم واقعات پر کئی کالم لکھے ہیں جنکی نظریاتی سچائی کو وقت نے ثابت کیا ہے ۔ روائتی اہل قلم کے مضامین تو دوسرے دن ہی خواتین کے کپڑوں یا فیشن کی طرح اورو ڈیٹ ہو جائے ہیں اور کسی ماضی کا قصہ لگتے ہیں ۔ لیکن آپ کو اس کتاب کے یہ آرٹیکل پڑھ کر آج بھی ایسا لگے گا اور محسوس ہوگا کہ یہ موجودہ حالات کے لیے ہی لکھے گئے ہیں ان میں بیان کیے گئے پیش منظر واضح طور پر درست ثابت ہوئے ہیں جو نطریاتی سچائی کا ٹھوس ثبوت ہیں اور اگر پاکستان میں کوئی حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے تو وہ یہی عوامی اور اشتراکی نظریات اور ان کے لیے جدوجہد ہے وگر نہ یہ تو ثابت شدہ ہے کہ چہروں کی تبدیلی نے عوام کا امن و سکون اور زندگی برباد ہی کی ہے جسکا آج پاکستان اور نہ ہی اسکی عوام مزید متحمل ہو سکتے ہے ۔

دانیال رضا ستمبر 2016

کتاب  ،،کس کا پاکستان ،، پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh