کتاب خریدنے کے لیے یہاں کلک کریں

قارئیں کے لیے کتاب کا  پیش لفظ  پیش کیا جا رہا ہے

مجھے حقیقی عوامی نقطہ نظر کو کھل کر جرات مندانہ اور ٹھوس انداز میں لکھنے اور اس کے لیے جدوجہدکی پاداش میں پاکستان اور جرمنی میں کافی سخت حالات سے گزرنا پڑا ۔ پاکستان تو پاکستان جرمنی میں بھی عوام دشمن قوتوں نے میرے جرات سے سچ لکھنے پر دو بار مقدمے کیے جو ابھی بھی جرمنی کی عدالت میں لگے ہوئے ہیں ۔کیونکہ میرے لکھنے سے انکی مکرو استحصالی دوکانداریوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جو وہ معصوم انسانوں کے جذبات و احساسات پر اور دوھوکہ دہی سے کرتے ہیں جو آپ اس کتاب میں پڑھیں گئے ۔

بعض اوقات انسان بڑی بڑی اور موٹی موٹی کتابوں سے وہ کچھ نہیں سیکھ سکتا جو چند جملوں اور مختصر مضامین سے سیکھ لیتا ہے اور خاص کر آج کی تیز ترین دنیا میں جب عام لوگوں کے پاس وقت کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ مختلف موضوعات پر کچھ پڑھنے کے باوجود وقت کی کمی کے باعث پڑھ نہیں پاتے۔ اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے اور بے شمار دوستوں کے اصرار پر میں نے اپنے اہم ترین مختلف موضوعات پر چند مضامین کی یہ کتاب ترتیب دی ہے جو یقینا آپ کو پسند آئے گئی اور امید کرتا ہوں آپ اپنی رائے سے بھی آگاہ کریں گئے جو میری ہمت افزائی اور طاقت ہوگی ۔ 

میرے مخالفین میرے مضامین کے مقاصد اور مواد کی بجائے الفاظ اور جملوں پر اکثر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں تحریروں میں صحافتی ادب وآداب ، شائستگی اور شگفتگی کو مد نظر نہیں رکھتا اور اکثر سخت اور سنگین الفاظ استعمال کرتا ہوں جو ادب وصحافت میں زیب نہیں دیتے ۔ انہیں ہمیشہ میرے تحریری انداز پر ہی اعتراز ہوتا ہے ۔ لیکن مجھے خوشی ہو اگر وہ میری لکھی ہوئی باتوں ، نظریات اور سوچ سے اختلاف کریں جن کا میں بڑی خوشی اور دلیل سے واضح جواب بھی دوں، لیکن شاید انکے پاس میری باتوں کا جواب نہ ہونے کی وجہ سے ہی یہ کسی گھٹیا مولوی نما دانشوار کی طرح جہاہلانہ فتوے صادر کرتے ہیں جنکی میں نے کھبی پرواہ نہیں کی اور جہاں تک میری تحریروں میں سخت اور ننگے الفاظ کا تعلق ہے وہ مجھے میرے عوام کے نامساعد ترین سماجی و اقتصادی حالات کی دین ہیں ، جن حالات کو ہمارے حکمرانوں نے اتنا بدصورت اور بھیانک بنا دیا ہے کہ زندگی سے خوبصورتی ، سائستگی اور حس جمالیاتی کا لفظ ہی مٹ گیا ہے ۔زندگی عذاب اور موت اس کا مداوا بن گیا ہے ۔ اس سے برا اور کیا ہو گا اور کیا ہو سکتا ہے ۔اور یہ عقل کے اندھے دانش وار غلاظت کے ڈھیر پر خوش بو نہ آنے کا شکوہ کرتےیہ میت پر خوشی کے گیت اور ڈھول پیٹنے کی بات کرتے ہیں ۔ جب زخم لگے گا تو درد کی پکار تو اٹھے گئی ۔

ویسے تو میں نے انقلابی سیاست اور صحافت کا آغاز کالج میں آتے ہی فسٹ ائیر سے کر دیا تھا اور میرا پہلا آرٹیکل روزنامہ جنگ لاہور میں 1986 میں شائع ہوا ۔لیکن روزنامہ جنگ میں چند ہی مضامین کے بعد مجھے معروف صحافی زبیر رانا کے زریعے یہ پیغام دیا گیا کہ یہ نوجوان یا تو اپنی عوامی تحریریں بدلے یا پھر اخبار بدل لے کیونکہ جنگ گروپ میں عوامی نظریات کی کوئی جگہ نہیں ہے ان سےاشتہارات نہیں ملتے اور پیسے نہیں کمائے جا سکتے ۔ پھر میں نے اخبار بدل لیا اور روزنامہ مساوات میں آگیا جہاں میں اپنی مرضی سے لکھ سکتا تھا اور یہاں بہت لمبے عرصہ تک مزدوروں کا صفحہ لکھتا رہا ۔جس کے بعد جریدہ مزدور جدوجہد میں کام کیا اس کے بعد طبقاتی جدوجہد کا پہلا ایڈئٹر بنا پاکستان اور انڈیا میں بے روزگار نوجوان تحریک منظم کی ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ عوامی جدوجہد ، سیاسی اور صحافتی انقلابی پلیٹ فارموں سے جاری رہی جو جرمنی آنے کے بعد بھی جاری ہے ۔

اگلی کتاب ،،کس کا پاکستان؟ ،، جلد آ رہی ہے

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh