جو اب امازون پر بھی دستیاب ہے ۔ یہاں کلک کریں 

حقیقی عقل و دانش ، جدید فلسفے اور عوامی جدوجہد کا تقاضہ یہی ہے کہ سماج میں رونما ہونے والے واقعات کی پرستش نہ کی جائے اور نہ ہی ان کے بعد انکو بیان کرنے کی سطحی اور جعلی دانشوارانہ ڈینگیں ماری جائیں جس طرح آج کل سماجی زوال اور ذہنی پسماندگی کی وجہ سے، کھمبوں کی طرح جگہ جگہ اوگے دانشوار مارتے ہیں ، بلکہ سیاسی ، سماجی اورمعاشی افق پر کسی واقعہ کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا پیش منظر بیان کر کے اس کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے تاکہ عوامی جدوجہد کی درست سمت کا تعین کر کے حقیقی سماجی تبدیلی کے لیے پیش قدمی کرسکیں تاکہ ہم انسانی تاریخ اور سماجی ارتقا میں اپنا شعوری فریضہ ادا کرتے ہوئے جانواروں سے بلند ہو کر اپنا انسان ہونے کا حق جیت سکیں گئے ۔ 

انسانی تاریخ آج اپنے پرانتشار ترین دور سے گزر رہی ہے ۔2008 سے شروع ہونے والے تاریخی عالمی اقتصادی بحران کے بعد دنیا بھر میں سیاسی سماجی اور مالیاتی واقعات کے دھماکوں کا نہ رکنے والا ایک تسلسل جاری ہے جو انسانی شعور کو جھجوڑ رہا ہے اور اس زمینی کرہ ارض پر رہنے والا ہر انسان آج ایک حقیقی سماجی تبدیلی کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے ۔ جس کو استعمال کر کے اوبامہ نے امریکہ کا دو بار صدراتی الیکشن جیتا اور پاکستان میں عمران خان اسی تبدیلی کے نام پر بڑے بڑے جلسے جلوس اور دھرنے دے رہا ہے یہی دھوکہ مسلم لیگ ن نے کیا یعنی آج ہر سیاسی پارٹی اور لیڈر اسی تبدیلی کے نعرے سے ہی شروع ہوتے ہیں ۔

وکی لیکس کے بعد پانامہ لیکس کا ہنگامہ جو دولت مندوں کی ظلم واستحصال سے لوٹی ہوئی کالی دولت کے خفیہ خزانے ہیں جو بری طرح بے نقاب ہو رہے ہیں اور یہ ان بڑے بڑے فرعونوں کے خزانوں کی ہلکی سی جھلک ہے جو ابھی بھی پوشیدہ ہیں ۔ عالمی سطح پر دولت کی اس غیر مساویانہ تقسیم نے ہی عوام کی زندگیوں کو ایک جبر مسلسل اور اذیت بنا کر رکھ دیا ہے اور بہتات کے دور میں بھی قحط اور قلت ہے ۔جس کی نجات کا موجودہ نطام میں کوئی راستہ اور امید باقی نہیں رہی ۔ جس سے موجودہ نطام زر عوام کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی وحشت اور دہشت گردی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ بھیانک اور خون ریز ہوتی چلی جائے گئی ۔ آج عالمی جنگ کی عدم موجودگی میں بھی مودجودہ نام نہاد پرامن اور جمہوریت کے دور میں عالمی جنگوں سے زیادہ انسان ہلاک ہو چکے ہیں ۔ بے گھر اور بے سروسامان مہاجرین کے ہر طرف ٹھاٹھیں مارتے سمندر ہیں جو دوسری عالمی جنگ سے بھی بڑے اور زیادہ ہیں ۔ جو لوگ ابھی تک مہاجرین نہیں بنائے گئے ، وہ اپنے ممالک میں مہاجرین کی سی زندگی گزرنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں جس نے یورپ اور دنیا کے بحران کو سنگین تر بنا دیا ہے جس سے ہر روز ٹوٹ اور انتشار کے آثار بڑھتے جا رہے ہیں ۔

زندگی اور دنیا آج صرف امیروں کے لیے عیاشی اور پر لطف کا سامان ہے جبکہ عوام کے لیے یہی زندگی ایک دکھ ، تکلیف اور زخم بن کر رہ گئی ہے ۔ جدیدصنعتی ترقی کی وجہ سے اشیا کی بہتات اور زائد پیداوار میں بھی ، انسانیت کی اکثریت دنیا بھر میں زندگی کی بنیادی ضروریات کو ترس گئی ہے ۔ایک طرف معاشی و ریاستی اور دوسری طرف انفرادی ومذہبی دہشت گردیاں انسانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں ۔ظلم واستحصال اور بربریت کا وہ بازار آج ہر طرف گرم ہے جو دور وحشت کی یاد تازہ کرتا ہے ۔ ہمارے لیے ضروری کہ ہم دولت کے عتاب زدہ موجودہ انسانیت خور حالات کے خلاف کیسے اور کن نظریاتی بنیادوں پر پیش قدمی کرکے عوامی فتح حاصل کریں اور حقیقی تبدیلی آئے تاکہ صدیوں سے غلامی میں جکڑی انسانیت کو آزاد کرا سکیں اور انسانی تاریخ میں پہلی بار امیر اور غریب کے فرق کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹا ڈالیں اور انسان کو انسان ہونے کا حق دلائیں ۔ جو آج کے ترقی یافتہ مادی حالات میں یہ بڑی آسانی سے ممکن ہے لیکن مروجہ نظام زر اسکی اجازت نہیں دیتا اس لیے آج ضرورت چہرے نہیں بلکہ نظام بدلنے کی ہے ۔

سچ ہمیشہ ٹھوس ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ، جیت اس لیے ہمیشہ سچ کی ہی ہوتی ہے دیر یا بادیر ۔کیو نکہ وقت کو کوئی مات نہیں دے سکتا لیکن اس سے لڑ کر اسے تبدیل ضرور کیا جاسکتا ہے جس طرح انسانی تاریخ میں کئی بار ہوا ہے ۔ آو ایک ایسی ہی سرکشی اور پیش قدمی کی طرف جب ہم وقت سے ٹکرا جائیں اور اسے تبدیل کر دیں جو ساتوں آسمان کی خیلاتی جنت سے زیادہ حسین جنت کو حقیقت کے روپ میں اس دھرتی پراتار لائیں ۔ جس کے لیے ہمیں چند بنیادی معاشی ، سیاسی ، سماجی اور ارتقائی سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہیں جن کا اس کتاب میں بھر پور طریقے سے جواب دینے کی کوشیش کی گئی ہے ۔ 

دانیال رضا

یکم اگست 2016

مزید کتابوں کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh