اس انسانی کرہ ارض کو  عالمی حکمرانوں  نے دوسری عالمی جنگ کے بعد آج کسی تیسری   عالمی جنگ کی عدم موجودگی  میں  نام نہاد  امن اور جمہوریت  کے نام پرسب سے زیادہ  لوگوں کا قتل عام  ،  قحط ، سب  سے   ہجرتیں ،  ملکوں اور  خطے کی  تباہی اور  خون میں  ڈبو دیا   ہے (اقوام غیر متحدہ)جس کا ازالہ موجودہ   عالمی  نظام  میں  دہائیوں اور صدیوں میں بھی نہ ہو سکے گا  ۔ اور یہ آگ اور خون کا کھیل ابھی ختم  نہیں  ہوا جو کہ شرح منافع  کے حریص  اور نجی  ملکیت کی   ہوص ہے جس کے لیے  عالمی عوام کا  خون نچوڑا جا رہا ہے ۔ اس معاشی دہشت  گردی کو  دنیا میں سکڑتی  منڈی  ہرروز   پہلے سے  زیادہ   شدید  اور  بھیا نک بنا   رہی ہے  جو اپنا اظہار سیاست اور سماج میں کرتی ہے جس سے  موجودہ  عالمی مالیاتی نظام  دنیا   بھر میں ایک نہ ختم  ہونے  والی خوفناک قانونی اور ریاستی  دہشت گردیاں ہیں جو ہر روز بے لگام  بڑھ رہی ہیں اس  سے  انارکی اور انتشار  کا  بازار گرم  ہے   جیسے استعمال کرتے ہوئے  مذہب کے نام پر  انفرادی دہشت گردیاں  مزید قتل وخون پھیلا رہی ہیں ۔ نظام زر کے کھیل میں عوام زندگی کی بازی ہارتے جا  رہے ہیں جس میں بنیادی کردار روائتی   پارٹیو ں اور انکے سیاست دان   کا بھی ہے  جو  کوئی  دوسرا  انقلابی  متبادل  نہ دیکر  اس  ناامیدی اور مایوسی  کےاندھروں   کو مزید گہرا کر رہے ہیں ۔  عوام اس کے خلاف دنیا بھر میں  ابھرتی  نئی پارٹیوں اور تحریکیں   میں  مذاحمت کرکے  ایک نئی  طبقاتی لڑائی کی مشعل کو  روشن کر رہے ہے  ۔  

روس کی ٹوٹ نے دنیا بھر میں عوامی اور مزدور تحریکوں  میں ایک گہرے  صدمے اور  بے چارگی کو جنم دیا جس  کا  حکمرانوں نے  بڑا  جشن  منایا تھا  اور  خاص طور  پر  دیوار  برلن  کے گرنے کے  بعد   سماجی ارتقائی نظریے،،   جس کے  تحت آج تک انسانی  سماج نے ترقی   کی منازل کو طے کیا  ،، کے خلاف  قنوطی نظریہ  تک پیش  کر دیا گیا کہ  سرمایہ داری  نظام  انسانی تاریخ  کا  آخیری  نظام ہے اور صرف  یہی اب انسان  کا  مقدر ہے ۔ لیکن  یقینا   یہ ماہرین  اور پروفیسر حضرات  انسانی تاریخ اور اسکے جدلیاتی  ارتقا  سے  واقف نہیں تھے یا  پھر انکا  پیشہ انکو حقیقت   بیان کرنے کی  اجازت نہیں  دیتا  ۔  اسی لیے بہت  جلد  ہی  موجودہ نظام کی  سماجی  ترقی کی  نااہلی کو  قبول کرتے ہوئے  ایک اور  جعل ساز  ،،   تہذیبوں کے تصادم ،،  کا نظریہ  پیش کر دیا  جو  مارکیٹ  میں زیادہ دیر  نہیں چل سکا ۔  لیکن اب روس کے عالمی منڈی میں  حصہ داری  پر یہ   امریکہ کے تنخواہ دار دانشوار ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ اب کون سا  خود ساختہ نظریہ گھڑا جائے   فی  الحال یہ  روس کی  عالمی جارحیت  اور   منڈیوں  پر  قبضے   سے تیسری  عالمی   جنگ  کا   خوف  پھیلانے  میں مصروف ہیں کیونکہ لالچ سے زیادہ خوف پر دھندہ کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے شاید ملائیت سے سیکھا ہے ۔ چین اور روس  کے عالمی منڈی میں داخلے نے  امریکہ کی  تنہا عالمی حاکمیت کو چیلج  کر دیا  ہے جبکہ دوسری طرف  عالمی مزدور تحریک سویٹ یونین   کی ٹوٹ  کی  مایوسی سے باہر آچکی ہے  اور  وہ  موجودہ  نظام  کے خلاف نئے عوامی  انقلابات کی داغ بیل ڈال رہی ہے جس کا آغاز یونان  اور سپین کی زبردست تحریکو ں سے ہو چکا ہے  فرانس کی کوکھ   کو  مزدوروں کی   تحریکوں نے ایک بار پھر نئے انقلاب سے حاملہ کر دیا ہے۔ جبکہ   ایشیا  ،افریقہ اور لاطینی امریکہ  بھی پیچھے نہیں  ہیں جہاں مزدروں کی شاندار مذاحمتیں  عالمی منظر نامے پر ابھر رہی ہیں  اور امریکہ میں بھی آکو پائی  تحریک  کے بعد برنی سینڈر کو دنیا بھر میں بڑے غور سے  دیکھا اور سمجھا  گیا  اور اسکے  لیے  بین الاقوامی سطح  پر   ہم 99فیصد  ہیں کی تحریکیں  منظم  کی  گئیں جس سے  دنیا بھر  کے محنت کشوں  کے اتحاد کی سچائی  ایک حقیقت بن  گئی ۔ 

 گیارہ ستمبر کادن جدید تاریخ  کا ایک اہم ترین  واقعہ ہے جو امریکی سامراج کی   کمزوری اور بے بسی    کا  واضح اظہار تھا  جو  دنیا کی سپر پاور ہونے کے باوجود اتنے بڑے حادثے کو روکنے سے نا کام و نامراد رہا ۔ اور اپنی اس کمزوری   کو   چھپانے کے لیے اس نےدنیا کو نہ ختم ہونے والی خون آشام  جنگوں ، انتشار  اور انارکی کے  جہنم  میں دھکیل دیااور  دنیا کو  عدم استحکام  کا شکار کر دیا ( خاص طور پر مڈل ایسٹ اور ساوتھ ایشیا کو) اپنی  کمزوری کو  چھپانے اور حاکمیت کے غلبے کو بر قرار  رکھنے  کے لیے   اسکی جارحانہ   پوزیشن  نے  اسے مزید کمزور کر دیا ۔ اس خطہ  زمین پر  دوسری عالمی جنگ کے بعد  انسانی  تاریخ نے   اپنے  سب سے بڑے دیو ہیکل امریکی  سامراج کو دیکھا تھا  جو آج اپنا  ہی گوشت   نوچ کر کھا رہا ہے  ۔

حالیہ تاریخ میں امریکہ نے ہر جنگ ہاری ہے وہ عراق کی ہو یا  افغانستان کی ،  جس میں اسے  بڑی اقتصادی  اور  فوجیوں  کی قربانیاں دینا  پڑی   ہیں  اور سیاسی میدان میں اپنی  اورعالمی عوام کی  زبردست مذاحمت کا  سامنا کرنا پڑا۔اس لیے امریکہ بہادر  جو اب  بہادر نہیں رہا۔  ہر جنگ سے بھاگ رہا ہے اور کہیں بھی براہ راست فوجی مداخلت  سے گھبراتا ہے ۔ ڈالر کے  مالیاتی  بحرانوں نے  نہ صرف امریکہ میں بلکہ تمام دنیا میں ایک  سیاسی اور سماجی   انتشار کو جنم دیا ہے  جس سے چھٹکارہ    اب  امریکی  معیشت  کے بس میں نہیں رہا  شدید بحرانوں نے   اسے  منہ کے  بل  گرا دیا ہے ۔اور یہ   آج  ماضی  کےدشمنوں سے   مصالحت اور مدد کی بھیک مانگتا پھیر رہا ہے ۔ اور مالیات کی دنیا میں کوئی مفت کسی کی مدد نہیں کرتا وہ روس ہو ایران ہو  یا پھر  چین ہو۔

عالمی مالیاتی نظام کا تضاد آج اپنے انتہائی  عروج پر اپنا اظہار کر رہا ہے ایک طرف اس  کی زندگی کا انحصار عالمی معیشت کی مزید قربت اور شمولیت  کے استحصال  پر ہے جبکہ دوسری طرف  مشترکہ  ریاستیں ٹوٹ اور بکھر رہیں ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک  میں یورپی یونین  اپنی شدید اقتصادی ضرورت کے تحت معرض وجود میں آئی جبکہ  آج  برطانیہ اس سے الگ ہو چکا ہے یونان ، سپین  ، پرتگال اور اٹلی  اس کی کمزور کڑیاں ہیں انڈیا میں  کشمیر سمیت 18 ریاستوں میں علیحدگی  کی تحریکیں ہیں  جبکہ پاکستان کے  پانچ صوبوں میں  آٹھ  خود مختیاری کی تحریکیں ہیں ۔ مڈل ایسٹ  خون  ریز خانہ جنگی میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں اگلی بار ی  ترکی اور سعودی عرب کی ہے ۔ عالمی موجودہ  نطام دنیا بھر  میں امن  و استحکام    قائم  کرنے ، سماجی ارتقا اور انسانوں کا معیار زندگی بلند  کرنے میں مکمل معذرت خواہ  ہے ۔ انسانی تاریخ میں  اپنا وقت پورا کرلینے کی باجود  اس  کی زندہ لاش     نے معجزات کے دور کا آغاز کیا ہے یعنی  سماج کی تہوں میں تیر ترین تبدیل ہوتے حالات جو اپنی بیرونی سطح پر غیر متواقع  واقعات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اور یہ بڑی تیزی سے تبدیل ہوتے  حالات و واقعات   جو  موجودہ نظام کے  خلاف متحریک   ہیں    اسکے   رکھواوں کی  موت کا  اعلان  ہیں   جنہیں حکمران    کنٹرول کرنے  میں ناکام  اور بے بس  ہیں ۔ یقینا   دیر یا  بدیر  محنت کش عوام اپنی  انقلابی  جدوجہد  سے موجودہ  نطام اور اس کے  ہر حکمرانوں کو  تاریخ کے قبرستان میں ہمیشہ  ہمیشہ کے  لیے دفن کر دیں گئے جس کے بغیر انسانوں کی نجات  اب ممکن نہیں  رہی ۔

دانیال رضا 

15دسمبر2016

 کتاب جلتا گوبل خریدنے کے لیے کلک کریں

مزید کتابیں حاصل کریں

کتاب ، جلتا گوبل ۔ دانیال رضا

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh