ستائیس مئی کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں شادمان چوک کا نام تبدیل کر کے بھگت سنگھ چوک رکھنے اور یہاں بھگت سنگھ کی ایک یاد گار تعمیر کرنے کے حق میں ایک زبردست پروگرام ہوا جس میں سنگھ میل اور فی میل انقلابی ساتھیوں نے بھی بھرپور شرکت کی ۔ اس کے علاوہ پاکستانی میل اور فی میل ساتھیوں بھی ایک انقلابی جذبے کے ساتھ شامل ہوئے ۔ یہ پروگرام چنگاری فورم جرمنی کی جانب سے منظم کیا گیا جس میں چالیس افراد نے اشتراکی جوش و خروش سے شرکت کی ۔

اس پروگرام میں دو قرادیں چنگاری فورم کی طرف سے دانیال رضا نے پیش کیں جس پر ہاتھ اٹھا کرکے باقاعدہ ووٹنگ کرائی گئی اور یہ دونوں قراردادیں سو فیصد ووٹوں سے منظور کی گئیں جس میں پہلی قرارداد وہ تھی جو پنجاب اسمبلی میں پیش ہوئی ہے جس میں موجودہ شادمان چوک لاہور کا نام بدل کر بھگت سنگھ چوک رکھنا اور یہاں بھگت سنگھ کی ایک یاد گار تعمیر کرنا ہے اور دوسری تھی کہ برصغیر کے تمام انقلابی شہدا جو برطانوی سامراج کے خلاف لڑتے ہوئے جان سے گزار گئے ان تمام شہیدوں کی یاد گاریں تعمیر کی جائیں یا کم از کم ان کے ناموں کی تختیاں جہاں یہ شہید ہوئے لگائی جائیں ۔

اس اشتراکی انقلابی پروگرام کا آغاز سٹیج سیکرٹری طاہر ملک نے رام پرشاد بسمل کی نظم ،، سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ،، سے کیا یہ وہی نظم تھی جسکو بھگت سنگھ اس وقت گا رہا تھا جب اسے پھانسی گھاٹ پر لے جایا جا رہا تھا اور وہ مسکرا مسکرا کر یہ نظم پڑھ رہا تھا ۔

سب سے پہلے سعید خان تقریر کے لیے آئے جنہوں نے کہا کہ ہمیں بھگت سنگھ کو جاننے کے لیے اسکی جدوجہد پر بات کرنی چاہیے جو ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے تھی کسی جعلی آزادی کے لیے نہیں ۔ اس کے بعد واصف بخاری نے پاک یورو جرنلسٹس فورم کے چیرمین صفدر ہمدانی کا پیغام پڑھا

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جو مفادات کا دور ہے۔یہاں اب کوئی مطلب کے بغیر سلام بھی نہیں کرتا اور وائے گرو بھی نہیں کہتا۔ یہ دور انسانوں کو متحد کرنے کا نہیں بلکہ تقسیم کرنے کا ہے،یہ عہد نمبر دو کا عہد ہے، اس دنیا میں اب اکثر حالات میں عبادت بھی غرض کے لیئے کی جاتی ہے اور ہم نے زیادہ تر اپنے حقیقی ہیروز کو یاد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ان حالات میں ہمارے ساتھیوں دانیال رضا،طاہر ملک،جمال الدین سید اور ارشاد ہاشمی کے ساتھ سکھ بھائیوں نے اس تقریب کا اہتمام کر کے اپنی ہیرو دوستی اور محبت دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ میں آپ سب کو یقین دلواتا ہوں کہ اس پلیٹ فارم سے ایسے بہت سے فکری پروگرام مستقبل میں بھی کیئے جائیں گے۔ یہ پلیٹ فارم کسی خاص مزہب اور مسلک کا نہیں بلکہ انسان دوستی اور حق سچ کی ابت کہنے کا ہے اور جو اس سے متفق ہے اسے ہم دل کی گہرائیوں سے جی آیاں نوں کہتے رہیں گے

پی ٹی آئی جرمنی کے رہنما چوہدری رفیق نے کہا کہ بھگت سنگھ ظلم و استحصال کے خلاف ایک ناقابل تسخیر آواز اور جدوجہد تھی وہ اپنے انقلابی مقاصد میں نہ کھبی جھکا اور نہ ہی اس نے کھبی مصالحت کی ۔ پاکستان کو آج ایسی ہی قیادت کی اشد ضرورت ہے انگریز تو چلا گیا لیکن اپنے گماشتے چھوڑ گیا ۔ محمود سعید نے بھگت سنگھ کی حالات زندگی اور اس کی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچپن ہی سے سماج میں پھیلے ظلم وستم پر سوچتا تھا اور اس سے نجات پانے کے لیے ہمیشہ بے چین رہا تھا اس کی تمام زندگی ناقابل مصالحت طبقاتی جدوجہد میں گزری اس کی جدوجہد ایک سوشلسٹ انقلاب کے لیے آج ایک مشعل راہ ہے ۔ سید جمال الدین نے کہا کہ آج بھگت سنگھ جیسی قیادت کی ناگزیرضرورت ہے کیونکہ اس کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی جاری ہے ۔ وہ ایک سوشلسٹ آزادی کا مجاہد تھا جسے کھبی فراموش نہیں کیا جا سکتایہ ہمارے لیے آج بھی جدوجہد کا ایک روشن راستہ ۔ عبدالقدوس نے کہا کہ بھگت سنگھ ایک ایک سوشلسٹ تحریک کا نام ہے ۔ جس کی جدوجہد لازوال ہے ہمیں آج ایسے کئی بھگت سنگھوں کی ضرورت ہے ۔

ارشاد ہاشمی نے کہا کہ یہ ایک ایسا سوشلسٹ انقلابی تھا جس کو تاریخ کھبی فراموش نہیں کر سکتی اس کو تاریخ نے نہیں لکھا بلکہ اس نے خود تاریخ کو لکھا ارشاد ہاشمی نے مزید کہا کہ اگر پاس آج ایسی انقلابی قیادت موجود ہو تو ہم پاکستان کا مقدر بدل سکتے ہیں اور ہمیں ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے ۔ ان کے بعد طاہرہ راباب جو کہ ایک شاعرہ ہیں انہوں نے بھی بھگت سنگھ پر بھی خوبصورت تقریر کی اور کہا کہ ان ماوں کو سلام کہ جنہوں نے ایسے بیٹے پیدا کیے اور انقلاب کے لیے بخوشی قربان کر دیے یقیناًیہ عظم مائیں ہیں ۔ تقریر کے بعد انہوں نے اپنی پر جوش شاعری سے بھی لوگوں کو محضوز کیا ۔

اس کے بعد ڈوزیل ڈورف کے قریب سے جو کہ فراینکفرٹ سے تین سو کلو میٹر دور ہے، کر شریف سنگھ خصوصی طور تشریف لائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بھگت سنگھ ایک نام اور شخص نہیں بلکہ ایک مارکسی تحریک اور جدوجہد کا نام ہے ۔ انہوں نے بھگت سنگھ کے تمام حالات زندگی اور اس کی تمام انقلابی سرگرمیوں کو بڑی واضاحت سے بیان کیا ۔ اور انہوں نے کہا کہ آج سامراجی ممالک ہندوستان اور پاکستان کو ہر طرح سے لوٹ کر اجاڑ رہے ہیں اور پھر ہم ہی سب سے زیادہ ان کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں ۔ آج برصغیر کو ہی سوشلزم کی ضرورت نہیں بلکہ ساری دنیا کو سوشلز م کی ضرورت ہے ۔

ہیڈل برگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر واقار علی شاہ نے سٹیج پر آکر تین سلام کیے پہلے اسلام وعلیکم ،سات سری اقال اور پھر سرخ سلام کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں آکر بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ اور ایسے لگ رہ ہے جسے ہم انیس سو سنتالیس سے پہلے پیار محبت اور عزت سے رہا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا چلو اپنے ممالک میں نہ سہی باہر ہی ایک نئے اتحاد اور بھائی چارے کی فضا کا آغاز ہو رہا ہے جو ہر طرح سے قابل تعریف ہے ۔وقار علی شاہ کیونکہ کئی دہائیوں سے تاریخ کے پروفیسر ہیں اس لیے انہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف انقلابیوں کی جدوجہد کو بڑی تفصیل ، خوبصورتی اور نہایت کم وقت میں جامع انداز میں پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو تو سبھی جانتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بے شمار سوشلسٹ انقلابی تھے جنہوں نے برٹش سامراج کے خلاف لا زوال جدوجہد کی جس کے نتیجے میں برطا نیہ کو برصغیر سے بھاگنا پڑا لیکن ان کے بھورے ایجنٹ آج بھی ہمارے سروں پر مسلط ہیں ۔انہوں نے اپنی تقریر میں شری ہری کرشن کو خصوصی طور پر موضوع بنایا جو بھگت سنگھ سے ایک سال چھوٹا تھا اور اس کو میانوالی جیل میں بھگت سنگھ سے پہلے پھانسی دی گئی ۔ لیکن اس کی جدوجہد کسی طرح بھی بھگت سنگھ سے کم نہ تھی اس پر بھی وہ تمام مظالم ڈھائے گئے جو بھگت سنگھ پر کیے گئے ۔ لیکن یہ سوشلسٹ آزادی کے ان مجاہدوں میں سے ایک تھا جو تاریک راہوں میں مارے گئے ۔ لیکن ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ ہم انکو زندہ رکھیں جو ہماری برطانیہ سے آزادی کا ورثہ ہیں ۔

آخیر میں دانیال رضا نے کہا کہ دنیامیں ہر روز لاکھوں انسان جنم لیتے ہیں اور ہزاروں مر جاتے ہیں لیکن چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف جنم لیتے ہیں اور کھبی نہیں مرتے بھگت سنگھ بھی انہی میں سے ایک تھا جس نے موت کو شکست دی۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سے انسان نے اس زمینی کرہ ارض پر جنم لیا ہے وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ اپنی موت کے خوف سے نجات پانا چاہتا ہے ۔ اس نے سائنس اور ٹیکنک میں اسی غرض کے لیے کمال فتوحات کیں ۔ کچھ کمزور لوگ اسی موت کے خوف سے بچنے کے لیے مختلف مذاہب کی گود میں چھوپنے کی ناکام کوشیش کرتے ہیں لیکن موت انہیں پھر بھی آن دبوچتی ہے ۔ لیکن تاریخ میں ہمیشہ وہ لوگ زندہ ہوئے جنہوں نے محکوم اور مظلوم عوام کی جنگ لڑئی وہ سقراط ہو یا بھگت سنگھ ان کے پاس زندگی کا وہ مقصد اور ٹھوس سچ تھا جس نے موت کے خوف کو پیچھاڑ دیا سقراط نے جہاں خوشی سے زہر پیا تو بھگت سنگھ نے وہاں ہنستے مسکراتے پھانسی کو گلے لگایا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھگت سنگھ نہ تو ماو ایسٹ تھا اور نہ ہی سٹالنیسٹ بلکہ وہ ایک حقیقی مارکسسٹ تھا جو ٹراٹسکی سے متاثر تھا اور پھانسی کے وقت لینن کی کتاب ریاست اور انقلاب پڑھ رہا تھا ۔ یہ درست ہے کہ بھگت سنگھ شروع میں بندوق کی نالی سے انقلاب کرنا چاہتا تھا لیکن جلد ہی وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ ایک حقیقی سوشلسٹ صرف مزدوروں اور کسانوں کو منظم کر کے ایک انقلابی پارٹی کے زریعے ہی کیا جا سکتا ہے ۔ بھگت سنگھ کی طرح بہت سے دوسرے انقلابی نوجوانوں کو کمیونسٹ پارٹی آف اس لیے نہ جیت سکی کہ یہ سٹالن کے مرحلہ وار اور قومی سوشلزم کے بے ہودہ اور غیر مارکسی نظریہ پر کار بند تھی کیونکہ شوشلزم انٹر نیشنل ازم کے علاوہ کچھ نہیں ۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی اپنی زندگیوں میں انقلاب چاہتے تھے آنے والی نسلوں کے لیے نہیں اس لیے مرحلہ وار انقلاب یا قومی جمہوری انقلاب کی تھیوری برصغیر کے بے شمار نوجوانوں کے لیے فرسودہ اور پسماندہ تھی اس لیے بھگت سنگھ ٹراٹسکی کے نظریہ مسلسل انقلاب سے متاثر تھا ۔ انہوں نے آخیر میں کہا کہ ہمارے حکمران ان آزادی کے مجاہدوں اور انکی سوشلسٹ جدوجہد سے خوف ہیں اس لیے انکو پاکستان کی تاریخ کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور کو پس پست دھکیلا جاتا ہے تاکہ ان حکمرانوں کے عوام دشمن مفادات محفوظ رہیں۔ آج عالمی مالیاتی نظام اپنی موت خود مر رہا ہے جس سے بھوک ننگ اکثریتی عوام کو مقدر بن گیا ہے آج ضرروت اس امر کی ہے کہ ہم ایک حقیقی سوشلسٹ انقلابی قیادت تعمیر کریں ۔ جو اس زمینی کرہ پر بسے والے انسانوں کو سرمایہ کے جبر سے نجات دلائے ۔ آخیر میں تمام مہمانوں کی توضع سموسوں، پکوڑوں اور چائے کی کی گئی ۔ اور اس امر کا عہد کیا گیا کہ یہ انڈو پاک کے عوام کی انقلابی جدوجہد کا آغاز ہے 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh