انیس ستمبر کو جرمنی کے شہر ڈرام شٹاڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں پنجابی ادبی سنگت جرمنی کا ایک مرکزی اجلاس ہوا جس میں انڈین اور پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ترقی پسندوں ادیبوں ، لکھاریوں اور دوسرے افراد نے شرکت کی جس میں پنجابی ادبی سنگت جو کئی دہائیوں سے فرینکفرٹ میں قائم ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے غیر متحریک ہے ا سکی از سر نو تعمیر کا اعلان کیا گیا اور اس کے منشور اور تنظیمی ڈھانچے پر بھی بات چیت کی گئی اور اس کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پنجابی ادبی سنگت کو جلد فرینکفرٹ میں رجسٹرڈ کرایا جائے گا اور اسکے تحت پنجاب کی زبان اور اسکے ترقی پسند کلچر اور تحریکوں کو آج کے عالمی صورتحال میں اجاگر کیا جائے گا ۔

اس اجلاس میں طفیل خلش ، آنکھی ابراہمی پوری ، طاہر چیمہ ، جفری ،محمود سعید ، طاہر ملک ، ناصر اور دانیال رضا نے شرکت کی ۔جس میں کہا گیا کہ پنجاب کا کلچر ہمیشہ سے ترقی پسند رہا ہے اور برطانوں سامراج کے خلاف بھی پنجاب کی انقلابی تحریکیں سر فہرست ہیں ۔ بھگت سنگھ اور اسکے ساتھیوں کی جدوجہد آج بھی مشعل راہ ہے اسکے باوجود کے موجودہ حکمرانوں اور ملائیت نے اسے ہر طرح سے دفن کرنے کی کوشیشیں کئیں ۔ جبکہ پنجاب کی شاعری بھی رجعت پرستی کے خلاف عوامی انقلاب کی علم بردار ہے جبکہ اب ملائیت اور عربی زبان کو مسلط کر کے رجعت پر ستی اور پسماندگی کو ابھارا جا رہا ہے جس سے آج ہر طرف بربریت کا بازار گرم ہے اور مذہبی قتل گری بھی علاقائی اقدار کی پامالی کی اعکاسی ہے ۔ موجودہ بنیاد پرستی کی یلغار سے پنجاب میں انقلابی تحریکوں اور پنجاب کے عوام کی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد کو پس منظر میں دھکیل کی کوشیش ہے اور استحصال کی حکمرانی کو جاری رکھنا ۔

زبان اور ثقافتی ورثہ کسی قوم اور علاقاقے کا لاکھوں سالہ مشترکہ رہن سہن اور مسائل کے خلاف جدوجہد اور تجربات ہو تے ہیں۔ زبان کسی بھی علاقے کے لوگوں کا احساس اور وجود ہوتی ہے اور معاشرتی زندگی کی بنیاد جب کسی قوم سے اسکی زبان چھین لینا اسی موت ہوتی ہے ۔ زبان کا تحفظ بھی سرمایہ داری کے تحت ممکن نہیں کیونکہ جب تک زبان میں ریاستی سرمایہ کاری اور اس کی سماجی حیثیت اور اہمیت کو سرکاری سطح پر رائج نہیں کیا جاتا زبان کو اسکی موت سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے زبان کے تحفظ کی جدوجہد بھی ایک مرحلے پر نظام سے ٹکراتی ہے جس کے تبدیلی کے بغیر زبان کا تحفظ ممکن نہیں رہتا اس لیے زبان اور علاقائی ثقافت کی بقا کی جنگ براہ راست نظام کی تبدیلی کی طبقاتی جدوجہد سے منسلک ہیں ۔ ،، پنجابی ادبی سنگت جرمنی ،، جرمنی سمیت تمام یورپ اور دنیا میں انڈین اور پاکستانی پنجاب جو کہ پنجابی عوام اور محنت کشوں کا سانجھا پنجاب ہے کے مشترکہ ادب اور کلچر کو پرموٹ کر کے پنجابی زبان کا دفاع کیا جائے گا اور سرمایہ داری ، جاگیرداری سامراجی تسلط کے خلاف پنجابی زبان کی انقلابی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا اور پنجاب ورثے کو اس کا ایک انقلابی زرائع بنایا جائے گا ہماری جدوجہد کی منزل طبقات سے پاک سماج ہے ۔

پنجابی ادبی سنگت جرمنی کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہم ہر زبان کی اہمیت اور آزادی کے طرف دار ہیں ہم زبان کے تعصب اور ہر بنیاد پرستی کے خلاف ہیں ۔ لاہور میں شادمان چوک کا نام بھگت سنگھ شہید چوک رکھنے کی تحریک پر بات چیت ہوئی ۔ بہت جلد آئندہ اجلاس کرکے پنجابی ادبی سنگت جرمنی کے تحت فرینکفرٹ میں ایک پنجابی مشاعر ے کا اعلان کیا جائے گا ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh