چنگاری فورم کے ساتھیوں نے ڈیر فونکے کے انقلابیوں کے ساتھ مل کر جو جرمنی میں بائیں بازو کی سر گرم تحریک ہے کے ساتھ مشترکہ طور پر ڈی لنکے ہیسن کی سالانہ گانگریس میں بھر پور شرکت کی جو چھ اور سات اکتوبر دو ہزار بارہ کو فرینکفرٹ رونے برگ زال باو میں ہوئی جس میں ریاست ہیسن کے آٹھ سو مندوب شامل ہوئے ۔ اس سالانہ گانگریس کا عنوان تھا ،، دولت کی مساوی تقسیم ،، جو اس کا سیاسی ایجنڈا بھی تھا جس پر ہر علاقے سے ایک مندوب اور ہیسن کی ریاستی پارلیمنٹ کے ممبران اور برلن سے آئے ہوئے ڈی لنکے کے رہنماوں نے جرمنی میں موجودہ اتحادی حکومت یعنی سی ڈی ہو اور ایف ڈی پی کے اشتراک پر مبنی حکومت کی سرمایہ دارانہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کمزور اور اپائج اپوزیش ایس پی ڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انٹی عوام مفادات حکومت جو عوام کے خلاف امیروں ، صنعت کاروں اور بینکوں کے حق میں پالیسیاں بنانے میں کامیاب ہوئی اس میں ایس پی ڈی کا مذاحمت نہ کرنا بلکہ پس پست انکی حمائت کا ہی نتیجہ ہے ۔ آج جرمنی کی ترپین فیصد دولت دس فی صد امیر لوگ کے پاس ہے ۔

جرمنی کے کل دو اعشاریہ صفر دو بلین یورو قرضے ہیں جبکہ جرمنی کے ایک فیصد امیروں کے پاس چار اعشاریہ چار بلین یورو ہیں اگر یہ جرمنی کا تمام قرضہ اتار بھی دیں تو یہ افراد غریب نہیں ہوں گئے لیکن یہ تو مزید دولت کمانا چاہتے ہیں ۔اور حکومت بھی انکے سرمایوں کے تحفظ اور اس میں مزید اضافے کے لیے ہی گامزن ہے ۔ اب یہ مزید نہیں ہو سکتا اور ایسے نہیں چل سکتا کیونکہ جرمن کی عوام اور مزدور غریب غریب سے غریب تر ہوں اور امیر امیر تر ہو تے جائیں یہ پالیسیاں بند ہو نی چاہیے ۔اور دولت کی مساوی تقسیم کے لیے امیروں پر ٹیکس لگایا جائے ۔ کیونکہ کسی ملک کی کل دولت کسی ایک شخص کی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہو سکتی ہے بلکہ یہ اجتماعی دولت ہوتی ہے اور اس دولت کی پیداوار میں تمام عوام کا برابر کردار ہوتا جس پر کسی ایک شخص یا فرم کو قبضے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ہماری جنگ مساوی دولت کی تقسیم اور مساوی حقوق کے اجرا کی جنگ ہے ۔

سرمایہ داروں میں دولت کی یہی ہوس آج یورپ کی تباہی بن چکی ہے عوام دشمن تمام یورپی حکومتیں عوام کے خلاف اور سرمایہ داروں کے حق میں پالیسیاں مرتب کر رہے ہیں جس سے دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہو چکا ہے ۔ یونان کے مالداروں کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ یونان کا بحران ایک دن میں ختم ہو سکتاہے اور یہ خوشحال بن سکتا ہے ۔ جرمنی کی موجودہ حکومت اور بڑی اپوزیشن ایس پی ڈی عوام دشمنی اور یورپی بحران کی اصل ذمہ دار ہیں جو حالیہ بحران کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسکو استعمال کر کے بینکوں کے منافعوں کو بڑھا نا چاہتی ہیں ۔

مقررین نے کہا کہ آج یورپی سنٹرل بینک جرمن بینکوں کو صفر اعشاریہ چار فیصد پر قرضے دے رہا ہے جو کہ آگے سے سات فیصد سود پر یونان ، سپین اور پرتگال کی ریاستوں کو قرضہ دے کر ان کا زبردست استحصال کر رہے ہیں اور اس بحران سے خوب منافع کما رہے ہیں اگر جرمن حکومت واقعی یورپی ممالک کے بحران کو حل کرنے میں سنجیدہ ہوتی تو یورپی سنٹرل بینک اس کم ترین شرح سود پر بینکو ں کو نہیں بلکہ براہ راست ان دوالیہ شدہ ممالک کو قرضے دیتا جس سے وہ اپنا سماجی ڈھانچہ تعمیر کرتے اور ملک اپنے پاوں پر کھڑے ہوتے لیکن ایسا نہیں ہو رہا بلکہ موجودہ یورپی پالیسیوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اس بحران پر دھندہ کیا جا رہا ہے یہ غریب یورپی ممالک اپنے قرضوں کی واپسی اور اس پر سات فیصد شرح سود کھبی ادا نہیں کر سکیں گئے ۔ یہ قرضے ان ممالک کی مدد نہیں بلکہ انکو اپنا غلام بنانے اور مزید استحصال سے خونی عدم استحکام پیدا کرناہے جس کی ڈی لنکے کھبی حمائت تو کیا ہم اسکی مذمت اور مستقبل میں سخت سے سخت مذاحمت کریں گئے ۔ مقرر ین نے سوشلزم کے حق میں تقاریریں کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں شوسلزم کا یا بربریت کا ۔

اس گانگریس میں مندرجہ ذیل مطالبات پیش کیے گئے ۔

جرمنی میں مزدوروں کی کم ازکم تنخواہ فی گھنٹہ بارہ یورو مقرر کی جائے ۔

محنت کشوں کے روزگار اور اجرتوں کو غیر محفوظ کرنے اور مالکان کو مزدروں کے مقابلے میں تحفظ دینے کی پالیسی ختم کی جائیں ۔

ٹھکیداری نظام کو فل فور م مکمل خاتمہ کیا جائے ۔ بینکوں اور بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر فنانس اور صنعتی آمریت کو ختم کیا جائے ۔

افغانستان سے جرمن فوجوں کو فوری واپس بلایا جائے اور جنگ کو شروع کرنے یا اس میں داخل ہونے کی پالیسی بند کی جائے ۔

آخیر میں ریاست ہیسن کی مرکزی کمیٹی کا انتخاب عمل میں آیا جس کی ووٹینگ خفیہ طریقے سے کی گئی جس میں اوفن باغ کی پہلی خاتون کونسلر ثمینہ خان بھی کھڑی ہوئیں لیکن چند ووٹوں کی کمی سے جیت نہ سکیں ۔اگلی بار ثمینہ خان چنگاری فورم اور ڈیر فونکے کی طرف سے ڈی لنکے کی مرکزی کمیٹی کے لیے الیکشن میں کھڑی ہوں گئی اور یقیناًجیتیں گئیں ۔اس بار پاکستانی کامریڈز کی ڈی لنکے پارٹی کی سالانہ گانگریس میں ایک انقلابی او ر بہترین مداخلت تھی ۔جو جرمنی میں سوشلزم کی تحریک کے لیے ایک طاقت اوت قوت بنے گئی ۔ یقیناًمستقبل ہمارا ہے سوشلزم کا ہے ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh