محترم جناب سفیر اسلامی جمہوریہ پاکستان ، برلن جرمنی

اس تحریر کے زریعے ہم آپکی توجہ ایک اہم مدعا کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں وہ یہ کہ جرمنی میں پاکستانی نژاد خواتین پر گھریلو تشدد کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے ۔ خاص طور سے خواتین پر تشدد پاکستانی حلقوں میں اب کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستانی شہریوں کی جرمنی میں آمد کے بعد سے خواتین اپنے والدین ، بھائیوں ، شوہروں کے ہاتھوں ذہنی یا جسمانی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں ۔اب اس تشدد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں بے شمار قسم کی انتہائی اذیتیں اور تکلیفیں دی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ انہیں گھروں میں قیدیوں کی طرح رکھا جاتا ہے اور برتاو کی جاتا ہے ۔اسکی وجہ سے انکی ذہنی حالت بھی ابتر ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ نفسیاتی مریض بن کر رہ جاتی ہیں ۔

اس انتہائی غیر انسانی اور تشویشناک صورتحال کے پیش نظر ہم اس بات پر فکر مند ہیں۔جس سے جرمنی میں پاکستانیوں کا وقار مجروح ہو رہا ہے ۔علاوہ ازیں ہمیں اس بات کی بھی تشویش ہے کہ پاکستانی خواتین کی اکثریت یہاں اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔خواتین پر تشدد صرف پاکستانی پسماندہ ثقافت کا ہی حصہ نہیں ہے بلکہ یہ آج ایک عالمگیر مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی بنیادی وجوہات بے شک معاشی اور سماجی ناہمواریاں ہیں لیکن ہمیں اس کے خلاف ایکشن لینا ہو گا۔ اور ہمیں پاکستانی حلقے میں اس بڑھتی ہوئی جنسی استحصالی کی صورتحال پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے ۔ان پاکستانی نژاد خواتین کو اپنے حلقہ میں تحفظ کا احساس رہے لہذا ہم آپکی مدد کے ساتھ اس مسئلہ کا حل چاہتے ہیں ۔کیونکہ ان گھریلو تشدد کی شکار خواتین کی اکثریت جرمن زبان سے ناواقف ہے جس وجہ سے وہ یہاں کی ویمن ایسوسی ایشن کے پاس جانے سے ہجکچاتی ہیں پھر انہیں یہاں کے قوانین سے بھی نا آگہی ہے

لہذا ہم نے آپ سے عوامی سطح پر کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں ۔وہ یہ کہ

آپ ان پاکستانی نژاد خواتین اور مرد حضرات کے تحفظ کے لیے کونسا طریقہ کار اختیار کریں گے ۔

گھریلو تشدد کے بارے میں خواتین کو معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس سنگین مسئلہ کو بہتر طور پر حل کر سکیں ۔

پچھلے پچاس سالوں سے پاکستانیوں کی جرمنی آمد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ اس مدعا کے خلاف ایک موثر آواز اٹھائی جائے ۔جیسے انڈیا میں اس ایشو کے خلاف کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔لہذا اس ضمن میں حکومت پاکستان کی طرف سے بھی ایسی صورتحال کو روکنے کے لیے لازما کچھ فیصلہ کن اقدامات اٹھائے جانے چاہیں ۔

منجانب

ثمینہ خان ۔ دی لیفٹ پارٹی، کونسلر اوفن باغ(ہیسن جرمنی)۔

دانیال رضا ، ارشاد ہاشمی ، طاہر ملک ، ۔ پاک یورو جرنلسٹس فورم

سعید خان ، ذیشان علی ، عبدلقدوس ، محمود سعید ، یاسر میر۔ چنگاری فورم جرمنی

پروفیسر مظہر رانجھا ، رانا محمود ،صفدر علی ، محمود احمد ۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین جرمنی

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh