اکتیس اگست دو ہزار گیارہ کو چنگاری فورم جرمنی کے ایک انقلابی پروگرام میں ہنس گہرٹ اوفنگر نے کہا کہ جرمنی میں تمام پاکستانی یہاں کے مقامی مزدروں کا اٹوٹ حصہ ہیں اور انہیں یہاں جرمنوں کی طرح رہنا اور اپنے معاشی ، سیاسی و سماجی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ صرف آج کا نہیں ہے بلکہ مستقبل کا بھی ہے ۔ حق کبھی مانگے سے نہیں بلکہ لڑنے سے ملتا ہے جرمنی اور یورپ کے مزدورں نے آج جو حقوق حاصل کیے ہیں وہ انہیں پلیٹ میں نہیں ملے بلکہ اس کے پیچھے یہاں کے مزدروں کی اپنے حکمرانوں کے خلاف ایک لمبی اور سخت تریں طبقاتی لڑائی ہے جس کی وجہ سے آج انکو چند سہولتیں ملیں جو آج ان سے ایک بار پھر چھینی جا رہی ہیں۔ قومی اداروں کی فروخت ، بے روزگاری ، ٹھکیداری نظام ، کم اجرتوں، ریاستی کٹوتیاں اس کا واضح ثبوت ہیں جس کے خلاف ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہے مقامی ٹریڈز یونیوں اور سیاسی پلیٹ فارم ڈی لنکے میں سرگرم ہو کر اور اس کو بائیس ستمبر کو ووٹ دے کر تاکہ سرمایہ دارانہ حکمرانوں کو عوام اپنی رائے سے باخبر کر سکیں ۔ بے شک ڈی لنکے پارٹی کوئی انقلابی پارٹی نہیں ہے لیکن اس پلیٹ فارم پر ہم اپنے مارکسسٹ نظریات اور پروگرام کا کھل کر پرچار کرسکتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ جرمنی میں آج کوئی پارٹی عوام کی بات اور پروگرام نہیں دے رہی اور ڈی لنکے واحد پارٹی ہے جو جرمنی کی غریب عوام اور تمام غیر ملکی مزدروں کی مساوی حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے ہمیں خود اور اپنے تمام دوستوں ، رشتے داروں کو اس بار ڈی لنکے کو وٹ دینے کے لیے سرگرم ہو نا ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہارچنگاری فورم جرمنی کے پروگرام ،، پاکستان کی نجات کیسے ممکن ہے اور غیر ممالک میں ہماری ذمہ داریاں ،، میں کامریڈ ہنس گہرٹ اوفنگر جو ڈیر فونکے کے ایڈئٹر ہیں ، جرمنی کی ٹریڈز یونیوں اور ڈی لنکے پارٹی میں متحریک ہیں نے کیا۔

بشری ملک نے کہا کہ جرمنی میں ہماری تیسری نسل آج جوان ہو چکی ہے لیکن ہم اس معاشرے میں آج بھی اس لیے تنہائی کا شکار ہیں کہ ہم نے اس معاشر ے میں مکس ہونے کی کھبی سنجیدہ کوشیش ہی نہیں کی ہم جرمنی کی سہولتوں سے بھر پور مکمل فائدہ تو اٹھاتے ہیں اور پھر آخیر میں کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ سور کھاتے ہیں اس لیے ان سے تعلقات نہیں بن سکتے لیکن شراب اور سو ر کی کمائی پر ادا شدہ ٹیکس سے سوشل ہلپ بڑے خوش ہو کر لیتے ہیں ۔ یہاں سے بے شمار روپے پیسہ کماتے ہیں اور پاکستان میں بڑی بڑی جائیدادں بناتے ہیں اپنے اور اپنے خاندانوں کی حالت زار یہاں کی کمائی سے بدلتے ہیں لیکن پھریہ لوگ کافر ٹھہرائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک شاندار پروگرام ہے اور ایسے پروگراموں کا اکثر انعقاد ہو تا رہنا چاہیے ۔ ۔ ۔ انکا جرمنی میں پاکستانیوں کی ذہنی حالت زار پر مقالہ جلد مکمل شائع کیا جائے گا ۔ 

دانیال رضا نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کو چھیاسٹھ سال کا عرصہ گزار چکے ہیں اور جن خوانوں کی تعبیر کے چکر میں پاکستان حاصل کیا گیا تھا انکا دور دور تک نام ونشان نہیں ۔ مہنگائی ، غربت ، بے روزگاری ، دہشت گردی ، قتل و غارت ، خونی قومی مسئلہ آج پاکستان کی آزادی پر سب سے بڑا سوال ہے ۔ بنگلہ دیش کے بعد آج بلوچستان ، کراچی ، سندھ ، پختوان خواہ ، کشمیر میں سلگتی قومی آزادی کی تحریکیں مسلح مزاحمت پر اتر آئیں ہیں ۔اور اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بغاوت کر چکی ہیں ۔اس لیے ریاست پاکستان نے بلوچستان میں اپنی ہی عوام پر خونی فوجی جارحیت جاری کر دی ہے ۔ بکاو اور حکمران ایجنٹ میڈیا بلوچستان میں اس خونی ریزی پر خاموش تماشائی ہے۔ 

آزادی کے نام پر سجائے گے تمام جھوٹے اور جعلی خواب آج چیکنا چور ہو چکے ہیں ۔ اور یہ آزادی کا جشن ماتم آزادی بن چکا ہے ۔ 

جو نظام چھیاسٹھ سال میں عوامی اور ملکی حالات نہیں بدل سکا وہ آئندہ بھی نہیں بدل سکتا ۔ چند عقل کے اندھے دانشوار شاید یہ کہتے ہوں کہ قوموں کو بنے میں صدیاں لگتی ہیں غلط ہے کیونکہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں ایک جدید ترین سماجی ڈھانچے پر جلد ترقی یافتہ قوم کو تعمیر کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں ممکن نہیں ہے کیونکہ جہاں چونسٹھ فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہو ، اسی فیصد آبادی غریب کی لائن سے نیچے زندہ ہو غربت اور افلاس سے خودکرشیاں کرنے والوں کا دنیا میں تیسرا نمبر ہو ، ہر فرد تقریبا ایک لاکھ کا مقروض ہو جبکہ دوسری طرف دنیا کے امیر ترین لوگ بھی یہیں رہتے ہوں اور مزید امیر بن رہے ہوں اتنی بڑی طبقاتی تفریق سے تباہی تو ہو سکتی ہے سلامتی اور بھلائی یقیناًنہیں کیونکہ بھوک میں کھبی امن ،انصاف ، منصفانہ انتخابات ، آزادی اور سکون ممکن نہیں ۔ 

پاکستان میں ایک سوشلسٹ انقلاب کی اشد ضرورت ہے جو جنوبی ایشا کی اشتراکی فیڈریشن بنے جس کے بغیر پاکستان اور تمام جنوبی ایشا کا و جود معاشی اور سماجی مسائل کے بارود پر ڈگمگا رہا ہے اور جہاں بیرون ممالک پاکستانیوں کا آج پاکستانی معیشت میں اہم ترین کردار ہے وہاں انکو اپنا سیاسی اور انقلابی کردار بھی ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم پاکستان اور جرمنی میں انقلابی قوتوں کو مالی اور سماجی طور پر مضبوط کریں ۔

ثمینہ خان نے کہاکہ آج جرمنی میں بھی بنیاد پرستی کی جنونیت اور فرسودگی بڑھ رہی ہے جو اقتصادی بحرانوں سے پھلنے والی سماجی پسماندگی اور پراگندگی کا اظہار ہے ۔ اور بہت سے پاکستانی پاکستان سے اس فرقہ واریت کی غاظت کو اپنے ساتھ یہاں جرمنی میں بھی لے آئے ہیں ۔ اور یہاں کے آسان اور لچکدار قوانیں کا نہایت غلط استعمال کر کے فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی فرقہ وارانہ مسجدیں بنارکھی ہیں ۔ جس کے خلاف ناقابل مصالحت لڑائی کی ضرورت ہے ۔جس کے بغیر ہم جرمنی میں عوام اور مزدور تحریک کو مضبوط نہیں کر سکتے ۔ بعض حکمران طبقات خاص طور پر ایف ڈی پی اور سی ڈی یو اس مذہبی نفرتوں کو اپنے مالیاتی مفادات کے لیے صوبے ہسن کی سطح پرخوب استعمال بھی کر رہی ہے ۔ ہمیں طبقاتی اتحاد کے لیے پاکستانی اور جرمن عوام کو متحد کرناہے ہر تعصب سے بالا عوامی مفادات کے لیے آگے آنا ہے ۔

طاہر ملک نے مذہبی دھوکہ دہی اور منافرت کے خلاف دو شاندار نظمیں پڑھیں اور خوب داد پائی ۔ ۔۔۔ یہ نظمیں جلد شائع کی جائیں گئیں ۔

میر لیق احمد نے اس پر زور دیا کہ ہمیں جرمنی میں بائیں بازو کی قوتوں کو مضبوط کرنا چاہیے اسی سے ہم سیاسی اور سماجی مسائل کو حل کر سکتے ہیں انہوں نے کہا میں میں بھی بائیں بازو کا لمبے عرصے سے کارکن ہوں ۔

واجدا عوان نے کہا کہ جب تک ہم حقوق میں برابر اور طبقاتی تفریق کے خاتمے کی جدوجہد نہیں کریں گئے کوئی ایک بنیادی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔

شفیق مراد نے کہا کہ پاکستانی عوام کو اپنا مقدر خود بدلنا ہوگا کیونکہ ان کی حالت کبھی نہیں بدلتی جو اسے بدلنا نہ چاہیں ۔اور آخیر میں انہوں نے ایک انقلابی نظم پڑھی جو جلد شائع کی جائے گئی ۔

سلیم بھٹی نے کہا کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے ۔ہمیں اسے گھر تک محدود کر کے عوامی حقوق کے بلند ترین مقصد کے لیے سماجی میدان عمل میں اترنا ہو گا ۔

رقیہ رضا نے کہا کہ پاکستان کی تباہی میں مذہبی جماعتوں سے جنم لینے والے مذہبی فسادات کا ایک بڑا کردار ہے اور ہمیں کم از کم یہاں ان بے ہودگیوں اور فرسودگیوں سے دور رہتے ہوئے اپنے اعلی سماجی شعور کا اظہار کرنا چاہیے ۔

آخیر میں محمود سعید نے ایک عوامی نظم پڑھ کر اس شاندار انقلابی اور بہترین علمی پروگرام کا ایک نئے آغاز کے ساتھ اختتام کیا جو اردو، انگریزی اور جرمن زبانوں میں ہوا ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh