اکیس مارچ  کو جرمنی میں خواتین اور خاص طور پر پاکستانی اور مسلم عورتوں کے سماجی برابری کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے فرینکفرٹ کے قریبی شہر ڈیسٹن باغ میں ایک تنظیم جس کا نام ،، چلی ،، ہے کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تنظیم کا تیسرا مرکزی اجلاس تھا جس میں میری خان ، صحرا اور ثمینہ خان جو پاکستانی نژاد لڑکیاں ہیں جبکہ مریم فرجینٹ جس کا تعلق تیونس اور نیکول جو جرمن ہیں انہوں نے اس کا آغاز کیاہے جو ہر لحاظ سے یہ سمجھتی ہیں کہ عام اور محنت کش خواتین کا دوہرا تہرا استحصال ہو رہا ہے اور جرمنی جیسے ترقی یا فتہ میں بھی یہ جاری ہے جہاں سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر عورت اور مرد میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ عورتوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتاہے ۔ جس کا جرمنی میں سب سے زیادہ شکار پاکستانی اور مسلم خواتین ہیں ان کا کہنا تھا کہ جب تک خواتین اپنے اوپر ہونے والے ناروا اور غیر مساوی رویے کے خلاف خود متحد ہو کر ایک عوامی اور شعوری لڑائی نہیں لڑتیں اور مزدور تحریک کا حصہ نہیں بنتیں تب تک اس جنسی بنیادوں پر استحصال کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ 

چلی بہت جلد فرینکفرٹ میں یورپین سطح پر رجسٹرڈ کرائی جائے گی اور اس تحریک کو یورپین سطح تک متحریک اور منظم کیا جائے گا ۔

اس اجلاس میں چنگاری فورم جرمنی کو خصوصی طور پر دعوت دی گی جس میں دانیال رضا نے شرکت کی ۔ تنظیم چلی کے اس باقاعدہ مرکزی اجلاس میں چنگاری فورم کے ساتھیوں کو اس تنظم میں شرکت اور بھر پور سپورٹ کی اپیل کی جس پر چنگاری فورم کے دانیال رضا نے چلی کی بھر پور سیاسی اور سماجی مدد کی یقین دہانی کرائی اور اس کا اٹوٹ حصہ بن کر طبقاتی استحصال کے خلاف عالمی عوامی تحریک کو سرگرم رکھنے کا اعادہ کیا ۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh