دانیال رضا

ولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علم مشال خان نے توہین رسالت  نہیں بلکہ توہین انسان کے خلاف بات کی تھی جس کی اسے   موجودہ نطام میں  کھلے عام قتل کی سزا دی گئی ۔ جو پاکستان کے نوجوانوں اور مزدور تحریک کے لیے اب مشال خان نہیں بلکہ مشعل خان بن گئے ہیں ۔  اس قتل نے یہ ثابت کر دیا کہ پسماندہ  ، رجعتی اور کرپٹ سماجوں میں رائے اظہار آزادی تو دور کی بات کوئی حق سچ  ، انصاف اور انسان کی عظمت کی بات بھی نہیں کر سکتا ۔ مشال خان  کے کمرے میں لگی عظیم سوشلسٹ انقلابیوں   کارل مارکس اور چی گوارکی تصویریں اس چیز کا  ٹھوس ثبوت ہیں  کہ مشال خان    نابرابری ، غربت ، طبقاتی تقسیم،  ناانصافی ، محرومی  اور سرمایے کی بے رحم  حکمرانی کے خلاف تھا ۔ یہ  طلبہ حقوق اور تعلیمی اداروں میں  انتظامیہ کی کرپشن ، بد انتطامی ، جبر اور فیسوں میں اضافے  کے خلاف بھی لڑ رہا تھا جس کا اظہار اس نے اپنے آخیری  ٹی وی انٹرویو میں بھی کیا ۔اس  لیے اس کے  قتل کی منصوبہ بندی  پاکستان میں سماجی انصاف کی سوچ اور نظریے کے قتل کی کوشیش تھی جسکو مار نے کی  ریاستی سازش   ناکام اور نامراد ہوگئی اور مشال خان کے قتل نے اس  کے نظریہ  کوعوام میں ایک چنگاری  سے شعلہ بنا دیا اور وہ مر کر امر  ہوگیا۔جسے  پاکستان کی ریاست  اور حکمرانوں کا بستر گرم کرنے والا  میڈیا بھی لکھنے ، دیکھانے اور اس کو بے گناہ  کہنے  پر مجبور ہو گیا۔ کارل مارکس اور چی گوار جیسے سوشلسٹوں  کی تصویروں  اور نظریات کو  مشال  کے قتل سے  جتنادبانے  اور چھپانے کی کوشیش کی گئی  یہ اتنی ہی زیادہ آج منظر عام پر آچکی ہیں  اور زیر بحث ہیں جو حکمرانوں اور ملائیت کی شکست ہے۔ 

اسلامی انتہا پسند آج توہین رسالت کی آڑ میں توہین انسانیت کے مجرم بن چکے ہیں جنکی سزا موت کے علاوہ کچھ  اور ہو ہی نہیں ہو سکتی(ریاست اور حکمران کی ناکامی کے بعد اب عوام اور نوجوانوں کو ہی یہ کام بھی کرنا ہوگا)  کیونکہ  ان دہشت گردوں  نے نہ صرف  مذہب کو بدنام کیا ہے بلکہ سماج کو بھی برباد کر دیا ہے ۔ اسلام اور خدا کو اتنا  کمزور  اور  ناقص بنا کر رکھ  دیا ہے کہ اس کی ناموس کی  حفاظت اور تحفظ کے لیے صرف  انسانوں کا خون، بچوں پر جبر اور عورتوں کی بے حرمتی   ہی لازمی ہے  اسلام کو آج مذہبی جنونیوں نے  دور وحشت  کا  وہ دیوتا بنا دیا ہے جس کے چیرنوں میں صرف  زندہ  انسان کے خون  کی بلی  ہی دی جاتی ہے ۔ مذہب کے ٹھکیداروں  ،  مالیات کے دیوتا  اور انکے گماشتہ  ، سفاک اور وحشی  مذہبی درندوں کو شہید اور ان پر فخر کرتے زرہ بھر بھی  نہیں  لرزتے،  وہ  طالبان  کا ملا عمر ہو یا تحریک اہل سنت کا ممتاز قادری ہو  یا  ان جیسے دوسرے   بھیٹریے،   جن پر ملا سیاست  اور سیاست دان حکمرانی کرتے ہیں   ریاست  انکو دوھ پلاتی ہے جبکہ اس کا خرچ امریکہ ، سعودی عرب اور دوسری سامراجی ریاستیں  اٹھاتیں  ہیں جس کے بغیر موجودہ  انسان دشمن  اقتصادی  نظام  اور  پاکستان میں اس  کی گماشتہ سرمایہ داری کا جواز ختم ہو گیا ہے اور یہ انسانیت سوز وحشت اسی کی غمازی ہے۔ 

ڈالر میں پلی بڑھی اور افغان جہاد کے نام پر  ضیا آمریت اور اسکی باقیات  کی قیادت میں کوٹھوں چڑھی یہ بنیاد پرستی  آج پاکستان اور یہاں کے عوام کے لیے وبال جان بن چکی ہے ۔ توہین رسالت آج توہین ، ملا ، توہین حکمران ، توہین  طاقت، توہین بداعنوانی ،  توہین قلت ،  توہین لوڈ شیڈنگ ، توہین پسماندگی ، توہین جہالت اور توہین جبر واستحصال  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔  وغیرہ   کے ہم  معانی بنا دی  گئی ہے  جس کی سزا قتل ٹھہری ہے۔ ان بنیاد پرستوں  اور حکمرانوں نے  مذہب اسلام کو ایک مذاق اور تماشا بنا دیا ہے ۔ تمام دنیا میں  اسلام کو ذلیل و سوا کرنے والے کوئی نہیں بلکہ  اس کو علم وعقل سے بالا  مانے والے مسلمان  ہی  ہیں  جنہوں نے انسانی  پیار محبت کو نفرت اور خو ن میں ڈبو دیا ہے۔ اسی لیے دنیا میں  آج سب سے  زیادہ بے گھر اور بے یارو مدد گار  مسلمان  ہیں جو  اپنے ہی مسلمانوں  کے ہاتھوں رسوا  ہیں   جبکہ  سب سے زیادہ  مغرب میں آباد غیر مسلمانوں نے  ہی ان  ذلتوں کے مارے  افراد کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ۔ امریکی حکمرانوں کے نمائندے  ٹرمپ  نے جب مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگائی تو سب سے زیادہ غیر مسلم ہی  مسلمانوں کے لیے اپنے حکمرانوں کے خلاف  سراپا احتجاج ہو ئے ۔کیونکہ آج مسئلہ مذاہب ، قوموں ، نسلوں ، ملکوں کا نہیں بلکہ طبقاتی ہے   امارت اور غربت کے درمیان وسیع خلیج کا ہے ،  دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہے ، جو  آج کے انسان کی  زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ایک فیصد حکمران طبقہ  مالیاتی جبر و استحصال قائم رکھنے کے لیے   نانوئے  فیصد عوام کو تقسیم در تقسیم کرتے ہیں جو انکے اقتدار کا واحد  سہارہ ہے  ۔اور اس تقسیم کے لیے  مذہب آج انکا بہترین اور کامیاب  ہتھیار بن چکا ہے ۔ نکمے نکھٹو ملاوں کو  خریدتے ہیں جو علم وعقل کے دشمن اور سماج پر  ۔بوجھ ہیں یہ اللہ ہو اکبر کہہ کر فرقہ واریت پھیلاتے ہیں ۔ قتل کرتے ہیں ۔ مسلمان ہونے یا کافر ہونے کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں ۔ جنت اور دوزخ کا پرمٹ الاٹ کرتے ہیں ۔ ذہنی لاغر مردوں میں 72حوروں کی ہوص اور ہم جنس پرستوں کو غلامان کا جھانسہ دیتے ہیں ۔ عام لوگوں کو صبر و قناعت کا درس دے کر خود عیاشیاں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

کوئی اس مذہبی دہشت گردی کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کرتا ہے تو کوئی اس کے زریعے اقتدار تک آنا چاہتا۔ اور کوئی اس پر دھندہ کرتا ہے۔ مغربی حکمران اسے استعمال کرکے یورپی اور امریکی  اندورنی سیکورٹی کے نام پر عوامی  سہولتوں میں کٹوتیوں  کرکے عوام کی معاشی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں اور آزادی پر پہرے لگا رہے ہیں ۔

 اگر  ہم  مسلمان  حکمرانوں اور  انکے بچوں کی زندگیاں  ہی دیکھیں  تو معلوم ہو گا کہ اسلام صرف عوام اور غریبوں کے لیے ہی ہے  سعودی  اور عربی شہنشاہ دنیا کے عیاش ترین حکمران ہیں جو  بڑی بے شرمی سے حج اور عمرہ پر  بھی دھندہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں  نواز شریف کی  بیوی  ، بیٹی اور لڑکے، زرداری خاندان اور اسکی اولایں ، عمران  خان اور اس کا خاندان ، ملاوں کے بچے کتنے مسلمان ہیں ،کوئی   ڈھکی چھپی  حقیقت نہیں ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  حکمران اور سیاسی پارٹیاں صرف اسلام اور خدا کو  اپنے جبر  اور کرپشن کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستان میں ضیا آمریت سے  جو اسلام استعمال ہونا شروع  ہوا تھا اس کا استعمال  آج بہت بھیانک ، سستا اور زہیریلا ہو چکا ہے جو ریاست کی ہر رگ میں سرائیت کر گیا ہے  ۔ضیا کے بعد ہر حکمران  اور سیاسی  و مذہبی  جماعت نے اپنا خسی پن ، اور ہر جرم اسلام کے پردے کے پیچھے چھپایا ۔ یہ مذہبی   تنظیمیں آج  انسان اور سماج کے لیے زہیریلے ناگ بن چکی ہیں ۔ عدالتیں انصاف سے لاغر اور ادارے بے بسی کا تماشا پیش کر رہے ہیں ۔اب صرف عوام کا اتحاد اور طبقاتی جدوجہد  ہی ہے جو پاکستان میں کسی بھی سلامتی و امن کی  واحد ضمانت دے سکتی ہے ۔ . ۔ ۔ جس  کے لیے  مندرجہ ذیل پروگرام ہے ۔ اور یہی مشال خان کے قتل کا بدلہ اور اسکی جدوجہد  کا ثمر ہو گا جس کے لیے اب اگر نہ لڑا گیا تو پھر کب

۔تمام مذہبی جماعتوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے انکے تمام بنک اکاونٹ اور پراپرٹی کو قومی تحویل میں لیا جائے ۔ 

۔ تمام مذہبی مدسوں  کو سرکاری سکولوں میں تبدیل کیا جائے جہاں صرف   سائنس اور جدید علوم  پڑھائیں جائیں ۔

۔ مذہب کو مکمل ذاتی مسئلہ قرار دیا جا ئے جس میں ہر شخص مکمل آزاد ہو  ۔

۔ مذہبی ، جنسی، قومی  اور علاقائی بنیادوں پر تفریق  اور قوانین کا مکمل خاتمہ کیا جائے ۔

۔  ہر شخص کو روٹی ، ،مکان ، روز گار ، مفت تعلیم ، مفت لوکل ٹرانسپورٹ، مفت بجلی ، پانی  ریاست کی اول ذمہ داری ہو ۔ 

۔ پیسے کی بنیاد پر ظلم و زیادتی  اور سماجی تباہی کے خاتمے  کے لیے تمام  ملکی اور غیر ملکی دولت کو قومی تحویل میں لے کر عوامی جمہوری کنٹرول میں دیا جائے ۔

۔  سرمایے کے طاقت کے الیکشن کے  نطام کو ختم کر کے علاقائی پنچائتی نظام رائج کیا جائے ۔

 ۔  طبقاتی نظام کے مکمل خاتمے کے لیے اشتراکی انقلاب کی جدوجہد کو تیز کیا جائے ۔ جس کے لیے عالمی مزدور تحریک کا ناگزیر حصہ بنا جائے ۔

اس کے بغیر پاکستان اور اس کے عوام  کی سلامتی ناممکن ہے ۔ 

پاکستان کے بکھرتے خونی لتھڑے

 

 

 

 

 

  

 

 

0
0
0
s2smodern

Comments   

+1 #5 M.Jawed. UK 2017-04-18 10:53
Great
Quote
+1 #4 محمد عمر ۔ کویت 2017-04-18 10:50
یہی ہے حق اور سچ ۔ ملائیت نے عام پاکستانیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ، دانیال صاحب آپ نے بالکل درست لکھا ہے
Quote
+1 #3 syed Ali Jamil. Iran 2017-04-18 10:48
زبردست
Quote
+1 #2 M.Iqbal. USA 2017-04-18 10:15
Very impressive
Muhamad Iqbal USA
Quote
+1 #1 حمید اللہ ۔سعودی عرب 2017-04-18 10:11
دانیال صاحب بہت ہی زبردست مضمون ہے ۔ ہم سب آپکی کاوشوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
سعودی عرب سے ۔ حمید اللہ ، جمشید ، اکمل احمد اور دوسرے دوست
Quote

Add comment


Security code
Refresh