دانیال رضا

سیاسی پارٹیوں  کی قیادتوں نے آج   سڑکوں اور بازاروں میں پاکستانی ریاست  کی عزت  کی نیلامی کا بازار گرم  کر رکھاہے ۔ پانامہ  کے مالیاتی سیکنڈلز سے  لے کر حکمرانوں  کےجنسی سکینڈلز تک ریاست پاکستان اپنے شدید ترین   سیاسی اور معاشی بحرانوں کے گرادب میں  بری طرح  پھنس چکی ہے جس سے مستقل نجات اب ممکن نہیں رہی  یہ پاکستان کے  وہی اقتصادی ناقابل حل مسائل اور  شدید تضادات ہیں جو آج حکمرانوں  اور ریاستی اداروں کی  جنگ وجدل کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں کیونکہ سیاست مجتمع شدہ معیشت ہی ہوتی ہے۔

پاکستان کے نااہل    مالیاتی  نظام کو  بچانے کے لیے  ریاست   پاکستان نے سرمایہ  کی دیوی  کے چرنوں میں  اپنے ہی   وفادار سپاہی   نواز شریف کی قربانی دے  دی  جو یقینا   ناکافی ہو گی ۔ کیونکہ  موجودہ  اقتصادی  نظام اتنا خون خوار اور بھیانک ہو چکا ہے کہ  یہ اب عوام کے ساتھ ساتھ اپنے ہی  پنڈتوں  کی بالی بھی مانگ رہا ہے۔اور نوزا شریف کی قربانی سے  اس کے دانت بھی گیلے نہیں ہوئے  یہ تو  ابھی آغاز ہے ایک اختتام کا ۔

 پاکستان کی موجودہ تاریخ کا  خودساختہ مضبوط ترین   سیاسی حکمران نواز شریف آج   اپنے  ہی اداروں کے ہاتھوں ذلیل و سوا ہو گیا جس کی اسے کسی صورت امید نہیں تھی اسی لیے یہ کسی بھی ریاستی ادارے کو آخیری دن تک خاطر میں نہیں لا رہا  تھا خوب جھوٹ بولتا اور جعلی ثبوت پیش کرتا رہا  جو اسکی حد سے زیادہ خود اعتمادی کی علامت تھا۔   یہ  پاکستان کو اپنی نجی ملکیت اور حکمرانی کو گھر کی لونڈی اور بے دردی سے لوٹ مار کو اپنا حق سمجھتا تھا ۔  اس کی یہی سر کشی پاکستان کے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی  جس کے محافظوں نے نواز شریف کو ایک باعزت  سزا دی یعنی سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ لیکن  نوزا شریف  اینڈ کمپنی کو اس کا علم تھا کہ ریاست پاکستان آج بڑی  لاغر  اور اپائج ہو چکی ہے اس کا اندرونی انتشار اپنی انتہاوں پر ہے۔ اور نواز شریف کے خلاف نااہلی کا  کمزور  عدالتی  فیصلہ اس کا  واضح ثبوت ہے۔ ریاستی خسی پن  کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  نواز لیگ نے  راولپنڈی سے لاہور تک  سرکاری  ریلی  کا  ریاست کے خلاف بڑی دلیری  سے اہتمام کیا   اور تما م راستے پاکستانی فوج ، عدالتوں اور اپنے خلاف  ریاستی افسر شاہی کی کھلے عام سڑکوں پر خوب کلاس لی ۔ جبکہ  پاکستان کی ریاست بڑی بے بسی سے  اپنی بے عزتی کا تماشہ دیکھتی رہی ۔ نواز شریف  نے 22 مرتبہ ایک ہی سوال بار بار دوھرایا  کہ مجھے  وزارت سے کیوں نکلا گیا  ؟  وہ  اصل میں ریاستی عہدیداروں  سے یہ  پوچھ رہا تھا کہ  بد اعنوانی کے کیس  میں مجھ اکیلے کو ہی کیوں نکالا گیا  باقی کیا دوھ کے دھولے ہیں اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں ۔ سب کے سب میری طرح  بداعنوان اور لیٹرے  ہی  تو ہیں سب حکومت میں آکر ایسے ہی کرتے ہیں  اور سیاست آج اسی  کرپشن اور لوٹ مار کانام ہے ۔میں نے کیا انوکھا اور عجیب کیا ہے جو مجھے وازرت عظمی سے  برطرف کیا گیا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

 مختصر یہ کہ تازہ تازہ  نااہلی کا واقعہ ہے نواز شریف نے اپنی بے عزتی چھپانے   کے لیے ریاست کی بے عزتی کا یہ ڈرامہ رچایا جس میں جان ڈالنے کے لیے میڈیے نے تین دن کا  ٹی وی اسکرینوں پر بور ترین  تماشا  پیش کیا اوراشتہاروں سے خوب کمائی کی۔ نواز شریف کا باپ بند ہو چکا ہے لیکن یہ اسے زندہ رکھنے کی چند اور دن کوشیش کرئے گا۔

پاکستان کے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ  سماج میں رواتتی سیاسی پارٹیوں کی سیاست آج  نظریات اور  پروگراموں پر نہیں  بلکہ مالیاتی مفادات ، اقربا پروری ،ہیروازم ، دہشت اور غنڈہ گردی پر ہوتی ہے۔ اس لیے مسلم لیگ ن کوئی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ نواز شریف   کے ملازمین   کا اکٹھ ہے اور اس کے  سیاسی ڈرامہ گیر جس میں خواجہ سعد رفیق ، دانیال عزیر، دلال چوہدری ، خواجہ آصف   وغیرہ نواز شریف کی سیاسی حمایت بھی  ذاتی حوالوں سے کرتے ہیں جسے نواز شریف سیاسی لیڈر نہیں بلکہ ان کا مالک   ہے اور یہ انکے درباری ،خدمت گار اور دم ہلانے والے  ہوں ۔ یہ  بد حال صورت حال صرف نواز لیگ میں نہیں بلکہ تمام پارٹیوں کی ہے جس میں پیپلز پارٹی  اور پی ٹی آئی بھی شامل ہیں  زرداری اور بلاول   پی پی کے سیاسی  لیڈر کم اور وڈیر ے زیادہ ہیں ۔ عمران خان بھی  اپنی تعریفیں کرنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے  اور اس کے لیے اس نے  پارٹی کو چوں چوں کا مربع بن لیا ہے یہ وہی چلے ہوئے کارتوس اور دورسری پارٹیوں کے ٹھکرائے ہوئے فصلی بیٹرے ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کے تحفظ  کے لیے اب پی ٹی آئی میں پناہ لی ہے جو انقلاب کی نہیں بلکہ اصلاحات کی بات کرتے ہیں جس کا انہیں خود بھی یقین نہیں ہے جو پھر  دھوکہ ہے کیونکہ موجودہ نظام میں سماجی  ترقی کی ہر گنجائش ختم ہو چکی ہے  اب ترقی صرف موجودہ نظام کے مکمل خاتمے سے ہی ممکن ہو سکتی ہے ۔ عمران خان جس بے چارے  ماضی کے عظیم برطانیہ کی تعریف میں مرا جا رہا  ہے وہ  بقول ایلن وڈ یورپ کا ترقی پذیر ملک بن چکا ہے جو اب یورپی یونین سے نکل کر مزید برباد ہو گا ۔ ہاں البتہ یہ درست ہے کہ چوروں ڈاکوں اور لیٹروں کی یہ ایک محفوظ پناہ گاہ  یا عیاش گا ہ ضرور ہے اسی لیے تو نواز شریف کی اولادیں یہاں ہیں ۔

آج روائتی  پاکستانی سیاست کا مطلب ہے  پہلے نوٹ  دیکھاو  اور پھر سپوٹ دیکھو ۔ ۔ ۔ اب تو وزیروں مشیروں کی بھرتی بھی اسی بنیاد پر ہوتی  جو اپنے لیڈر کے لیے جتنا  زیادہ دوسروں پر  بھونکتا ہے اتنا بڑا وزیر بناتا ہے اسی لیے تو نئی وفاقی کابینہ میں دانیال عزیر ، دلال چوہدری ، خواجہ آصف   ، احسن اقبال   بلند مقام پر فائز ہوئے ہیں ۔  اس تما م  میڈیے کی بھر پور کوشیشوں  کے باوجو د بھی بہت جلد نواز شریف  نان ایشو بھی ٹھنڈا ہو جائے گا  کیونکہ  پاکستان  کے سلگتے مسائل اسے  کسی سرد  خانے میں پھنک دیں گئے ۔  موجودہ سیاست اور معیشت میں  صرف چڑھتے سورج کی پرستیش ہو تی ہے  ۔اور اس پرستیش کو قائم رکھنے کے لیے نواز شریف اب اپنی بیوی  کلثوم کو استعمال کر رہا ہے اور حلقہ این اے 120 میں  بیگم نواز شریف قومی اسمبلی کی سیٹ کی   امیدوار ہیں ۔  لیکن یہ  ایک حقیقت  ہے کہ مسلم لیگ ن   پارٹی کی نواز شریف  کی نااہلی نے کمر توڑ گئی ہے ۔ جس کا اظہار بہت  جلد ہو گا  نواز  لیگ مختلف ٹکروں میں تقسیم ہو جائے گئی اور اقتدار کی بھوک کی ایک نئی دوڑ لگے گئی ۔ اور اسکی جگہ پر کرنے کے لیے ریاست کوئی اور  دلال تلاش کر لے گئی ۔اورعوام کا استحصال جاری رہے گا ۔ کیونکہ ریاست کے لیے استحصالی نظام  قائم رکھنا ضروری ہے اشخاص نہیں ۔ یہاں  ہر کوئی  چہرے بدلنے کی کوشیش کرتا ہے  نظام نہیں ۔یہاں کینسر کو ڈسپرین سے  ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

آج جہاں عمران ، خان ، حمزہ شریف اور دوسرے شریفوں کے بدمعاش  جنسی سکینڈلز  کا چرچا ہے یہ نئے نہیں ہیں بلکہ سماجی تضادات کا ایک بے ہودہ  اور پسماندہ اظہار ہے ۔ وگرنہ کس دور میں کس حکمران اور دولت مند نے اپنی جانوارانہ جنسی ہوس  کی ہر طرح سے تسکین نہیں کی ۔  نواز شریف  (جسکو  گل لئی   نے ناجانے کیوں  خاندانی مرد کہا  )اور شہباز شریف ، شیخ رشید وغیرہ  کے کثرت سے جنسی تعلقات کے سکینڈلز  کسی دور میں بڑے   عام رہے ہیں ۔امریکی صدر کلنٹن کا قصور یہ تھا کہ  یہ اناڑی تھا   اس لیے پکڑا گیا۔  عمران خان اتنا اناڑی نہیں بلکہ بڑا پرانا  کرکٹ  کا کھلاڑی ہے ۔ موجودہ نظام میں مجرم وہ ہے جس کا جرم پکڑا جائے   ورنہ کس  حکمران نے کون سا جرم نہیں کیا۔ پاکستان ، اسلامی اور ترقی پذیر ممالک میں تو ویسے بھی آج تک عورت انسان کے درجے پر فائز نہیں ہوئی  اور طبقاتی استحصال کے ساتھ ساتھ جنسی استحصال اپنی عروج پر ہے  ۔ یہاں  عورت کی ملکیت کا تصور   آج بھی حقیقی طور پر قائم ہے ۔  زیادہ عورتیں رکھنا مرد کی شان اور عظمت کو قائم کرتاہے ۔ عورت کی چادر چاردیواری بھی اسی مردانہ حاکمیت کی غلاظت ہے جو صرف غریب عورتوں کے لیے ہے ۔لیکن محنت کش عورتوں اور دولت مند عورتوں میں بہت فرق ہے ۔جنسی تعلق  کا عذاب بھی صرف غریب لڑکیوں کے لیے ہے جبکہ امیرزادیوں کے لیے بے شمار جنسی تعلقات  قابل فخر ہوتے ہیں  ۔بلکہ امیرلڑکیوں میں تو ایک جنسی تعلق قابل شرم اور  غربت کی علامت ہے ۔ گل لئی بھی اسی طبقے کی نمائدہ اور حصہ ہے کیونکہ کوئی غریب لڑکی بوژوا سیاست نہیں کر سکتی اور نہ ہی الیکشن لڑ کر کسی اسمبلی تک پہنچ سکتی ہے ۔ یہ جس طرح اپنے جنسی پیغامات کی خود  تشہر کر رہی ہے کیا کوئی غریب لڑکی اس کا سوچ بھی سکتی ہے  نہیں کھبی نہیں ۔  لیکن  گل لئی  اس     سیکنڈل  کو کسی عورت کی عزت کے لیے نہیں بلکہ  اپنی ذاتی  شہرت اور سیاسی کیرئر  کے لیے  بھر پور  استعمال کر رہی ہے ۔  سرمایہ دانہ نظام کو  اسی لیے بازاری معیشت بھی کہا جاتا ہے جہاں ہر شے تعلق ، رشتہ ایک جنس ہے جو صرف  بیچی اور خریدی جاتی ہے ۔ عزت ہو ،  یا تعلق یا پھر  موبائل پر جنسی پیغامات ہی کیوں نہ ہوں  فروخت ہورہے ہیں اور ان کی تشہیر سے اس کی قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔اور پھر مطلوبہ قیمت اور زیادہ منافع کے ساتھ اس کو بیچ دیا جائے گا ۔کیونکہ   امیروں سے زیادہ اچھا کون کاروباری ہو سکتا ہے اور گل لئی  بھی اسی حکمران طبقات کا حصہ ہے جہاں صرف دھندہ ہو تا ہے ۔ پاکستان کی روائتی سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ  سیاسی اور مذہبی پارٹیوں  میں چکلا کلچر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔

ہم مارکسسٹ  جنسی تعلقات کو ہر شخص کا  نہایت ذاتی  معاملہ سمجھتے ہیں جس پر کسی کو  بات کی اجازت نہیں ۔لیکن یہ سرمایہ داری ہی کی لعنت ہے جو   خوبصورت فطرتی  اور انسانی  جذباتی   تعلقات پر بھی دھندہ کرتا ہے ۔

پاکستانی  میڈے کا نہایت جانب دار کردار کسی سے آج ڈھکا چھپا  نہیں ہے ۔جیو  ٹی وی جہاں  مسلم لیگ نون کا ٹی وی بن چکا ہے وہاں اے آر وائے پی ٹی آئی کا ٹی وی ہے اور بقیہ درمیان میں جھول رہے ہیں  ۔ لیکن کل جوں ہی  سیاسی حکمرانی کا توازن بدلے گا  یہ میڈیا بھی اپنی وفاداریاں بدل لے گا ۔ پچھلے ہفتے جنگ گروپ  کے مالک  شکیل الرحمان نے بابکل سچ کہا ہے کہ میں  صحافت میں پیسے کمانے آیا ہوں کیونکہ  میں بزنس مین ہوں  ۔ اور جنگ گروپ ہی صحافت  کا کاروبار نہیں کرتا بلکہ  بقیہ سب  میڈیا ہاوسسیز بھی صحافت پر ہی دوکانداری کرتے ہیں وہ اسے مانے یا نہ مانے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے  ۔اسی لیے تو ہر خبر اور ٹاک شو  کی ایک قیمت ہوتی ہے ۔ 

سیاسی و معاشی عدم استحکام  اور نواز شریف کی نااہلی مارکسسٹوں کے لیے کوئی حیران کن نہیں ہے کیونکہ چار سال قبل جب نواز حکومت اقتدار میں آئی تھی تب ہی ہمارے پیش منظر اس کا تعین کر چکے تھے ہمارے تب کے لکھے گئے  چنگاری ڈاٹ کام پر تمام مضامین  موجودہ حالات کی  آگاہی دیتے ہیں  جو مارکسزم کی سچائی کا ثبوت ہیں  ۔

سوا سال سے زائد عرصہ پانامہ  کیس ریاست کے ٹرک کی وہ بتی ہے جس  کے پیچھے  عوام کو لگانے  اور انکے اذیتی   مسائل دبانے کی  مسلسل  کوشیش بھر پور طریقے سے کی گئیں ۔کارپوریٹ میڈیا   ،حکمران طبقات کے ان  تضادات  میں پیش پیش ہے اور خوب کمائی کر رہا ہے ۔ پہلے ایک طویل مدت تک  پانامہ  کا تماشا چلایا گیا پھر اس کا فیصلہ  کسی مداری کی طرح محفوظ کر لیا گیا۔  کمزور اور متذبذب  فیصلے پر حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی  دونوں نے  بے ہودہ جشن منا کر عوام کو بے وقوف بنا تے رہے وگرنہ نوزا شریف اور اس جیسے بے شمار حکمرانوں کی بد اعنوانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں لیکن صرف انصاف کی کالی دیوی کو نظر نہیں آتا ۔ 

صرف نواز شریف کے جانے سے  پاکستان کے معاشی اور سماجی مسائل میں کوئی فرق نہیں پڑے گا جس طرح تنخوادار دانش  اور صحافی  نواز شریف کی نااہلی  کو بتا رہے ہیں۔( اور نواز شریف کی نااہلی میں عمران خان سے زیادہ ریاست کے اندونی ناقابل حل معاشی اور سیاسی تضادات تھے ، عمران خان کی سیاست اس کل واقعہ کا ایک جزو بنی اس سے زیادہ نہیں ) مسئلہ چہرے کی تبدیلی کا نہیں اس سے صرف  عدالتوں نے اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کی ناکام کوشیش کی ہے  اور ریاستی افسر شاہی نے نواز شریف  کی انتہائی لوٹ مار کا گھمنڈ  توڑا ہے جو حد سے بڑھ چکا تھا ۔ لیکن سیاست  کی دوکاندار ی اور  حکومت میں کرپشن  اور عوام کے استحصال کا بازار گرم رہے گا ۔جو موجودہ نظام کی زندگی کی ضمانت ہے جس میں 80فیصد کالی معیشت کی حکمرانی ہے ۔

آج پاکستان میں دو لڑائیاں لڑی جا رہی ہیں ایک وہ ہیں  جو ٹی وی کی پردہ سکرین پر اربوں روپے سے جاری  ہیں جن کو فارغ  لوگوں دیکھتے اور محضوظ ہوتے ہیں ۔  جو  امیروں کی جعلی لڑائی ہے جو صرف ٹاک شوز  کے ڈراموں  تک محدود ہیں کیونکہ  شام کو یہی  سب  ملکر ہم پیالہ ہوتے   ہیں یہ  حکمران  کی اقتدار  کی ہوص اور سرماے کی لوٹ مار  اور عوام کے مزید  استحصال کے لیے آپسی تضادات  ہیں ۔ دوسری طرف میڈیے  کے شور شرابے سے  لاتعلق پاکستان کی  حقیقی عوام  فیکٹریوں ، ہسپتالوں اور گلی محلوں میں اپنی زندگی کے لیے موت کے خلاف  جنگ لڑ رہے ہیں ۔ جس میں پیرا میڈیکل  سٹاف ، ینگ ڈاکٹرز ،شیخ زید ہسپتال کے ملازمین ،پاور لومز  کے مزدور اور دوسرے  شعبوں کے محنت کش اپنی اجرتوں اور زندگی کی ضروریات کے لیے سراپا احتجاج ہیں ۔ یہی حقیقی اور عوامی لڑائی ہے جن کا ٹی وی اسکرینوں پر ذکر تک نہیں ہوتا بلکہ دبایا جاتا ہے کیونکہ یہ غربیوں اور  محنت کش عوام کی حکمرانوں کے خلاف طبقاتی لڑائی ہے جو  انسانی خوشحالی ، برابری ،آزادی اور استحصال کے خاتمے کی جنگ  ہے۔

پنڈی سے لاہور تک کی نواز لیگ  سرکاری ریلی ہو یا آج  رشید لیگ یا  عمران لیگ  کا  لیاقت باغ میں جلسے   ہوں یہ اقتدار کے لالچ کی لڑائیاں ہے  ۔جس سے عوام کا کوئی تعلق نہیں اس لیے اس میں عوامی پروگرام بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی انکا ذکر ہوتا ہے  اگر انکا ذکر ہوتا ہے تو  اپنی سیاسی دوکان چمکانے کے لیے عوامی  مسائل کے حل کے لیے نہیں ۔

عوام کی  جنگ   اس پروگرام پر ہو گئی۔

روزگار  دو یا دس ہزار وپے بے روزگاری الاونس  دو۔

کم از کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر ہو۔ 

 روٹی ، کپڑا مکان، صحت، تعلیم ، بجلی ، پانی ، ٹرانسپورٹ  فری مہیا کی جائے ۔

سیاسی پنجاتی نظام کا قیام ۔

مذہبی ، جنسی ، اور ہر تفرقی قانون کا مکمل خاتمہ ۔

 استحصال  ،  دہشت گردی اور مذہبی نفرت کے خاتمے کے لیے تمام بڑی بڑی صنعتوں ، جاگیروں اور  مذہبی جماعتوں  کے اثاثوں کی قومی تحویل  اور عوام  کا اس پر جمہوری کنٹرول۔

عالمی عوام سے اظہار یک جہتی اور انکے حقوق کی جدوجہد کی مکمل حمائت ۔

طبقاتی استحصالی نظام کے خلاف  عوامی اشتراکی انقلاب کی جدوجہد۔

بہت جلد عوام اپنے اس پروگرام کے لیے میدان میں اتریں گئے ۔ تب فیصلے بداعنوان اور عیاش جج   اسلام آباد اور بڑی عمارتوں  میں ضرورتوں کے مطابق نہیں  کریں گئے بلکہ عوام  سڑکوں اور بازاروں میں   انصاف کے مطابق  فیصلے کریں گئے تب صرف ایک نواز شریف نااہل نہیں ہوگا بلکہ اس کا تمام طبقہ نااہل ہو گا ۔   

 ۔تحریر ۔ دانیال رضا

0
0
0
s2smodern

Comments   

0 #5 kashiram 2017-08-15 19:07
true
Quote
0 #4 M.kurshid 2017-08-15 09:33
شاندار ۔بہت ہی زبردست مضمون ہے
محمد خورشید ۔سعودی عرب۔
Quote
0 #3 احسن اقبال 2017-08-14 07:18
بہت اچھے مضمون پر مبارک باد ۔حقیقت اور سچائی یہی ہے ۔
احسن اقبال ۔ ساوتھ افریقہ
Quote
0 #2 Akhter Muhamd.USA 2017-08-13 19:48
Great.
From .New York
Quote
0 #1 حمید الرحمان۔ یو کے 2017-08-13 19:42
زبردست ۔ایک حقیقی عوامی نقطہ نظر ۔
حمید الرحمان ۔ لندن
Quote

Add comment


Security code
Refresh