دانیال رضا

جرمنی میں 24ستمبر2017 بروز اتوار ہونے والے قومی انتخابات میں روائتی سیاست  اور معیشت کو عبرت ناک شکست ہوئی جس کا اظہار  سی ڈی یو  کے ووٹروں میں 1949 کے بعد کم ترین شرح کے ساتھ 33فیصد ووٹ لے کر تباہ کن جیت حاصل کی ۔جبکہ ایس پی ڈی جس نے اپنی تاریخ میں کم ترین 20.5فیصد ووٹ حاصل کیے۔   جس پر شوسل ڈیویموکریٹ پارٹی  ایس پی ڈی   کے صدر مارٹین شولز نے درست کہا ہے کہ اس  الیکشن میں عوام نے جرمنی کے دو  بڑی ترین  پارٹیوں  کی اتحادی حکومت اور انکی سیاست  کو مسترد کر دیا ہے، ایس پی ڈی اپنی ہار کو تسلیم کرتی ہے اور اس بار حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کی بجائے مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرئے گئی  ۔

گرین پارٹی  اور ڈی لنکے پارٹی کے ووٹوں میں اس بار  معمولی سا اضافہ ہوا۔ گرین پارٹی نے 8.9فیصد جبکہ ڈی لنکے پارٹی نے9.2فیصد ووٹ حاصل کیے ۔پچھلی بار کی شکست خوردہ لبرل ڈیموکریٹ ایف ڈی پی نے10.7فیصد ووٹ لیے اور  جرمن تعصب پسند  پارٹی اے ایف ڈی جو پہلی بار جرمنی کے قومی الیکشن میں حصہ لے رہی تھی نے 12.6فیصد ووٹ حاصل کیے۔  یہ الیکشن نتائج  روائتی سیاست و معیشت  اور عوامی سہولتوں میں کٹوتیوں کے خلاف عوامی  غصے کا برملا اظہار تھا ۔ جومارکسسٹوں کے لیے حیران کن نہیں ہیں  ہم اس کی پیش بندی پہلے کئی بار اپنے مضامین میں کر چکے ہیں۔  

ان الیکشن نتائج میں جس چیز کو میڈیا اور تمام  روائتی سیاست دان  دیو بنا کر پیش کرکے عوام کو خوف زدہ کرنے کی کوشیش کر رہے ہیں ۔  وہ  جرمنی  کی انتہائی دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی   کی معمولی سے جیت ہے ۔  جس  کا  نیشنل شاونزم  پر مبنی انتخابی  پروگرام تھا جو اسلام ، عورتوں کے پردے ، مہاجرین ، اور غیر ملکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی تھا ۔ اگر سنجیدگی سے  دیکھا جائے تو یہ کوئی  حیران کن نہیں ہے بلکہ یہ حکمرانوں کی سیاسی ،  معاشی اور نشریاتی   اصلاحات  کا  ہی نتیجہ ہے کیونکہ جس طرح پچھلے عرصے میں جرمن عوام کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا اور انکے خلاف پالیسیاں  بناکر چند امیروں اور انکی فرموں کونوازا گیا  ۔ تمام سیاست صرف سرمایہ داروں اور انکی دولت میں بڑھوتری  کے لیے کی گئی ۔ جبکہ عوام  کو دی گئیں  رہی سہی ریاستی سہولتوں میں  بھی زبردست کمی کی گئی ۔ ٹھیکیداری فوموں کو عام اور کھلی چھٹی دی گئی جس سے  محنت کشوں  کی مستقل ملازمتیں اور انکی اجرتیں   کم ترین ہو گئیں جبکہ کام کے اوقات کار بڑھتے گئے  ۔ عوام کو اپنی معاشی زندگی قائم رکھنے کے لیے اوور ٹائم اور دوسری ملازمتیں کر نی پڑ رہی ہیں ۔ افراط زر   کے مطابق  تنخواہوں اور  سرکاری امداد  میں اضافہ نہیں کیا گیا  جس سے عوام کا معیار زندگی  گرتا چلا گیا  ۔ بیرونی سستی لیبر کی  مسلسل درآمد  سے  ملکی لیبر  کو بے کار کر دیا گیا ۔ اچھی تعلیم  کے بعد  اچھی ملازمت   کے مواقع   ناپید ہوتے جا رہے ہیں ۔2015میں   جرمن حکومت  کی مہاجرین  کے لیے  انسانی ہمدردی  اور فراخ دلی کے پیچھے بھی محنت کے استحصال کے عزائم  تھے ۔ جرمنی یا یورپ کے مالیاتی نظام  میں اتنی  سکست  اورگنجائش  نہیں کہ وہ  تمام سماج  اور اس کی پرتوں کو مساوی طور پر ترقی دے سکے اس لیے بیرونی سستی لیبر اور مقامی لبیر  کے درمیان تضادات  ابھرے اور شدید ہوتے گے نہ صرف یہ بلکہ آج بھی مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی  کے سماجوں میں معیار کا  ایک بڑا فرق موجود ہے   ۔مشرقی جرمنی  کی سماجی محرومی   اور انتشار اے  ایف ڈی کے زیادہ  ووٹوں کا باعث بنی۔مغربی جرمنی کے امیر ترین صوبے بیرن  میں بھی  تیزی سے گرتے عوامی معیار زندگی کا اظہار 12فیصد اے ایف ڈی کے ووٹ کی شکل میں سامنے آیا ۔

اے ایف ڈی  کا ووٹ  روائتی سیاست کے خلاف عوامی احتجاجی ووٹ ہے  جو مستقل نہیں بلکہ حکمران طبقات اور انکی   سیاست کو ورننگ کا ووٹ ہے یہ کوئی اسلام  اور مہاجرین کے خلاف بھی ووٹ نہیں  ہے جس طرح میڈیا بیان کر رہا ہے ۔  کیونکہ اگر اسلام اور مہاجرین کے خلاف جرمن  عوام  ہوتی  تو پھر ڈی لنکے اور گرین پارٹی کو بھی کم ترین ووٹ ملنے چاہیے تھے جو جرمنی میں مہاجرین کے لیے  برابری کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں ۔ایف ڈی پی بھی غیر ملکی لیبر کی درآمد  کی بات کرتی ہے ۔  سی ڈی یو اور ایس پی ڈی  کم ترین  ووٹ لینے کے باوجود آج بھی بڑی ترین پارٹیاں ہیں جن کے دور حکومت میں سب سے زیادہ مہاجرین اور مسلم مہاجرین آئے۔ اس لیے یہ غلط ہے کہ جرمنی میں کسی فاشزم یا فسطائیت کا خطرہ  موجودہ ہے ۔ جرمنی جیسے حاوی انڈسٹری ملک کے جدید ترین پرولتاریہ   کے  بلند ترین شعور پر  پسماندگی  کا  شک کرنے والے یقینا  احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ انتخابات کے نتائج کے فوار بعد جرمنی کے شہر  فرینکفرٹ  اور برلن سمیت  بہت سے بڑے شہروں میں اے ایف ڈی کے خلاف رات بھر  احتجاج ہوئے ۔ جرمنی کا سماجی  اورعوامی دباو  اتنا  زیادہ ہے کہ جیت کے دوسرے دن ہی اے ایف ڈی کی سر براہ مسز پیٹری نے اپنے آپ کو  پارٹی سے الگ کر لیا   اور اب مزید  قومی اسمبلی کے ممبران کا اے ایف ڈی پارٹی سے الگ ہونے کے آثار ہیں ۔یہ  میڈیے اور روائتی سیاستدانوں کا جعلی  اور منافقانہ پراپیگنڈہ ہے   کہ اتنی کمزور اور لاغر پارٹی کو طاقت ور  بنا کر پیش کرنا  تاکہ عوام کی سوچ اور مزدور تحریکوں کی توجہ حقیقی اقتصادی  مسائل سے ہٹا کرطبقاتی تحریک  کو کمزور کیا جا سکے ۔ اور اگر یہ نسل پرستی خطرہ ہے بھی تو  پھر یہ کسی اور کی نہیں بلکہ انہی  حکمرانوں کے اعمالوں کا ثمر ۔ ۔ ۔ ۔ موجودہ الیکشن  مستقبل میں سیاسی استحکام کی کمزوری اور  طبقاتی لڑائی کا عندیہ بھی ہیں ۔

اے ایف ڈی  اور ایف  ڈی پی کے ابھر میں ڈی لنکے پارٹی  کے ایک ریڈیکل   لیفٹ پروگرام  کی جگہ  ایک  کمزور اور کنفوژ پروگرام بھی ہے جو آج تک جرمنی کے عوام کا حقیقی متبادل نہیں بن سکے جس کے خلا کو آج عارضی طور پر اے ایف ڈی پر کر رہی ہے  ۔ اے ایف ڈی جرمنی میں مایوسی اور محرومی  کی علامت  ہے  اور انہیں افراد نے انہیں ووٹ بھی دیا ۔

ڈی لنکے پارٹی اپنے پروگرام کو  اگر مزید عوامی  امنگوں کے مطابق بنائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرمنی کی بڑی ترین عوامی پارٹی نہ بن سکے لیکن افسوس کہ ڈی لنکے پارٹی بھی انقلاب  سے زیادہ  انتخاب پر یقین رکھتی ہے جس سے اس کا پروگرام بھی  موجودہ استحصالی مالیاتی نطام سے مفاد پرستی اور مصالحانہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ جرمنی  جیسے سامراجی ملک میں  سوشلزم کی آواز اور پہچان  بن گئی ہےاور یہ کسی طور کم نہیں ہے اسی لیے ہمیں ڈی لنکے پارٹی میں حقیقی سوشلسٹ   نظریات کے لیے صف بند ہو نا ہے۔

جرمنی الیکشن24ستمبر 2017۔ ڈی لنکے کو ووٹ دیں

0
0
0
s2smodern

Comments   

0 #1 محمد اکمل سعودی عرب 2017-09-26 13:25
زبردست
Quote

Add comment


Security code
Refresh