دانیال رضا

24ستمبر2017کے انتخابات  کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ  جرمنی کا سیاسی استحکام ڈوب رہا ہے ۔ اور آج کوئی بھی ایک پارٹی اس پوزیشن  میں  نہیں ہے کہ حکومت بنا سکے  اور ایک اتحادی  مستحکم  حکومت تقریبا نا ممکن ہو چکی ہے ۔  سی ڈی یو سب سے زیادہ33فیصد ووٹ لینے کے باوجود ایک شکست خودہ صورتحال سے دو چار ہے ۔ اب تک سی ڈی یو    کے قدامت پرستوں کو   سوشل ڈیموکریٹ پارٹی  ایس پی ڈی نے بچا رکھا تھا   اور انگیلا مرئکل کی اتحادی حکومت چل رہی تھی  لیکن اس بار تاریخی شکست جس میں   ایس پی ڈی  نےصرف 20.5فیصد ووٹ حاصل کیے ۔  اس گرئے عوامی حمائت کے گراف نے  ایس پی ڈی کو اپنی  سیاسی بقا کے لیے  دفاعی  پوریشن  پر مجبور کر دیا   اور مارٹن شولز نے آئندہ سی ڈی یو سے ملکر  اتحادی حکومت بنا نے سے انکار کیا اور مضبوط اپوزیشن  بنانے کے اعلان نےجرمنی کی سیاست میں ایک بحران  پیدا   کردیا ۔ایس پی ڈی کا یہ اعلان سی ڈی یو اور  اسکی  سربراہ   انگیلا مرئکل  کے لیے  ایک بڑا صدمہ بنا اور جیت کی خوشی شکست میں بدل گئی ۔عرصے سے دبے  سیاسی تضادات زیادہ نمایا ں ہوکر منظر عام پر آ گئے ۔ سی ڈی یو کی اپنی صوبے بیرن میں  ذیلی پارٹی سی ایس یو   بھی  انگیلا مرئکل  کی پالیسیوں کے خلاف بر سر پیکر ہو گئی  اور  آئندہ کی اتحادی حکومت میں شامل ہونے کے لیے سخت شرائط عائد کر دیں  ۔ خاص طور پر مہاجرین  کی پالیسی پر  کہ مہاجرین کی آمد  کو  روکا جائے۔ جرمنی کی سرحدوں کو سخت کیا جائے ۔  اور جن مہاجرین  کی سیاسی پناہ  کی درخواست منظور نہیں ہوئی انکو جلد از جلد جبری طور پر  ملک بدر کیا جائے ۔ اور جن مہاجرین کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہو ئیں ہیں  ان کے خاندانوں کو  جرمنی نہ بلایا جائے(جو کہ جرمنی کے آئین سے انحراف ہے)اگر یہ شرائط  انگیلا مرئکل  مان لیں تو اس کا مطلب  یہ ہے کہ2015کو جرمنی میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کی پالیسی درست  نہیں تھی اور مہاجرین کو جرمنی میں رکھنے  اور انکے لیے اصلاحات  غلط  تھیں۔  جن کا انگیلا مرئکل  ہمیشہ دفاع کرتی رہیں ہیں اور اپنی الیکشن مہم میں بھی اس کو اپنی حکومت کا ایک  سنہری کارنامہ  قرار دیا ۔  سی ایس یو کی شرائط  ماننے  سے انگیلا مرئکل کا سی ڈی یو  کی سربراہ اور آئندہ کانسلر رہنے  کا جواز ختم ہو جائے گا اس لیے انگیلا مرئکل  کی موجودگی میں سی ایس یو کی یہ شرائط من وعن  ماننا     ناممکن  ہیں۔ جبکہ دوسری طرف صوبے بیرن  میں سی ایس یو  اپنی سیاسی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔ جرمنی کے مشرقی صوبوں کے بعد جرمن کی نسل پرست پارٹی اے ایف ڈی نے سب سے زیادہ ووٹ مغربی جرمنی  اور جرمنی کے امیر ترین صوبے  بیرن میں سب سے زیادہ 12فیصد ووٹ حاصل کیے ۔جس نے سی ایس یو کی  سیاسی کمر توڑ دی    اور اب  اگلے سال 2018میں  صوبے بیرن  کے صوبائی  انتخابات ہو رہے ہیں ۔ جس سے   سی ایس یو کو  اپنی   سیاست کے خاتمے کا ڈر لاحق  کر دیاہے اور وہ  اپنی سیاسی بقا کے لیے سی ڈی یو  سے ٹھکراو میں آ گئی ہے ۔اور مفاہمت کا راستہ بہت مخدوش ہو چکا ہے ۔

سی ایس یو نے اپنے لیے بہت غلط اور  خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ انتہائی دائیں بازو کی پارٹیوں کا مقابلہ کھبی رائٹ ونگ پروگراموں سے نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے سی ایس یو کے قدامت پرستوں  کا مہاجرین کے  خلاف اے ایف ڈی کے  پروگرام کو  اپنانے سے اے ایف ڈی  کے پروگرام کو   درست  ثابت  کرئے گئ  اور  اے ایف ڈی کی سیاسی اتھارٹی   بڑھے گئ اور مضبوط  ہو گی جس سے وہ   مزید جارحارانہ  پوزیشن میں آئے گئ۔

یہ بھی غلط نہیں ہے کہ منڈی کی سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا ۔اور خاص طور پر  نطام کے بحرانوں  میں سیاسی قلابازیاں ، جھوٹ ، منافقت اور رعیا کاری غیر اخلاقی اور غیر معیاری نہیں رہتی۔اور اگر سی ایس یو اور سی ڈی یو میں کوئی مفاد پرستانہ  معاہدہ ہو  بھی جاتا ہے تو پھر بھی  انگیلا مرئکل   سی ڈی یو  کی حکومت نہیں بنا سکتیں کیونکہ انہیں مزید اتحادی پارٹیوں کی ضرورت ہو گی ۔

لبرل ڈیموکریٹ  کی پارٹی ایف ڈی پی جو آزاد منڈی کے بے رحیمانہ استحصال کے طرف دار ہیں سی ڈی یو کے ہمیشہ سے اتحادی رہے ہیں کیونکہ ان دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے لیکن ایف ڈی پی بھی مہاجرین کے  سخت  روک تھام کا انتخابی پروگرام دے چکی ہے اور اس کے متبادل بیرون ممالک سے ہنر مند سستی لیبر  کی درآمد   کا پروگرام رکھتی ہے  جو انگیلا مرئکل اور سی ایس یو سمیت  تمام سیاسی پارٹیوں   کے  مخالف ہے۔ ایف ڈی پی پچھلے کافی عرصے سے پارلیمنٹ اور حکومت سے باہر ہے اس لیے امید ہے یہ حکومت میں ہر قیمت پر آنے کی خواہش مند ہو گی۔

ایف ڈی پی  کی رضامندی کے باوجود حکومت بنانے  کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔اور مزید ایک پارٹی کی ضرورت ہے ۔  اب تک  گرین پارٹی  انگیلا مرئکل کی امید کی آخیری کرن ہے  جس سے مصالحت سب سے زیادہ مشکل مرحلہ ہو گا اور اس کے بغیر حکومت بنانا ناممکن ہے ۔ گرین پارٹی نے یہ اعلان کیا ہے کہ  مہاجرین کے خلاف  اقدامات آئین کی خلاف ورزی ہے جس کا ساتھ گرین پارٹی کھبی نہیں دے گئی  اور نہ ہی کسی ایسی حکومت کا حصہ بنے گی۔بقیہ مسائل پر کوئی نہ کوئی سمجھوتہ  ہونے کے امکانات موجود ہیں لیکن مہاجرین  کا مسئلہ  حکومت کی تعمیر میں سب سے اہم مسئلہ بن چکا ہے ۔حالانکہ اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو  بے گھر  اور مصبتوں کے مارے مہاجرین  تو اپنے لیے خود ایک مسئلہ ہیں وہ کسی کے لیے کیا مسائل پیدا کر سکتے ہیں ۔جرمنی اور یورپ جیسے امیر براعظم  میں مہاجرین آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ جن کی رہائش اور کھانے پینے کے علاوہ  انکا مقامی سطح پر انضمام بڑا معمولی مسئلہ ہے لیکن ان  ذلتوں کے مارے بے بسوں پر یورپی حکمران اپنی سیاسی دوکانداری چمکا رہے ہیں  اور مقامی آبادی کو یہ باور کرارہے ہیں کہ سماجی اور اقتصادی مسائل ان مہاجریں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ مسائل مالیاتی  نظام کے بحرانوں سے  پیدا ہوئے جو امیروں کو مزید امیر اور غریبوں کو مزید غریب کر رہا ہے ۔ تمام   سیاسی حکمران  بھی امیروں کے مزید منافعوں   اور سرمایوں کے لیے ہی سیاست کرتے ہیں   کیونکہ یہ ان سے بڑے موٹے موٹے فنڈز لیتے ہیں  اس لیے انہیں کی پالیسیوں کو اپنی سیاست کا حصہ بناتے ہیں ۔اور اسی زمرے میں   مہاجرین کو بھی  یورپ میں سستی لیبر کے لیے  ویلکم کیا گیا  اور ریاستی سہولتوں میں  بے انتہا کٹوتیاں کی گئیں اور آئندہ بھی ان  تمام پارٹیوں کا کٹوتیوں کی پالیسیوں  کو جاری رکھنے کا سیاسی ایجنڈہ ہے اور اس کے لیے انہوں نے مہاجرین  پر تمام الزام لگا کر  انہیں  قربانی کا بکرا بنالیا ہے۔ اور اس سماجی تفریق اور مایوسی  نے  اے ایف ڈی جیسی تعصب پسند کی گنجائش پیدا کی ۔ جبکہ دوسری طرف صرف جرمنی میں چار افراد کے پاس جرمنی کا 60 فیصد سرمایہ ہے ۔ اصل قصور ان سرمایہ داروں   اور اس نظام کا ہے جو انکی دولت میں مسلسل بڑھوتری کرتا ہے اور اسے تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔

    انگیلا مرئکل کے لیے ڈی لنکے اور اے ایف ڈی سے  مصالحت کا سوچنا بھی گناہ ہے ۔کیونکہ ایک طرف بائیاں بازو ہے اور دوسری طرف انتہائی دائیاں بازو ہے  جن سے ملکر  موجودہ حالات میں حکومت بنایا بعید ہے۔عین ممکن ہے انگیلا مرئکل اتحادی حکومت بنانے میں ناکام رہے  اور ایک بار پھر جرمن عوام کو انتخابات میں جانا پڑے اور اگر کوئی  جمائکا حکومت بن بھی گئ تو تاریخ کی کمزور ترین حکومت ہو گئی جو بے شمار متضادات تضادات پر مشتمل  ایک ڈاوں ڈول حکومت  ہو گی یہ ثابت شدہ ہے کہ انگیلا مرئکل کی حکمرانی کا خاتمہ بہت قریب آچکا ہے۔ اور یہ بھی  ایک اٹل حقیقت ہے کہ ماضی والا مستحکم  اور سنہری جرمنی  اب ختم ہو چکا ہے ۔ مالیاتی نظام کے بحران اسکی سیاست میں ہلچل برپا کرتے رہیں گئے اگر ایس پی ڈی نے اپنے قول و فعل سے غداری بھی کی اور سی ڈی یو سے ملکر حکومت بنائی   جس کے آثار کم ہیں تو پھر بھی سیاسی انتشار کم نہیں ہو گاجو معاشی خلفشار سے پیدا ہوا ہے اور ایس پی ڈی اپنی عوام میں رہتی سہتی ساکھ بھی کھو بیٹھے گی۔  مستقبل کا جرمنی مزدور تحریکوں ، عوامی مذاحمتوں ، نوجوانوں کے احتجاجوں  کے ساتھ ساتھ دائیں اور بائیں بازو کی کشمکش  کا میدان  بنےگیا جس میں عوامی فتح کا تعین جرمنی  کی طبقاتی تحریک کے ٹھوس سوشلسٹ نظریات کریں گئے ۔ 

جرمنی انتخابات میں روائتی سیاست کی عبرت ناک شکست

               

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh