تحریر ۔ دانیال رضا

خون جب دے کر بھی قیمت نہ پسنے کی مل

ایسے حالات بغاوت کے لیے ہوتے ہیں  

 آج تک کی تمام انسانی تاریخ نے موجودہ  جدید اور تیزترین میڈیے اور اس کے عام وسیع  تر زرائع ابلاغ  کو اس سے پہلے کھبی نہیں دیکھا ۔ دنیا کی کوئی ایک خبر بھی آج  منٹوں اور سیکنڈوں میں دنیا کے منظرنامے پر چھا جاتی ہے اور ساتھ ہی اس کے خلاف یا حق میں  رد عمل بھی سامنے آجاتا ہے۔ پرنٹ میڈیا آج آہستہ آہستہ ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے ۔ اور اس کی جگہ سائبر اور الیکڑونکس میڈیے نے لے لی ہے۔ اس کے علاوہ آج سوشل نیت ورک کا عام استعمال بھی عالمی شعور اور رائے عامہ پر گہرے اثر ات مرتب کر رہے ہیں ۔

موجودہ انٹرنیٹ کے دور میں جہاں بہت سی نئی جدید ٹیکنیک روشناس ہوئی ہے وہاں اسکے مثبت اور منفی استعمال اور اثرات کے علاوہ تعمیری اور مجرمانہ رجحانات اور رویے  بھی  منظر عام پر آئے  ہیں ۔ چیزیں اچھی یا بری نہیں ہوتیں بلکہ ان کاا ستعمال اچھا یا برا ہوتا ہے جس کا فیصلہ  عام حالات میں  کسی بھی سماج میں رائج الوقت نظام اوراس کے مروجہ  قوانین کرتے ہیں ۔ 

ہر  انسان کی طرح  ہر اد اے کا بھی  کوئی نہ کوئی  مقصد اور نظریہ لازمی ہوتا ہے جس کا   وہ شعوری یا لاشعوری طور پر پرچار اورتکمیل  کرتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں بہت سے دوسرے شعبوں میں جدت آئی ہے وہاں صحافت و صحافتی ادارے اور سوشل نیٹ ورک میں بہت ترقی ہوئی ہے لیکن ان سے منسلک بہت سے عام افراد اور ادارے اپنے تعمیری سماجی کردار کا تعین کرنے سے قاصر ہیں ۔ خاص طور پر سوشل نیٹ ورک کے کچھ نوجوان اپنی لا علمی یا روایت پرستی میں   یا پھر  سمجھ بوجھ کے باوجود بھی پراگندگی   اور ظلم کو رواج دے رہے ہیں۔ جبکہ آج عالمی سطح پر بہت سی عوامی اور انقلابی تحریکوں میں   یہی  سوشل نیٹ ورک بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ میڈیے کی اسی خصوصی اہمیت کے پیش نظر اس کے فرائض اور اسکے کردار پر اکثرو بیشتر بحثیں اور تحریر و تقریر کی اشد ضرورت درکار ہے تاکہ عوام اور نوجوان اپنے اہم ترین عوامی سماجی کردار کا تعین کر کے معاشرے میں تعمیری اور انقلابی سوچ کو پروان چڑھا سکیں اور انسانی تاریخ میں شرمندہ ہونے کی بجائے سرخرو ہو ں  ۔ جس کے لیے ہمیں ہر صورت  انارکسزم اور رجعت پرستی کی  پسماندگی سے محفوظ رہنا ہوگا    ۔ 

ہم کسی چیز کو کیسے استعمال میں لاتے ہیں یہ بھی ہمارے سماجی رویے اور کردار کی شعوری کیفیت کی اعکاسی کرتا ہے۔ جبکہ سوشل نیٹ ورک جس پر ہر ایک کو آسانی سے دسترس حاصل ہے  جس پر ہمارا  کام  ہماری سوچ اور شعور کے معیار کی اعکاسی کرتا ہے   ۔ اس لیے ہمیں اسے بلند شعوری اور سماجی تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے تمام دنیا میں پھیلے یا رواج پائےظلم واستحصال کے خلاف ایک  مذاحمتی تحریک کو جاری کرنا چاہیے 

آج تمام دنیا کی صحافت اور اس کے اداروں میں اور سیاسی افق پر جس لفظ کو بڑی بے پرائی سے سب سے زیادہ  اور کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے ،، غیر جانبداری ،، ۔ دنیا کا ہر زریعہ ابلاغ اسی غیر جانبداری کا ڈھونڈورہ پیٹتا ہوا عوام کو بے وقوف بنا تا ہے ۔ جبکہ دنیا کے تمام زرائع ابلاغ کا کردارکسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ بی بی سی برطانوی حکمرانوں  کے مفادات کا نگہبان ہے جبکہ سی این این امریکی ریاست کا پیٹھو میڈیا ہے ۔ رشین ٹو ڈے روسی حکمرانوں کے پراپیگنڈے کا زریعہ ہے۔الجریرہ عربی اور عالمی حکمرانوں کا دلال ہے ۔ جیو ٹی وی ، دنیا نیوز ، سما  ، ایکسپریس یا اے آر وائے نیوز  ٹی وی سمیت تمام میڈیا پاکستانی حکمران اور انکی ریاست کے استحصال کا آکہ کار ہے ۔ یہ تمام میڈیا ان کے سرمایے پر پلتا ہے اور اس کے بدلے حکمرانوں کے  استحصال اور ان    کی  لوٹ مار  ، اور ریاست کے ظلم و جبر کا دفاع اور تحفظ کر تا ہے     ۔ یا پھر سرمایہ داروں کی دولت کی ہوص کے لیے  گھٹیا اور غیر معیاری اشیا کو معیاری اور بہترین   ثابت کرنے کی  اشتہار بازی  کا زریعہ ہے ( امریکہ اور  یورپ میں آج کل یونیورسٹیوں  میں بزنس کے نصاب میں  باقاعدہ طور پر یہ پڑھایا  جاتا ہے کہ پیداوار  کی مارکیٹ کے لیے مبالغہ آرائی  پر مبنی پراپیگنڈہ  یا جھوٹ  کوئی   غلط نہیں  ہے  بنیادی  مقصد اشیا  فروخت ہونی چاہیں جسے بھی ہوں  )   عالمی اور مقامی  میڈیا چاہیے  وہ  پاکستان  کا ہی  کیوں نہ ہو سرمایہ داروں اور  حکمران گماشتگی کا کردار سب پر عیاں ہے اور خاص طور پر اہم او ر سنجیدہ حالات و واقعات  میں ان کا سرمایے  کے لیے  خالص جانبدارانہ کردار نمایاں  ہو جاتا ہے ۔  پھر بھی یہ بڑی بے شرمی اور ہٹ دھرمی سے غیر جانبدار ہو نے کا منافقانہ ورد کرتے ہیں اس لیے آج کا یہ سب سے بڑا سچ ہے کہ تمام روائتی میڈیا  انفارمیشن کی بجائے ڈس انفارمیشن پھیلا رہے ہیں اور اس کے زریعے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے  ۔ 

میڈیا بعض اوقات  حکمرانوں کو بلیک میل کرنے اور اپنی  قیمت بڑھوانے کے لیے ان کے خلاف کچھ اور کھبی کھبار پراپیگنڈہ بھی کرتا جس سے عام لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید  یہ اداراہ  ،  ٹی وی  یا   پروگرام  غیر جابندار ہے جبکہ  حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا  ۔ یا پھر  میڈیا  عوام میں اپنی حمائت بحال کرنے یا اس میں اضافے کے لیے بھی عوامی نیوز یا انکا نقطہ محدود اور مخصوس انداز میں بے اثر بنا کر پیش کرتا ہے اوراس سب کے پیچھے سرمایے اور دولت کمانے کے حربے ہی ہوتے  ہیں   ۔ 

 نیوز  کے علاوہ ٹی وی ڈرامے اورفلمیں بھی دولت مندوں اور مڈل کلاس کی ذہنی ٹھرک کے لیے ہی  ہوتے ہیں کیوں کے ان میں بھی انہیں کے  حالات  زندگی  ، مسائل  و واقعات ، سازشوں اور خاندانی  مفاداتی رشتوں کی ہی  جوڑ توڑ  ہوتی ہے  جو کسی طور   بھی عام   محنت کش عوام کی زندگیوں کے آئینہ دار نہیں ہوتے اس لیے ٹی وی کو دیکھنے والے لوگ بھی حدود اور مخصوض ہی  ہیں جنکی تعداد ہر روز کم ہوتی جا رہی ہے محنت کش عوام کے پاس تو اتنا فضول اور فارغ وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ وہ ٹی وی کی عیاشی کو فوڈ کر سکیں  ۔ 

 اس لیے لفظ غیر جانبداری مکمل طور پر تمام حوالوں سےجہالت اور جھوٹ کا اعلی تصور ہے ۔  دنیا میں کوئی بھی چیز غیر جانبدار ہو ہی نہیں سکتی ، نہ سیاست اور نہ صحافت او ر نہ ہی کوئی اور شعبہ زندگی ۔ اور اگر ہو سکتی ہے تو پھر ہمیں سب سے پہلے آج دنیا میں موجود تمام تعصبات اور نظریات کو مسترد کرنا ہو گا تمام مذاہب ، قوموں ، ملکوں ، رنگ ، نسل ، طبقات ، درجات، تفریقات اونچ نیچ ، ذات پات ، فرقات کو مکمل طور پر در کرتے ہوئے ان تمام شاونزم کے انکار کے آغاز سے ہی غیر جانبداری کے تصور کا آغاز ہو سکتا ہے وگرنہ نہیں ۔ اور یہ کون کر ئے گا اور کون کرتا ہے؟ اور کیسے ممکن ہے؟۔ 

سماجی اور سائنسی طور پر آج کا عالمی طبقاتی  اور درجاتی معاشرہ خود غیر جانبداری کے نظریے کی مکمل نفی کرتا ہے ۔ اور دوسری طرف یہی غیر جانبداری  کی  دلائل ہی جانبداری کی منطق ہے ۔ غیر جانبداری کا نظریہ اپنے پس پشت تعصبات کی انکاری نہیں بلکہ تعبداری کی سوچ ہے جو ظلم و جبر کے خلاف آواز نہیں بلکہ اس کی حمائت  اور اطاعت  ہے اور اسکے بڑھتے تسلسل کو قائم رکھنے کا   بڑا ہی  بھیانک   اور جعل ساز نظریہ  ہے ۔  غیر جابنداری کی وکالت سب سے زیادہ حکمرانی  کی احساس کمتری کا شکار مڈل کلاس کرتی ہے کیونکہ یہ کوئی سماجی طبقہ نہیں ہے بلکہ دو بنیادی سماجی طبقات کے درمیان ؟ ہوائی کلاس ہے ۔  مڈل کلاس کا یہی سماجی کردار انکے کنفوژ شعور کا غماز ہے اور غیر جانبدار ی کی سوچ بھی اسی پیٹی بوژوازی کی ذہنی غلاظت کا تعفن ہے ۔ حقائق اور ٹھوس دلائل بالکل اس کے الٹ ہیں جو طبقاتی صحافت اور سیا ست کے حق میں ہیں وہ غیر جانبداری کی بجائے عوامی جانبداری کے طرف دار ہیں ۔ 

یہ ثابت شدہ ہے کہ آج کا تمام میڈیا اور ریاستی ادارے  مالیاتی حکمرانوں اور انکے ایجنٹوں کے ہیں، اسی لیےعام حالات میں  سماج پر حاوی سوچ حکمران طبقات کی ہی ہوتی ہے ۔ جس کے لیے وہ تمام زرائع ابلاغ  اور ریاستی ادارے بھر پور استعمال کرتے ہیں۔اگر ہم واقعی سماجی تبدیلی کے لیے سنجیدہ  ہیں تو   پھر ہمیں اس کے مد مقابل اپنے عوامی  ادارے منظم کرنے ہوں گئے جس میں ایک خالص عوامی اور مزدور میڈیا اور سوشل نیٹ ورک کو تعمیر کرنا چاہیے ۔ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا سائبر یاپھر سوشل نیٹ ورک کے زرائع ہوں ہمیں اپنے عوامی  طبقے کی  لڑائی ہر جگہ لڑنی ہے ۔ ہر مقام پر منظم کرنی ہے ۔ جس میں عوام پر ہونے والے ہر ظلم و استحصال کو بے ڈھرک  بے نقاب کر کے ایک عوامی تحریک کو منظم کرنا ہو گا۔ موجودہ مالیاتی نظام میں ہر شعبہ زندگی اور انکے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کا کردار بھی طبقاتی ہی ہے ۔ ان سے مقابلے کے لیے ہمیں پہلے اس  کا شعور حاصل کرنا ہے ۔اسی طرح صحافت اور اسکے تمام اد اروں کا بھی لازمی جانبداری  کاکردار ہوتا ہے ۔ جس کا ہمیں بے باکی سے اقرار کرتے ہوئے اپنے عوامی اور مزدور زرائع ابلاغ کو بانگے دہل ثابت کرنا اور منواناہے ۔ روائتی غیر جانبداری کی ریاکاری کو بے رحمانہ  بے نقاب کرتے ہوئے طبقاتی اور عوامی زرائع ابلاغ کو عام اور مضبوط کرنا ہے ۔ 

ہم کسی ایک جھوٹ کے نہیں بلکہ ہم  ہر ایک ظلم واستحصال اور اس کو قائم رکھنے کے لیے بولے جانے والے ہر جھوٹ کے بھی انکاری ہیں ہم سرمایے کے اطاعت گزرا نہیں بلکہ باغی ہیں ہر ظلم اور اسکے رواج سے۔ اور ایسے سماج سے جس میں عوام سے زندہ رہنا کا حق چھین لیا جائے   ۔ اس لیے ہم کسی ادارے کی بنیاد جھوٹ فریب اور دھوکہ دہی  پر نہیں رکھتے اور اگر کوئی رکھتا ہے تو ہم اس میں نہیں ہوتے بلکہ اس کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں ۔ اسی غرض کے لیےہمیں صحافیوں کی تنظیموں اور کلبوں کو ناقابل مصالحت طبقاتی  بنیادوں پر استوار کرنا چاہیے۔ تاکہ مقامی ، یورپی اور پھر عالمی سطح تک پھیلی زرائع ابلاغ میں موجودہ منافقت   ،  ریاکاری ، مبالغہ آرای ، چڑھتے سورج کو سلام ، لوٹا سیاست ،زرد اور زر خرید صحافت   کے  خاتمے کی لڑائی کے ساتھ ساتھ میڈیے سے منسلک مزدور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ اور جرات مندانہ مزدور صحافت  جس کا اول مقصد ہو ، اس کا بے باک آغاز کرنا چاہیے ۔ تمام یورپی اور عالمی صحافت میں اسی شعور کو بیدار کرنا ہے اور صحافت کو استحصالی حکمرانوں اور انکے ایجنٹوں کا ہتھیار نہیں بلکہ عوام اور خالص محنت کشوں کی لڑائی کا اوزار بنا نا ہے ۔ 

ہر جرنلسٹس فورم اور پریس کلب کو ئی تعصبی تنظیم اور فرقہ پرست جماعت نہیں ہونی چاہیے بلکہ خصوصی طور پر ایک شعوری ترقی پسند  پلیٹ فارم ہو جس میں مقامی اور عالمی صحافی اور انکی تنظیمیں منظم ہوں اس پلیٹ فورمز کے زریعے صحافت کو ایک اعلی تعمیری اور انقلابی مقصد دینا چاہیے ۔ 

ہماری ترجیحات میں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ عوامی اور مزدور تحریکوں کو بھی مضبوط کرنا ہونا چاہیے اور ان سے مضبوط تعلق استوار کرنا اور انہیں وسعت دینا چاہیے ۔ آج کی گلوبل دنیا میں کس ایک ملک کے معاشی ، سیاسی اور سماجی حالات عالمی دنیا سے کٹ کرنہیں رہ سکتے بلکہ عالمی منڈی ہی دنیا بھر میں  فیصلہ کن عنصر بن چکی ہے ۔  آج  جب  عالمیت میں گہرے پیوست آپسی رشتے ناطے ہی مقدم اور مقدس ہو گئے ہیں تو ہمیں مقامی اور علاقائی حدود کے اندر مقید رہنا اور بات کرنا ایک زہریلا تعصب اور   جہالت کے علاوہ کچھ نہیں دے گا ۔ اسی لیے ہماری ترجیحات پاکستان کی صحافی اور مزدور تحریک کو یورپی اور عالمی تحریک کا اٹوٹ حصہ بنانا ہے ۔ 

 اگر حکمران عالمی سطح پر ایک ہیں تو ہم  محنت کش کیوں ایک  نہیں ہیں ؟۔ ہماراعالمی سطح پر ایک  نہ ہونا ہی ہماری محرومی اور ذلت آمیز زندگی کی بنیادی وجہ ہے ۔ ہم صرف ایک ہی بنیاد پر متحد ہوسکتے    ہیں وہ ہے طبقاتی  عوامی اتحاد جس میں کسی تعصب قوم ، ملک ، رنگ ، نسل، مذہب ، زبان اور ہر فرقہ واریت کی گنجائش نہیں ہوگئی ۔  تعصبات کو حکمران ہمیشہ اپنے  جبر واستحصال کو قائم رکھنے کے لیے بھر پور استعمال کرتے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں خاص طور پر موجودہ مسائل میں پاکستان انہیں حالات  کی بھینٹ  چڑھا ہوا خونی مسائل میں لت پت تڑپ رہا ہے ۔ جس کے خلاف  ہمیں ناقابل مصالحت عوامی  جنگ جاری کرنے کی ضرورت ہے 

مزید پڑھنے کے لیے کتاب حاصل کریں  

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh