تحریر ۔ دانیال رضا

زندگی تو اپنے ہی قدموں سے چلتی ہے فراز

اوروں کے سہارے تو جنازے اٹھا کرتے ہیں

بے شک انسان قدرت کی ہی بہترین تخلیق اور شہکار ہے لیکن اس کے باوجود انسان کی قدرت سے بہت پرانی جنگ ہے ۔جسکا آغاز انسان کے اس زمینی کرہ ارض پر جنم سے ہی شروع ہو گیا تھا ۔جب انسان نے نیچر کی بے رحم طاقتوں کے خلاف اپنی زندگی کی بقا کے لیے قدرت کو شکست دے کر اس پر قادر ہونے کی جدوجہد شروع کر دی تھی ۔ جس سے آج ماضی کی بے شمار ناقابل تسخیر طاقتوں کو انسان نے مات دیکر انہیں اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے ۔ آج بڑی سے بڑی آگ کو بجھا جاسکتا ہے ۔ پانی کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا ہے ۔ تیز ہواوں اور طوفان پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ انسان نے اس پر قدرت حاصل کر کے ان کو اپنے فائدہ کے لیے اپنے استعمال میں لے آیا ، جیسے ہواوں کو چیر کر ہوائی جہاز اڑائے ، سمندروں کے سینوں پر بحری جہاز چلائے ، آگ سے لوہا پگھلا کر فولاد بنایا زمین کی کھوکھ سے معدنیات نکالیں ، سردی اور گرمی کی اذیت سے اپنے آپ کو محفوظ کر کے اپنی زندگی کو صحت مند اور لمبا بنایا ۔ بہت سی ماضی کی جان لیوا بیماریاں آج قابل علاج ہیں ۔ صحت و معالجے ، خوراک اور صحت مند ماحول سے انسانی زندگی کو بڑھایا گیا ہے ۔ جو انسان  تیس سے چالیس سال کی عمر سے پہلے مر جاتا تھا اور اس سے لمبی عمر ایک خواب تھا لیکن اب اس کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ممکن ہے۔ جرمنی کے نئے اعداو شمار کے حوالے سے جرمنی میں آج پیدا ہونے والے بچوں کی عمریں 113 سال کی ہوں گئیں  جو کسی کرشمے سے کم نہیں  اور یہ بعید نہیں ہے کہ مستقبل میں انسانوں کی عمریں ہزار سال تک ہوں کیونکہ قدرت کے خلاف انسان کی یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی  جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گئی جب تک انسان قدرت پر قادرو مطلق نہیں ہو جاتا ۔

بنیاد پرست اور بوسیدہ سوچ کے حامل افراد قدرتی قوتوں کو خدائی طاقت سے تشبہیہ دیکر ہمیشہ سے انسانوں کو تعمیرو ترقی سے روکتے رہے ہیں۔ جہالت میں رکھنے اور خوف زدہ کرتے رہے ہیں اور ان کے حوصلے پست کرنے کی نامعقول کوشیشیں آج بھی کرتے ہیں تاکہ مذہبی پسماندگی پر مبنی وسیع و عریض بلیک اور خون ریزدوکانداریاں چلتی رہیں اور انکی اپنی جہالت چھپی رہے ۔ لیکن انسان کی اپنی موت کے خلاف یہ جنگ کھبی نہیں روک سکتی۔

جب انسان پہلی بار چاند پر گیا تو دنیا کے تمام مذہب اس کو مانے سے صاف انکاری تھے لیکن سچ ہمیشہ ٹھوس ہوتا ہے جس سے انکار ممکن نہیں جس کے بعد بنیاد پرستوں نے اس کے خلاف تحریکیں بھی چلائیں اور اس کو خدائی کاموں میں مداخلت اور کفر قرار دیا لیکن وقت بہت ظلم ہے جو کسی کو معاف نہیں کرتا اور ہر ایک کو حقائق کے آگے دیر یا بدیر سرنگوں ہونا ہی پڑتا ہے اسی طرح جب کیمرہ اور ٹی وی ہر گھر کی زنیت بنا تو یہ بھی پہلے پہل کفر ہی ٹھہرایا اور اب یہ مذہبی دوکاندار خود ٹی وی کو اپنے مذہبی کاروبار کے لیے سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ خبروں اور  ٹاک شوز میں پیسے دیکر آتے ہیں  ۔ غرص ہم اس غیر اہم مذہبی بحث سے دامن چھوڑاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔ حاصل مقصد یہ کہ ہر دور میں جدیدیت نے اپنا لوہا منوایا اور قدامت پرستی کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قدرت یا نیچر ایک بڑی طاقت ہے اور بھاری قدر رکھتی ہے لیکن بڑی بے بس اور مجبور ہے کیونکہ قدرت کو اپنے اوپر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے یہ اپنی قدر کی طاقت ثابت کرنے کے لیے ٹھوس سائنسی اصولوں کی محتاج ہے اس لیے قدرت یا سائنس کے قوانین کو معلوم کر کے اس کو نہ صرف کنٹرول کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اسکی طاقت اور صلاحیت اس کرہ ارض پر صرف اور صرف انسان کو حاصل ہے ۔کیونکہ انسان کو نہ صرف اپنے اوپر اختیا ر حاصل ہے بلکہ یہ تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اس لیے کہ یہ سوچ سکتا ہے اس کے پاس ذہن یعنی شعور ہے جو اور کسی کے پاس نہیں اور نہ ہی قدرت کے پاس ہے ۔ 

قدرت اپنی بربادی اور تعمیر سے اپنے آپ کو مسلسل متوازن کرتی رہتی ہے اور یہی بیلنس ایک وقت میں پھر غیر متواز ن ہو جاتا ہے جس سے پھر ایک تباہی ہوتی ہے اور ایک نیا بیلنس پیدا ہوتا ہے یعنی قدرت کا ارتقا بھی جدلیاتی عمل کا بہترین اظہار ہے جس میں تغیر پذیر ترقی مثبت کو منفی اور منفی کو مثبت بناتی اور نفی کی نفی کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے ۔ وہ سمندوں کو خشکی اور خشکی کو سمندر بناتی ہے ۔ پہاڑوں کو ہموار کرتی ہے اور ہموار سطح کو بلندیوں پر لے جاتی ہے آب و ہوا کی تبدیلی زمینی حالات کو بدلتی ہیں  اور زمینی حالات میں تبدیلی آب ہوا کو متاثر کرتی ہے ۔ ہوائیں ، بارشیں ، موسموں کی تبدیلی نباتات کی افزئش یا ضیائی تالیف کی لیے لازمی ہیں جو جنگلوں کی بنیاد رکھتی اور انہیں وسیع کرتی ہیں گرمیوں میں درجہ حرارت کے بڑھنے سے اور ہوا وں کے چلنے سے درختوں میں رگڑ سے آگ بھڑک اٹھتی ہے اس سے جنگلوں کے جلنے کا عمل شروع ہوتا ہے اور قدرت اس سے اپنے آپ کو تباہ کرکے نئی شکل دیتی ہے ۔ تاکہ شدید گرمی کے حالات ختم ہو جائیں ۔ جبکہ آج کے انسان نے یہ صلاحیت حاصل کرلی ہے کہ وہ ان حالات کو پیدا ہی نہ ہونے دے جس سے بڑی تباہ کن آگ کا خطرہ ہو اس کے علاوہ وہ اس آگ کو بجھا نے کی اہلیت بھی رکھتا ہے اور اسے قابل استعمال بھی بنا لیتا ہے ۔ سائنس اور ٹیکنو لوجی کی ترقی قدرت کو سرنگوں اور انسان کو مضبوط اورعظیم  بنا رہی ہے ۔ یعنی علم کے اجالوں نے ماضی کی جہالت کے لامحدود اندھیروں کو محدود کر دیا ہے ۔

اس زمینی کرہ ارض کو تین بار کے برفانی ادوار نے قدرت کو سر سے پاوں تک تبدیل کر دیا جس میں اس کو کوئی کمال حاصل نہیں تھا کیونکہ یہ سب کچھ ٹھوس اور مستقل سائنسی قوانین کے تحت ہوا تھا جس کی کھوج آج کی سائنس نے تحقیق سے لگالی ہے ۔ جس نے قدرت کے اندر ہونے والی تبدیلیوں اور طاقتوں کے چہرے پر پڑے نقابوں کو بری طرح نوچ ڈالا ہے اور  ہر دیو تا  کی جھوٹی   طاقت کو ننگا کر دیا  ۔

قدرت اور انسان کے تصادم میں نیچر اپنی قدر جو اصل میں سائنس کے قوانین ہی ہوتے ہیں کے زریعے مذاحمت کرتی ہے اور انسان ان قوانین کو معلوم کر کے اس مذاحمت کو زائل کرتا ہے اور قدرتی طاقتوں کو اپنے قبضے میں کر لیتا ہے ۔ ایسا کر نے کو کچھ لوگ قدرت کو تباہ کرنے سے تعبیر کرتے ہیں جو سر اسر غلط ہے کیونکہ ان اٹل قدرتی قوانین کے علم سے انسان قدرت کو تحفظ دینے کے اہل بنتا ہے اور اسے محفوظ کرتا ہے کیونکہ انسان کی اپنی زندگی بھی اسی قدرت سے منسلک ہے تو پھر بھلا وہ اسے کیسے برباد کر سکتا ہے ۔ کیونکہ انسان کی قدرت سے لڑائی بھی انسان کی اپنی ہی بقا کی لڑائی ہی ہے جس میں یہ قدرت کو تباہ نہیں بلکہ زیر کرتا ہے اور انسان دشمن قوتوں کو ختم کرتا جا رہا ہے کیونکہ اس کائنات میں انسان ہی ایک سب سے بڑاسچ ہے جو سوچتا ہے محسوس کرتا اور عمل کرتا ہے اور یہ قدرت ، قدرت میں کسی اور کو حاصل نہیں ہے ۔

سیلاب جو پانی کی منہ زور طاقت ہے ، پہلے پہل انسان اور اس کے بنائے سماج کو نیست و نابود کر دیتے تھے جس سے ابتدائی انسان نقل مکانی پر مجبور تھا لیکن آج ایسا نہیں ہے برباد سماج کو دوبارہ زیادہ جدید اور زیادہ محفوظ معیار پر جلد تعمیر کیا جا سکتا ہے ۔ سیلاب کی منہ زوری کو کنٹرول کرنے کے لیے ندی نالوں ، دریاوں اور نہروں کو گہرا کیا جاتا ہے ان میں کٹاو کو کم یا ختم کر کے پانی کے بہاو کو سیدھا کیا جاتا ہے زائد پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے اس کو سٹور کیا جاتا تاکہ اگلی بار پانی کی منہ زوری اپنی اوقات میں رہے اور ایسا ہی ہوتا  ہے ۔اگلی بار یہ تباہی پھیلانے کی بجائے سماج کے لیے فائدہ مند بن جاتا ہے جاپان کا انٹرنیشنل بڑا ائیر پورٹ ٹوکیو کے شہر میں نہیں بلکہ اس کے سمندر میں ہے کیونکہ اکثر زلزلوں کی وجہ سے یہ محفوظ نہ تھا یہ بھی انسان کی قدرت پر فتح کی ایک بڑی علامت ہے جو حقیقی اور انسانی مجزوں میں سے  ہے  ۔

زلزلوں کے آنے سے قبل اس کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے ۔ سورج اور چاند کے غروب اور طلوع کا وقت پہلے سے بتایا جاسکتا ہے ۔موسموں کا حال قبل از وقت معلوم کر کے اس کی شدت سے بچا جا سکتاہے ۔خشک سالی سے محفوظ رہنے کے لیے آج بہت پانی ہے اور مصنوعی بارشیں بھی برسائی جا سکتی ہیں ۔ چاند پر جانے کا قصہ بہت پرانا ہو گیا ہے اب تو مریخ پر پانی اور جھیلوں کے آثار کا بھی علم ہو چکا ہے انسان زمین سے بلند ہو کر آسمان پر جا پہنچا ہے اور ساتواں آسمان اب انسان سے زیادہ دور نہیں ہے جس پر کوئی خدا رہتا ہے  ۔

لیکن ایک طرف انسان ترقی کی معراج پر پہنچ چکا ہے تو دوسری طرف زمین پر سرمایہ داری نظام نے عوام کی زندگی کے لیے زمین ہی تنگ کر دی ہے ۔ بھوک ننگ افلاس اور قبضے کی جنگوں کے زریعے زمینی کرہ ارض کی تباہی کے درپے ہے ۔ یہ تمام ترقی اور وسائل تب تک بے کار اور فضول ہیں جب تک یہ تمام انسانوں کے لیے مساوی طور پر فائدہ مند نہ ہوں اور انسانیت کو خوشحالی ،سکون ، امن اور اطمینان نصیب نہ کریں ۔ اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک  طبقاتی کشمکش کا خاتمہ نہیں ہو تا تمام وسائل کو ذاتی ملکیت سے نکل کر سماجی اختیار میں نہیں دیا جاتا پیداوار کا مقصد شرح منافع کا حصول نہیں بلکہ انسانی ضروریات کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ بوڑھا ا ینگلز شاید  درست لکھ گیا ہے کہ انسانیت کا مستقبل اشتراکیت ہے یا پھر بربریت کیونکہ انسان قدرت کی بے لگام طاقتوں کو تولگام ڈال رہا ہے لیکن سرمایے کی بے لگام قوتیں انسانی سماج کو برباد کر رہی ہیں اس لیے آج قدرت کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے موجودہ عالمی مالیاتی نظام کے خلاف ناقابل مصالحت طبقاتی جنگ کی جائے ۔ کیونکہ آج انسانیت کی بقا کے لیے یہ سب سے بڑی اور اہم  جنگ ہے جس کو جیتے بغیر انسان اور زمین  کو نہیں بچایا جاسکتا ۔

کتاب پیش قدمی سے ایک مضمون ۔ کتاب پڑھنے کے لیے کلک کریں 

مزید کتابیں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh