تحریر ۔ دانیال رضا

عمر بھر سب کی نگاہوں میں کھٹکتا ہی رہا

جرم یہ تھا کہ حق گوئی میرا مسلق رہی

ادب کا آغاز بنیادی طور پر قدیم یونان سے ہوا تھا جب اسے لوگوں میں شعور کی بیداری کے لیے استعمال کی جاتا تھا اور لوگوں کو اس کے زریعے اچھا شہری بنانے کی ترغیب دی جاتی تھی یعنی ادب کا کام معاشرے کی بہتری اور تعمیر و ترقی   تھا اور ہے  ۔

علم و ادب ترقی پسند ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔ یقیناًاس پر بہت سے نام نہاد  ادبی حلقے بلبلا اٹھیں گئے لیکن یہ ایک ٹھوس سچ ہے اور یہ کتنا ہی کڑو ا کیوں نہ ہو ہمیں نگلنا ہی ہوگا اگر ہم واقعی حقیقی علم و ادب کی کچھ خدمت کرنا چاہتے ہیں  یا اس میں سنجیدہ ہیں ۔

علم و ادب معاشرے سے کٹ کر الگ کوئی چیز نہیں ہے اور اس سے علیحدہ نہ ہی کوئی اسکی حیثیت اور  اہمیت   ہے    ۔ جب کوئی علم و ادب معاشرے کا ترجمان نہیں ہوتاتو پھر اس کے موضوعات بھی سماجی نہیں رہتے  جس سے یہ سڑ ک پر پڑی کسی لا واراث لاش کی طرح ہوتا ہے جیسے دفنا دینا ہی معاشرے کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے وگرنہ یہ پورے سماج کو تعفن زدہ کر دیتا ہے مثلا نوٹ وکھا میرا موڈ بنے وغیرہ   ۔حقیقی علم و ادب ہمیشہ زندہ اور تازہ ہوتا ہے جو زندگی کی علامت ہے اور زندگی کی وجہ بھی ۔ یہ کسی آ بشار کی ماند ہمیشہ تروتازہ اور فطری مہک کا اظہار ہے اور آبشار کی زندگی کا دارومدار اس کی روانی اور اس کے بہاو میں ہے ۔ کھڑے پانی کو جوہڑ یا گندے پانی کا چھپڑ کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ جب بھی پانی کھڑا ہوتا ہے اس کے اندر کا تمام گندہ اوپر آجا تا ہے ۔ اور ایک دن یہ بد بو دار غلاظت کا ڈھیر بن جاتا ہے جو مضر انسانی اور سماجی زندگی ہے ۔

اسی طرح ادب کی زندگی کا انحصار بھی اسکی سماج میں زندہ تحریک سے وابستگی پر ہوتا ہے ۔ ادب جتنا زیادہ عوامی تحریکوں سے منسلک ہوگا انکی ترجمانی کرئے گاان کے لیے تعمیر و ترقی کی منزلوں کا تعین کر کے مشعل راہ ہو گا اتنا ہی صحت مند اور توانا ہوگا ۔زندہ جاوید ادب ہمیشہ انقلابی ادب ہی ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کا مقصد معاشرے میں ظلم واستحصال اور نا انصافی کے خلاف آواز حق بلند کرنا ہے ۔ یہ نامساعد تریں حالات میں بھی سماجی ارتقا کے لیے معاشرتی جمود سے ٹکراتا ہے اور ایک عظیم عوامی مقصد میں امر ہو جاتا ہے ۔ جس کی مثال بائیں بازو کا اشتراکی ادب ہے اس  میں فیض احمد فیض ، ساحر لودھانوی ، حبیب جالب ، سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر ، میرا جی ، ویندر دیو ،بلایوراج ، سردار جعفری ، حسرت موہانی ، مہندر ناتھ ، سبط حسن ، غلام عباس ، منشی پریم چند وغیرہ کا نام سر فہرست ہے ۔ جو مر کر بھی زندہ ہیں اور آج بھی انکی شاعری ، مضامین ، مقالہ جات ، افسانے ، ناول اور ڈرامے آج کے لیے لکھے گئے ہی لگتے ہیں جو آج کے حالات کی نشان دہی کر کے سماجی ترقی کے راستے کی آگاہی دیتے ہیں یہی ادب ہے اور یہی زندہ ادب ہے جو ادب برائے زندگی ہے اور بقائے زندگی بھی ہے ۔

ہمیں آج مندرجہ بالا عظیم ادیب نہیں بلکہ ان سے بھی عظیم ادیبوں کی ضرورت ہے جو موجودہ سخت وقت اور سنگین حالات کا تقاضہ ہے ، جو نظام کی تبدیلی کی پکار کر رہے ہیں ہم بڑے اور عظیم ادیب آج بھی پیدا کرسکتے ہیں اگر ہم اپنے سماجی علوم کے مطالعوں کو وسیع کر یں اور عوامی تحریکوں میں شامل ہو جائیں کیونکہ آج ماضی سے زیادہ ترقی پسند ادب کی مانگ اور ضرورت ہے ۔

ترقی پسند ادب کے علاوہ بھی سنا اور کہا جا تا ہے کہ کچھ ادب ہے ۔ جس کو میں ادب نہیں مانتا بلکہ اسے ادب کی بے ادبی اور پسماندگی قرار دیتا ہوں جیسے میں سائنسی اور سماجی طور پر ثابت بھی کرسکتا ہوں ۔   

آج تک کی تمام انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا ۔ اور موجودہ طبقاتی سماج میں ہر ادب بھی طبقاتی ہوتا ہے ۔یہ  یا تو حکمرانوں کی نمائندگی کرتا ہے جسے بوژوا ادب کہتے ہیں یا عام زبان میں درباری ادب بھی کہا جاتا ہے جو قدامت پرست اور رجعتی ادب ہے یا پھر دوسرا ادب جو محنت کش طبقے کا علمبردار ہوتا ہے جسے پرولتاریہ ادب یا عوامی ادب کہا جاتا ہے یہ ترقی پسند یا مذاحمتی ادب کہلاتا ہے ۔

ہاں یقینا ًاب کچھ غیر اہم جعلی دانشوار یہ بھی کہیں گئے کہ ایک درمیانہ طبقہ بھی ہوتا ہے اور اس کا مڈل کاسیا ادب یا پھر پیٹی بوژوازی ادب ہوتا ہوگا ۔ سماجی سائنس کے نقطہ نظر سے مڈل کلاس کوئی سماجی طبقہ نہیں ہے اس لیے انکا کوئی ادب بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کا کوئی وجود ہے ۔ اور اگر کوئی وجود ہے تو سائنس کے نقطہ نظر سے وہ جھوٹ اور منافقت کا ادب ہے ۔ یعنی ادب کی بے ادبی کا ، جو مڈل کلاسیا ادب ہوسکتا ہے ۔ یہ اس لیے کہ درمیا نہ طبقہ کسی بھی سماج میں دوطبقات کی درمیان خالی جگہ کو پر کرتا ہے ۔ بوژوازی اور پرولتاریہ طبقات کے درمیان جوخلا ہے  یہی مڈل کلاس ہے ۔ کیونکہ سماجی سائنس اور فلسفے کے نقطہ نظر سے  ہمیشہ سماجی حالات ہی شعور کا تعین کرتے ہیں اور اسی درمیانے کردار کی وجہ سے مڈل کلاس کا کوئی سماجی مضبوط اور مستحکم کردار نہ ہونے کی وجہ سے اس کا شعور بھی متذبذب ہوتا ہے اس لیے مڈل کلاس ایک غیر مستحکم شخصیت اور سوچ کا نام ہے ۔

مڈل کلاس کی عام حالات میں ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے اور اس کی جدوجہد بھی یہی ہوتی ہے کہ یہ حکمران طبقات میں شامل ہو جائے اور اس کے لیے یہ وہ تمام غیر اخلاقی ، غیر انسانی ، غیر قانونی اور غیر تہذیبی افعال کر گزرتا ہے ۔ در میانے طبقہ کا  عام حالات میں کردار حکمران گماشتہ ہوتا ہے اور اسکا ادب بھی اسی کردار کا حامل ہوتا ہے ۔ لیکن نظام کے معاشی اور سماجی بحرانوں میں جب اسکی امیر بنے کی تمام تر خواہشیں پوری نہیں ہوتیں یا دم توڑ دیتیں ہیں تو تنگ دست حالات اسکو محنت کشوں کے معیار زندگی کی طرف دھکیل دیتے ہیں تو پھر یہ اپنے ماضی کے آقاوں کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں ۔ حکمرانوں کے خلاف محنت کشوں کی صفوں میں داخل ہو کر اپنے طور پر انکی نمائندگی کرنے لگتے ہیں یا انکی قیادت کا اپنے آپ کو  اہل سمجھنے لگتے ہیں  ۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج پاکستان میں صحافی حضرات یا نام نہاد سول سوسائٹی انقلاب کے لیے بڑی بے چین لگتی ہے ۔ جب کے حقیقت میں ایسا نہیں ہے اگر انہیں آج حکمرانی یا حکمران طبقے میں شامل ہونے کا موقع مل جائے تو یہ کوئی دیر نہیں کریں گئے اور ان کا انقلاب مکمل ہو جائے گا لیکن عوام کی حالت جوں کی توں ہی رہے گئی اسی لیے انکا علم و ادب اور دانشواری بھی انکے اسی خسی اور نامراد کردار سے قطعی مختلف نہیں ہوتی ۔ کیا آپ اسے علم و ادب اور دانشواری کہیں گئے اگر  کہیں گئے تو تعجب ہے  ؟۔ میں کم از کم اسے ادب یا علم  نہیں کہتا۔

ہاں اسکا صرف ایک حل ہے جب یہ مڈل کلاس اپنا معیار زندگی عام عوام کے مساوی لا کر ان کے مسائل کو شعوری طور پر محسوس کریں اور عوام کی طبقاتی جدوجہد کی تحریک میں اپنے آپ کو محنت کشوں کی قیادت میں منظم کر لیں جو مڈل کلاس کو انکے متزلزل کردار سے نجات دلا سکتی ہے اور انکے علم و ادب کو جدید بنا سکتی ہے ۔

مڈل کلاس کی ایک بڑی  ذہبی بیماری   جو اس کے سماجی مڈل کلاس کردار کی وجہ سے ہے کہ یہ محنت کشوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہتر یعنی احساس بدتری کا شکا ہوتے ہیں جبکہ حکمرانوں کے حوالے سے یہ  احساس کمتری میں گرفتار ہوتے ہیں جو انکی ذہنی غربت کا عکس ہے جس کا اظہار انکے علم و ادب یا پھر شاعری میں ہوتا ہے ۔  

آج کا ادب جس کو ہم جدید ادب کہتے ہیں یہ اسی وقت جدید ہو سکتا ہے جب یہ عہد نو کے تقاضوں پر پورا اترے آج کے فرسودہ نظام کی تبدیلی کی بات کرئے نہ کہ دیو محلائی کہانیوں اور عشق و محبت کی  داستانو ں کو اپنا موضوع بنائیں جو موجودہ اقتصادی اور معاشرتی عوامی مسائل پر تیزاب بن کر گرتا ہے  ۔

 آج کے نظام میں چند دولت مندوں نے ، بھوک ننگ افلاس اکثریتی  عوام کا مقدر بنا دیا ہے ۔ بڑھتی طبقاتی خلیج اور خستہ عوامی حالات انسانیت کی اذیتی موت بن رہے ہیں ۔ آج سسکتی انسانی زندگی جب کسی عذاب سے کم نہیں ،تو اس میں کالی زلفوں ، گھٹاوں اور ادب برائے ادب کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہی بلکہ ان تکلیف دہ سماجی حالات میں ، جب پاکستان میں غربت اور بے روزگاری سے تنگ آکر تقریبا پانچ اعشاریہ ایک فیصد لوگ سالانہ خود کشی کر رہے ہیں ، ساٹھ فیصد سے زائد عوام ایک سو ساٹھ روپے سے کم روزانہ پر زندہ ہیں، چائلڈ لیبر اور عورتوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں ، خود کش بمبار ، بجلی پانی کی لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی، بحران در بحران جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں کسی اژدھا کی طرح اس کرہ ارض پر بسنے والی انسانیت کو ڈس رہے ہیں ان ملکی اور عالمی حالات میں ادب برائے ادب سماجی اور عوامی رستے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے ۔

میر تقی میر اور میر درد کا عظیم دور گزر چکا ہے ۔ آج ہمیں جرات مند مذاحمتی ادب کی ضرورت ہے کسی کمزور اور لاغر ادب کی نہیں جس میں ٹکرانے   اورلڑنے  کی  ہمت  نہ ہو ۔ اس کے باوجود بہت  سے  ادبی حلقے یہ کہتے نہیں تھکتے کی ادب بہت ترقی کر رہا ہے اس کا دائرہ کار اب بہت وسیع ہو چکا ہے ماہیے ، ہیکو ، آزاد غزل اور بہت ساری دوسری اصناف اس میں شامل ہو چکی ہیں ۔ جو ادیب  یہ کہتے ہیں انکو یاتو ترقی اور ارتقا کے معنی کا علم ہی نہیں یا یہ حضرات پڑھنے کی زحمت گواہ نہیں کرتے یا پھر ان میں پڑھنے کے باوجود سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے ان کو ادیب کہنا ادب کی توہین نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ ادب کی  وسعت اس کی مقدار میں اضافہ تو ہوسکتا ہے معیار میں بلندی کھبی نہیں ہوسکتی ۔

کیونکہ معیار کا تعلق مقصد کی عظمت سے ہے مقدار اور تعداد  میں بڑھوتری سے نہیں ۔ بلکہ ادب کی صنف میں وسعت ادبی معیارکے بغیر اس کو برباد کردیتی ہے اور اسے  انارکی بنا دیتی ہے ۔ یہ ادب میں پسماندگی ، رجعت اورقدامت پرستی میں مسلسل شرح اضافہ ہوتا ہے جو اس کی ترقی نہیں بلکہ زوال پذیری ہے ۔ اس لیے کہ کسی بھی علم و ادب کا تعین اس کے عظیم مقصد سے ہی ہو سکتا ہے جو کہ ماسوائے عوامی بھلائی اور سماجی ارتقا کے کچھ نہیں ہو تا

آج کا ادب اگر سماجی اور حقیقی انسانی معیار اور پیمانے پر پرکھا جاے تو زیادہ تر ادب بوسیدہ اور رجعت پرست ہے جو ظلم و استحصال کو جلا بخش رہا ہے اور شعوری یا لا شعوری طور پر جابر حکمرانوں کا خدمت گزار ہے۔ جس کی آج کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ انسانی اور سماجی تباہی کا باعث ہے جس کے خلاف ترقی پسندوں کو ناقابل مصالحت  لڑنے اور شکست  دینے  کی ضرورت ہے ۔

آج کا نام نہاد ادب جس کو مڈل کلاس اپنی نجی ملکیت سمجھتی ہے اوراس کو اپنی ذات کی شہرت کے لیے استعمال کرتا ہے یا اس ادب سے اپنی سماجی محرومیاں دور کرتاہے ۔ کیونکہ مڈل کلا س کے افراد کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر انفرادیت یا ہیرو ازم کا جذبہ اپنی عروج پر ہوتا ہے ۔ یہ معاشرے میں اپنے سماجی کردار کی وجہ سے سب سے زیادہ احساس کمتری یا احساس بتری کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں  ۔  اس لیے آج کے بہت سے دانشوار اور ادیب اپنے فرسودہ ادب کے زریعے اپنی احساس کمتری کو احساس برتری میں تبدیل کرنے کی کوشیش کرتے رہتے ہیں ۔ اس سے بالا کہ اس کے معاشرے پر کتنے منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ادب کسی بھی معاشرے کا ایک بڑا ا ثاثہ اور اس کی پہچان ہوتا ہے ۔

روائتی ادب ہمیشہ کسی بھی سماج میں موجودہ حالات کی جدلیاتی نہیں بلکہ میکینکل انداز میں غمازی کرتا ہے ۔ جو حکمرانوں کے پیدا کردہ ہوتے ہیں یہ روائتی ادب بھی اسی کو فروغ دیتا ہے ۔ کسی بھی معاشرے کا عام حالات میں جو شعور ہے یا حاوی سوچ ہوتی ہے وہ حکمران طبقات کی پروردہ ہوتی ہے اس لیے آج کا زیادہ تر ادب بھی حکمران گماشتہ ہے جیسے ادب برائے ادب بھی کہا جاتا ہے ۔ جب کوئی سماج بحرانوں کے شکنجے میں ہوتا ہے یا   پسماندگی میں گرا ہواتا ہے تو اس کی اقدار ، نظریات ،ثقافت ،ادب بھی اسی قدامت پرستی اور اخلاقی گراوٹ کا اظہار کرتے ہیں اسی لیے آج کا اکثریتی ادب بھی اسی کا اظہار ہے ۔

اردو ادب کی تحریکیں آج پاکستان سے زیادہ عمومی طور پر غیر ممالک اور خصوصی طور پر یورپ اور امیر مغربی ملکوں میں زیادہ نظر آتی ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں شکستہ حالات زندگی نے ادبی تحریکوں سے زیادہ معاشی اور سماجی تحریکو ں کو پروان چڑھایا ہے جس سے ادبی تحریکیں کمزور  یا پس  کر رہ گئی ہیں لیکن یورپی ممالک میں تقریبا تمام لوگوں کی بنیادی انسانی ضروریات آسانی سے پوری ہو جاتیں ہیں اور پیٹ کی بھوک مٹنے کے بعد  ذہین کی بھوک جنم لیتی ہے جس سے یورپ میں بہت سے ان پڑھ اور جہاہل حضرات بھی  شوقیہ ادیب بنے بیٹھے ہیں ان کا علم اور مطالعہ کم ہونے کی وجہ سے انکا ادب میں کوئی مقصد نہیں ہے ماسوائے ذہنی ٹھرک بازی اور ذات کی  تشہیر کے اور جب ادب میں سے مقصد نکل جاتا ہے تو یہ منافرت اور ذلت بن جاتا ہے ۔ جو آج ادبی حلقوں میں ذاتی لڑائیاں، ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مساجد  اورشدید تضادات سے ثابت ہو تا ہے جبکہ ان کے درمیان کوئی بنیادی نظریاتی فرق  نہیں ہے ۔

موجوہ ادب کو اس کی رسوائی اور زوال پذیر ی سے نکلنے کے لیے لازمی ہے کہ اد ب کو عظیم انسانی مقصد دیا جائے ۔ اسے عوام کی تبدیلی کی خواہش سے منسلک کیا جائے ۔ اسے محنت کشوں کی تحریک کا اٹوٹ انگ بنایا جائے ۔ اس میں پاکستان اور عالمی مسائل کو بیاں کر کے اس کے اشتراکی حل کو پیش کیا جائے اسے طبقاتی اور انقلابی تحریک کا روح و رواں ہونا چاہے مزدور تحریکوں کو گرمانا چاہے ۔ مزدوروں میں سماجی تبدیلی کے لیے جرات وحرارت اور ایک نیا عزم پیدا کر نا چاہیے ۔ اسے عوامی شعور کی بیداری کا باعث ہونا چاہیے وگرنہ ہمیں اسے کسی ردی کی ٹوکری میں پھنک دینا چاہے ۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh