تحریر ۔ دانیال رضا

سچ بات پر ملتا ہے صدا زہر کا پیالہ

جینا ہے تو پھر جرات اظہار نہ مانگو

بلا شبہ قدیم انسانی تاریخ میں تمام مذاہب نے اپنے اپنے ادوار میں پسماندہ معاشروں کی تبدیلی میں اہم انقلابی کردار ادا کیا۔ اور زوال پذیر سماجوں کو ترقی کی نئی جہتوں سے آشکار کر کے سماجی ارتقا کو آگے بڑھایا ۔اور یہی معاشرتی ترقی تھی جو ماضی کے تمام مذاہب کی ٹھوس سماجی بنیادیں بنیں ۔ جنہوں نے مذاہب کی نشو نما کی اور انہیں وسیع تر عوامی حمائت میسر آئی ، مذاہب کے ا قتدار کو مضبوط کیا اور فتوحات کو جلا بخشی ۔ بالکل اسی طرح جس طرح ان سے پہلے اور بعد میں انسانی تاریخ میں دوسرے انقلابات اور اصلاحات  نے انقلابی فرائض سر انجام دئیے تھے ۔ جس میں ابتدائی اشتراکی معاشرے سے لے کر عالمی مالیاتی نظام تک کے انسانی سماج نے سفر طے کیا ۔ اس انسانی تاریخی سفر میں مادرسری پھر پدر سری ، غلامانہ دور ، جاگیرداری اور اس کے بعد قومی سرمایہ داری جس کے بعد عالمی سرمایہ داری جو آج تمام دنیا پر حکمران نظام ہے ۔

یہ تما م انسانی تاریخی نظام کھبی بھی ایک شکل اور کیفیت میں قائم نہیں رہے ان کا بنیادی مقصد ہمیشہ ایک ہی تھا انسانی سماج کی تعمیر و ترقی ۔ لیکن اس کی شکلیں اور کیفیتیں تبدیل ہوتی رہیں جس طرح حالیہ تاریخ میں قومی سرمایہ داری کے بحرانوں نے نو آبادیاتی نظام کی بنیاد رکھی اور نو آبادیاتی نظاموں کے انتشار سے عالمی حکمرانوں نے آئی ایم الف اور ورلڈ بنک بناکر ، خود اپنی براہ راست حکمرانی کی جگہ اب وہ ان مالیاتی اد اروں کے زریعے بلا واسطہ سیاسی اور اقتصادی حکمرانی کرتے ہیں۔ جہاں جس کا پیسہ ہو تا ہے  اسی کی ساسیات مسلط ہو تی ہیں ۔ سرمایہ داری کا یہ تمام چکر اور حالتیں صرف ایک مقصد کے لیے تھیں ۔ جس میں  منڈی اور شرح منافع کے  حصول  کو ہر حالت میں ممکن بنانا  اور  قائم رکھنا ہے۔ اس  سے اب تک سماجی ارتقار جاری رہی  جو اب جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ بے شک ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ داری اپنی کلاسیکل شکل میں موجود نہیں ہے لیکن یہاں بھی ان سماجوں کو سرمایہ داری کے پیداواری رشتے اور   قانون ہی  نہایت ہی بھیانک انداز میں کنٹرول کرتے ہیں ۔

یورپ میں نام نہاد سوشل ڈیموکریسی جو سرمایہ داری نظام میں اصلاحات کا نام ہے  جیسے سماجی انصاف کہا جاتا ہے اس کے پیچھے بھی منڈی اور شرح منافع کا حصول ہی کار فرما ہے۔ جو اب 1989 کے بعد  عالمی سرمایہ داری کے بحران سے واضح طور پر ننگا ہو چکا ہے اور اس کے پس منظر سے سرمایہ داری کا بھیانک چہرہ منظر عام پر آچکا ہے ۔ یونان ، پرتگال، سپین ، آئر لینڈ اور اٹلی اس کی منہ بولتی تصویر ہیں ۔

تمام انسانی ترقی میں چھ  بنیادی انسانی نظا موں نے ہی آج تک کی جدید ترین ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ جدیدیت انہی نظاموں کی تعمیر اورپھر تباہی کی مرہون منت ہے ۔ یہ تمام نظام مختلف ادوار میں مختلف شکلوں کیفیتوں اور ہیتوں میں جاری رہے اور اپنی پیداواری ترقی کی صلاحیتوں کو استعمال کر نے کے بعد مرتے رہے اور انہیں کی کھوکھ سے نئے ترقی یافتہ نظام پیدا ہوئے۔ تمام انسانی تاریخ کا یہی ایک بڑا سچ ہے۔ 

ماضی کی نہ صرف تمام مذہبی بلکہ تمام غیر مذہبی تحریکوں بھی اپنے وقتوں کے رائج الوقت زوال پذیر نظاموں کو اکھاڑنے کے لیے یا ان میں بہتری کے لیے  حکمرانوں کے خلاف اصلاحی ، عوامی اور طبقاتی تحریکیں تھیں۔ جیسے سماجی سائنس کی روشنی میں کارل مارکس نے یوں لکھا ہے کہ،، تمام انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ ان قدیم تحریکوں کا بنیادی مقصد اپنے وقتوں کے نظام کی تنزلی سے پیدا ہونے والے  سفاک مظالم کے خلاف عوامی اور سماجی بہتری کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا اگر تھا تو وہ جھوٹ اور منافقت تھی جس کو ملا آج بڑی بے شرمی سے بیان کرتا ہے ۔

 حکمران عمومی طور پر اور مذہبی جماعتیں خصوصی طور پر ظلم کو بڑے محدود اور مخصوص الفاظ میں بیان کرکے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں ۔ کیونکہ ظلم کسی خاص شخص یا گروہ کو مارنا پیٹنا ، غلط عدالتی فیصلے یا پھر حکومت اور ریاست کی طرف سے چند جماعتوں پر ستم  ڈھانا ہی نہیں ہوتا بلکہ لفظ ظلم اپنے اندار بہت وسیع معانی رکھتا ہے ۔ جس میں معاشی، سیاسی اور سماجی مظالم تک کا احاطہ کرتا ہے جو طبقاتی استحصال کی دوسری شکل یا نام ہے جس کو تمام مذہبی جماعتیں اور حکمران کہنے اور سنے سے خوف زدہ ہیں کیونکہ آج اس طبقاتی استحصال اور ظلم کی بڑی وجہ مذہبی رہنما اور انکی جماعتیں صف اول پرحکمرانوں کے ہاتھوں اپنے اقتصادی ، سیاسی اور سماجی مفادات کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور حکمران ان مذاہب اور انکی جماعتوں کو اپنی حکمرانی کے لیے  کسی رنڈی کی طرح  استعمال کرتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں نوٹ  ویکھا میرا موڈ بنے  ۔

آغاز میں نہ صرف تما م مذاہب بلکہ ماضی کی تمام غیر مذہبی تحریکیں بھی اپنے ادوار میں سماجی مظالم کے خلاف بغاوتیں اور تحریکیں ہی تھیں ۔ لیکن جب یہی مختلف مذاہب کے پیشوا حکمران بنے اور سماج کو ایک خاص حد تک اصلاحات سے  ترقی دینے کے بعد ان میں سماجی ترقی کی گنجائش ختم ہو گی تو انہوں نے اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے عوام پر وہ تمام ظلم ڈھائے جس کی اس سے پہلے تاریخ میں مثال نہیں تھی انہوں نے وہی کرنا شروع کر دیا جو ماضی کے حکمران کیا کرتے تھے ۔ تمام حکمران بشمول مذہبی جو طبقاتی ظلم کے خلاف علمبردار تھے اب اس کے داعی بن چکے تھے ۔ ان کا نظام اور اصلاحات  سماجی ترقی سے قاصر تھا اور یہ نئے نظام کو راستہ دینے کے لیے تیار نہ تھے سماجی پسماندگی عوام کو نئے نظام کے لیے ایک بار پھر ابھرنے لگی بغاوتوں اور سرکشیوں کا آغاز ہوا ۔ ماضی کے بت ایک بار ٹوٹنے لگے اور پاش پاش ہوگے ۔ عوام نے اپنے آباواجدا کی انقلابی روایات کو زندہ کیا اور اقتدار سے چمٹے حکمرا ن طبقے کو مٹا ڈالا  ۔ یہ ایک ان مٹ  تاریخی حقیقت ہے کہ کبھی بھی کوئی حکمران اپنی مراعات اور اقتدار سے رضا کارانہ دست بردار نہیں ہوا ۔ اس لیے اس بار بھی عوام نے  اپنی طبقاتی طاقت سے ماضی کے خداوں کو تاریخ کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ ہمیں جو مذاہب آخیری ، مقدس اور ناقابل شکست دیو ہیکل نظر آتے تھے مٹی کی ڈھیر ہوگئے ۔ مرتے نظاموں کی بالائی سطح پر منظم تہذیب  و اخلاقیات  نے مرنے سے پہلے اپنی زندگی میں ہی اپنے ورثے نئے نظاموں  اور تہذیب کو اپنی ہی کھوکھ میں پروان چڑھایا جس نے  رائج الوقت نظام کے بوڑھے اور کمزور ہونے پر خود اپنے کندھوں پر اس کی لاش  اٹھاکر ماضی کے قبرستان میں ہمیشہ کے لیےدفن کردیا ۔

یورپ کی سماجی ترقی کی بنیادوں میں بھی عیسائیت  کا لہو ہے ۔ آج کی یورپی ترقی تب تک ممکن ہی نہیں تھی جب تک پوپ اور عیسائی بنیاد پرستوں کو مٹا نہ دیا جاتا جو نا صرف ترقی کو ہی برا نہیں کہتے تھے بلکہ اس کے خلاف صف آر بھی تھے اس لیے کسی بھی ترقی کے لیے انکا   صفایا لازمی تھا جو ہوا ۔ عیسائی اشرفیہ جو یورپ میں جاگیرداری کی آخیر کڑی تھی اس کے بعد سرمایہ داری نے ٹوٹے پھوٹے سماج کو جوڑا عیسائیت کی  غلاظت  کو صاف کیا سیکولر  قومی ریاست کی بنیاد رکھی، انسانی بنیادی اور جمہوری حقوق کا اجرا کیا، زمینوں کی تقسیم کی، صنعت کاری کو ترقی دیکر جدید سماجی اور ریاستی ڈھانچے سے  تاریخی ٹھوس معاشرتی ترقی کی ۔اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک قوم ، ایک زبان ، ایک ثقافت ، کو پیدا کیا جس کا نام تھا سرمایہ دارانہ نظام  ۔ مذہب کے روپ میں جاگیرداری کے خاتمے نے جہاں قومی سرمایہ دارانہ ریاست کو جنم دیا وہاں پھر اس میں منڈی کے محدود ہونے سے جنم لینے والے بحرانوں، نے عالمی منڈی کی راہ ہموار کی اور آج کے مالیاتی نظام نے بڑھتے بڑھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں  لے کر ایک گلوبل ویلیج کی بنیاد رکھی  ۔

انسانی تاریخ کے مختلف معاشی نظاموں کی مختلف کیفیتوں نے اپنی بیرونی سطح پر مختلف سوچوں ، نظریات ، عقائد، مذاہب اور ان میں مسلسل تبدیلیوں کو جنم دیا ۔ کیونکہ سماجی حالات ہی شعور کا تعین کرتے ہیں اور روز باروز تبدیل ہوتی سماجی حالت نے شعور میں مسلسل ارتقار کو ترقی دی جس سے انسانی معاشروں میں بہت سے نظریات اور مذاہب بنتے اور ٹوتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کوئی بھی مذہب اپنی کلاسیکل شکل میں موجود نہیں اور نہ ہی رہ سکتا تھا کیونکہ ارتقا ہر جمود کو فنا کر دیتا ہے۔

ہندو ازم سے پہلے کے تما م مذاہب میں خدا مونث تھا۔ کیونکہ سماجی پیداوار کی محنت میں ابھی مردانہ طاقت کا استعمال نہیں ہو تھا ۔ پیداوار شکار اور بچوں کو تصور کیا جاتا تھا اور اس کا ماخذ عورت تھی اور یہ  عورت شکار بھی کرتی تھی جس پر قبائل کی زندگیوں کا انحصار ہوتا تھا ۔ پیداوار کا ماخذ عورت ہونے کی وجہ سے عورت معاشرے کی حکمران ٹھہرائی گئی۔ یہ عورت کی حاکمیت کا زمانہ تھا اسی لیے خدا بھی فی میل تھا اور دیویاں خدا ہو کر تیں تھیں ۔ لیکن جب انسانی ضروریا ت کے زرایع پیداوار  میں تبدیلی ہوئی اور زمین پیداوار کا زریع بنی تو مرد کی طاقت کی ضرورت درکار ہوئی تو اس سے عورت کی حکمرانی کا دور کمزور ہوتا گیا اور آخیر کار ختم ہوکر مکمل مر د حاکمیت کے دور کا آغاز ہوا جس نے خداوں کی جنس کو بھی بدل دیا ۔ تمام ماضی کے خدا اب مونث سے مذکر ہوچکے تھے یعنی عورت سے مرد ہو گے ۔

ہندو ازم اسی انسانی محنت کی تقسیم کا عبوری عرصے کا مذہب ہے اس لیے اس میں دیوی اور دیوتا دونوں ملتے ہیں لیکن ہندو ازم کے بعد مکمل مرد حاکمیت کا زمانہ آ چکا تھا اس لیے اسکے بعد تمام مذاہب میں خدا صرف مرد تھے یعنی اب صرف مردانہ  خصو صیات کا حامل ہی خدا ہو سکتا تھا ۔  آج دنیا کے جدید مذاہب میں خدا مرد ہی ہیں  اور اس کے بنائے پیغمبر بھی یعنی مذکر ہیں مونث نہیں ۔ آج جب بھی کوئی  فرد کہیں بھی کسی  بھی قسم کا مذہبی دعوے کرتا ہے تو وہ بھی مرد ہی ہوتے ہیں کیونکہ مردانہ حاکمیت نے عورت کی سماج اور مذہب میں گنجائش ختم کر دی جو عورتوں کھبی مقدس ہوا کرتیں تھیں آج ناپاک اور شر تھرائی گئی ہیں ۔

علامہ اقبال بھی ایک سماجی عبوری دور کے روائتی شاعر یا دانشور تھے جن کے ہاں ہر قسم کی بنیاد پرستی بھی ملتی ہے اور اس کے خلاف بغاوت بھی یہ رجعت پرست بھی ہیں اور بائیں بازو کے دل داد بھی لیکن انکا کوئی ایک مستقل نظریہ اور سوچ نہ تھی وہ کبھی مشرق سے متاثر ہیں تو کھبی مغرب سے ان کی یہ مبہم شعوری کیفیت ٹھوس سماجی عبوری دور جو کہ متذبذب تھا کی غماز ہے  جس وجہ سے  وہ کھبی  جواب شکوہ لکھ کر شکوہ کو مسترد کر تا ہے تو کھبی مارکس کو پیغمبر قرار دیتا ہے ۔

تمام انسانی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ سماجی حالات شعور کی تعمیر اور تعین کرتے ہیں ۔ آج ترقی پذیر ممالک میں عورت جتنی محکوم ہے ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہے کیونکہ جدید زرائع پیداوار میں انسانی محنت کی طاقت کا استعمال کم ہونے سے مردانہ حاکمیت کمزور ہوتی گئی اور ہوتی جارہی ہے لیکن سرمایہ داری کے بحران ترقی یافتہ  ممالک  میں بھی عورت پر عذاب بن کر ٹوٹ رہے ہیں اور عورت کی مکمل آزادی میں آج ایک بڑی روکاوٹ ہیں ۔

یورپ کی ابتدائی سرمایہ داری نے جہاں مذہب کو ماضی کے قبر ستانوں میں  دفن کر دیا تھا ، نظام  کے بحرانوں سے سماجی ابتری نے ان بے بس خداوں کو پھر زندہ کردیا جہاں پہلے مذہب صرف نام کے تھے اب انہیں ریاستی سرپرستی حاصل ہو چکی ہے ۔ جیسے ،، یوہوا کے گواہ ،، عیسائیت میں ایک نیا فرقہ خود امریکی حکمرانوں کی پشت پناہی سے رواج پا رہا ہے ۔ اس پر بے شمار ریاستی سرمایہ کاری بھی ہو چکی ہے۔ اسی طرح  پاکستان سے باہر احمدی جماعت اور ایران سے باہر بھائی فرقے کو مغربی ریاستیں بہت سپورٹ کرتی ہیں ۔ جس طرح اہل حدیث کو سعودی عرب اور اہل تشیع کو ایرانی حکمران اپنے اپنے مالیاتی  مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اسی طرح سامراجی حکمران مظلوم فرقوں اور مذہیب کو طاقت ور مذاہب اور فرقوں کے خلاف استعمال کی غرض سے سرپراستی کر کے اپنی عالمی حکمرانی کو قائم کرتے ہیں ۔

نظام زر کے  حکمران اپنی مراعات اور اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے مردار خداوں کو قبروں سے اکھاڑ لائے ہیں ۔ جس سے آج کی سماجی ترقی جو انسانی محنت کا نتیجہ ہے ایک بار پھر تنزلی کی طرف بڑھ رہی ہے یونان، پرتگال، سپین ، اٹلی کی انتہائی ریاستی کٹوتیاں سماج کو زوال کی طرف دھکیل رہی ہیں جس سے یورپی اتحاد خطرے میں ہے ۔ پاکستان میں بجلی، پانی، گیس، کی لوڈشیڈنگ ، بے روزگاری، صحت، علاج، تعلیم، صفائی کا ناپیدا ہونا پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیل رہا ہے جس کے خلاف ایک بار پھر طبقاتی جدوجہد کی جنگ کا  آغاز ہو رہا ہے ۔ جس کو تباہ کرنے کے لیے حکمران آج مذایب اور دہشت گردیوں  کو استعمال کر رہے ہیں تاکہ حقیقی عوامی جدوجہد کو روکا جاسکے ۔

مذہب بذات خود کوئی ضابطہ حیات اور نظام نہیں ہے یہ ماضی کی اخلاقیات ہے جو آج پاکستان اور تمام دنیا میں سرمایہ داری کے ظلم کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کیں جارہیں ہیں ۔ کیونکہ اگر ہم نام نہاد اسلامی ریاستوں کو سنجیدگی اور آنکھیں کھول کر دیکھیں جس میں سعودی عرب ، کویت ، ایران ، سوڈان اور اسرائیل یا پھر پاکستان شامل ہیں ۔ یہاں حقیقت میں سرمایہ داری نظام ہی ہے جس پر اسلام کا  لیبل لگا ہے ۔ جس طرح سرمایہ دارانہ جمہوریت یا آمریت کوئی الگ نظام نہیں ہے بلکہ مارکیٹ اکانومی کو قائم رکھنے کے سیاسی طریقے ہیں اس طرح غریب اور محکوم مسلمانوں کو بے وقوف بنا نے کے لیے اسلامی نظام یا اسلامی جمہوریت جس کا اسلام میں آج جیسا  تصور  بھی  نہیں ہے کا نعرہ لگایا جاتا ہے تاکہ زر کے رشتوں کے خلاف عوامی اور طبقاتی تحریک کو تباہ کیا جاسکے ۔

جہاں بھی منڈی کا نظام ہوگا اس کا مقصد منافع نہیں بلکہ شرح منافع کا حصول ہوگا یہاں نجی ملکیت کی ہوص ہوگئی ۔ اس کی بالائی سطح پر کوئی سا بھی سیاسی ڈھانچہ کیوں نا ہو ، وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی اس سے  کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ اس بالائی ڈھانچے سے معاشی اور سماجی نظام کے کردار میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی اور طبقاتی استحصال مسلسل جاری رہتا ہے بلکہ اس پر مذہبی لیبل مزید خوفناک بنا دیتا ہے ۔ موجودہ نظام اور اس کی ذلتوں کے خلاف صرف طبقاتی جنگ سے ہی  فتح یاب ہو ا جا سکتا ہے ۔

طبقاتی لڑائی کوئی نئی جنگ نہیں ہے یہ تمام انسانی تاریخ میں ہمیشہ ظلم وجبر کے خلاف عوام کی ہر تعصب سے بالا متحدہ لڑائی ہے ۔ جو پہلے غلاموں نے اپنے آقاوں اور سرداروں کے خلاف لڑیں اور فتح مند ہوئے پھر بے زمین کسانوں اور مزاروں نے جاگیردار حکمرانوں کے خلاف لڑیں اور جتیں ۔ یہی جنگ روس میں بالشویکوں نے سرمایہ دار حکمرانوں کے خلاف  جیتی جس کو سٹالنزم نے برباد کر دیا ۔ لیکن سرمایہ داری کے خلاف سوشلزم کے علاوہ کو ئی اور متبادل نہیں ہے اس لیے آج پھر سوشلزم کے لیے عوامی تحریکیں عالمی منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہیں  اور جرمنی کے پبلیشر  کے پاس کارل مارکس  کی کتاب سرمایے کے تمام ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں۔

 عوامی جنگ آج پھر از سرے نو  منظم ہو رہی ہے لیکن آج کی  اس طبقاتی جنگ کو مزدور لڑیں گئے سامراجی اور سرمایہ دار حکمرانوں کے خلاف ایک عوامی  انقلاب کے لیے ۔ کیونکہ اس کے علاوہ آج اس زمینی کرہ ارض پر بسے والے انسانوں کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ بربادی کے سوائے کچھ نہیں ہے جو آج ہر طرف پھیل رہی ہے۔ آج سے پہلے بھی اس جدوجہد کا فیصلہ مظلوم اور محکوم طبقے ہی کیا کرتے تھے اور اپنی طبقاتی طاقت کا لوہا منوایا تھا آج بھی  استحصال زدہ عوام کو ہی لڑانا ہے اپنی عوامی  جیت کے لیے یا پھر بھیانک بربریت کے لیے تیار ہونا ہے بے شک آخیری جیت عوام کی ہی ہو گی۔

مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

 

 

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh