تحریر ۔ دانیال رضا

ایک فیصد کے پاس ننانوئے فیصد لوگوں سے زیادہ دولت اور سرمایہ ہے ۔پانچ سو ملٹی نیشنل دنیا کی نوئے فیصد معیشت کی مالک ہیں ۔ یورپ کے د س افراد کے پاس یورپ کا بانویں فیصد سرمایہ ہے ۔ یقیناًجہاں دولت اور غریب کی اتنی بڑی خلیج ہو گئی وہاں امن، استحکام، خوشحالی اور سکون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے اور آج یہی کچھ دنیا بھر میں ہر طرف ہو رہا ہے جس سے اب مغرب اور یورپ بھی محفوظ نہیں رہا کیونکہ موجودہ عالمی منڈی یا گلوبلائزیشن میں دنیا کے کسی بھی ایک ملک کے حالات واقعات لازمی طور پر دوسرے ممالک پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ، جس طرح ایک امریکی بینک لہمین کے دیوالیے نے دنیا بھر کی معیشت اور سماجوں کو ہلا کر رکھ دیا اور عالمی سرمایہ داری اس بحران سے آج بھی باہر نہیں آسکی ، تیونس کی عوامی تحریک نے پورے عرب اور مڈل ایسٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یہ انقلابی تحریک عرب بہار کے نام سے جانی جاتی ہے۔

افغانستان کے بعد عراق اور پھر شام میں سامراجی جارحیتوں نے جنوبی ایشا اور مشرق وسطی کا امن واستحکام برباد کر ڈالا بے شک یہ جنگیں جینی زیادہ بھیانک اور خون ریز تھی اور ہیں یہ اتنی ہی منافع بخش بھی ہیں پچھلے سال صرف جرمنی نے اسلحہ کی فروخت سے سات اعشایہ پانچ بلین یوررو کمائے جو پچھلے سال کی نسبت تیرہ فیصد زیادہ ہے ۔ جرمنی کا شمار دنیا کے چار بڑے ترین موت کے سوداگروں میں جو دنیا میں ہر سال سب سے زیادہ جنگی ہتھیار سیل کر کے اندھا نفع کماتے ہیں ان میں ہونے لگا ہے خاص طور پر جرمنی کے ٹینک اور جنگی آب دوز دنیا میں بے مثال ہیں امریکہ اور برطانیہ بھی ایسی جنگی آب دوز نہیں بنا سکتا جو مغربی جرمنی کے غریب ترین صوبے شلس ویگ ہولشٹائن کے درالحکومت کیل شہر میں بہتے مشرقی سمندر کے کنارے واقع ایچ ڈی ای کی فیکٹری میں تیار ہوتیں ہیں جہاں آج بھی ہر سال انیس سو اناتیس کے جرمن انقلاب کی یاد میں سرخ فوج کا مارچ کیا جاتا ہے اور انقلاب کی یاد کا جشن منایا جاتا ہے ۔

امریکہ کی اسلحہ کی برآمدات میں پچیس فیصد اضافہ ہوا اور اس نے دنیا کے نوئے ممالک کو جنگی ہتھیار فروخت کر کے دنیا میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی جبکہ روس نے اپنی اسلحہ کی پچیس فیصد زائد برآمدات سے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ تیسری پوزیشن چین اور چوتھی جرمنی نے حاصل کی ان ممالک نے زیادہ تر اسلحہ مشرق وسطی میں فروخت کیا جس کو آج امریکہ اور عالمی طاقتوں کی مفاداتی لڑائی نے خاکستر کر دیا ہے ۔ 

جہاں سامراجی ممالک نے دنیا میں جنگوں کی قتل گری سے بے شمار منافعے کمائیں وہاں ان ممالک کی عوام نے اسکے بڑے مہنگے اور جان لیوا(لندن اور پیرس حملے)خمیازے بھگتے ایک طرف یہ تمام جنگیں عوام کے ٹیکسوں سے لڑی گئیں لیکن موٹا مال اسلحہ ساز اجارہ داریوں نے بنایا اور آج پھر سستی لیبر حاصل کرنے کے لیے مہاجرین کو عوامی ٹیکسوں پر خوش آمدید کہا گیا ۔لیکن آج یہ سرکاری خوش آمدید کے نعرے اپنے الٹ میں بدل ہو چکے ہیں اس لیے کہ کوئی دولت مند یا ملٹی نیشنل ان غریب مہاجرین کی مالی مدد کو تیار نہیں ہے اور صرف عوامی ٹیکسوں پر ایک ملین سے زیادہ مہاجرین کا جرمنی میں انتظام کرنااتنا آسان نہیں ہے جنکی رہائش ، خواراک، لباس ، تعلیم وتربیت کے علاوہ علاج کی سخت ضرورت ہے ۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق عراق اور شام سے آنے والے ہر بچے اور بڑے نے انسانوں کا قتل اور ان کے زمین پر بکھرے اعضا دیکھیں ہیں جنکو نفسیاتی اور جسمانی علاج معالج کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے دس ملین یورو سے زائد کی رقم درکار ہے ۔ 

جرمنی کی کانسلر مسز مائیکل نے ہی یورپ میں پہلی بار یورپی سرحدوں کو اپنی محنت کی منڈی میں افرادی قوت کی ضرورت کے لیے غیر ملکیوں کے لیے کھولا تھالیکن شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ بھوک اور موت کا خوف کتنا ہولناک ہو تا ہے صرف چند ماہ میں ہی اتنے مہاجرین یورپ آگئے جتنے آج تک کھبی یورپ نہیں آئے تھے جس سے یورپی حکمران بوکھلا گئے اور شنکن قوانین سے بالا اپنے اپنے ممالک کو مہاجرین سے محفوظ کرنے کے لیے یورپی کمیش کی مخالفت کے باوجود اپنی سرحدوں پر چیک پوسٹیں قائم کر لیں اور سرحدوں پر لوہے کی بلند و بالا باڑ لگنے لگے ۔ آج یورپی حکمرانوں کی مہاجرین کو روکنے کی تمام تر کوشیشوں کے باوجود بھی ہر روز تین ہزار سے زائد تارکین وطن ترکی سے سمندر کے راستے یونان میں داخل ہو رہے ہیں اس کے باوجود کہ یہ سمندر اب تک کئی ہزار تارکین وطن کی جان لے چکا ہے ۔ ان مہاجرین میں شام ،عراق ، افغانستان کے علاوہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔

ترکی میں دو ملین سے زائد شامی مہاجرین ٹینٹوں میں بد حال زندگی گزر رہے ہیں جو تمام کے تمام یورپ آنا چاہتے ہیں جن میں سے زیادہ تر جرمنی آنے کے خواہش مند ہیں۔ جرمنی کی کانسلر مسز مائیکل نے ترکی کے صدر اور وزیزاعظم سے کئی بار ملاقات میں ترکی سے یورپ آنے والے مہاجرین کو روکنے کے لیے کہا لیکن ترکی کے حکمران یورپی یونین سے پانچ بلین یورو کی ڈنمانڈ کر رہے ہیں یورپ نے تین بلین یورو تک کی آفر کی ہے لیکن اردغان پانچ بلین پر بضد ہے اور بلیک میل کر رہا ہے کہ اگر پانچ بلین یورو جلد نہ ملے تو پچھلے سال ایک ملین مہاجرین یورپ بھجے تھے اس سال دو ملین مہاجرین یورپ بھجوں گا ۔ یورپ کا اپنی سرحدیں بند کرنے ،چیک پوسٹین دوبار قائم کرنے اور اب نیٹو افواج بھی مہاجرین کو روکنے کے لیے ترکی اور یونان کے درمیان سمندر کی نگرانی کر رہی ہیں لیکن بھوک اور موت کا خوف ان سب سے بہت بڑا ہے اس لیے مہاجرین کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ 

برسلز میں یورپی حکومت یا کمیشن مہاجرین کو تمام یورپ میں مناسب تعداد سے تقسیم کرنا چاہتا ہے تا کہ کسی ایک یا چند ممالک پرمہاجرین کا بوجھ نہ پڑے لیکن کوئی بھی یورپی ملک ان مہاجرین کو جرمنی ، آسٹریا ، اور سویڈن سے لینے کو تیار نہیں ہے جن میں زیادہ تر مہاجرین پہنچے ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد کے آنے سے جرمن حکمران سب سے زیادہ یورپی یونین میں تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں اور کوئی دوسرا ملک مہاجرین لینے کو تیار نہیں ہے ۔اب تو فرانس نے بھی جو تیس ہزار مہاجرین لینے تھے پیرس حملوں کے بعد اس نے بھی انکار کر دیا ہے۔ جمہوریہ چیک ، سلواکیہ ، ہنگری اور پولینڈ نے یورپ سے مہاجرین نہ لینے کے لیے اتحاد بنا لیا ہے ۔ آسڑیا ، ڈنمارک ، سویڈن نے اپنی سرحدیں مہاجرین کے لیے بند کر دی ہیں اور چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ جاری ہے ۔مشرقی یورپ میں لوہے کی تاروں کی اونچی اونچی باڑیں لگا کر مہاجرین کو روکا جا رہا ہے ۔اور اب تیزی سے پورے یورپ کے گرد لوہے کی باڑیں لگائیں جا رہی ہیں تاکہ تارکین وطن کے سیلاب کو روکا جا سکے اسی لیے برسلز نے کہا ہے کہ ان انٹی شنکن اقدامات سے آزاد یورپ یا شنکن یورپ کا مستقبل سخت خطرے میں ہے اگر اب بھی عملی طور پر دیکھا جائے تو شنکن یورپ چند ماہ قبل والا شنکن یورپ نہیں ہے کیونکہ یورپی شہریوں کو ایک سے دوسرے ملک جانے کے لیے پاسپورٹ چیک کرانا پڑتا ہے جس کا پہلے تصور ختم ہو چکا تھا ۔

یونان کے سمندر کے کناروں پر ڈوبنے والے افراد کو بچانے والی سرکاری ٹیموں کو ہٹا لیا گیا ہے اور دوسری غیر سرکاری افراد اور رفاہی تنظیموں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ سمندر کے کنارے آنے والے کسی مہاجر کو نہیں بچائیں گئے اور اگر کوئی بچائے گا تو اس پر عدالت میں ایجنٹ ہونے کا کیس چلایا جائے گا ۔ 

حالیہ برسلز میں یورپی اجلاس جو مہا جرین کی ترکی سے یورپ میں آمد کو روکنے اور برطانیہ کو مزید یورپین یونین میں رکھنے کے لیے ٹوری پارٹی کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو راضی کرنے کے لیے تھا ۔ جس میں یورپی یونین نے برطانیہ کو خاص حیثیت سے قبول کر لیا اور یورپین یونین کے چند قوانین سے مستنی قرار دے دیا جس کی رو سے اب برطانیہ جانے والے یورپی یونین کے شہریوں کو پانچ سال تک برطانیہ میں کوئی سرکاری ہلپ یا سوشل بینیفٹ نہیں ملے گا جو پہلے تین ماہ کے بعد ملتا تھا۔ اس اجلاس کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اب میں برطانوی عوام کو یورپی یونین میں مزید رہنے کے لیے قائل کر سکتا ہوں لیکن یہ اب بھی اتنا آسان نہیں ہوگا اور لندن کے مہر نے یہ درست کہا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کی کانونی بن کر رہ گیا ہے۔ جبکہ اس یورپی اجلاس میں ترکی وزیراعظم انقرہ میں بم دھماکے کی وجہ سے نہ آسکے اس لیے اب مہاجرین پر یورپی اجلاس مارچ کے شروع میں ہوگا جس میں ترکی شرکت لازمی ہے کیونکہ ترکی ریاست کی مداخلت کے بغیر ترکی سے یورپ داخل ہونے والے مہاجرین کو نہیں روکا جا سکتا ۔

آٹھائیس ممالک پر مبنی یورپ شنکن زون جس کی آبادی پانچ سو ملین ہے اور صرف ایک ملین مہاجرین کی آمد پر اتنا شور مچانا جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے کیونکہ مہاجرین کو روکنے پر جتنا سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے اور ترکی کو دیا جا رہا ہے اتنے سرمایے سے تمام مہاجرین کو یورپ اور سکینڈینویامیں با آ سانی آباد کیا جا سکتا ہے ۔ یورپ میں مہاجرین کے خلاف یورپی حکمرانوں اور میڈیا کا پراپیگنڈہ اصل میں مہاجرین کے نام پر یورپی عوام پر مزید ٹیکس اور ریاستی کٹوتیوں کا بوجھ ڈالنا ہے تاکہ سرمایہ دار مزید منافع کما سکیں اور یورپ میں منڈی کے جمود کو عوام کی قیمت پر توڑا جا سکے ۔ مہاجرین یورپ پر بوجھ ہیں کے زہیرے پراپیگنڈے سے فسطائی قوتیں مضبوط ہوئیں ہیں جن کے خلاف کوئی میسر اقدامات نہیں کیے جا رہے کیو نکہ یورپی حکمران یورپی عوام کی تفریق اور تقسیم سے فائدہ اٹھانا چایتے ہیں اور عوامی مزاحمت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام دشمن پالیسوں کو تمام یورپ میں آسانی سے قابل عمل بنایا جا سکے جس میں پنشن کی عمر ستاسٹھ سال کرنا،پنشنوں میں کٹوتیاں ، ٹھیکے داری فرموں کی بھرمار ، کم اجرات پر کام، میڈیکل اور سوشل سہولتوں میں کمی،پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی اور انہیں بے شمار رعائتیں اور چھوٹیں دینا ہے جبکہ عوام کے معیار زندگی کو گرانا مقصد ہے تاکہ یہ کم اجرت پر بھی کام کریں ۔

اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو شام ، عراق ، افغانستان کو برباد کرکے وہاں کی عوام کو ذلت کی زندگی پر مجبور کرنا اور مہاجرین بنانا انہی عالمی سامراجی قوتوں کی لوٹ مار اور مداخلت کا نتیجہ ہے ۔ افریقہ سے ایشیا تک کی غربت ، دہشت گردی اور تباہی کی یہی طاقتیں ذمہ دار ہیں ۔جنہوں نے براہ راست وہاں کے وسائل کو لوٹا اور اپنے پالتو مقامی ایجنٹوں کے زریعے وہاں کی عوامی اور انقلابی تحریکوں کو کمزور اور کنٹرول کیا ۔ اسلحہ کی سیل، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قیام کے زریعے ہمیشہ کے لیے بھوک ، غلامی اور موت فروخت کی اور غریب ممالک کے امیر حکمرانوں نے اسے اپنی عوام کے لیے بھاری قیمت پر خریدا ہے اور خرید رہے ہیں ۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 

یورپ میں مہاجرین کے خلاف میڈیے اور حکمرانوں کا پراپیگنڈہ فوار بند کیا جائے ۔اور مہاجرین کو وہ تمام سہولیں اور حقوق فراہم کیے جائیں جو عام یورپی شہری کو میسر ہیں اور اس کے لیے تمام بڑی بڑی فرموں ، اجادارویوں اور امیروں پر بلند شرح کا ٹیکس لگایا جائے ۔

جرمنی میں کم از کم اجرت فی گھنٹہ جو ساڑھے آٹھ یورو ہے بڑھا کر سولہ یورو کی جائے ۔ اور تمام تارکین وطن کو بھی یہی اجرت ادا کی جائے ۔ ہم حالیہ سرکاری آرڈینش کی سخت مذمت کرے ہیں جس میں مہاجرین کو ملازمت میں کم از کم اجرت کے قانون سے آزاد قرار دیا گیا ہے ۔یہ محنت کا ایک ا ستحصالی اور کالا قانون ہے جس کے تحت جرمن سرمایہ دار مہاجرین کو اپنی مرضی کی کم ترین اجرت ادا کریں گئے ۔ اس سے جرمنی میں مہاجرین کی سستی لیبر مقامی مہنگی لیبر سے مقابلہ کرئے گئی اور فرمیں مقامی مزدوروں کی بجائے مہاجرین کو بھرتی کرکے کم اجرت دیکر خوب مال بنائیں گئے ۔ اس سے مقامی محنت کشوں کی سودا بازی کی قوت کمزور ہوگئی جس سے تارکین وطن اور مقامی مزدوروں میں تضاد اور ٹکراو جنم لے گا اور جرمنی میں متحدہ مزدور تحریک کمزور ہوگئی اور اسے سخت نقصان ہوگا۔

یورپ میں تمام نسل پرست تنظیموں پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو جمہوریت ، انسانی حقوق ، امن و استحکام اور انسان دوستی کی دشمن ہیں ۔

تمام یورپ میں تمام مذہبی جماعتوں کے تمام اثاثے اور اکاونٹ سرکاری تحویل میں لے کر ان پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو سکولوں اور سماج میں تفرقہ بازی اور نفرت کی تعلیم و تبلیغ کے داعی ہیں ۔ 

نسل پرست ، مذہبی بنیاد پر ست اور فسطائی قوتوں کو شکست دینے کے لیے ، یورپ کے اتحاد اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر عوام دوست اصلاحات کی جائیں جس میں، پنشن کی عمر کو کم کرکے پچپن سال کیا جائے اور کم از کم پنش دوہزار پانچ سو یورو ماھانہ ادا کی جائے ۔ کام کے اقات کار ماہوار ایک سو ساٹھ گھنٹے سے کم کر کے ایک سوچالیس گھنٹے کیا جائے اور ایک دن میں چھ گھنٹے کام کے اوقات مقرر کیے جائیں ۔ زیادہ سے زیادہ سرکاری سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے ۔ تمام ٹھیکے داری کی فرموں کو بند کیا جائے اور مستقل ملازمتوں کو قائم کیا جائے ۔ محنت کش عوام کی خوشحالی ہی یورپ کے اتحاد اور استحکام کی ضمانت ہے جو سرمایہ داری کے تحت اب ممکن نہیں ہے۔ یورپ کے اتحاد اور استحکام کو منڈی کے نظام سے خطرہ ہے کمزور اور بے بس مہاجرین سے نہیں۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh