تحریر ۔ دانیال رضا

اسلام آباد پریڈ گراونڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جب عمران خان یہ کہا رہا تھا کہ ججوں نے یہ کہا ہے وہ کہا ہے ، مجھے امید ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اس کے اپنے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے اس کے جملے اعتماد سے خالی تھے شاید اسی لیے عمران خان با ر بار اللہ کا نام لے کر کسی اور کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو یقین دلا نے کی کوشیش کر رہا تھا کہ شاید اس بار کچھ تبدیلی ہو ۔ ۔ ۔ عدالتیں کھلے دندناتے سیاسی چور ڈاکوں اور لٹیروں کو پکڑیں ۔ ۔ ۔ لیکن جو خود موجودہ نظام اور ریاستی اداروں سے اتنا نا امید اور مایوس ہو کر بھی ان پر اعتماد کرئے وہ کیا نیا پاکستان بنائے گا؟ عوام کی کیا امید بنے گا ؟کیا تبدیل اور کیسے کرئے گا ؟کیونکر قیادت کرسکے گا ؟کیونکہ عمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کی کال واپس لے کر حکومت کے خلاف جیت ہوئی بازی خود ہار دی ہے اس لیے کہ طاقت کا استعمال ریاست اور حکومت کا آخیر حربہ ہو تا ہے  ۔ جس پر بہت سے باقاعدہ دانشواروں نے ،،کھیل ختم ہو گیا ،، کا اعلان کر دیا لیکن کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ۔کیونکہ پارٹی تو ابھی شروع ہوئی جس میں نہ صرف حکمرانوں اور سیاسی دوکاندارمزید دست گریباں ہوں گئے بلکہ ایک بار پھر ریاستی اداروں کی ناانصافی اور استحصال پر مبنی کردار ننگا ہو گا سیاسی انتشار اور عدم استحکام کے ساتھ ساتھ عدالتی اور ریاستی خلفشار بھی بڑھے گا ابھی تو انصاف کی دیوی کا بازار لگے گا۔ اور قانون کا گورکھ دھندہ شروع ہو گا جس میں جو جیتا وہ سکندر( اور نون لیگ اس کھیل کے پرانے کھلاڑی ہیں )۔ جب تک ہم سطحی اور رٹے رٹائے تجریہ کریں گئے تو اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ ہم مفاد پرستی یا انتہا پسند ی کی کھائی میں نہ جا گریں ۔ پی ٹی آئی کی تحریک اور تنظیم پر کو ئی ایک تجزیہ تب تک ہم درست نہیں کر سکتے جب تک پی ٹی آئی کی ٹھوس سماجی بنیادوں اور پاکستان کے معروض اور داخلی حالات کو سائنسی طور پر دیکھا اور پرکھا نہ جائے کیونکہ سائنس میں کھبی کوئی واقعہ اپنی ضرورت کے بغیر جنم نہیں لیتا اور اس واقعہ کے پس منظر میں بہت سے عوامل بہت عرصے سے متحریک ہو تے ہیں ۔

عدالیہ

آج ہر ایک کو معلوم ہے کہ لیٹرے اور بداعنوان کون ہیں عوام تک کو تو ہر چیز معلوم ہے ۔ لیکن بڑی حیرت کی بات ہے کہ صرف انصاف کرنے والوں کو اس کا علم نہیں ہے (جانے نہ جانے گل نہیں نہ جانے ۔ باغ تو سارا جانے ہے )اور وہ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی سال اور دہائیاں لگا دیتے ہیں ۔ اس لیے موجودہ طبقاتی نطام میں اور اسکی عدالتوں میں فیصلے انصاف کے مطابق نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دی اور ہر فوجی آمریت اور عوام پر ہر بربریت کو عین قانون اور عین آئین قرار دیا ۔ ایوب خان سے لے کر ضیا الناحق اور مشرف آمریت تک کو انہی عدالتوں اور انکے ججوں نے قانونی اور آئینی جواز فراہم کیا ۔ دھاندلی الیکشن سے لے کر ریونڈ ڈیوس اور پرویز مشرف کو با عزت بری کیا ۔پاکستان میں دولت مندوں اور طاقت وروں کا ہر ظلم اور جرم قانونی طریقے سے ہی ہو تا یا پھر کسی نہ کسی جج کی اس پر مہر ثبت ہوتی ہے ۔ آئین میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ ہر پاکستانی کو تمام بنیادی ضروریا ت زندگی مہیا کرنا ریاست کی اول ذمہ داری ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا نہ عدالتیں نہ پارلیمنٹ اور نہ ہی اپوزیشن شاید اس لیے کہ یہ انکے مسائل نہیں ہیں یا پھر انکے پیٹ بہت بڑے ہیں کہ یہ سب کچھ خود ہی ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ نطام کی عدالتوں اور ججوں سے کسی انصاف کی امید کرنا ماسوائے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے کچھ نہیں ہے اور یہ اپنے ہی قاتلوں سے انصاف کی خواہش ہے ۔ ججوں کی بحالی کی تحریک کے بعد کیا فرق پڑا ماسوائے پاکستانی عوام کی زندگیاں پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہو گئیں ہیں جن میں کئی دہائیوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔آئین اور قانون غربیوں کے لیے ایک مقدس کتاب اور مضبوط جال ہے جس میں وہ پس کر اور پھنس کر رہ جاتے ہیں جبکہ امیروں کے لیے یہ کسی ٹوالٹ پیپرز سے زیادہ اہمیت اور حیثیت نہیں رکھتا ۔پاکستان کی تمام تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ہمیشہ حاکم وقت نے آئین اور ہر قانون کو اپنے مطابق استعمال کیااور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گاجب تک عدالتیں سڑکوں اور بازاورں میں نہ لگیں جس کے فیصلے قیمتی پوشاکوں میں لپٹے استحصالی تعلیم اور سامراجی ثقافت میں آلودہ سرمایے کے پوجاری جج نہیں بلکہ عام عوام خود نہ کریں۔

میڈیا ۔

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کی سیاست آج میڈئے تک سمٹ چکی ہے اس لیے پی ٹی آئی کی تمام مہم میں سب سے زیادہ میڈیے نے دیہاڑیاں لگائیں ہیں اور خوب پیسہ کمایا ہے کیونکہ دونوں اطراف سے خزانوں کے منہ کھول دئیے گئے تھے ۔ زرائع ابلاغ پر اشتہارات اور سرمایے کی بارش کی گئی ۔پی ٹی آئی کے دولت مندوں کا تو نجی سرمایہ تھا لیکن مسلم لیگ نوں کے پاس تو قومی خزانہ تھا اس لیے دل کھول کر لوٹایا گیا ۔ میڈیا ہمیشہ غیر جابنداری کا رونا روتا ہے لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی تمام میڈیے کی کٹر جانبداری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ۔ اے آر وائے نیوز نے کھل کر حکومت کی مخالفت کی ۔ جبکہ جیو نیوزدربار شہنشاہ کی غلامی میں حکومتی چینل پی ٹی وی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔ تمام میڈیے کا جہاں داو لگا نہیں چھوڑا ۔ دن رات سرکار اور غیر سرکار کا ایسا تماشا برپا کیا کہ غریب عوام کے مسائل دب کر اور انکی کرب ناک زندگی اس میں پس کر رہ گئی ۔اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس مسئلہ کے بعد پاکستان میں دوھ اور شہید کی نہریں بہیں گئں ، یہ اندھیروں سے اجالوں کا ملک بن جائے گا جہاں بے روزگاری اور غربت کا نام و نشان نہیں ہو گا۔ لیکن کل جب عوام اس میڈیے کے نشے سے باہر آئی تو پھر وہی ذلت اور رسوائی ۔سیاسی افق پر میڈے کے زریعے رچایا کیا مصنوعی کرپشن ، لڑائی اور جنگ کے ڈرامے کا اختتام پھر حسب روایت مصالحت اور اور بھائی چارے پر ہوا کیونکہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون یا تمام روائتی پارٹیوں کے پروگرام اور نظرایات میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے ۔ یہ ایک بیمار اور لاعلاج نطام کو جو صحت اور زندگی سے قاصر ہو چکا ہے ۔ یہ تحریکیں اصل میں اس نظام کو بچا نے کے لیے ہیں کیونکہ اب یہ ٹھیک ہونے کے قابل نہیں رہا اور اس کی موت اٹل ہے جس کے متبادل ایک سماجی تبدیلی اور اشتراکی نطام ناگزیر ہے وگرنہ حکمرا ن اور میڈیا کل پھر کسی نان ایشو کو تراش کر ظلم و استحصال کی منڈی لگا لیں گئے۔ کیونکہ یہی انکا دھندہ ہے ۔ لیکن سوال عوام کا ہے ؟ 

پارلیمنٹ ۔

موجودہ نظام میں پارلیمنٹ کے الیکشن کامطلب ہے ۔ عوام کو یہ حق دینا ہے کہ وہ آئندہ پانچ سال کے لیےاپنے اوپر ظلم واستحصال کرنے والوں کا انتخاب کریں ۔ پاکستان کی تاریخ بڑے واضح انداز میں اسے ثابت بھی کرتی ہے ۔اب تک جیتنی بھی سول یا فوجی پارلیمنٹیں آئی ہیں عوام کے مسائل میں اضافہ اور ان کی زندگیاں عذاب ہی ہوئی ہیں ۔اربوں کے الیکشن امیروں کا وہ کھیل ہے جو افلاس زدہ عوام کے زخموں پر تیزاب چھڑکتا ہے کیونکہ 69 سالوں میں ، پاکستان میں الیکشنوں پر جیتنی رقم خرچ کی گئی ہے اس رقم سے پاکستان کو از سرنو جدید سطح پر تعمیر کرکے عوام کی حالت زار کو بھی بدلا جا سکتا تھا لیکن موجودہ طریقہ الیکشن پاکستان کا ایک رستہ ناسوار اور عوام کا استحصال  ہے ۔ کسی بھی عوامی اور سماجی تبدیلی کے لیے موجودہ طریقہ الیکشن سے نجات لازمی ہے جو ہمیں بدلنا ہو گا انتخاب اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپر ہو نا چاہیے ۔ ہر چھوٹے علاقے یا یونٹ کے لوگ اپنے نمائندے براہ راست منتخب کریں اور وہ اپنے میں سے اعلی ریاستی اداروں کے لیے اہکارروں کا انتخاب کر یں اور یہ انتخابات تمام ریاستی اداروں میں ہو نے چاہیے اور عوام جب چاہیے ان سرکاری عہدیداروں کو براہ راست واپس بلانے کا حق بھی رکھتی ہو صرف اسی طرح حقیقی عوامی نمائندے دولت کی ریل پیل کے بغیر منتخب ہو سکتے ہیں اور ہر شخص اس میں حصہ لے سکے گا صرف اسی سے پاکستان میں حقیقی عوامی انتخابات منعقد ہو سکتے ہے۔ آج کا سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی جو عوامی الیکشن اور عوامی پارلیمنٹ کا نعرہ لگاتی ہے اس کے پاس بھی سماجی تبدیلی کے لیے موجودہ پارلیمنٹ اور الیکشن کا متبادل ہے ؟ وگرنہ موجودہ طریقہ انتخاب میں آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا جو آج تک ہو رہا ہے امیروں کے الیکشن امیروں کے لیے عوام کے نام پر عوام پر ظلم واستحصال کے لیے۔ 

پی ٹی آئی کیا ہے؟

پی ٹی آئی کوئی انقلابی پارٹی نہیں ہے جس کا اس کی قیادت خود بھی ہمیشہ اعتراف کرتی ہے ۔ پی ٹی آئی مڈل کلاس کی ایک اصلاح پسند جماعت ہے ۔جو پاکستان کے موجودہ نظام میں اصلاحات کے زریعے یورپی یا ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کی طرز پر تبدیلی و ترقی کا خواب دیکھ اور دیکھلا رہی ہے ۔ یہ کوئی پہلی پارٹی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اصغر خان کی تحریک استقلال بھی کچھ اس قسم کی اصلاحی سیاسی پارٹی تھی جو پاکستان میں مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی تھی اور اصغر خان کے مرنے کے بعد تحریک استقلال بھی ختم ہو گئی۔ اور اس کا ایک خلا موجود تھا جس کو آج پی ٹی آئی پر کررہی ہے ۔ پاکستان میں مسلسل معاشی اور سیاسی بحرانوں نے آج محنت کش طبقے کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کو بھی کچل دیا ہے ۔ عوامی مسائل کے حل میں جب تمام روائتی پارٹیاں ناکام ،اور کوئی دوسرا متبادل دینے سے قاصر ہوجاتیں ہیں تو مایوسی اور ناامید ی ہر طرف پھیل جاتی ہے اور ایک انقلابی پارٹی کی عدم موجودگی میں سماجی بے چینی میں مڈل کلا س کی پارٹیاں جنم لیتی ہیں اور سماجی حالات کی بد حالی کا منتشر وسطحی اظہار کرتی ہیں ۔ درمیانے طبقے کی پارٹیوں کے بہت سے المیوں کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہو تا ہے کہ یہ کسی انقلابی نظریے پر تعمیر نہیں ہوتیں اس لیے انکی کوئی منزل بھی نہیں ہوتی ۔ یہ بھٹکتی سیاسی روحیں ہوتی ہیں ۔ انکے لیڈر انکے ہیرو ہوتے ہیں اور انکی موت کے بعد یہ پارٹیاں بھی اکثر ختم ہو جاتیں ہیں۔ 

یورپ کی سرمایہ داری کی جب مادی ترقی و تعمیر ہوئی تھی وہ دور گزر چکا ہے اور وقت اس سے بہت آگے آ چکا ہے ۔ آج کا وقت تو اس جدید اور مضبوط ترین ترقی و تعمیر کے باجود مغربی مالیاتی نظام پر بہت بھاری اور زوال زدہ ہے عالمی گلوبائزیشن نے جہاں پیداوار کو بہت وسیع منڈی دی جس سے بڑی اور جدید صنعتی ترقی ممکن ہوئی اور پیداوار کی بہتاب نے زائد پیداوار کو جنم دیا ۔ شرح منافع کے لیے یہ ترقی منصوبہ بندی کے بغیر سرمایہ کی انارکی تھی جس نے اس زمینی کرہ ارض کی محدود انسانی منڈی کو سکڑ دیا ۔ جو نظام اس منڈی پر ترقی کر رہا تھا اس کو منڈی کی کمی نے بیک گیر لگا دیا اور بحران امڈ آئے ۔مغربی یورپی ممالک جو کھبی دنیا پر حکمرانی کر چکے ہیں آج زوال پذیر ہیں ۔ یونان سپین ، پرتگال، آئیر لینڈ ، دیوالیہ ہیں اور یورپی امدادی ٹیکوں پر زندہ ہیں یہ صنعت و حرفت اور جدید انفرسٹکچر کے باوجود یہاں کے عوام بے روزگاری ، مہنگائی ، انسانی بنیادی ضروریات کی قلت اور غربت کی گہرائیوں میں دفن ہو چکے ہیں کیونکہ یہاں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہے۔

عمران خان پاکستان میں جس عظیم برطانیہ کی بات کرتا ہے اس کو برطانیہ کے حکمران یورپ کی نو آبادی کہتے ہیں اور ویلز کے رہنے والے یورپ کا ترقی پذیر ملک قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی غلط نہیں ہے کہ دنیا کے امیر ترین ڈاکو چور خا ص طور پر بینکر لندن میں نواز شریف اینڈ کمپنی کی طرح عیاشی کی زندگی گزرتے ہیں اور ویسے بھی دولت مند وں کے لیے تو ہر ملک میں ہی جنت ہوتی ہے چاہیے وہ پاکستان یا پھر افریقہ کا کوئی تباہ حال ملک ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر آپ مرکزی لندن سے باہر جائیں یا سنٹرل لندن کے ساتھ بوسٹین ہی دیکھ لیں تو آپ کا تاج برطانیہ کی عظمت کا تصور خاک ہو جائے گا اور اب بریگزٹ کے بعد عظیم بر طانیہ مزید ذلیل و رسوا ہو گا۔ اس لیے عمران خان کا پاکستا ن کو یورپ یا برطانیہ بنانے کا خواب خواب ہی رہے گا۔ آج کا پاکستان یا تو اشتراکی انقلاب سے یورپ سے بھی زیادہ ترقی یافتہ اور ایڈوانس ہو گا یا پھر موجودہ پاکستان بھی نہیں رہے گا ۔

تحریر ۔ دانیال رضا 

پاکستان پر مزید پڑھنے کے لیے یہ کتابیں پڑھیں۔

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh