تحریر ۔ دانیال رضا

ہالی وڈ کی ایکشن فلموں کے معروف ٹرمینیٹر ہیرو شوارس آرنڈ جو کیلی فورینا کے سابقہ گورنر بھی ہیں ،نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر مسڑ ٹرمپ ہولی وڈ جائیں تو ایک کامیاب اداکار ہو ں گئے اور اگر میں وائٹ ہاوس جاوں تو ٹرمپ سے زیادہ کامیاب صدر ثابت ہوں گا جو شاید اتنا غلط بھی نہیں ہے۔ 

ٹرمپ جو اپنی الیکشن مہم سے آج تک دائیں بازو کا ایک لمپن انتہا پسند اور ناپسند شخص ہے( ہلیری بھی کوئی زیادہ پسندیدہ عوامی رہنما نہیں تھی بلکہ عالمی اجاداریوں کی نمائندہ دائیں بازو کی ایک بد اعتماد اور کمزور لیڈر تھی)ٹرمپ جس کو عوام سے زیادہ امریکن الیکشن الیکٹورل کا لج سسٹم نے جتوایا ہے جو کسی دور میں صرف اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ کہیں کوئی ریاستی افسرشاہی کی مرضی کے بغیر صدر نہ بن جائے اور اگر کوئی عوام کے اکثریتی ووٹ حاصل کر بھی لے تو اس کا انتخابی نظام ،،الیکٹورل کالج سسٹم ،، کے تحت صدارت تک کا راستہ آسانی سے روکا جاسکے اور ایسا ہی ہوا ہے ٹرمپ عوام کے کم ترین ووٹ لے کر بھی الیکٹورل کالج سسٹم کی بدولت وائٹ ہاوس پہنچ گیا ہےاس لیے کہ مسٹر ٹرمپ عوامی نا پسندیدہ اور انتہائی بے ہودہ شخص ہونے کے باوجود امریکی انتظامیہ اور سرمایہ داروں کا وفادار ایجنٹ ہے۔ اس سے قبل بارک اوباما کی آٹھ سالہ خسی داخلی اور خارجی پالیسیوں نے امریکہ کو نہ صرف اندورنی طور پر کمزور کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی طاقت کو رسوا کیا ۔ جسے بحال کرنے کے لیے اب ٹرمپ انتظامیہ  انتہاتی دائیں بازو کی پالیسوں کو امریکہ  اور دنیا پر مسلط کرنے کا خواب دیکھ ر ہی ہے ۔ امریکہ فسٹ کےفاشسٹ نعرے کی آڑ میں امریکن مقامی اور عالمی منڈی کے لیے تحفظاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ شام ، ایران ، عراق ، یمن ، سوڈان ،صومالیہ اور لیبیا سمیت سات ممالک کے عوام کا امریکہ میں داخلہ یہ کہہ کر بند کر دیا ہے کہ یہ مسلم ممالک دہشت گرد ہیں جو امریکہ میں دہشت گردی درآمد کرتے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردی کی وجہ ہیں اس میں سعودی عرب کا کوئی نام نہیں جو آج کی دنیا میں دہشت گردی کے اللہ میاں ہیں ۔اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ امریکی تماش بنیوں کو اپنی داشتاوں سے بھلا کیا خطرہ ہو سکتا ہے اور ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مڈل ایسٹ میں عراق کی تباہی کے بعد طاقتوں کا توازن بگڑنے سے امریکہ کے مقابلے میں سامراج بننے کا خواہش مند ہے ۔ مڈل ایسٹ میں تیل کی ہوص اور ڈالر کو عالمی تیل کی منڈی میں حکمران رکھنے کے لیے امریکہ نے عراق برباد کر دیا جس سے ایران طاقت ور بن گیا ۔ جو امریکہ کھبی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لیے ایران ہمیشہ سے ہی امریکی انتظامیہ کی آنکھوں کا کانٹا بن ہو اہے ۔ جبکہ دوسری طرف اگر ماضی اور حال کا سنجیدہ تجزیہ کیا جائے تو تمام دنیا میں معاشی اور سیاسی دہشت گردیوں کے مالک امریکی حکمران خود ہیں اور انہوں نے ہی اپنی سامراجی دہشت گردیوں کو قائم رکھنے کے لیے مذہبی یا جس کو اسلامی دہشت گردی کہا جاتا ہے پال پوس کر اپنے بچوں کی طرح سینے سے دوھ پلا کر جوان کیا ہے اور یہی آج بھی ہر دہشت گردی کے مائی باپ ہیں ۔ افغانستان کا ڈالرجہاد ہو یا پھر افغانستان پر جارحیت ۔ عراق کی بربادی ہو یا شام اور لیبیا کی خاکستری ، القاعدہ ، طالبان ، داعش ، حماس ، ابو حرام ، جماعت اسلامی غرض دنیا بھر کی دہشت گرد جماعتوں ہوں یا آمرانہ خونی فوجی بغاوتیں سب کی تعمیر و ترقی اور بنیادوں میں امریکہ بہادر کا قائدانہ کردار ہے ۔

مزید وائٹ ہاوس کا بیان تھا کہ چند ممالک ابھی اور بھی آن لسٹ ہیں اس میں پاکستان کا نام بھی لیا جارہا ہے جن کا داخلہ امریکہ میں بند کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے آتے ہی ریاستی بچت کے لیے صحت اور علاج کی عوامی سہولت کا خاتمہ کر دیا اور امریکی بزنس مینوں کو تحفظ دینے کے لیے درآمدی ڈیوٹی بڑھانے اور ٹیکسوں میں چھوٹ کا اعلان بھی کیا۔تائیوان  کے سربراہ کو فون کر کے چین کے ساتھ تعلقات میں تلخی پیدا کی ۔ میکسیکو کی سرحد بند کرنے کے لیے دیوار کی تعمیر ۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ طے شدہ ٹیلی فون 40منٹ کی گفتگو 30منٹ کے بعد ہی بند کر دی جو ٹرمپ کی جارحانہ پوزیشن اور خود سری کا اظہار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ شو بھی یہی کرنا چاہتی کہ ٹرمپ ایک جلاد قسم کا کسی کو خاطر میں نہ لانے والا ا مریکی صدر ہے جس کا اقرار ٹرمپ نے خود بھی کیا ہے اور کہا کہ اب تک دنیا کو نرم دل اور بہت سی رعائیتں دینا والا صدر ملا ہے اور اب ایسا نہیں ہوگا۔

ٹرمپ پہلا امریکی صدرہے جن کی وائٹ ہاوس میں حلف برداری کی تقریب کے دن تمام امریکہ میں مظاہرے ہو رہے تھے اور بے شمار شہروں میں پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں پولیس کو مظاہرین منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی جارج کا استعمال کرنا پڑا جو امریکی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا جو آنے والے وقتوں میں زبردست عوامی تحریکوں کا عندیہ تھا ۔اس کے باوجود کے ابھی مسٹر ٹرمپ نے اپنی کسی پالیسی کا اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اور اب جب کہ چند صدرارتی احکام جاری ہو چکے ہیں جن سے امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ایک انتشار ابھر آیا ہے عوامی جلسے جلوس اور مظاہرے دنیا بھر کے منظر نامہ پر چھا گئے ہیں ۔ امریکہ میں 300 سے زائد شہروں میں لاکھوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں جس میں ہولی وڈ کے اداکار بھی بھر پور شرکت کر رہے ہیں ۔ تمام دنیا کے حکمران اپنے امریکی آقاوں کی لڑائی اور ان کے خلاف عوامی مذاحمت سے حیران وپریشان اور خوف زدہ ہیں کیونکہ امریکہ دنیا کی بڑی ترین معیشت ہے جو دنیا کی منڈیوں کا فیصلہ کرتی ہے اس لیے امریکہ کو اگر چھنک آتی ہے توعالمی معیشت اور سیاست کو بخار چڑھ جاتا ہے ۔

امریکہ کے تقریبا تمام شہروں میں ہر روز صدر ٹرمپ کے خلاف زبردست احتجاج اصل میں ٹرمپ کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی انتظامیہ کے خلاف ہیں جس کا نمائندہ ٹرمپ ہے ۔ حکمرانی کے پس منظر، متحرک قوتوں کا عوام کو علم ہونے لگا ہے ۔ جس سے پوری امریکی ریاست لزر اٹھی ہےاور عرصے سے دبے امریکی حکمرانوں اور ریاست کے تضادت پھٹ پڑے ہیں جن کی اعکاسی آج سیاسی افق پرموجودہ انتشار سے ہو رہی ہے ۔ ایک طرف ٹرمپ کے پیچھے نہایت دائیں بازو کے قدامت پرست حکمران اور ریاستی انتظامیہ ہے جو امریکہ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد والا عظیم امریکہ بنا نا چاہتے ہیں (جس کا اب وقت گزر چکا ہے اور یہ دن میں خواب دیکھنے والے احمق ہیں ) ایک طرف یہ بیرونی سستی محنت اور سستی پیداوار کی امریکہ میں درآمد کے خلاف ہیں اور دوسر ی طرف یہ عالمی منڈی پر زیادہ سے زیادہ غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو پچھلے عرصے میں کافی کمزور ہو گیا ہے (کیونکہ موجودہ عالمی منڈی کی بندر بانٹ میں چین ، روس اور یورپ اس میں بڑے حصہ دار بن چکے ہیں اور ایران مڈل ایسٹ ہمارا ہے کا دعویدار ہے)۔جس نے امریکہ میں معاشی بحران پیدا کیا ، بے روزگاری اور مقامی کاروبار اور چھوٹے بزنس کو تباہ کر دیا ۔ ملکی آمدن گر گئی اور کمزور مالی حالات ، سماجی اور سیاسی کمزوری کی وجہ بنے اور امریکی بحران تیز ہوا۔ جبکہ دوسری طرف عالمی دھندوں یا ملٹی نیشن کے مالکان ہیں جو غیر ممالک کی سستی لیبر اور پیداوار کی امریکہ میں درآمد اور فروخت سے ہی سرمایہ کماتے اور مزید منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کی نمائندہ اوبا ما کے بعد ہیلری کلنٹن تھی۔127 سے زائد سے کمپنیاں جن میں زیادہ تر ایٹ کی فرمیں ہیں ان میں گوگل ، فیس بک وغیرہ سر فہرست ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف صف آرا ہیں جن کے منافعے سستی لیبر کی امریکہ درآمد پر ہی چلتے ہیں یعنی غیر ملکی محنت کے استحصال پر ۔ یہ لڑائی اصل میں معاشی جنگ ہے جو سیاست میں اپنا کھل کر اظہار کر رہی ہے کیونکہ2008سے شروع ہونے والا عالمی مالیاتی بحران اب اپنی مقدار سے معیار میں تبدیل ہو کر سماجی اور سیاسی بحرانوں میں اپنا برملا اور معیاری اظہار کر رہا ہے۔ اور آنے والے وقت میں یہ لڑائی مزید تیز ہو گئی جو یقینا عوام کو طبقاتی جدوجہد کا راستہ دیکھائے گئی۔امریکہ میں بڑھتے طبقاتی تضادات کو دبانے میں دونوں پارٹیاں ڈیموکریٹ اور ریببلیکن ناکام ہوں گئیں جس سے امریکہ میں ایک نئی عوامی پارٹی بنے کے آثار بھی روش ہیں۔

ریاست نیو یارک کے گورنر نے اپنے صدر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ سات مسلم ممالک کی امریکہ میں داخلے پر پابندی ختم کی جائے کیونکہ دھندے میں کوئی مسلم اور غیر مسلم نہیں ہوتا اس میں صرف محنت بیچی اور خریدی جاتی ہے اور انسان موجودہ نظام میں ایک جنس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا اگر کچھ ہے تو وہ صرف بکواسیات ہیں ۔ عدالت نے اس درخواست کو فوار مان کر صدارتی حکم مسترد کر دیا اور سات ممالک پر عائد پابندی ختم ہو گئی اور اب ٹرمپ کی طرف سے اس کے خلاف اپیل کی گئی ہے ۔ انتشار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ پہلی بار کسی امریکی ریاست کیلی فورنیا جو دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہےکے عوامی نمائندوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وائٹ ہاوس سے ایسے اقدامات جاری رہے تو ہم کیلی فورنیا کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے الگ کر لیں گئے اور یو ایس سے علیحدگی کا ریفرنڈم کرائیں جو واشگٹن ڈی سی کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ کیلی فورنیا امریکہ کی منڈی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ 

امریکہ میں آج تین قوتیں طاقت آزمائی کر رہی ہیں ایک طرف قدامت پرست جو امریکی منڈی کو بیرونی منڈیوں کے لیے بند کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف لبرل حکمران جو آزادمنڈی کے قائل ہیں اصل میں یہ دونوں حکمران طبقات موجودہ مالیاتی بحران کے زخموں سے نڈھال اور بے بس ہو کر کسی طرح اس کا حل چاہتے ہیں جو اب موجودہ عالمی سرمایہ داری میں ممکن نہیں رہا اس لیے کہ یہ بحران مصنوعی اور سطحی نہیں ہے جس طرح زر خرید ماہرین معیشت بک بک کر رہے ہیں بلکہ سرمایہ داری کا نامیاتی بحران ہے جو زرائع پیدوار کی جدت اور طاقت ور ہونے سے قومی سرحدوں کے تقدس کو کب کا پامال کر چکا ہے جس سے یہ قلت کا نہیں بلکہ زائد پیداوار کا بحران ہے جس کی کھپت کے لیے یہ زمینی کرہ ارض چھوٹاپڑ گیا ہے اور مطلوبہ منافع جات حاصل نہیں ہو رہے جس کے نتیجے میں موجودہ منڈی اور منافع کے نظام میں بحران در بحران کا عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے اور نظام کے تضادات ننگا ہو گئے ہیں ۔ تیسری طاقت عوام ہیں جو اپنی زندگیوں میں بہتری کے لیے موجودہ نظام سے جس نے انکی زندگی عذاب بنا دی ہے کے خلاف آج امریکہ کی سڑکوں اور چوہراہوں پر لڑ رہے ہیں ۔

امریکہ کی بے لگام اوپن مارکیٹ کو سرحدوں میں قید کرنا اب آسان نہیں ہے یہ ایک نہایت کرب ناک عمل ہے جس کا امریکہ کھبی متحمل نہ ہو سکے گا کیونکہ تاریخ کے پہیہ کو آپ کھبی الٹا نہیں گھوما سکتےاور نہ ہی کھبی تاریخ اپنے آپ کو ماضی کی سطح پر دوہراتی یہ اپنا اظہار ہمیشہ یا تو بہت بلند سطح پر کرتی ہے یا پھر بہت تکلیف دہ مراحل میں ۔اسی لیے اس رجعتی عمل کے لیے ٹرمپ جیسے پاگل ملا کی ہی ضرورت تھی جس کے پاس ماسوائے جارحانہ کھیلنے کے کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے ۔جو وہ کھیل رہا ہے ۔ ٹرمپ سرعام عالمی سرمایہ دارانہ ریاست کے مقدس اداروں کی تذلیل کر رہا ہے وہ عدالتوں ، ججوں ،زرائع ابلاغ ، دوسرے ممالک کے حکمرانوں ، بیورکریٹوں ، ڈپلومیٹ یہاں تک کہ اپنے خلاف اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں کی بے دھڑک عزت تار تار کر رہا ہے ۔جس سے یہ امریکی سیاست کی بچی کھچی عزت ، ریاست کا تقدس اور معیشت کو برباد کر دے گا ۔ اور تضادات کو مزید شدید کرئے گا۔ بے روزگاری اور غربت کی آگ کو مزید ہوا دے گا جو امریکی نظام کے خلاف انقلابی مذاحمت کو طاقت دیں گئے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی شکست اس کو ایران جنگ کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے جو کب سے آن ایجنڈا ہے لیکن یہ امریکہ کے لیے ایک بھیانک خواب ہے جس سے وہ اب تک ڈر تا رہا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا زخم ہو گا جو کئی دہائیوں میں بھی مندہل نہیں ہوگا جو افغانستان ، افریقہ اور مڈل ایسٹ کی تباہ وبربادی کو بھی بھولا دے گا ۔ ایران جنگ جنوبی ایشا میں جنگ کا وہ دروازہ کھل دے گئی جو مڈل ایسٹ سے جنوبی ایشا تک کو اپنی لپٹ میں لے گئی ۔ جس سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا ۔ اس لیے اب امریکی ریاست اور اس کے سنجیدہ حکمرانوں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ٹرمپ کو روکیں یا اسے راستے سے ہٹا دیں یا پھر اپنی بربادی کا تماشا خود دیکھیں اور  امریکی حکمران جو دنیا پر حکومت کر تے ہیں اتنے بے وقوف نہیں ہوں گے ۔ 

امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپی حکمرانوں کی بھی رات کی نیندیں اڑ چکی ہیں خاص طور پر جرمنی کی جو امریکی ایما پر یورپ کی حکمرانی کر رہا ہے ۔ جرمن میڈیا اور حکمران تو یہاں تک سہم گئے ہیں کہ ان کے حلق سے امریکہ کی سیاست پر کوئی پوزیشن اور بات تک نہیں نکل رہی اور یہ خاموش سہمے تماشائی بن چکے ہیں لیکن ایسا نہیں رہے گا ان کو مستقبل میں لازمی طور پر کوئی واضح پوزیشن لینی پڑگئی۔ بے چاری برطانیہ کی وزیر اعظم مسز مے کو ٹرمپ کے ساتھ یارانہ بڑا مہنگا پڑ رہا ہے ۔تھریسامے کا ٹرمپ کو برطانیہ کے دور ے کی دعوت سے سلطنت برطانیہ کے مالیاتی بحران نے بھی سیاسی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ٹرمپ کو لندن دعوت کے خلاف برطانیہ میں تاریخی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں اور اگر ٹرمپ لند ن آیا تو برطانیہ کے لیے اچھا شگون نہیں ہو گا ۔ جس سے برطانیہ کے ایوان لرز رہے ہیں ۔ لندن کے مہر نے ٹرمپ کی برطانیہ میں دورے کی دعوت کو رد کیا ہے اور اس کو ایک ناقابل قبول اقدام قرار دیا ہے ۔اس کے علاوہ بہت سے حکومتی اہلکار بھی ٹرمپ کی انگلینڈ آمد کے خلاف ہیں ۔سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کی تحریک بھی سلطنت برطانیہ کے لیے ایک مسلسل عذاب بن چکی ہے اور وہ اس سے سخت خوف زدہ ہیں ۔برطانیہ کا بڑھتا سیاسی بحران نئے الیکشن کی طرف جا سکتا ہے ۔

جس کا ڈر تھا وہی ہوا ۔ٹرمپ کی وائٹ ہاوس آمد نے سوئی ہوئی سماجی قوتوں کو جاگا دیا ہے ۔ طبقاتی لڑائی کھل گئی اور پوری دنیا میں دائیں اور بائیں بازو کی تفریق نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے ۔ اور اب ہوگا لیفٹ یا رائٹ درمیان میں سوشل ڈیموکریٹ جو طبقاتی لڑائی کو دبانے کے لیے موجودہ استحصالی نطام میں نام نہاد سماجی انصاف کی بات کرتے تھے سیاسی منظر نامے سے چوہوں کی طرح غائب ہو رہے ہیں ۔فرانس میں قومی انتخابات کے لیے سوشلسٹ پارٹی کے دائیں بازو کے خسی امیدوار منیول والس کو بری شکست ہو چکی ہے اور بظاہر بائیں بازو  کا لیڈربینٹ ہیمن جیت گیا ہے۔ نسل پرست نیشنل فرنٹ کی مرکزی رہنما میرین  لے پین  نے بھی الیکشن کے لیے اپنا رجعتی پرگروام پیش کر دیا ہے جو ٹرمپ کے پروگرام سے مختلف نہیں ہے ۔مہاجرین کے خلاف اور فرانس کی منڈی کا تحفظ ۔......... بائیں بازو کاریڈیکل  اتحاد میلا شون بھی اس بار میدان میں ہے. فرانس کے اس الیکشن میں اولانڈا جیسے کسی خسی لیڈر کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔فرانس کی موجودہ انتخابی لڑائی طبقائی لڑائی کا راستہ ہموار کر ئے گئی جو یونان اور سپین کے بعد اب فرانس اور پھر پورے یورپ میں لڑی جائے گئی ۔آج دنیا پر سوشلزم کا بھوت منڈلا رہا ہے ۔

 تحریر ۔ دانیال رضا

مزید کالم دانیال رضا

0
0
0
s2smodern

Add comment


Security code
Refresh